صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

میڈیکل سٹوڈنٹس اور این آر ای۔لمحہ فکریہ

 کوہ سلمان سے احمد خان لغاری دنیا بھر میں والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اختیار دیتے ہیں، اولاد جس شعبہ میں چاہیں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، اکثر ممالک میں بچوں کو تعلیم کیلئے ضروری قرض اور وظائف بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں یا پھر انجینئر بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ معاشرے میں اعل مقام کیلئے یہی دو شعبہ جات قابل تکریم سمجھے جاتے ہیں۔ جو طالبعلم تعلیمی اعتبار سے بہتر ہے وہ غریب کی اولا ہی کیوں نہ ہو وہ میٹرک اور ایف ایس سی میں اعلی نمبر وں کے ساتھ ہر دو شعبہ جات میں سرکاری اداروں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تعلیمی وظائف کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں، اورسرکاری اداروں میں بھی دوران تعلیم طلباء ٹیو شنز پڑھا کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ متمول والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلہ دلواتے ہیں اور ایک محتاط انداز کے مطابق ایک کروڑ سے زائد اخراجات کے بعد وہ اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایم بی بکررہاہوں۔  داخلہ کی دسترس نہ ہو تو ڈینٹل کے شعبے میں چار سالہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ انجینئر ز بھی سرکاری اداروں میں کم اخراجات پر فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ میڈیکل کے شعبے میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بہتات کے باعث ڈاکٹر ز بے روزگار ہیں اور بے روزگاری کا ایک سیلاب جو ان شعبہ جات میں دیکھا گیا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہماری خواہش او ر خواب اگر اندرون ملک پورے نہیں ہورہے تو اپنی اولا کو ہر صورت ڈاکٹر بنانے کیلئے بیرون ممالک بھی میڈیکل کا عام ہیں اور ہزاروں طلبا و طالبات بیرون ملک باالخصوص میڈیکل کی تعلیم کے حصول کیلئے مقیم ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں پڑھنے والوں کیلئے ضروری قراردیاگیا ہے کہ PMDCکے تحت NREکاامتحان پاس کرنا ہوگا۔ بیرون ممالک سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کیلئے امتحان کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے ہی ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں سے تعلیم مکمل کرنے والوں سے یہ ٹیسٹ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپنے سرکاری ادارے اور سرکار کی طرف سے منظور شدہ اداروں میں دوبارہ ٹیسٹ لینا اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد ہے اور یہ کھلاتضاد ہے۔ یہ بات بھی طے ہے جو محنتی طلبا ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں وہ سرکاری اداروں میں تمام امتحانات پاس کرکے ملازمت حاصل کرتے ہیں وگرنہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں سرکار ی ملازمت کررہے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ پانچ سال تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر زانتہائی کم مشاہرہ پر دن رات ڈیوٹیاں دیکر اپنے والدین کے سنہری خوابوں کی تعبیر بنے نظر آتے ہیں۔ حکومتی کارپردازوں نے بیسک ہیلتھ یونٹس پرائیویٹ کردیے اور اب بڑے ہسپتالوں کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے کے انتظامات ہورہے ہیں اور جو بڑے لوگ پہلے سے بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کا لجز کے مالکان ہیں، ان کے حوالے کرنے پر مذاکرات ہورہے ہیں۔ آج پاکستان اور بیرون ممالک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اپنے ہی ملک کے ادارے PMDCکے تحت NREکے امتحانات یا ٹیسٹ پاس کر نے کی کوشش کرنے میں مسلسل ناکام نظرآرہے ہیں۔ گذشتہ سال 2025کے ماہ دسمبر میں منعقد ہونے والے امتحان کے نتائج کے حوالے سے ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔  پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)کے تحت منعقد کیے جانے والے نیشنل رجسٹریشن ایگزام (NRE) کا امتحان چودہ دسمبر 2025کو ملک بھر میں ہوا۔ یہ امتحان خاص طور پر بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کیلئے ضروری ہے، تاکہ وہ پاکستان میں پریکٹس /ہاؤس جاب رجسٹریشن کیلئے اہلیت ثابت کرسکیں۔ امتحان میں شامل امیدواروں کی کل تعداد سات ہزار چھیتر جسمیں ڈینٹل گریجویٹس بھی شامل ہین، کامیاب امیدواروں کی تعداد ایک ہزار چارسو تہتر رہی جبکہ ڈینٹل گریجویٹس کے کل چھ امیدوار پاس ہوئے۔ یہ نتیجہ ظاہر کر تا ہے کہ تقریباً 78فیصد اور 92فیصد ڈینٹل امیدوار ناکام رہے جو پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار، امتحانی تیاری، اور کریکولم سے میل نہ کھانے جیسے معاملات پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پی ایم ڈی سی اپنے قوانین کے مطابق ہر سال دوبارNREمنعقد کرتا ہے۔ جون2025کے امتحان میں بھی تقریباً یہی صورت حال رہی۔ ماہ جون میں میڈیکل پاس ریٹ 25-26فیصد رہا۔ بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں تعلیم کا معیار مختلف ممالک میں یکساں نہیں ہوتاپچھلے امتحان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ممالک جیسے کرغستان، چین، قازقستان، ازبکستان وغیرہ سے آئے ہوئے طلبہ کا پاس ریٹ بہت کم تھا جبکہ چند دیگر ممالک کے طلبہ بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہین کہ جہاں سے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہاں کے تعلیمی نصاب، تدریسی مواد اور طبی مشق Clinical Exposure)) پی ایم ڈی سی کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ امتحا میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس امتحان میں صرف تھیوری نہیں بلکہ کلینکل بنیادوں پر علم اور فیصلے کی صلاحیت بھی جانچی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کلینکل تربیت /پریکٹس میں کمزور رہے، یا ان کے تعلیمی نظا م میں پریکٹیکل امپورٹنس کی کمی تھی، اس لیے وہ اس امتحان میں بہتر کارکردگی نہ دکھاپائے۔ کسی بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل گریجویٹس نے نتائج کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے اور پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیاہے کہ امتحان کو عالمی معیارات کے مطابق بنایا جائے اور نتائج کا تفصیلی سکور کارڈ شائع کیا جائے،تاکہ طلبا سمجھ سکیں کہ وہ کس شعبے میں کمزور ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ کچھ طلبا اور والدین امتحان کے معیار،پالیسی یا علامتی شفافیت سے مطمئن نہیں ہیں۔ رہامعاملہ پاکستان میں MBBSکرنے والے طلبا و طالبات کی ناکامی کا، تو ان کے لئے بھی یہ امتحان لازمی ہے تاکہ وہ پروفیشنل رجسٹریشن حاصل کرسکیں یہ بھی عام طور پر سخت

