صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

   بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا

صحافی کے قلم سے

ڈیرہ غازیخان۔ضمنی انتخاب۔ مقابلہ سخت (آخری قسط)

  (آخری قسط) کوہ سلیمان سے احمد خان لغاری ڈیرہ غازیخان کے حلقہ این اے 185پر ضمنی انتخاب کے حوالے سے انتہائی دلچسپ صورتحال دیکھی جارہی ہے، لغاری سرداروں نے ٹکٹ کے حصول کیلئے تمام ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان نے اپنی قربانیاں اور مسلم لیگ کیلئے جدوجہد یاددلائی چونکہ انہیں پتہ چل چکا تھا کہ مقامی ایم پی اے محمد حنیف پتافی کے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد شفیق پتافی جو ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں، اور ان کا زیادہ کاروبار ملتان میں ہے اور وہ ملتان میں ” اعلی شخصیات” سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ لغاری خاندان نے بھرپور کوشش کرکے ڈاکٹر شفیق پتافی جو مقامی سیاست میں نوزائیدہ تھا اسے پوری طاقت سے پیچھے دھکیل دیا گیا۔ تمام سیاسی گروہ جو مسلم لیگ کے اندر موجود باہمی کشمکش کا شکار اور سب ضمنی انتخاب لڑنے کیلئے اپنے آپ کو ہی اہل سمجھتے تھے، اعلی قیادت نے انہیں بلایا اور سمجھا یا کہ حلقہ این اے 185کیلئے سردار محمود قادر خان لغاری کو نامزد کیا گیا ہے لہذا انہیں منتخب کرایا جائے۔ ڈیرہ غازیخان کے اتحادی گروپ جماعت اہلحدیث کو حلقہ این اے 185کے امیدوار سردار محمود قادر لغاری کے منتخب ہوجائے کے بعد خالی نشست پر سرکاری امیدوار اسامہ عبدالکریم کو ٹکٹ کا یقین دلا یا گیا۔اسی طرح حذیفہ رحمان پہلے ہی دستبر دار ہوچکے تھے۔اور اب وہ آخری جلسہ اپنی رہائش گاہ پرمنعقد کرکے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ دوسری طرف مسلم لیگی رہنما سید عبدالعلیم شاہ سابق ایم پی اے اور لغاری سرداروں کے درمیان صرف دوری نہیں بلکہ وہ مخالفت تک پہنچ چکے تھے اور گذشتہ عام انتخابات میں وہ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور سردار دوست محمد خان کھوسہ کے ساتھ نظر آئے، اس وقت تمام مسلم لیگی رہنما و کارکنان یکجا ہوکر اپنے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں پتافی برادران اور سید عبدالعلیم شاہ اپنے ذاتی دوستوں اور تعلق داروں سے کہہ کر کارنر میٹنگ اور جلسے منعقد کرارہے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ شہر میں وہی گروپ بااثر ہیں اور جیسے سردار محمود قادر لغاری کو یا لغاری سرداروں کی شہر میں کوئی جان پہچان نہیں ہے۔ سردار اویس خان لغاری نے بھی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا ہے اور شہر کے معززین سے ملاقاتیں کیں۔ مسلم لیگی گروپوں میں حذیفہ رحمان ڈیرہ غازیخان سے لاتعلق رہے ویسے بھی وہ سیاست میں نووارد ہے، وفاقی وزیر مملکت ہونے کے علاوہ ان کی کوئی پہچان نہیں ہے۔ یا پھریہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ انتخابی مہم میں اس لیے حصہ نہیں لے رہے کہ وہ نااہل نہ قرار پائیں۔ اب تک کی انتخابی مہم میں تمام مسلم لیگی گروپ مشترکہ طور پر میدان عمل میں ہیں۔ چند لوگ یہ سوال ضرور کررہے ہیں کہ کیا تمام مسلم لیگی دھڑے نیک نیتی کے ساتھ اپنے امیدوار کے ساتھ کھڑے ہیں یا باامر مجبوری ایک ساتھ نظر آرہے ہیں۔ یہ سب کچھ انتخابی دن کو اور رات کو نتائج بتائیں گے۔ دوسری طرف حکومتی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار دوست محمد خان کھوسہ جو سابق وزیر اعلی اور سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے صاجزادے ہیں۔ اگرچہ دونوں جماعتوں نے جمہوریت کی بقا کیلئے آئین میں ترامیم درترامیم کے ذریعے مبینہ طور پر 1973کے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ اگر اتفاق ہے تو صدرمملکت اور سینٹ کے چیئر مین گورنر جیسے عہدوں کے حصول پر متفق ہیں، آزاد کشمیر میں بھی حکومت پی پی پی کو پلیٹ میں رکھ کر دی جارہی ہے لیکن چند ضمنی انتخابات میں اتفاق نہ ہونا عجیب لگتا ہے۔ لیکن قارئین کرام کیلئے اس کا دوسرا رخ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ بھی ہے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا کہ اب عوام کو جمہوریت کو پھلتے پھولتے پیش کیا جائے اور دنیا کو بھی دکھا یا جائے کہ یہ سب کچھ جمہوریت کیلئے کیا جارہا ہے۔ وگرنہ ضمنی انتخابات محض نامزدگیاں قرار پاتیں۔ ڈیرہ غازیخان کی قومی اسمبلی کی نشست پر مقابلہ محض دیکھاوا نہیں ہے، یہاں جماعتوں سے زیادہ دوقوموں، دو جاگیرداروں اور دوقبیلوں کے درمیان ہورہاہے اور وہ قبیلے جو کبھی سیا سی طور پر ایک ساتھ نہیں رہے، سوائے شادی غمی پر آنے جانے کے سیاسی طور پر ایک پرچم کے سائے تلے اکٹھے نہیں ہو سکے۔ انتخابی مہم میں ایسی شکایتیں سامنے آرہی ہیں کہ جودھڑے سرکاری امیدوار کو ووٹ نہیں دے رہے ان کی بجلیاں اور کنکشن کاٹے جارہے ہیں، بجلی کے بل زیادہ موصول ہورہے ہیں۔ مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشن دور دراز علاقوں میں تبدیل کیے جارہے ہیں جس سے کھوسہ قوم کے ووٹران کو مشکل میں ڈالنا مقصود ہے۔ اس ساری رکاوٹوں کے باوجود سردار دوست محمد کھوسہ میدان میں ڈٹا ہوا ہے اور پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے سردار سیف الدین کھوسہ جو سردار دوست محمد خان کھوسہ کے بڑے بھائی ہیں۔وہ اپنے بھائی کی انتخابی مہم میں ان کے ساتھ ہیں، بائیکاٹ کے باوجود چند پی ٹی آئی کے نوجوان بھی حالیہ صورتحال میں اپنا وزن سردار دوست محمد کھوسہ کے پلڑے میں ڈالنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ لغاری گروپ کو اقتدار میں تمام سہولتیں میسر ہیں، پولیس، سرکاری محکموں، اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے اسپر لغاری گروپ مطمئن نظر آ تا ہے لیکن ایک خوف ہے انجانا خوف جو انہیں ڈراتا ہے کیونکہ اوپر سے دونوں طریقت کے ایک ہی سلسلہ سے بیعت کئے ہوئے ہیں جو بھی جیتا وہ انہیں کا ہی ہوگا۔ مبینہ طور پر اس وقت بجلی کی اور گیس کی لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی، ٹریفک چالان بھی بند کردیے گئے ہیں، پیرا فورس کی کاروائیاں عارضی طور پر بند ہیں تاکہ لوگوں کو احساس دلایا جاسکے کہ آپ کو کوئی تکلیف نہیں دے سکتا، 23نومبر کے بعد دیکھا جائے گا۔ سردار دوست محمد خان کھوسہ اپنے برادری، قبائل کے علاوہ تحریک انصاف کے کارکنان کی طرف بھی دیکھ رہے ہیں۔ وہ برملا کہتے ہیں کہ یہاں فارم 47نہیں چلنے دیں گے اگر لوگوں نے اسے فارم 45تک پہنچا دیا تو کوئی دوسرا یہ فارم حاصل