صحافی کے قلم سے

خون، برف اور فولاد وہ رات جب ‘کالے بگلوں’ نے تاریخ لکھ دی

تحریر و تحقیق: عمر مختار رند آسمان نے سیاہ چادر اوڑھ لی تھی اور زمین برف کی سفید چادر میں سانس بھی رکے بے جان پڑی تھی۔ افغانستان کے کنڑ کے پہاڑی درے، جو تاریخ کے گواہ ہیں، اسی کی دہائی کی ایک کڑکڑاتی ہوئی رات میں اپنی گہری خاموشی کے پردے میں ایک ایسا ڈراما تیار کر رہے تھے، جس کی گونج عشروں تک سنائی دیتی رہے گی۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین کا ریڈ بِئیر اپنی طاقت کے زور پر افغان سرزمین پر چھا گیا تھا، مگر پہاڑوں کے دل میں ایک آگ سلگ رہی تھی – آزادی کی آگ۔ اور اس آگ کو بجھانے کے لیے، ماسکو نے اپنا سب سے خوفناک، سب سے خونخوار اور سب سے خفیہ ہتھیار میدان میں اتارا: اسپیٹسناز۔ یہ روسی فوج کا دماغ اور پنجہ تھے۔ وہ لوگ جن کی تربیت اتنی سخت، اتنی بے رحم تھی کہ ہر دس میں سے نو ناکام ہو جاتے تھے۔ یہ وہ سپاہی تھے جو چاقو کی دھار پر چلنا جانتے تھے، جو اندھیرے میں دیکھ سکتے تھے، اور خاموشی میں اپنے دشمن کی دھڑکن سن سکتے تھے۔ ان کا مشن اس رات بالکل صاف تھا: افغان مجاہدین کی شہ رگ، ان کی سپلائی لائنوں کو تلاش کرنا، کاٹنا اور انہیں چن چن کر ختم کرنا۔ یوں، خیال تھا کہ پہاڑوں میں گھر کر لڑنے والے ان بہادروں کو گھٹنوں کے بل لایا جا سکے گا۔ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس، اپنی لاٹھی میں اپنے ہی بھوسے کے غرور سے سرشار، یہ روسی گوریلے پیراشوٹوں سے اس برفانی وادی میں اترے۔ ان کے بوٹوں نے برف کو کچلا۔ ہوا میں صرف جیکٹوں کے ریشم جیسے کپڑوں کی سرسراہٹ تھی۔ وہ اپنی پوزیشنیں سنبھال رہے تھے، ریڈیو پر خاموش احکامات سن رہے تھے، اور اپنے کمانڈر سے اگلے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ شکار کرنے آئے ہیں۔ انہیں احساس تک نہ تھا کہ وہ خود شکار بن چکے ہیں۔ کیونکہ اندھیرے میں، ان سیاہ چٹانوں اور برفانی چوٹیوں پر، کچھ اور سائے چل رہے تھے۔ یہ سائے پتھروں کا حصہ لگتے تھے، ریت کے ذروں کی طرح ہوا میں تیرتے محسوس ہوتے تھے۔ نہ کوئی آواز، نہ کوئی جھنکار، نہ پتھر لڑھکنے کی آہٹ۔ یہ خاموشی موت کی خاموشی سے بھی گہری تھی۔ یہ سائے، حرکت میں ہونے کے باوجود، جمود کا روپ دھارے ہوئے تھے۔ وہ روسی دستے کے حلقے میں اس طرح گھس گئے جیسے دھند پہاڑوں میں اترتی ہے – بے آواز، بے وزن، مگر ہر چیز کو ڈھانپ لینے والی۔ پھر، ایک لمحے میں، خاموشی چکناچور ہوئی۔ برفانی رات کا سکوت گولیوں کی گھن گرج، دستی بم کے دھماکوں اور آہوں کی ایک ہولناک سمفنی میں بدل گیا۔ یہ حملہ اتنا اچانک، اتنا منظم اور اتنا شدید تھا کہ اسپیٹسناز کے تربیت یافتہ کمانڈوز کے پاس بھی سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ وہ دنیا کی سخت ترین تربیت دینے والی فورس تھی، مگر اس رات ان کا سامنا کسی ایسی چیز سے تھا جو تربیت سے بالاتر تھی۔ یہ صرف جنگ نہیں تھی؛ یہ انتقام کا ایک پراسرار، خوفناک اور بے انتہا موثر اظہار تھا۔ لڑائی ہر طرف پھیل گئی۔ قریب سے مار کرنے والے ہتھیاروں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ یہ صرف دور سے فائرنگ کا معرکہ نہیں تھا؛ یہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے کا وقت تھا۔ جب اگلی صبح سورج نے کنڑ کی وادی میں جھانکا، تو اس نے ایک ایسا منظر دیکھا جسے دیکھ کر سوویت کمان کے حواس ہی باختہ ہو گئے۔ برف سرخ ہو چکی تھی۔ ان کی پراسرار، ناقابل شکست سمجھی جانے والی اسپیٹسناز یونٹ تباہ حال پڑی تھی۔ بھاری جانی نقصان ہوا تھا۔ سوال یہ تھا: یہ کس نے کیا؟ کون تھے وہ سائے؟ کس فوج نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا؟ افغان مجاہدین بہادر تھے، مگر اس طرح کی پراسیژن، اس طرح کی بے رحم اور خاموش کارروائی؟ اس کا جواب ایک روسی میجر کے سینے پر ملا۔ وہاں، اس کے دل کے قریب، ایک خنجر پیوست تھا۔ یہ کوئی عام بازار کا خنجر نہ تھا۔ اس کا ڈیزائن، اس کی ساخت، اس کی دم پر بنی علامت… یہ پاکستان کے ایلیٹ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کمانڈوز کا مخصوص ہتھیار تھا۔ یہ خنجر صرف ایک ہتھیار نہیں تھا؛ یہ ایک پیغام تھا، ایک دستخط تھا، ایک اعلان تھا۔ یہ کہہ رہا تھا: “ہم یہاں تھے۔ ہم نے تمہیں قریب سے دیکھا۔ اور ہم نے تمہیں قریب سے ہی مارا۔” یہ وہ لمحہ تھا جب ایک نئی داستان نے جنم لیا – ‘کالے بگلوں’ کی داستان۔ یہیں سے، تربیلا کے قریب چراٹ کے گھنے، ویران اور خوفناک جنگلوں میں تربیت پانے والے ان کمانڈوز کا نام ‘بلیک اسٹورکس’ یا ‘کالے بگلے’ پڑا۔ افغان مجاہدین نے یہ نام دیا، اور روسی فوجی اسے خوف کے ساتھ اپنے وائرلیس پر دہرانے لگے۔ میدانِ جنگ گرم ہوتا، تو روسی فوجی اپنے ہیڈ کوارٹر کو سگنل بھیجتے: “کالے بگلے آ گئے ہیں! بلیک اسٹورکس!” یہ اعلانِ جنگ نہیں، اعترافِ شکست کی ایک دہشت زدہ پکار بن گئی۔ روسی ہیلی کاپٹر پائلٹوں نے اپنی ڈائریوں میں لکھا: “وہ سیاہ وردیوں میں پیراشوٹ سے ایسے اترتے ہیں جیسے شکاری پرندے اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں… بگلا اسی طرح چپکے سے، بجلی کی سی سرعت سے حملہ آور ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہیں۔” خانہ بدوش کے قلم سے -ایس ایس جی – فولاد کو ڈھالنے کا راستہ ایس ایس جی کی اس ہیبت ناک اور پراسرار دنیا میں داخلہ ہر کسی کے نصیب کی بات نہیں۔ یہ راستہ گلابوں کے بجائے کانٹوں، بلکہ خنجروں سے بچھا ہوا ہے۔ یہاں براہِ راست بھرتی نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ اعزاز صرف منتخب ہستیوں کے حصے میں آتا ہے۔ پاک فوج کے وہ چُنیدہ ترین جوان اور افسران، جو جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتوں کے بھی پیکر ہوتے ہیں، جو اپنے جگر میں ایک آگ رکھتے ہیں، وہ خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہ پیشکش محض الفاظ نہیں ہوتی؛ یہ اپنے آپ کو دوزخ کے دروازے پر کھڑے کرنے کی درخواست ہوتی ہے۔ پہلا مرحلہ ہی خواب دیکھنے والوں کو جگا دینے کے