صحافی کے قلم سے

ڈیرہ غازیخان ضمنی انتخاب، مقابلہ سخت

“پہلی قسط”             کوہ سلمان سے  احمد خان لغاری ڈیرہ غازیخان کے حلقہ قومی اسمبلی 185کی نشت پی ٹی آئی کی محترمہ زرتاج گل کو نا اہل قراردیے جانے کے بعد خالی قرار پائی ، محترمہ دومرتبہ قومی اسمبلی کی رکن رہیں اسے پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے بلکہ عوامی پذیرائی حاصل رہی اور آج بھی بطور جماعت مقبولیت میں کمی نہیں آئی یہ اور بات ہے کہ ہماری قومی سیاست مقبولیت سے زیادہ قبولیت کے دائرے میں گھومتی ہے، کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں ۔ یہی ہمار جمہوری مزاج ہے جو بے بسی اور بے کسی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہمیشہ سے بلبلا رہا ہے ۔ ہمارے سیاستدانوں نے بھی ہمارے جمہوری نظا م کو گھر کی لونڈی بناکے رکھنے کے عادی ہیں اور ہماری جمہوریت بیچاری آٹھ دھائیوں سے “کہیں پھنسی” ہوئی ہے۔ کوشش بسیار کے باوجود سیاستدان بھی بعض اوقات بے بس ہوتے ہیں اور پتلی تماشہ کھیل میں کسی کے اشاروں پر ناچ  رہے ہوتے ہیں بلکہ کچھ سیاستدان توناچ چاچ کے گھنگھروتوڑ دیتے ہیں تاکہ تماشہ کرنے والے اور دیکھنے والے نوٹ نچھاور کرتے رہیں۔ بات تمہید کی تھی لیکن تمہید طولانی ہورہی ہے ، اور ہماری قلم بھی کانپنا شروع کردیتی ہے، بزدل کہیں کی ! حلقہ این اے 185 کی سرکاری ٹکٹ کے امیدواروں کی ایک طویل فہرست تھی۔ اس فہرست سے ایک وزیر باتدبیر سب سے پہلے میدان چھوڑ گئے تھے کیونکہ انہیں خبر ہوگئی تھی کہ یہاں پر سردار تمندار اور سرمایہ دار کے درمیان جنگ ہے اور وہ نو آموز اور سیاسی قدنہ ہونے کی وجہ سے ذہنی طور پر ہار مان گیا اس کی ڈیرہ غازیخان کے سیاسی و غیر سیاسی معاملات میں گہری دلچسپی سے سرداروں سرمایہ داروں کے اثر رسوخ کی وجہ سے پارٹی رہنمائوں یعنی اعلی قیادت بھی خاموش تھی تو اس نے بھی اسی میں بھلا جانا اور اس کو سرائیکی کہاوت سمجھ میں آئی ہوگی۔ “لڑن سان پٹیجن بوٹے”۔ اس نشت کےلیے ہر سیاستدان پر امید ہی نہیں پر عزم اور پر یقین تھا۔ سینیٹر حافظ عبدالکریم کے صاجزادے اُسامہ عبدالکریم کے بارے ان کے خیر خواہ تو یہ کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ ن کا ٹکٹ اور شیر کا نشان اسامہ عبدالکریم کے حصہ میں ہی آئے گا۔ اس پرہنسی بھی نکلتی تھی لیکن لوگوں کی ہنسی پر بھی اسامہ عبدالکریم کے خیر خواہوں کو اعتراض تھا۔ شہر کے ایم پی اے حنیف پتافی کے بھائی اور سرمایہ دار ڈاکٹر شفیق پتافی تو اپنے” تعلقات “کی بنا پر ڈیرہ، ملتان اور پنڈی تک کے دیرینہ مراسم پر یقین کامل رکھتے تھے اور مبینہ طور پر ان کی سب محا ذوں پر بات “مکمل چکی” ہے کہ مبینہ طور پر فارم سنتالیس کےوہی  اصل حقدار ہیں۔ یہ بات پورے شہر میں پھیل چکی تھی۔ دوسری طرف لغاری سرداران نے بھی حلقہ این اے 185 کو اپنا آبائی حلقہ اور اپنا حق فائق سمجھتے ہوئے اور حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے یکسو ہوئے اور تمام ممبران اسمبلی اسلام آباد کے لیے رخت سفر باندھا اور اب مسلم لیگ کےلئے انکارکی گنجائش نہ رہی اور سارے سرخرو لوٹے  تو باقاعدگی سے انتخابی مہم کا آغاز کردیاگیا۔ شہر میں پہلا بڑا سیاسی اجتماع جماعت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر حافظ عبدالکریم کی طرف سےمشروط حمایت تھی، یہ حمایت سردار محمود قادر خان لغاری کی کامیابی کی صورت میں صوبائی نشت ان کے صاجزادے کےلیے مسلم لیگی اکابرین نے طے کردی تھی اور وعدہ فردالیکر حمایت کا اعلان کیا گیا، کارکنان کی حالت بھی دیدنی ہے، جو لوگ سید عبدالعلیم شاہ کے ساتھ تھے وہ حنیف خان پتافی کے ساتھ نظر آئے اور وہی چیئر مین لغاری سرداروں کے ساتھ آن ملے اب وہی لوگ پھر حنیف خان پتافی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کارکن کی تو اپنی کوئی رائے نہیں ہوتی جہاں جماعت کے رہنما ھانک دیں ادھر کھڑے ہوجاتے ہیں ویسے برا نہ منائیں تو رہنماوں  کا بھی یہی حال ہے ۔ سید عبدالعلیم شاہ سابق ایم پی اے جو جماعت کے عتاب کا شکار ہوئے وہ بھی امیدواربن گئے لیکن سارے امیدوار لغاری سرداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوگئے تو مرشد کو کسی نے پوچھا بھی نہیں۔ عوامی چہمیگوئیاں ہوہی رہی تھیں کہ وزیر اعظم سے ان کا رابطہ ہوگیا یا کسی نے کروایا ہوگا تاکہ مقابلہ دوشخصیات کے درمیان ہی رہے ۔ مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز ُارٹی اقتدار تو باہمی طور پر انجوائے کررہے ہیں لیکن ضمنی انتخابات میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہوسکی۔  خطروں کے کھلاڑی اور مرد حُر بھی مجبوری حالات کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ مسلم لیگ ن یا لغاری سرداروں کی سیاست عروج پر ہے ، لیکن ایک انجانا دھڑکا بھی ہے اوریہی وجہ ہے کہ سید عبدالعلیم شاہ کو بھی ساتھ ملالیا گیا اس طرح اب محمود و ایاز ایک ہی صف میں اور ایک پرچم کے سائے تلے سب ایک نظر آتے ہیں۔ نیتوں کا حال تو اللہ جانتا ہے کہ تمام گروپس واقعی ایک ہیں یا سارے “بلوچکے پور” کے چکر میں ہیں۔ تمام امیدوار ایک طرف اور پاکستان پیپلز پارٹی یا کھوسہ سرداروں کا گروپ اور ووٹ بنک دوسری طرف ہے ، پی ٹی آئی اس صورتحال میں ابھی تک بائیگاٹ کا اعلان کرچکی ہے ہوسکتا ہے ان کا امیدوار میدان میں اتر آئے۔ یہ سارا کھیل ابھی باقی ہے۔ لیکن سردار دوست محمد خان کھوسہ جو بزرگ سیاسی رہنما سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے صاجزادے ہیں اور ان کے بھائی سردار سیف الدین کھوسہ جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے اور ان کے بھتیجے حلقہ این اے 185 کے امیدوار سردار دوست محمد خان کھوسہ کے ساتھ کام کرہے ہیں، تحریک انصاف کےخاموش کارکنان بھی اس حتمی انتخاب میں سردار دوست محمد خان کےلئے دلچسپی رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)

صحافی کے قلم سے

ڈیرہ غازیخان ۔وزیر اعلی کا دورہ اور پھاپل مائی

 کوہ سلیمان سے احمد خان لغاری پنجاب کی وزیر اعلی محترمہ مریم نوازشریف نے ڈیرہ غازیخان کا دورہ کیا۔ اس دورہ میں انہوں ڈیرہ غازیخان ڈویژن کےلئے تقریبا ایک سو الیکٹرک بسیں حکام کو حوالے کیں چوبیس بسیں ضلع ڈیرہ غازیخان کی عوام کےلئے مختص کی گئی ہیں۔ بسوں کو جب شہر کی مخصوص سڑک پر لایا گیا تو ایک خوبصورت نظارہ پیش کررہی تھیں، مگر مبینہ طور پر بسوں کے استقبال کےلئے سڑک کے کنارے سرکاری ملازمین خیر مقدمی نعرے بلند کررہے تھے ان ملازمین میں اساتذہ کرام کی ایک بڑی تعداد بیان کی جارہی ہے ۔ ڈیرہ غازیخان ضلع کے مختلف روٹوں پر جس میں کوٹ چھٹہ چوٹی شاہ صدردین اور دیگر علاقوں میں عوام کی سہولت کیلئے رواں دواں ہیں ۔ کم کرایے میں آرام دہ سفر عام آدمی کو میسر ہے۔ وزیر اعلی یا اہم سیاسی وسرکاری شخصیت کے آنے پر عوامی تکلیف اب کوئی نئی بات نہیں ہے، اہم شاہرائوں کو عام آدمی کےلئے بند کردینا اور دیر تک لوگوں کو کھڑا رکھنا اب عادت بن چکی ہے۔ سابقہ حکومت کے وزیر اعلی سردار عثمان بزدار بھی اکثر اپنے شہر تشریف لاتے تھے ، چونکہ وہ اس شہر میں رہتے تھے لہذاان کا آنا شہریوں کےلئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا تھا، انہوں نے بھی ڈیرہ غازیخان کی سڑکوں پر عوامی سہولت کے طور پر بسیں مہیا  کی تھیں جو بعد ازاں کم ہوتے ہوتے وزارت اعلی ختم ہونے پر گاڑیاں سڑکوں سے غائب ہوگئیں۔ وزیر اعلی پنجاب نے بسوں کے افتتاح کے موقع پر ایک جلسہ  سے خطاب بھی کیا جسمیں لغاری گروپ اور مسلم لیگی کارکنان نے شرکت کی۔ ہر ایم این اے ، ایم پی اے اور سیاسی شخصیت نے جلسے کو کامیاب بنانے کےلئے بھرپور کوشش کی۔ مقامی ایم پی اے محمد حنیف پتافی نے جلسے کی کامیابی کےلئے ان تھک محنت کی کیونکہ ان کے بھائی ڈاکٹر شفیق پتافی شہر کی خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست کے ضمنی انتخاب میں امیدوار ہیں اور وہ پریقین ہیں کہ وہی مسلم لیگ کے امیدوار ہونگے وزیر اعلی کے جلسے میں سردار اویس خان لغاری نے میدان مارلیا اور جلسہ کی کامیابی کا سہرا اپنے سرسجا لیا ۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ شولغاری گروپ کا تھا توغلط نہ ہوگا۔ اگرچہ جلسے میں کوئی بڑا اعلان نہیں ہوا جیساکہ عوامی مطالبہ ہے کہ کینسر ہسپتال بنایاجائے ۔ ڈیرہ غازیخان اور مضافاتی علاقوں میں کینسر جیسا مہلک مرض تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ اور کئی گھرں کے ایک سے زائد نوجوان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اسی طرح غازی گھاٹ پل کا بھی مطالبہ دیرینہ ہے لیکن اس کا ذکر اور کام نظر نہیں آرہا۔ ضلعی انتظامیہ نے شہر کے قرب و جوار میں کینسر ہسپتال کی تعمیر کےلئے مناسب رقبہ تجویز کیے ہیں لیکن تاحال حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔ سردار اویس خان لغاری ایسی پوزیشن میں ہیں کہ وہ جہاں چاہیں اسی جگہ پر کینسر ہسپتال کی تعمیر شروع ہوسکتی ہے ۔ حلقہ قومی اسمبلی کے امیدوار سردار محمود قادر خان لغاری جنہیں مسلم لیگی قیادت نے بلوا کر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے پر آمادہ کیا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہی مسلم لیگی امیدوار ہیں اور وہی منتخب ہونگے ۔ انہوں نے برملا اظہار کیا کہ قیادت کا فیصلہ حتمی ہوگا جسے امیدوار نامزد کیا جائیگا دیگر امیدوار دستبردار ہو جائیں گے ۔ انہوں نے ایک ملاقات میں بتایا کہ کینسر ہسپتال ہر صورت میں بنے گا ہم ڈیرہ غازیخان کے لوگوں کو اسطرح بے یارو مددگار نہیں چھوڑیں گے کینسر ہسپتال کوئی انتخابی نعرہ نہیں ہے یہ ہر صورت میں تعمیر ہو کر رہے گا۔اگر انہیں اس ہسپتال کےلیے خود بھی بیڑا اٹھانا ہوا تو اٹھا ئیں گے اور ذاتی طور پر اسی منصوبہ کو عملی جامہ پہنا کر دم لیں گے ۔ وزیر اعلی پنجاب کے اس جلسہ میں مسلم لیگ کے لغاری گروپ کا غلبہ رہا اور مقامی ایم پی اے محمد حنیف پتافی کو بھی دور رکھا گیا تاکہ یہ تاثر قائم رہے کہ ڈیرہ غازیخان میں صرف لغاری گروپ ہی مسلم لیگ ہے اور ضمنی انتخاب میں ان کا ہی امیدوار کامیاب ہوگا۔ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو اسٹیج پر ایک خوبصورت کڑھائی والی چادر دوپٹہ پیش کیا گیا اور محترمہ نے ڈیرہ غازیخان کی اس بوڑھی خاتون پھاپل مائی کا نام لیا کہ یہ خصوصی طور پر ان کے لیے بنایا گیا ہے جو پیش کیا گیا ہے ۔ سردار جمال خان لغاری نے کہا ہے کہ اماں پھاپل ایک بوڑھی خاتون ہے جو کڑھائی کا کام کرتے اب اپنی بینائی کھورہی ہیں خصوصی طور پر محترمہ کےلیے بنایا تھا جو انہیں پیش کیا گیا ہے ۔ اماں  پھاپل کی طرف سے بیش بہا تحفہ پیش کرنے پر وزیر اعلی بہت خوش نظر آرہی تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی پھاپل مائی ہے بھی کہ نہیں ہے لیکن سیاسی جلسوں میں ایسی کاروائیاں جلسے کی منتظمین کی بہت جیت اور کامیابی سمجھی جارہی ہےکہ اس چادر یا دوپٹے نے محترمہ وزیر اعلی کو کسی دوسرے امیدوار ضمنی انتخاب کی طرف توجہ دینا بھی گوارہ نہیں کیا بلکہ وہ نظر انداز نظر آئے۔ اب ڈھونڈتے رہیں اس اماں پھاپل کو چراغ رخ زیبا لیکر! ہوسکتا ہے ضمنی انتخاب میں یہی پھاپل مائی اور اسکی طرف سے پیش کی گئی شال یا دوپٹے کی حقیقت سامنے آجائے۔ سیاست میں کھیل ، کھلاڑی اور وقت کی اپنی اہمیت ہوتی ہے جو اس وقت لغاری گروپ کی اہمیت واضع ہے ۔