صحافی کے قلم سے

بوسنیا کی جنگ اور پاکستان کا وہ تاریخی کردار جس نے ایک قوم کو نئی زندگی بخشی

تحریر و تحقیق : عمر مختار رند ایک پرامن ملک کی تباہی اور دنیا کی خاموشی یورپ کے دل میں واقع سرسبز وادیوں اور پہاڑوں کا ملک بوسنیا و ہرزیگووینا کبھی تہذیبوں کے سنگم کے لیے مشہور تھا۔ یہاں مسلمان، سرب اور کروآٹ برادریاں صدیوں سے امن کے ساتھ رہتی تھیں۔ مگر 1992 میں یوگوسلاویہ کے انہدام کے بعد جس وحشت نے جنم لیا، اس نے جدید یورپی تاریخ کے بدترین انسانی المیے کو جنم دیا۔ بوسنیا کی جنگ صرف ایک علاقائی تنازع نہیں تھی، بلکہ یہ نسل کشی، اجتماعی ریپ اور انسانی تہذیب کے لیے ایک چیلنج تھی۔ جیسے ہی بوسنیا نے آزادی کا اعلان کیا، سرب قوم پرستوں نے جوابی کارروائی شروع کی۔ ان کے ہدف پر مسلمان آبادی تھی۔ ہزاروں گھر نذر آتش کیے گئے، مساجد مسمار ہوئیں، تاریخی لائبریریاں خاکستر ہوئیں۔ لیکن سب سے ہولناک باب وہ تھا جب ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اندازے بتاتے ہیں کہ 20,000 سے 50,000 خواتین کو منظم طریقے سے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ کی ناکامی اور عالمی ضمیر کی موت دنیا کی طاقتیں اس المیے کو دور سے دیکھتی رہیں۔ اقوام متحدہ نے کئی قراردادیں منظور کیں، پابندیاں لگائیں، امن کے لیے کوششیں کیں، مگر زمینی حقائق بدستور دہشت گردی کے سائے میں تھے۔ یو این پیس کیپرز کا کردار متنازعہ رہا، خاص طور پر سربرینیکا کے قتل عام کے موقع پر جب ڈچ پیس کیپرز مسلمانوں کو سربوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہوئے۔ 11 جولائی 1995 کو سربرینیکا میں جو کچھ ہوا، وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کا بدترین انسانی المیہ تھا۔ صرب فوج کے کمانڈر جنرل راتکو ملادیچ نے 8,000 سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کو الگ کر کے انہیں قتل کر دیا۔ عورتیں اور بچے بے یار و مددگار تھے۔ اس موقع پر بھی عالمی برادری خاموش تماشائی بنی رہی۔ ایسے میں پاکستان نے وہ تاریخی فیصلہ کیا جس نے بوسنیا کی جنگ کے تناظر ہی کو بدل دیا۔ جب اقوام متحدہ نے اضافی پیس کیپرز کی درخواست کی تو پاکستان سب سے پہلے آگے بڑھا۔ یہ فیصلہ محض سفارتی یا فوجی نہیں تھا، بلکہ اس کی جڑیں پاکستان کے قیام کے فلسفے میں تھیں۔ پاکستان نے خود کو مسلم امت کا حصہ سمجھتے ہوئے بوسنیا کے مسلمانوں کی مدد کو اپنا فرض سمجھا۔ پاکستانی فوجی دستے جب بوسنیا پہنچے تو منظر حیرت انگیز تھا۔ بوسنیائی عوام نے ان کا استقبال گمشدہ بھائیوں کی واپسی کے طور پر کیا۔ سڑکوں پر خوشی کے مارے لوگ نکل آئے۔ ایک بزرگ نے بتایا، “ہم سمجھتے تھے کہ پوری دنیا نے ہمیں بھلا دیا ہے، مگر پاکستان نے ثابت کیا کہ امت مسلمہ ابھی زندہ ہے۔” پاکستانی فوج کا منفرد کردار: ہمت اور انسانیت کا امتزاج پاکستانی پیس کیپرز نے وہ کارنامے انجام دیے جو یو این کی تاریخ میں مثال بن گئے۔ جہاں دوسرے ممالک کے فوجی خطرناک علاقوں میں جانے سے گریز کرتے تھے، پاکستانی جوان جان خطرے میں ڈال کر بھی انسانیت کی خدمت کے لیے آگے بڑھتے تھے۔ کلیدی کارنامے 1. ریپ کیمپوں سے نجات پاکستانی فوجیوں نے متعدد ریپ کیمپوں کو ختم کر کے سینکڑوں خواتین کو آزاد کرایا۔ 2. محفوظ زونز کا قیام انہوں نے خطرناک علاقوں میں محفوظ زونز قائم کیے جہاں مہاجرین کو پناہ ملی۔ 3. انسانی ہمدردی پاکستانی فوجی نہ صرف حفاظت فراہم کرتے تھے بلکہ اپنی راشن بوسنیائی بچوں اور خواتین میں بانٹتے تھے۔ 4. جانی قربانیاں سات پاکستانی جوان بوسنیا کی سرزمین پر شہید ہوئے، جن میں میجر عامر حیات بھی شامل تھے جنہوں نے ایک بوسنیائی بچے کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔ بوسنیا میں پاکستانی شہداء: ہمیشہ زندہ رہنے والی یادیں بوسنیا کی سرزمین پر پڑی پاکستانی شہداء کی قبریں آج بھی دونوں قوموں کے درمیان محبت کا مضبوط رشتہ ہیں۔ ہر سال بوسنیائی عوام ان قبروں پر پھول چڑھاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں۔ یہ قبریں محض چند پتھر نہیں، بلکہ ایک ایسے رشتے کی علامت ہیں جو خون اور قربانیوں سے لکھا گیا۔ پاکستانی مدد کا تناظر: سفارتی، فوجی اور انسانی پہلو پاکستان کی بوسنیا میں مدد محض فوجی تعاون تک محدود نہیں تھی۔ پاکستان نے – بین الاقوامی فورموں پر بوسنیا کی آزادی کی حمایت کی – بوسنیائی پناہ گزینوں کے لیے مالی امداد فراہم کی – بوسنیائی طلبہ کے لیے پاکستان میں تعلیمی اسکالرشپس کا اعلان کیا بوسنیا کی جنگ کے اعداد و شمار المناک حقیقت – جنگ کا دورانیہ 1992-1995 – ہلاکتیں تقریباً 100,000 (80% مسلمان) – بے گھر 20 لاکھ سے زیادہ – ریپ کے واقعات 20,000-50,000 خواتین – جنگی جرائم کے مرتکبین: 161 افراد کو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں سزا – پاکستانی فوجیوں کی تعداد: تقریباً 3,000 – پاکستانی شہداء: 7 پاکستان اور بوسنیا کے تعلقات جنگ کے بعد کا دور جنگ کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بوسنیا کے تعلقات مستحکم ہوتے گئے۔ بوسنیائی پارلیمنٹ نے پاکستان کے شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے ہوئے، اقتصادی شراکت داری قائم ہوئی۔ آج بھی بوسنیا میں پاکستان کو بے حد عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ تاریخی اسباق اور موجودہ تناظر بوسنیا کی جنگ سے کئی اسباق ملتے ہیں 1. عالمی برادری کی طرف سے مظلوم مسلمانوں کی مدد میں ناکامی 2. پاکستان کا مسلم امہ کے ساتھ مضبوط رشتہ 3. انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیے گئے اقدامات کی طویل مدتی مثبت اثرات آج جب کشمیر، فلسطین، میانمار اور دیگر خطوں میں مسلمان مظلوم ہیں، بوسنیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ پاکستان کس طرح بین الاقوامی دباؤ کے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہ سکتا ہے۔ انسانی تاریخ کا ایک روشن باب بوسنیا کی جنگ میں پاکستان کا کردار صرف ایک فوجی یا سفارتی عمل نہیں تھا۔ یہ ایمان، انسانیت اور امت مسلمہ کے ساتھ یکجہتی کا اعلیٰ ترین نمونہ تھا۔ پاکستانی فوجیوں نے ثابت کیا کہ حقیقی ہیرو وہ ہوتے ہیں جو مظلوم کی مدد کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ بوسنیا کے صدر علی عزت بیگووچ نے درست کہا تھا: “پاکستان نے نہ صرف ہماری جانیں بچائیں، بلکہ ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم تنہا