صحافی کے قلم سے

ٹرمپ فلسطین امن منصوبہ: تاریخ، حقائق، متوقع نتیجہ اور ردِ عمل

 تحریر :  میجر (ر) ساجد مسعود صادق ناجائز اسرائیلی ریاست قائم کرنے والوں کو فلسطینوں پر واقعی رحم آگیا ہے  یا ٹرمپ امن منصوبہ کوئی اور ہی گیم پلان ہے یا  اس منصوبے  کا مقصد وہ نہیں جو سامنے نظر آرہا ہے؟ اس منصوبے کے بیس نکات پر خوب غوروفکر کی ضرورت ہے۔ کہیں   ناجائز اسرائیلی ریاست  کو تسلیم کروانا،اسرائیل کے خلاف لڑنے والی واحد  مسلح اپوزیشن کو  غیر مسلح کرنا اور پورے  فلسطین کو امن کے سنہرے خواب کی آڑ میں ہڑپ کرنا اس منصوبے کے  ممکنہ اہداف تو نہیں ہیں؟ لہذا اس منصوبے کا ہر نکتہ غور طلب ہے۔ امن کی توقع  رکھنا اور وہ بھی  امریکہ یا اسرائیل  سے کس کم فہم  اور عقل سے عاری شخص کے لیئے ٹھیک ہے ورنہ ٹرمپ، ٹونی اور یاہو ٹرائیکا سے خیر  کی توقع ہی فضول ہے۔ اس  امن منصوبے کو سمجھنے کے لیئے جو کارآمد ہوسکتا ہے وہ یہ ہے کہ  مسلمان ممالک بالخصوص پاکستانی قیات یہ کام نہ کرے کہ “چور نالوں پنڈ کاہلی” یعنی چور کے ساتھ چوری کا سامان جانے کی جلد بازی نہ کرے۔ ٹرمپ ایک بزنس مین ہے وہ گھاٹے کا سودا کبھی نہیں کرتا اور ٹونی ایک مّکار اور عیّار شخص ہے اور یاہو ایک جلاد لہذا اس معاملے میں تدبّر ضروری ہے۔ کسی بھی پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے کو ضرب المثل اور محاوروں  کی مدد سےسمجھنا اورسمجھانا ادیبوں اور ادب سے شغف رکھنے والوں کی عام رِیت ہے۔  فلسطین اور اسرائیل تنازعہ کا پس منظر اور تاریخ  کیاہے؟ ٹرمپ کا فلسطین امن منصوبہ کیا ہے؟ اور پاکستانی وزیراعظم اس کی حمایت کیوں کررہے ہیں؟ ان تینوں سوالوں کا جوابات کو  چند پنجابی محاوروں سے  بہترین سمجھا جاسکتاہے۔ جنگ عظیم دوم کے فوراً بعد اسرائیلی ریاست کا فلسطینی علاقے میں زور زبردستی سے  قیام،   فلسطین کا  دن بدن سُکڑتے جانا،  اسرائیل کا پھیلتے پھیلتے فلسطینوں کو  انہی کے دیس سے نکال باہر کرنا، اسرائیل بربریت پر مغربی دُنیا بالخصوص امریکہ کی حمایت، مُسلمانوں کی بے بسی اور بےحسی کی ستر سالہ تاریخ  بڑی دردناک ہے۔ صاحب شعور اور دردِ دل رکھنے والوں نے فلسطینوں پر جو ستر سال میں قیامتیں آئیں ان کا خوب مشاہدہ کیا ہے۔   حقیقت یہ ہے کہ مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر  اقوام عالم  کے عوام اسرائیلی بربریت پر ہر طرف سے تُھو تُھو کررہے تھے جس   سے بچنے کے لیئے کُچھ نہ کُچھ کرنا ضروری ہوگیا تھا۔   تاریخ بتاتی ہے کہ یاہو اور  ٹرمپ ٹونی ٹرائیکا کے پورکھوں نے ہی یہ مسئلہ پیدا کیا تھا کیونکہ امریکہ اور برطانیہ کی ملی بھگت سے ہی یاہو کے آباؤ اجداد فلسطینی علاقے میں زبردستی گُھس کر قابض ہوئے۔ گویا یہ ٹرائیکا اسرائیل کی ناجائز ریاست کے وقت بھی اکٹھا تھا اور مُسلمان بھی اُس وقت کی طرح آج بھی تتر بتر اور امریکی ہمنوائی اور مدسراحی کی عالم میں ہیں۔ٹرمپ  امن منصوبہ  جسے بیس پوائنٹس میں بیان کیا گیا ہے اس کے تجزیے کے دوران پہلا پنجابی محاورہ  جو ذہن میں آتا ہے وہ ہے  “چور تے کُتی رَل گئے۔” یہ محاورہ اُس جگہ استعمال ہوتا ہے جب کسی کے گھر کے لُٹنے کی منظر کشی کی جائے۔ اس منصوبہ میں فلسطینیوں کے حق پر ڈاکہ کے کردار میں پہلا کردار  چور کا ہے جس میں نیتین یاہو، ٹونی بلیئر اور ٹرمپ تینوں کو شمار کیا جاسکتا ہے دوسرا کردار کُتی کا ہے۔ کُتا عموماً گھر کی رکھوالی کے لیئے استعمال کیا جاتا جو چوروں کے خلاف کام آتا ہے۔ فلسطینی حق کے لیئے مُسلمانوں نے لڑنا تھا لیکن وہ دھڑا دھڑا ٹرمپ کے گھناؤنے اور فلسطینوں کے حق پر ڈاکے پر مبنی  امن منصوبے کی حمایت کررہے ہیں گویا یہ چوروں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ مسئلہ فلسطین کی تاریخ کو سمجھنے کے بعد  اب ضروری ہے کہ اس امن منصوبے کا محاورے  کی مدد سے پوسٹ مارٹم کیا جائے اس کے لیئے سب سے مناسب محاورہ جو ذہن میں آتا ہے وہ “انھا ونڈے ریوڑیاں مُڑ مُڑ کے اپنیاں نُوں۔” یہ محاورہ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں منصف کسی کی حق تلفی کرتے ہوئے اپنے رشتے داروں اور تعلق داروں کو نوازے۔ اب کوئی ارباب اختیار سے سوال کرے کہ  وہ امریکہ اور برطانیہ جنہوں نے یہ مسئلہ پیدا بھی کیا اور ستر سال سے اسرائیلی بربریت کی بھرپور حمایت بھی کی ان سے  فلسطینیوں کو حق دلوانے کی اُمید کرنا کوئی دانش مندی ہے جس کی حمایت کرنے میں آپ کو جلدی پڑی ہے؟ ٹونی بلیئر تو وہ کرمنل ہے جو جھوٹے پراپیگنڈے اور عراقیوں کے قتل کا سب سے بڑا مُجرم ہے اور ٹرمپ بھی وہ جارح ہے جو ایران پر اسرائیلی حمایت میں میزائل اور بم مارنے والا ہے۔ ان دونوں سے یہ توقع رکھنا ہی فضول ہے  کہ وہ  اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کی بجائے مظلوم فلسطینیوں کو امن دینا چاہتے ہیں۔ اب  ٹرمپ امن منصوبے کو تسلیم کرنے والی عقل پر ماتم نہ کیا جائے  تو اور کیا کیا جائے۔  تیسرے سوال یعنی “مُسلمان حکمران اس کو ماننے میں جلد بازی کیوں کررہے ہیں” اس کا جواب سمجھنے کے لیئے دو بڑے خوبصورت پنجابی محاورے ذہن میں آتے ہیں۔ پہلا محاورہ یہ ہے کہ”جیہدی باندری اوہو ای نچاوے۔” اور دوسرا محاورہ  “رب نیڑے کہ گُھسُنّ۔”  مجموعی طور پر مُسلمان اُمہ کے ممالک کا یہ حال ہے کہ اُن  کو حکمرانی کا شرف بھی  امریکی نظر عنایت کی عطا اور خیرات ہے۔    امریکہ اور امریکی صدر بین الاقوامی سیاست کے بدمعاش یعنی  “دادا” ہیں لہذا اُن کا خوف اور خوشنودی کونسا حکمران نہیں چاہے گا۔ اب مُسلمان حکمرانوں کو کون سمجھائے کہ “سپاں دے پُتر مِتّر نہیں ہوندے۔”   امریکی صدر کی دوستی پر نازاں ہونے والوں مُسلمانوں کو  جانناچاہیئے کہ جیسے دُشمن کبھی معاف نہیں کرتا اسی طرح  سانپ کی فطرت میں بھی ڈنگ مارنا ہی ہے۔  امریکہ برطانیہ اور  اسرائیل سے یہ توقع رکھنا کہ وہ مُسلمانوں کے خیرخواہ ہیں کسی “دیوانے کے خواب سے کم نہیں” کیونکہ ماضی میں پاکستان سمیت  کونسا  ایسا مُسلمان مُلک ہے جو مغربی سامراج کے ظُلم و جبر کا تختہ مشق نہیں بنا؟