صحافی کے قلم سے

جنرل جاوید ناصر وہ ہیرو جس نے بوسنیا کے مسلمانوں کو نسل کشی سے بچایا

تحریر و تحقیق : عمر مختار رند سربرینیکا کا المناک دن اور دنیا کی خاموشی 7 جولائی 1995 یورپی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا۔ سربرینیکا کے جنگلات میں 8,000 سے زیادہ مسلمان مردوں اور لڑکوں کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا۔ 12,000 سے زیادہ عورتوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کیا گیا۔ یہ وہ المیہ تھا جس کے بعد اقوام متحدہ مجبوراً امن فوج بھیجنے پر راضی ہوئی۔ مگر سوال یہ تھا: کیا یو این فوج واقعی بوسنیا کے مسلمانوں کی حفاظت کر پائے گی؟ پاکستان کا تاریخی فیصلہ صرف امن فوج نہیں، حقیقی مدد جب پوری دنیا بوسنیا کے مسلمانوں کو تنہا چھوڑ چکی تھی، پاکستان نے دو سطحوں پر کام شروع کیا۔ ایک طرف تو پاکستان اقوام متحدہ کی امن فوج کا حصہ بنا، دوسری جانب اس نے بوسنیا کے مجاہدین کو اسلحہ اور تربیت فراہم کی۔ یہ دونوں کام ایک ہی مقصد کے لیے تھے: بوسنیا کے مسلمانوں کی بقا۔ جنرل جاوید ناصر آئی ایس آئی کا وہ سربراہ جس نے تاریخ بدل دی جنرل جاوید ناصر کا نام پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ عزت سے لیا جائے گا۔ بوسنیا کی جنگ کے دوران جب پوری دنیا نے مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا، جنرل جاوید ناصر نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے وہ تاریخی فیصلے کیے جو بوسنیا کی جنگ کا پورا نقشہ بدل گئے۔ جنرل ناصر کی زیر قیادت کلیدی اقدامات 1. اسلحہ کی ترسیل کا بے مثال نظام    پاکستان نے “گفٹ فرام پاکستان” کے نام سے ٹیونا کینز کے بحری جہاز بوسنیا بھیجے۔ یہ جہاز ظاہری طور پر خوراک اور امدادی سامان لے جاتے تھے، مگر درحقیقت یہ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائلز، اینٹی ایئرکرافٹ میزائلز اور دیگر ضروری اسلحہ سے لیس تھے۔ 2. مجاہدین کی تربیت    پاکستان نے نہ صرف اسلحہ فراہم کیا بلکہ بوسنیا کے مجاہدین کو جدید جنگ کے طریقوں پر تربیت بھی دی۔ یہ تربیت بوسنیا ہی میں دی گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرب فوج کے ٹینک اور ٹرک راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ 3. بین الاقوامی پابندیوں کو چیلنج    جب عالمی طاقتوں نے بوسنیا کی حکومت پر اسلحہ خریدنے کی پابندی لگا رکھی تھی، پاکستان نے اسلامی ممالک کے اجلاس بلائے اور اس پابندی کو ختم کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستانی فوج کی سرزمین بوسنیا پر قربانیاں جنرل جاوید ناصر کی قیادت میں پاکستان نے نہ صرف اسلحہ کی مدد کی بلکہ اپنے فوجی بھی بوسنیا بھیجے۔ پاکستانی فوجیوں نے محض یو این کے پیس کیپرز کا کردار ادا نہیں کیا، بلکہ وہ بوسنیا کے مسلمانوں کے محافظ بن گئے۔ پاکستانی فوج کے کارنامے کیمپوں کی حفاظت پاکستانی فوجیوں نے مسلمانوں کے کیمپوں کو سرب فوجیوں سے بچایا انسانی امداد –  کھانے پینے کا سامان پاکستان کے خرچے پر تقسیم کیا جانی قربانیاں –  سات پاکستانی جوان بوسنیا کی سرزمین پر شہید ہوئے مورل سپورٹ پاکستانی فوجیوں نے بوسنیائی عوام کے حوصلے بلند رکھے امریکہ کا دباؤ اور جنرل ناصر کی برطرفی نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں امریکہ کے شدید دباؤ پر جنرل جاوید ناصر کو آئی ایس آئی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ یہ امریکہ کا وہ انتقام تھا جو اس نے بوسنیا میں مسلمانوں کی مدد کرنے کی پاداش میں پاکستان سے لیا۔ 2011ء میں تو امریکہ نے جنرل جاوید ناصر کی حوالگی کا مطالبہ تک کر دیا، لیکن پاکستانی حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل ناصر نے بوسنیا میں جو کردار ادا کیا، وہ عالمی طاقتوں کو کس قدر ناگوار گزرا۔ سومالیا میں پاکستان کا انمٹ کردار بوسنیا ہی نہیں، سومالیا میں بھی پاکستان نے اپنی انسانی ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ جب سومالیا کے مسلمان دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں تڑپ رہے تھے اور امریکہ سمیت دیگر طاقتیں بہانے تراش رہی تھیں، پاکستان نے اپنی فوجیں بھیج کر سومالیا کے مسلمانوں کو دہشت گردوں سے نجات دلائی۔ مزید برآں، جب امریکی فوجی یرغمال بن گئے تو پاکستانی فوج نے نہ صرف انہیں ریکور کیا بلکہ دہشت گرد گروہ کو جڑ سے ختم کر دیا۔ یہ وہ خدمات ہیں جو پاکستان مسلم امہ کی خاطر انجام دیتا رہا ہے۔ بوسنیا آج پاکستان کے احسان کو کیسے یاد کرتا ہے؟ آج بوسنیا میں پاکستان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ بوسنیائی عوام پاکستانیوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں۔ جنرل جاوید ناصر کو وہ اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ بوسنیا کی پارلیمنٹ میں پاکستان کے حق میں قراردادیں موجود ہیں۔ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری ہے۔ یہ سب کچھ اسی وجہ سے ہے کہ جب پوری دنیا نے بوسنیا کے مسلمانوں کو تنہا چھوڑ دیا تھا، پاکستان نے ان کی مدد کی تھی۔ یہ وہ قرض ہے جو بوسنیا کی نسلیں پاکستان پر چکا رہی ہیں۔ تاریخی سبق طاقت کا صحیح استعمال بوسنیا کی جنگ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حقیقی طاقت وہ نہیں جو ظلم کرے، بلکہ وہ ہے جو مظلوم کی مدد کرے۔ پاکستان نے بوسنیا میں یہی کیا۔ جنرل جاوید ناصر نے یہی کیا۔ طاقتور ہمیشہ طاقتور نہیں رہتا، لیکن جو لوگ انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ہماری ذمہ داری تاریخ کو زندہ رکھنا 1. اس تاریخ کو زندہ رکھیں 2. نئی نسل کو بتائیں کہ پاکستان کا کردار کتنا عظیم تھا 3. جنرل جاوید ناصر جیسے ہیروز کو خراج تحسین پیش کریں 4. مسلم امہ کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط کریں ایمان اور انسانیت کی فتح بوسنیا کی جنگ درحقیقت ایمان اور انسانیت کی جنگ تھی۔ پاکستان نے اس جنگ میں وہ کردار ادا کیا جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ جنرل جاوید ناصر نے وہ فیصلے کیے جو تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔ آج جنرل جاوید ناصر تبلیغی جماعت کے ساتھ رہ کر دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ ان کی عظمت کا ثبوت ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں نہیں آئے، بلکہ ہمیشہ خدمت انسانیت کو اپنا مشن سمجھتے رہے۔ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر اسی لیے عزت حاصل ہے کہ یہاں جنرل جاوید ناصر جیسے لوگ پیدا ہوتے ہیں جو اپنی

صحافی کے قلم سے

غزہ میں مذہبی صیہونیت اور نیتن یاہو کی حکمت عملی

    صیہونیت کا نظریہ نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے جب سے یہ پہلی بار 1800 کی دہائی کے آخر میں تجویز کیا گیا تھا۔  صیہونیت، جس کا آغاز ایک سیاسی تحریک کے طور پر ہوا تھا جس نے قدیم اسرائیل میں یہودی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا تھا، ایک پیچیدہ نظریے کی شکل اختیار کر چکا ہے جو سیاسی، ثقافتی اور مذہبی پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔  مذہبی صیہونیت، صیہونیت کے بڑے ذیلی حصوں میں سے ایک، اسرائیلی ریاست اور اس کی غیر یہودی پالیسیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔   پمفلٹ میں تھیوڈور ہرزل کے اہم مضمون، “ڈیر جوڈنسٹاٹ” یا انگریزی میں “دی جیوش اسٹیٹ” نے عصری صہیونی تحریک کی بنیاد فراہم کی، “ڈیر جوڈنسٹاٹ” ہرزل نے 1896 میں لکھا تھا۔ اگرچہ درست مقام معلوم نہیں ہے، لیکن یہ سوچا جاتا ہے۔  اس نے اس کا زیادہ تر حصہ ویانا، آسٹریا میں لکھا جہاں وہ اس وقت مقیم تھے۔   “یہودی ریاست” کا بنیادی مقالہ یہ تھا کہ یورپ میں سام دشمنی میں اضافے کو ایک یہودی قومی ریاست خود مختار حقوق کے ساتھ روک سکتی ہے۔  ہرزل نے اس بات کی وکالت کی کہ یہودیوں کا سیاسی طور پر تسلیم شدہ وطن ہونا چاہیے جہاں وہ تعصب یا ظلم و ستم کا سامنا کیے بغیر رہ سکیں۔  یہودیت سے فلسطین کی تاریخی مطابقت کی وجہ سے، وہ اسے ممکنہ مقام کے طور پر تجویز کرتا ہے۔   یورپ میں سماجی اور سیاسی بے چینی سے گزرنے والے بہت سے یہودی اس سے متاثر ہوئے۔  یہودی کمیونٹیز میں بڑھتے ہوئے قوم پرستی کے جوش نے ہرزل کی یہودی ریاست کے لیے مختصر اور سیدھی تجویز میں گونج پائی۔  اس سرگرمی سے صہیونی تحریک کو تقویت ملی، جس نے یہودیوں کا وطن بنانے کے لیے اضافی بحثیں اور اقدامات کو جنم دیا۔             ہرزل کے وژن کا مقصد یورپ میں ظلم و ستم سے بچنے والے یہودیوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا تھا۔  صیہونیت کے ابتدائی حامیوں نے ایک آزاد یہودی ریاست بنانے اور اس علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی کوشش کی جسے وہ اپنے تاریخی وطن اسرائیل کے طور پر دیکھتے تھے۔  ہرزل کا خیال سیکولر تھا لیکن ایک دوسرا موجودہ جسے مذہبی صیہونیت کہا جاتا ہے بھی سیکولر صیہونیت کے ساتھ ساتھ تیار ہوا۔       مذہبی صیہونی اسرائیل کی سرزمین کو یہودیوں کے لیے ایک الہامی تحفہ سمجھتے ہیں اور اسرائیل کی تخلیق کو بائبل کی پیشن گوئی کی تکمیل کے طور پر دیکھتے ہیں۔  ان کے لیے صیہونیت ایک مذہبی فریضہ ہے جو یہودی شناخت اور عقیدے سے جڑا ہوا ہے، نہ کہ صرف ایک سیاسی تحریک۔               اسرائیلی حکومت کی غیر یہودی پالیسیوں پر مذہبی صیہونیت کا خاصا اثر رہا ہے۔  یہودی کالونیاں بائبل کی زمینوں میں پروان چڑھی ہیں کیونکہ مذہبی صہیونی ان علاقوں پر یہودی حاکمیت کے تحفظ کی حمایت کرتے ہیں، جس میں مغربی کنارے کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔  خاص طور پر ان علاقوں کے فلسطینی باشندوں کے درمیان اس ترقی کے نتیجے میں تصادم اور اختلاف پیدا ہوا ہے۔                 مزید برآں، غیر یہودیوں، خاص طور پر فلسطینیوں اور عرب اسرائیلی شہریوں کے بارے میں اسرائیلی پالیسی، مذہبی صیہونیت کی طرف سے تشکیل دی گئی ہے۔  شہریت کے حقوق، مذہبی آزادی، اور جائیداد کی ملکیت کے بارے میں بات چیت اور تنازعات ہوتے رہے ہیں۔  قدامت پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذہبی صیہونیوں کے سخت تعلقات نے بھی قانون سازی کو متاثر کیا ہے، جو اسرائیل میں اقلیتوں کے حقوق اور بین النسلی اور بین المذاہب تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔                 اسرائیلی معاشرے کے ثقافتی معیارات اور تعلیمی نظام پر مذہبی صہیونیت کے اثرات اس کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے۔  مذہبی تنظیمیں اور مکاتب صہیونی بیانیہ کا پرچار کرتے ہیں جو مذہبی بنیادوں پر ہیں۔ یقین، آنے والی نسلوں کے نقطہ نظر کو متاثر کرنا اور قومی شناخت کے احساس کو مضبوط کرنا جو مذہبی وراثت سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔                تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مذہبی صہیونی تحریک کے اندر مختلف قسم کے نقطہ نظر اور طریقے موجود ہیں، اور یہ کہ نظریہ ایک مربوط مکمل نہیں ہے۔  جب کہ کچھ زیادہ متنوع اور جامع معاشرہ چاہتے ہیں، دوسروں کے پاس جائیداد کی ملکیت، سلامتی اور مذہبی امتیاز کے بارے میں زیادہ سخت خیالات ہیں۔                 صہیونیت کے ارتقاء، خاص طور پر مذہبی صیہونیت کے عروج نے اسرائیل کی ریاست اور غیر یہودیوں کے ساتھ اس کے سلوک پر ایک دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔  اس نے یہودی اسرائیلیوں کے یکجہتی اور قومی شناخت کے احساس کو تقویت بخشی ہے لیکن اقلیتوں کے حقوق، علاقائی تنازعات، اور بین الاجتماعی تعاملات کے ساتھ مشکل مسائل کو بھی سامنے لایا ہے۔  اسرائیلی معاشرے اور مشرق وسطیٰ کے بڑے خطے کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ان حرکیات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔   اسرائیلی سیاست بینجمن نیتن یاہو کے خیالات سے بہت متاثر ہوئی ہے، خاص طور پر مذہبی صیہونیت اور حق کے بارے میں۔  نیتن یاہو کے انتہائی نظریات کو اپنانے کے بارے میں تشویش ان کی انتہائی دائیں بازو کی تنظیموں جیسے اوتزما یہودیت اور مذہبی صیہونیت اتحاد کے ساتھ وابستگی سے پیدا ہوئی ہے۔   اس کی انتظامیہ نے متنازعہ قومی ریاست کا قانون نافذ کیا، جس نے اقلیتوں کے حقوق کو کم کیا اور اسرائیل کو ایک خصوصی نسلی-قومی ریاست کے طور پر بیان کیا۔  مزید برآں، نیتن یاہو نے اسرائیل-فلسطین تنازعہ میں آبادکاری کی ترقی اور الحاق کے لیے اپنے خاموش لیکن ثابت قدم انداز میں دو ریاستی حل کے امکانات کو کمزور کر دیا ہے۔  تمام چیزوں پر غور کیا جائے، نیتن یاہو کی میراث دائیں بازو کے ایجنڈے کو فروغ دینے، جمہوری معیار کے چیلنجز، اور اسرائیل کے سیاسی منظر نامے کے لیے زیادہ قدامت پسند اور قوم پرست سمت میں سے ایک ہے۔   محترم سینئر ربی نے نیتن یاہو کو یہودی مسیحا کا نمائندہ قرار دیا،