صحافی کے قلم سے

ڈیرہ غازیخان ضمنی انتخاب اور سیلابی تباہ کاریاں

کوہ سلیمان سے احمد خان لغاری قارئین کرام!  ذاتی مصروفیات اور چند اہم مجبوریوں کی وجہ سے اس وقت درپیش اہم موضوعات پر کچھ نہیں لکھ سکا کیونکہ معلومات اور مطالعہ کا فقدان رہا ہے آج کوشش کرہاہوں کہ اپنی تحریر آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر کر سکوں۔ دواہم معاملات پربات کر نا ضروری سمجھتا ہوں جسمیں سیلاب کی تباہ کاریاں باالخصوص جنوبی پنجاب میں اور دوسرا اہم موضوع پاک سعودی معاہدہ ہے جس پر قلمکار اور تجزیہ  کار اپنی اپنی جہتوں  سے حقائق سامنے لارہے ہیں، اسکے علاوہ ڈیرہ غازیخان کی قومی اسمبلی کی خالی نشست پر ضمنی الیکشن کی تیاریوں پر بھی لکھنا ضروری سمجھتا ہوں ۔امید  ہے اس ترتیب سے آپ کو بہت کچھ پڑھنے کو ملے گا۔ جہاں تک سیلاب کی تباہ کاریوں کا تعلق ہے تو سیلاب کی جنوبی پنجاب میں تباہ کاریاں ہر سال ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آتی ہیں۔ خاص طور پر مون سون کے دنوں میں دریائے سندھ اور دریا چناب اور دیگر پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی آنے سے نشیبی  علاقے ڈوب جاتے ہیں۔ اسکے نتیجے میں لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں، درجنوں لوگ ڈوبنے ، گھروں کے گرنے یا بیماریوں کے باعث جان سے جاتے ہیں۔ کپاس، چاول ، گندم اور گنا جیسی فصلیں زیر آب آکر مکمل طور پر برباد ہوجاتی ہیں ۔ جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے ۔ سڑکیں پل اور آبی ذخائر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں جس سے آمدورفت اور امدادی سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔ بیماریوں اور وبائوں سے ملیریا اور ڈائریا جیسی بیماریاں پھیل جاتی ہیں ۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اس بار بھی ضلع مظفرگڑھ اور ملتان شدید متاثرہ علاقے ہیں۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور اور ملتان کی تحصیل جلال پور پیر ولا ابھی بھی شدید تباہ کاریوں کی ذدمیں ہیں۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ریلیف کیمپ قائم کردیے گئے ہیں متاثرین کو خواراک اور ادویات فراہم کی جارہی ہیں تاہم مقامی افراد ایسی کاروائیوں سے مطمئن نہیں ہیں ، ڈیرہ غازیخان کے مخیر حضرات نے ایک خصوصی مہم شروع کررکھی ہے اور متاثرین کو مالی مدد کے علاوہ خوردونوش کی اشیا اور ضروری سامان مہیا کر رہے ہیں مذہبی  اور سیاسی جماعتیں بھی بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ سیلاب ایک قدرتی آفت ضرور ہے مگر بہتر منصوبہ بندی اور بروقت اقدامات کے ذریعے اس کی تباہ کاریوں کو کم کیا جاسکتا ہے ۔ جنوبی پنجا ب کے عوام کو بار بار ہونے والے ان نقصانات سے بچانے کےلئے حکومتی اداروں اور عوام کو مل کر کام کرناہوگا تاکہ آنے والے وقت میں اس خطے کو محفوظ بنایا جاسکے ۔ لیکن اس بار یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ علی پور اور جلال پور پیروالا کی تباہی کے ذمہ داران کا تعین ضرور ہونا چاہیے ۔ متاثرین کا ایک سوال اہم ہے کہ ان دو علاقوں کے حفاظتی بند ہیڈ پنجند کو بچانے کےلئے توڑ ے گئے  یا سندھ کو بچانے کےلے جنوبی پنجاب کی قربانی دینی پڑی۔ آج کا دوسرا موضوع پاکستان سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہے اس معاہدے کوسٹرکچر میوچل ڈفنس اگریمنٹ کا نام دیا گیا ہے جو دونوں ممالک کے مابین فوجی تعاون کو رسمی طور پر تقویت دینے کے لیے طے پایا ہے۔ معاہدے کے تحت طے پایا کہ اگر کسی نےپاکستان پر حملہ کیا تو یہ حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور ہوگا اور اگر سعودی عرب پر حملہ ہوا تو وہ پاکستان کو بھی واجب سمجھا جائے گا کہ وہ ردعمل دے۔ معاہدے میں ہر دو ممالک کے مابین عسکری تربیت مشترکہ مشقیں ، دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ ، انٹیلی جینس شراکت  داری  وغیرہ شامل ہیں۔ بعض حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ معاہدہ مستقبل میں دیگر حلیجی ممالک تک توسیع پذیر ہو سکتا ہے ۔ اس معاہدے میں ردعمل اور تبصرے جاری ہیں، بھارت نے تاحال اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اس معاہدہ کی افادیت اپنی جگہ مسلمہ ہے تاہم یہ کیسے وجود میں آیا ، امریکہ ، چین اس میں کیا کردار ادا کریں گے ، فی الحال ایک خوبصورت دستاویز تیار کی گئی ہے کیا پاکستان ، سعودی عرب واقعی امریکہ کے سامنے کھڑے ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ اسرائیل کا بڑا سرپرست ہے ۔ اس پر کچھ کہنا ہنوز دلی دوراست  کے مترادف ہے ۔ میرا اہم موضوع ڈیرہ غازیخان میں قومی اسمبلی کی خالی ہونے والی نشست جو پی ٹی آئی کی محترمہ زرتاج گل کو عدالتی نا اہلی کی بنیاد پر خالی قررپائی ہے اسپر ضمنی انتخابات میں بڑے زور کارن پڑنے والا ہے ۔ سردار محمود قادر خان لغاری جو ایم پی اے بھی ہیں انہیں ابتدائی طور پر مسلم لیگی قائدین نے بلاکر ضمنی انتخاب لڑنے کی ہدایت کی ہے جو اپنی انتخابی مہم شروع کر چکے ہیں اور اپنی ملاقاتیں باالخصوص مسلم لیگی عہدیداران سے بھی جاری ہیں ۔ دوسری طر ف مقامی ایم پی اے محمد حنیف پتافی کے بھائی ڈاکٹر شفیق پتافی بھی میدان میں آچکے ہیں اور وہ مسلم لیگی ٹکٹ ہولڈر ہونے کے دعویدار ہیں اور انتخاب میں شہر والوں کو ہی حقدار سمجھتے ہیں ، اپنی سیاسی اور رفاعی خدمات کا بار بار ذکر کرتے ہیں ، محترمہ مریم نواز شریف وزیر اعلی پنجاب کا بھی دورہ ہے جو آرٹیکل کی اشاعت تک مکمل ہو چکا ہوگا۔ سردار دوست محمد خان کھوسہ جو کہ پی پی پی سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی میدان میں ہونگے ، مسلم لیگ مقامی طور پر کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے اس پر اپنے آئندہ کالم میں تفصیل سے ذکر کروں گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سردار محمود قادر لغاری کو شیر کا نشان مل گیا تو ڈاکٹر شفیق پتافی دستبردار ہوجائیں گے ؟ اگر ڈاکٹر شفیق پتافی کو ٹکٹ مل گیاتو سردار محمود قادر لغاری دستبردار ہوسکیں گے ؟ اہم فیصلے متوقع ہیں ۔ بقیہ اگلے کالم میں ملاحضہ فرمائیں۔

صحافی کے قلم سے

“ملی بھگت ” نے کیا کیا کر دیا؟

 افضل گل کی ڈائری سے میں کئی دنوں سے سوچ بچار میں رہا ۔ ایک لفظ میرے ذہن میں گردش کرتا رہا۔ اور ابھی بھی میں محو حیرت ہوں ۔ اس لفظ “ملی بھگت” کی ایجاد کہاں اور کس نے کی ہو گی؟  اس کا علم نہیں مگر جس نے بھی یہ لفظ تخلیق یا ایجاد کیا ہے۔اس کو سلام پیش کرنا چاہئے ۔اس لفظ کو آپ ہر جگہ ہر وقت عام طور پر ہر عام شخص تو اس کو استعمال بھی نہیں کر سکتا ۔ لیکن کبھی کبھار عام لوگ بھی اس لفظ  کو ضرورت کے وقت  استعمال کر سکتے ہیں۔کسی آئین میں اس لفظ کے استعمال پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے ۔ مگر اس لفظ “ملی بھگت” سے جتنا فائدہ اور جتنا استعمال پاکستان کی سیاست میں پاکستان کے سیاسی راہ بروں نے لیا اور کیا شاید ہی کسی عام شہری نے اتنا استعمال یا فائدہ اٹھایا ہو۔ بہت سے اچھے کام بھی اس لفظ “ملی بھگت کے کھاتے میں ہیں ۔ ماضی میں اس ملی بھگت نے پہلے بہت سارے بہترین کام بھی کئے ہیں۔اور بہت کام بگاڑنے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ مگر اس دور میں یہ لفظ عام نظر آنے لگا ہے۔ اور اسے عام کرنے میں کسی عام شہری کا ہاتھ نہیں ہے بلکہ اہل قوت و اقتدار اور اعلیٰ سطح کے “ملی بھگت” سے بنے سیاسی راہنماؤں اور اربابِ اختیار نے کیا ہے ۔  جیسا کہ ملی بھگت سے ملک دو ٹکڑے کیا گیا۔ ملی بھگت سے قومی خزانے کو لوٹا گیا، ملی بھگت سے پٹرول نایاب کیا گیا، ملی بھگت سے چینی مہنگی کی گئی، ملی بھگت سے گندم سستی کی گئی، اور اب ملی بھگت سے اس گندم کو دوبارہ مہنگا کیا جا رہا ہے۔ملی بھگت سے ادویات مہنگی کی گئیں۔ ملی بھگت سے کمزور کو کمزور تر کیا گیا۔ ملی بھگت سے اس ملک کی عوام کو مہنگائی کی بند گلی میں ڈالا گیا۔ اس ملک کو ملی بھگت سے قرض دینے سے لینے والا بنایا گیا۔ اس ملک کو ملی بھگت سے سیلاب زدہ اور بجلی ، گیس سے محروم ملک بنایا گیا۔ دنیا میں سب سے بہترین نمک کے مالک ملک ہونے کے باوجود اس ملک کو بیرون ملک سے نمک خریدنے والا بنایا گیا۔ ملی بھگت سے کچے کے ڈاکوؤں کو پیدا کیا گیا۔ ملی بھگت سے ٹی ٹی پی کو ملک میں دوبارہ بسایا گیا۔ ملی بھگت سے وافر چیزوں کو نایاب بنایا گیا ۔ملی بھگت سے ایک دوسرے کے کیسز کو ختم کرنے میں مدد کی گئی۔ ملی بھگت سے حکومتیں بنائی جاتیں ہیں۔ ملی بھگت سے دوسروں کا مینڈیٹ چرایا جاتا ہے۔ ملی بھگت سے ایک دوسرے پر کیسز کئے جاتے ہیں۔ ملی بھگت سے اسلام کو سیاست سے باہر کیا گیا۔ ملی بھگت سے ایک اسلامی جماعت کی بجائے عوام کو کئی اسلامی جماعتوں میں تقسیم گیا۔ ملی بھگت سے علماء کرام کو مولوی بنا کر بے توقیر کیا گیا۔ ملی بھگت سے اس ملک سے اسلامی قوانین کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہے۔ ملی بھگت سے ہی اسلام کو سیاست سے دور رکھنے کا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے ۔ ملی بھگت سے اس ملک میں تقسیم پیدا کی جا رہی ہے۔ ملی بھگت سے اس ملک کے دفاعی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور یہ مہم جمہوریت کی ملی بھگت سے آج بھی جاری ہے ۔اور ایک قومی جماعت کرتی ہے تو دوسری اس کو آزادی اظہار رائے کا نام دیتی ہے۔ ملی بھگت سے عدلیہ کو یرغمال بنایا گیا ہے۔ ملی بھگت سے عدالتی نظام کو اسلامی نہیں بنایا گیا ۔ ملی بھگت سے ہی قومی زبان اُردو کو سرکاری زبان نہیں بنایا جا رہا جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان حکم جاری کر چکی ( اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس پر کوئی توہین عدالت کا کیس بھی ملی بھگت کی وجہ سے نہیں بنا) ملی بھگت سے کالا باغ ڈیم کو روکا گیا۔ملی بھگت سے شرعی عدالت کا سود کو ختم کرنے کا حکم آنے کے بعد بھی ، اس کو جاری رکھا ہوا ہے۔ملی بھگت سے ہر ملک دشمن کام کیا جاتا ہے۔ سانحہ نو مئی بھی ملی بھگت سے کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں گے۔ تو اس  ملی بھگت کے پیچھے چند خاندان اور چند چہرے ہی ملیں گے۔ جو ہر وقت ایک ایسا ماحول بنا کر رکھتے ہیں کہ جیسے یہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ اور ایک دوسرے کو چور ، توشہ خانہ کھانے والا، شوگر مافیا کی سر پرستی کرنے والا ، قبضہ مافیا کی سربراہی کرنے والا، اداروں پر حملہ کرنے والا ، آئین کو توڑنے والا ، بے گناہوں کا خون بہانے والا، مہنگائی لانے والا ، ملک میں تقسیم لانے والا کہتے نظر آئیں گے۔اور حقیقت میں یہ سارے ہی ایسا کرتے ہیں۔ اور کر رہے ہیں۔سارے ہی ملی بھگت سے ایک دوسرے کا دفاع اور مددگار کا کردار ادا کرتے بھی نظر آئیں گے۔ ایک علاج کیلئے دوسرے ملک جائے گا۔ اور دوسرے کو یہاں ہی ساری سہولیات دی جائیں گی ۔ یہ ملی بھگت ہی میرے ملک پاکستان اور عوامی خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ عوام کو ایسے چہروں کی نفی کرنی پڑے گی اور اس ملی بھگت کو پہچاننا ہوگا ۔ایسے چہروں سے جان چھڑانے کی ضرورت ہے۔ یہ ملی بھگت آپ کو عالمی سطح پر بھی نظر آئے گی۔جیسا کہ ملی بھگت سے سلطنت عثمانیہ کو توڑا گیا۔ملی بھگت سے اسلامی ممالک کو لکیروں کے اندر قید کیا گیا۔ملی بھگت سے ایک اسلام کو کئی فرقوں میں بانٹا گیا۔ ملی بھگت سے کشمیر کا معاملہ لٹکایا گیا۔ ملی بھگت سے اسرائیل کو پیدا کیا گیا اور فلسطین کو ایک نا مکمل ایجنڈا رکھا گیا۔ ملی بھگت سے پوری دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو دہشتگرد بنایا گیا۔ ملی بھگت سے ہر عالمی قانون اور عالمی فورم کو صرف مسلم ممالک کو نشانہ پر رکھنے والا بنایا گیا۔ ملی بھگت سے فلسطین کو تنہا کیا گیا۔ اور اس پر ظلم میں اسے تنہا چھوڑ دیا گیا۔ ملی بھگت سے شام ، یمن ، لیبیا اور عراق کو تباہ کیا گیا۔ ملی بھگت سے ایک اسلامی

صحافی کے قلم سے

بارشوں سے تباہی اور بے شرمی کا طوفان

  کوہ سلیمان سے  احمد خان لغاری.         شدید بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں نے خیبر پختون خواہ اورگلگت  بلتستان میں شہروں اور قصبوں کو ملیا میٹ کردیا، جہاں شہر، قصبے اور بستیاں آباد تھیں آج وہاں پتھر، مٹی اور جنگلات کی لکڑیاں ہیں، لاشیں پڑی ہیں، سینکڑوں مرد و خواتین گم ہیں، لاپتہ ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ اگرچہ ہمارے لیے نیا نام ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے ہمارے پہاڑی علاقوں کو نشانہ بتایا ہے اور اس قیامت میں ہمارا بھی بہت قصور ہے جس طرح سیلابی ریلوں میں قیمتی لکڑیاں سفر کرکے شہری علاقوں میں پہنچی ہیں انہوں نے ساری کہانی کھول کر بتا دی ہے اور دکھادی ہے۔ لکڑی چور مافیا اور انکے آقاؤں نے وہ قیامت صغرا بر پاکر دی ہے جسکی تحقیقات ہونگی یا نہیں ہونگی تو بھی کوئی نتائج برآمد نہیں ہونگے کیونکہ اس پر چم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ مون سون کے ابھی اور سپیل آنا باقی ہیں، اور کتنی تباہی ہمارے مقدر میں لکھی ہے۔ یہ آئندہ چند ہفتوں میں سامنے آئے گا۔ پھر تفصیلی لکھا جاسکے گا آج یہ میرا موضوع نہیں ہے لیکن اگست کے مہنے میں خصوصی طور پر 14اگست کو زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں غیر معمولی کارکردگی دیکھانے والی شخصیات کو خصوصی اعزارات سے نوازا گیا۔ شخصیات کی شبانہ روز محنت بھی آپ کے سامنے ہے نام آپ کو مل جائیں گے تو آپ بھی کسی نتیجے پر پہنچ پائیں گے اگر کچھ شخصیات اس بار شامل نہیں کی جاسکیں تو کوئی بات نہیں پھر کسی اور موقع پر انہیں نواز دیا جائیگا، سیلاب کی تباہ کاریوں سے دل دکھا اور سچی بات ہے کہ چودہ اگست کے حوالے سے اعزازات کی تقسیم پر بھی دل دکھا ہے، چلورہنے دیتے ہیں مگر ایک اہم واقع کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں، پاکستان میں خواتین کے کپڑوں کے ایک بڑے برینڈ کی مالک محترمہ ماریہ بی کی طرف سے ایک نشویشناک خبر شوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہے، انہوں نے ایک ویڈیو دکھاتے ہوئے یہ بتایا کہ اگست کے مہینے میں ہی لاہور میں ایک جگہ ہم جنس پرستی یعنی LGBTQکا ایک شو منعقد کیا گیا جس میں ہم جنس پرست مردوں نے جو اپنے آپ کو ٹرانسجینڈر کہتے ہیں، بے شرمی اور بے ہودگی کے تمام ریکارڈ توڑدیے اور یہ سب بے شرمی اور بے غیرتی پاکستانی معاشرے میں پھیلانے کیلئے باقاعدہ اسٹیج پر ہم جنس پرستی کوپرموٹ کیا گیا، بے غیرتی اور بے شرمی کے اس شو کی کچھ جھلکیاں بھی دکھائی گئی۔ ماریہ بی صاحبہ کا کہنا تھا کہ حکام یعنی پنجاب حکومت کو بے شرمی اور بے غیرتی کے اس شو کے متعلق علم تھا لیکن حکومت نے اسے نہیں روکا یہ ویڈیو ز جب سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں تو چند ذمہ دار صحافی اور غیر ت مندروحوں نے اس مسئلہ پر آواز اٹھائی تو پنجاب حکومت کے بااختیار لوگوں نے اس بات کا نوٹس لیکر پولیس کو ایکشن لینے کی ہدایات جاری کردی گئیں، اس کے نتیجے میں شو منعقد ہونے اور اجازت دینے والوں پر ہاتھ ڈالا گیا یا نہیں یہ تو تا حال معلوم نہیں ہوسکا لیکن سوال ہے کہ کن حکام کو اس سارے پروگرام کا پہلے سے علم تھا اور یہ سب روکنے کیلئے کیاکیا گیا؟ پنجاب کی سینئر وزیر محترمہ مریم اونگزیب کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسی حرکت قابل بر داشت نہیں اوراس پر ایکشن لیا جائیگا، اس گندگی اور بے غیرتی اور بے حیائی کو نہ روکا گیاتو ہمارے معاشرے اور آنے والی نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔ ہم جنس پر ستی کی لعنت کو جس انداز میں مغرب پوری دنیا میں ایکسپورٹ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ اس سے ہمیں اپنی نسلوں کو ہر صورت بچا ناہے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے لیکن سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے، پنجاب حکومت کی ہے جس کی سربراہ ایک خاتون ہے، عدلیہ،مقننہ،میڈیا سب کو اس لعنت سے روکنا ہے اور ہماری عدلیہ جو پہلے ہی محنیف اور ناتوان نظر آتی ہے اس پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوچکی ہے کہ جو لوگ اس ایل جی بی ٹی کیو جیسی لعنت کو قانونی شکل دینے کیلئے کوشاں ہیں انہیں روکنا ہے۔ ٹرنسجینڈر کے نا پر ہم جنس پرستی کو پھیلا یا جارہا ہے اس کو روکنا ہے، میڈیا کا ایک طبقہ انسانی حقوق اور آزادی کے نام پر ہم جنس پرستی کو پھیلانے کیلئے فلموں ڈراموں اور ٹی وی شوز کو بھی استعمال کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اگرہم نے بحیثیت قوم ہیں جنس پرستی جیسی لعنت کو نہ روکا تو یہ گھر گھر پھیل جائیگی اور یہ ذمہ داری سب کی بنتی ہے قارئین کرام! برائیاں ہر معاشرے میں ہوتی ہیں لیکن ہم جنس پرستی، ریپ، اغوا کو کسی کا ایجنڈا سمجھ کر باہر سے آتی ہوئی رقوم کیلئے یہ سب کچھ کرنا جہاں ہمارا معاشرہ قابل نفرت بن جائیگا بلکہ اسلام کے سنہری اصولوں کے خلاف بغاوت بھی ہے، خاتون وزیر اعلی کے صوبے میں یہ بے عزتی اور سونے پر سہاگہ، ہمارے مذہبی لوگ، علما، مشائخ سیاسی مذہبی جماعتیں کیوں خاموش ہیں؟ میرے خیال میں مذہبی جماعتوں کو خاموش رہنے کا ہی کردار سونپا گیا ہوگا۔ 14اگست کو پاکستان کا قیام معرض وجود میں آیا اور اس ماہ اور جشن آزادی کے یہ پہلو ہونگے تو پھر اور قیامت کیا ہوگی جو خیبر پختونخواہ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں جو قیامت صغرا برپا ہوگئی ہے تو ابھی کس قیامت کا ہمیں انتظار ہے۔ شہر تباہ ہوگئے، لوگ بے گھر ہوگئے، ہزاروں لوگ ملبے تلے زندہ دفن ہوگئے، افسوس صد افسوس!

صحافی کے قلم سے

ڈیرہ غازیخان۔ امن امان کی بگڑی صورتحال

کوہِ سلمان سے احمد خان لغاری  دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں اور صوبوں میں ہر قسمی قوانین موجود ہیں، چوری ہو، ڈکیتی ہو، بھتہ خوری ہو، رشوت ستانی یا کوئی بھی جرم ہو قوانین کے بعد ترامیم بھی جاری رہی ہیں، قوانین میں ترامیم بھی آسانی سے منظور ہو جاتی ہیں، اس سے بڑھ کر بھی معاملات اپنے ہاتھوں میں رکھنے کیلئے، گرفت مضبوط رکھنے کیلئے عدالتوں کی ہیت ترکیبی بھی بدلی جا سکتی ہے۔اور بدلی جارہی ہیں جس سے ملکی نظام ایک مستحکم نظام اور آہنی ہاتھوں میں آچکا ہے۔ سی سی ٹی ڈی سے سی سی ڈی اور پیرا (Perra)سے لیکر ایف سی کی نئی شکل تک سب کچھ موجود ہے لیکن لوگوں کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ محکمہ پولیس کی طرف سے کھلی کچہریاں جاری ہیں موقع پر مسائل کے حل کے لیے احکامات صادر کیے جاتے ہیں۔لیکن جرائم اپنی جگہ موجود ہیں کھلی کچریوں میں پولیس کی کارکردگی میں بہتری کے اعلانات، جرائم کی بیخ کنی کے وعدے اور دعوے، فوری انصاف کی فراہمی کے بلند و بانگ اعلانا ت جاری ہیں لیکن نتائج نظر نہیں آتے سوائے اس کے دفتروں میں بیٹھنے کی بجائے عوامی مقامات پر عوام کی موجودگی میں نظر آنا ہیں۔ یہی حکمت عملی ہو لیکن اس ساری مشق میں عوامی ٹیکسوں سے ڈیزل پیٹرول اور ٹی اے کے بوجھ کے علاوہ کچھ حاصل وصول نہیں ہورہا۔ جان کی امان پاوئں تو کھلی کچہریوں میں درخواست گذار بھی اپنے ہی ہوتے ہیں اور زیادہ تر شکایتوں کو صاحب بہادر کے آنے سے پہلے دیکھ لیا جاتا ہے۔ عموماً ڈپٹی کمشنر اور ریونیو کے عملے میں پٹواری صاحبان زمینوں کے تنازعہ پر انتقال اور رجسٹریوں کے معاملات پر عوامی مسائل کو اپنی مرضی کے لوگوں کو کھلی کچہریوں میں اگلی کرسیوں پر بٹھا یا جاتا ہے۔ دراصل یہی لو گ پولیس اور پٹوار کے اپنے لوگ ہوتے ہیں۔ دیگر محکموں سے عام آدمی کو کوئی سروکار ہی نہیں ہوتا۔ یہ تمام معاملات سے افسران باخبر ہوتے ہیں، محض اپنی کاروائی اور اوپر تک اپنی کارکردگی واضع کرنے کیلئے ڈرامے سٹیج کیے جاتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ ملازمت میں یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور بڑے قریب سے دیکھتا رہاہوں۔ ایک بات افسران سے پوچھنے کی جرات کر تا ہوں کہ وہ ایک ڈویژن کے مختلف اضلاع اور تحصیلوں میں سفر کرتے ہیں تو کیا اہم شاہرا ہوں پر پولیس کے مختلف ادارے، کسٹم، ایکسائز کے لوگ کڑی دھوپ میں گاڑیوں کے کاغذات کی پڑتال کررہے ہوتے ہیں، کسی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر آرپی او یا ڈی پی او نے روک روک ان کی تصدیق کی ہو کہ یہ واقعی پولیس کے لوگ ہیں یا کہ نہیں، پولیس سے بچنے کیلئے ٹرک ڈرائیور بھی دھوپ میں گاڑیاں کھڑی کر دیتے ہیں اور یہ تاثر دینے کی کو شش کر تے ہیں کہ ان کی گاڑی خراب ہے کیونکہ وہ گزریں گے تو پولیس کی سرکاری و غیر سرکاری کاروائی کا نشانہ بن جائیں گے۔ راقم الحروف ملتا ن سے ڈیر ہ غازیخان کا سفر تقریبا ہر ہفتے کرتا ہے تو ہیڈ محمدوالا سے پہلے پولیس کی پڑتال، جھنگ روڈ پر پسینے میں شرابور پولیس محافظ موجود ہوتے ہیں، مظفر گڑھ سے باہر نکلیں تو کسٹم، ایکسائز، سکریٹری آرٹی، ٹریفک پولیس، پٹرولنگ پولیس چالان اور اوور لوڈنگ، وزن کے نام پر فورسز موجود ہوتی ہیں۔ یہ مظفر گڑھ ضلع سے N-70کی کاروائی ہے۔ چالان کے نام پر بھتہ خوری جاری ہے، مبینہ طور پر محض موبائل نمبروں پر جازکیش یا ایزی پیسہ کروانے کا بھی کہا جاتا ہے اور اردگرد دیکھ کرنقد رقم بھی وصول کی جاتی ہے۔ ڈیرہ غازیخان شہر میں پل ڈاٹ، سمینہ چوک، گدائی چونگی اور دراہمہ روڈ پر لین دین عام بتایا جاتا ہے۔ چھوٹی گاڑیوں، چھوٹی کاروالوں کو بھی روکا جائے تو اگر اپنے آپ کو وکیل (ایڈووکیٹ) یا صحافی بتایا جائے تو اسے جانے دیتے ہیں۔ موٹر سائیکل والے بیچارے تو شدید مشکلات کا شکار ہیں۔  قارئین کرام! ڈیرہ غازی خان کے لوگ گلبرگ ہاؤسنگ اور دیگر منسلکہ رہائشی کالونیوں میں اپنا سرمایہ برباد کرچکے ہیں اور گلبرگ ہاؤسنگ کے اصغر گورمانی پر کاروائی کا آغاز ہوچکا ہے جو اچھی بات ہے لیکن ان کے ساتھی اور انوسٹر کھلے بندوں دندناتے پھر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں ڈیرہ غازیخان سے باہر ایک کھلی جگہ پر دوستوں کے ساتھ چائے پی رہے تھے تو ہمارے قریب ہی ہماچے پر ایک باریش شخص کو ایک غریب اس کے کندھے اور ٹانگیں دبارہا تھا تو میں نے دوست سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہ سمارٹ ولاز ہاؤ سنگ کے روح رواں جو ملتان تک پھیل چکے ہیں، یہ وہی صاحب ہیں شنید تو یہ ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر فرار ہونے والے ہیں، لیکن میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ہمارے ادارے خاموش اور پولیس بے بس لگتی ہے، ہمارے نئے تعمیر شدہ محکمے ایسے لوگوں کو بیخ کنی سے کیوں ہچکچا تے ہیں؟ عوام کو ان سے نجات دلائی جائے۔ محض چھوٹے مجرموں سے حلف لینے اور ان کی زلفیں کٹوانے سے مسائل حل نہیں ہونگے۔ سی سی ڈی اور پیرا، فیڈرل فورس حرکت میں آئے اور ایسے مافیا ز کو جڑھ سے اکھاڑ پھینکے۔ میں لکھتا رہوں گا اور حکام کی توجہ مندل کراتا رہوں گا۔ اپنے ادارے ENIکے چیف ایگزیکٹو میجر ساجد، راجہ خالق اور خالد رند سے گذارش ہے کہ ادارہ کے نمائندہ جو ڈیرہ غازیخان میں مقرر ہیں اسے ہدایت کریں کہ مسائل کو حکام تک پہنچائے وگرنہ یہ مطالبے صدالصجرا ثابت ہونگے۔ ڈیرہ غازیخان کی مغربی پٹی جو کوہ سلیمان پر مشتمل ہے لادی گینگ اور موضع وڈور، بیلہ میں ضلع کے مختلف مقامات سے آئے ہوئے مجرموں نے علاقہ کو اپنا آماجگا ہ بنا رکھا ہے۔ مقامی لوگوں کا گھروں تک جانا مشکل ہوتا جارہا ہے، پولیس حکام، سی سی ڈی،پیرا اور ایف سی حکام امن وامان قائم رکھنے میں اپنا کردار اداکریں۔

صحافی کے قلم سے

پاکستان میں نیا سیاسی خلفشار چہ جائیکہ؟

میجر (ر) ساجد مسعود صادق پاکستانی تاریخ  کا تسلسل کے ساتھ  ایک المیہ ہے کہ پاکستان میں اٹھہتر سالوں میں ہمیشہ  سیاسی خلفشار اور انتشار رہا اور جب بھی پاکستان مضبوط ہونے لگا یا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونےکو آیا تو  اسے ایک نئے بحران نے آن لیا۔ اس کی  بُنیادی وجوہات دو  ہیں ایک تو پاکستان کی بین الاقوامی سیاست میں اہمیت یا کردار اور دوسرا عسکری وسیاسی قیادت میں رقابت جس کا ہمیشہ بیرونی قوتوں نے فائدہ اُٹھایا ہے۔ اس کی بہترین اور ناقابل تردید مثالوں میں  بھٹو ۔ ایوب جوڑی، بھٹو۔ ضیاء  جوڑی، مُشرف  ۔ نوازشریف جوڑی اور باجوہ ۔عمران جوڑی اور اُن کے آپس کے  تعلقات و معاملات  شامل ہیں۔ اسی کشمکش سے بیرونی قوتوں نے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو کئی دفعہ بحرانوں سے دوچار کیا۔ اس وقت ان دیکھی اور انجانی قوتیں اس رقابت  کو عمران اور فیلڈ مارشل سید عاصم  مُنیر  کے معاملات اور تعلقات سے جوڑنے کی  کوشش کررہی ہیں  جبکہ الاقوامی سیاسی ماحول  پاکستان کو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے  کہ  پاکستان کے لیئے اس سے بہتر  اور سازگار حالات نہ پہلے کبھی ہوئے اور نہ کبھی ہوں گے۔ پاکستان میڈیا میں جہاں آجکل بڑے شدّومد کے ساتھ عمران خان کی رہائی کا چرچا ہورہا ہے وہیں پی ٹی آئی کی طرف سے ایک نئی احتجاجی تحریک کی خبریں بھی عام ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنی اور بین الاقوامی تاریخ کے اتنے اہم اور نازک موڑ پر کیا پاکستان ایک نئی سیاسی  کشمکش افورڈ کرسکتا ہے کہ جس میں احتجاجی جلسے جلوس ہوں اور سیاستدان پھر ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا شروع کردیں۔ اور اگر حالات ایسے ہی ہیں جیسے میڈیا ڈھول بجارہا ہے تو کیا موجودہ حکومت جاری رہے گی یا موجودہ سیاسی سیٹ اپ نے جو عمران  حکومت کے ساتھ کیا تھا اِن کے ساتھ بھی وہی ہونے جارہا ہے؟ لیکن اس میں پاکستان کو کیا ملے گا یہ سوال ہر پاکستان کے ذہن میں آنا چاہیئے۔ یہ سوال اس لیئے بھی اہم ہے کہ مُلکوں کی ترقی کا راز سیاسی استحکام میں ہے جبکہ پاکستان ایسی داغدار تاریخ رکھتا ہے کہ اس کا  کوئی ایک وزیراعظم بھی اٹھہتر سالوں  میں  اپنی پانچ سالہ ٹرم پوری نہیں کرسکا۔کیا یہ بیرونی مداخلت ہے یا پاکستانی قائدین میں صلاحیتوں کی کمی کہ وہ بین الاقوامی سیاست کا کھلونا بنکر پاکستانی مُفاد کو سرے سے ذہن سے نکال دیتے ہیں۔ اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں جس طرح  بین الاقوامی اور جنوبی ایشیاء کی سیاست  میں جو تبدیلیاں آئیں وہ پاکستان کے لیئے انتہائی مُفید اور مؤثر ثابت ہوئیں۔ فالس فلیگ پہلگام، آپریشن سندور اور بنیان مرصوص ایک پیکیج تھا جس میں بھارت عسکری، سیاسی اور سفارتی میدانوں میں پاکستان کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہوا۔ دوسری جانب اسرائیل نے بھارت ہی کی طرح کی ایران پر جارحیت کردی اور آخری لمحات میں امریکی بی  25  بمبار طیاروں نے بھی ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے انہیں  مکمل طور پر تباہ کرنے کا دعوٰی کیا۔ اس تھوڑے سے عرصے میں ایسے لگ رہا تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور معاشی ٹ”ریجیکٹری (اٹھان)  بڑی تیزی سے بُلندی کی طرف بڑھی۔ لیکن مُفکرین، تجزیہ نگاروں اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے عام لوگوں کی فہم سے بھی  یہ بات بالاتر تھی کہ امریکی “چم”  بھارت اور اسرائیل میں ایک (بھارت)  کے خلاف ڈائریکٹ جنگ اور دوسرے  (اسرائیل) کے خلاف سفارتی محاذ پر ڈٹ جانے والا پاکستان  اور اُس کی قیادت “امریکی آنکھوں کا تارا”  کیونکر ہوسکتے ہیں؟  آج پاکستان کے لیئے بین الاقوامی سیاسی ماحول انتہائی سازگار ہے کیونکہ پاکستان کا ازلی دُشمن بھارت بُری طرح سے پِٹ چُکا ہے اور امریکی صدر بظاہر امن کا راگ الاپ رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے مقابلے پر روس اور چین اُس سے آج کہیں زیادہ مضبوط بھی ہیں اور پاکستان کی جتنی امریکہ اور روس  کو ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ چین اور روس کو ہے۔گویا بین الاقوامی سیاست کا شہسوار اور نمبر ون کون ہے اس فیصلے کی چابی اور اختیار  پاکستان کے پاس ہے۔ لین یہ سوال سو ملین ڈالر کا ہے کہ کیا پاکستانی قیادت اس سے فائدہ اُٹھا سکے گی؟ کیونکہ گذشتہ چند سالوں میں جس طرح پاکستانی سیاست میں نفرتوں کو پروان چڑھایا گیا ہے اور اس میں افواج پاکستان کے کردار کو بھی مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے یہ بھی اس موقعہ سے فائدہ اُٹھانے میں ایک رکاوٹ بن سکتی ہے۔   نازک معیشت، عوام کی بدحالی اور پاکستان کے اندر  سیاسی خلفشاری صورتحال کسی طور بھی پاکستان کے حق میں نہیں۔ اب اس خلفشار کو بند کرنے کا مناسب وقت آگیا ہے ورنہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ پاکستان میں سیاسی خلفشار کا باب اگر ہمیشہ کے  لیئے بند کرنا ہے تو   اس رقابت کا سائنسی بُنیادوں پر جائزہ نہ لیا جانا ضروری ہے۔ اس ضمن میں پہلا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس رقابت کی وجہ ہے کیا؟  کیا یہ پاکستانی آئین میں کوئی سُقم ہے جس نے عسکری و سیاسی رقابت کو جنم دیا ہے یا پھر عسکری وسیاسی قائدین کے ذاتی نظریات یا ادارہ جاتی رقابت  بھی ہوسکتی ہے اور آخری ممکنہ وجہ پاکستان میں اٹھہتر سال سے رائج وہ “جعلی جمہوری”  افکار ہیں جن کے مطابق آرمی چیف  سویلین وزیراعظم کے ماتحت ہے اور ہر وزیراعظم نے آرمی چیف کو  اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش میں اُسے اُس کے منسب کے مطابق مقام نہیں دیا؟  اور اگر ایسا ہی ہے تو  تمام سیاسی قائدین اور عسکری قائدین کو مل بیٹھ کر اس مسئلے کا دیرپا حل تلاش کرنا چاہیئے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان گیپ اور باہمی رقابت سے پاکستان دُشمن قوتوں نے  اسی رقابت سے بہت فائدہ اُٹھالیا ہے جس کا  اب روشن مُستقبل کا خواب دیکھنے والا  پاکستان مزید مُتحمل نہیں ہوسکتا۔   اس وقت پاکستان میں سیاسی خلفشار سوائے پاکستان دُشمن قوتوں کے کسی اور کا ایجنڈا نہیں ہوسکتا اور ان قوتوں میں سب سے پہلا نمبر بھارت کا ہے۔ اسی طرح  چین اور روس سے بڑھتی پاکستانی قربت کی وجہ سے امریکہ بھی یقیناً یہی چاہے گا۔ بھارت تو پاکستان کے ساتھ کُھلم کُھلا دُشمنی

Scroll to Top