صحافی کے قلم سے

دماغوں کی جنگ

صدیوں سے لڑائیوں میں تلوار اور آتش کا استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن انٹرنیٹ کے تیز رفتار دور میں، جنگی میدان حقیقی مورچوں سے نکل کر وسیع ہوچکا ہے۔ خوش آمدید پکسلز اور ٹویٹس کے دور میں، جہاں اصل لڑائی صرف زمین کے لیے نہیں بلکہ ذہنوں کے لیے ہے۔ جنگ ارادوں کا ٹکراؤ ہے لیکن ارادوں کی جڑیں سیاست میں ہوتی ہیں۔ کلاؤزویتز نے جنگ کی تعریف “سیاسی پالیسی کا (شدید) دوسرے طریقوں سے (توسیع)” کے طور پر کی ہے۔ کلاؤزویتز یہ سمجھتے تھے کہ فوجی کارروائی کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اندرونی انتشار اور معاشرتی کشمکش سے بچنے کے لیے، عامہ حوصلے کو برقرار رکھنا اور جنگ کے اخراجات کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ معلومات اور پروپیگنڈا جنگ کے اہم میدان ہیں جنہیں حکمت عملی سازوں اور منصوبہ سازوں کو کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ عوامی رائے کو کنٹرول کرنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت تنازعہ کے نتیجے کا تعین کرنے میں اہم ہوتی جا رہی ہے، اس کے باوجود کہ روایتی فوجی طاقتوں کو اب بھی لڑائی میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ کلاؤزویتز کے جنگ کے تصور کی روایتی تشریح “سیاست کا دوسرے ذرائع سے تسلسل” تھی۔ انفارمیشن کے دور میں، اس تصور کی ایک نئی اہمیت ہے۔ غزہ میں تصادم، فائر آرمز اور  بارود کے استعمال کے علاوہ، ڈیجیٹل میڈیا کے محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ بھی ہے، جس میں مین اسٹریم اور سوشل میڈیا بھی شامل ہیں۔ حماس کے سوشل میڈیا کے استعمال کی کامیابی غزہ تنازعہ کی ایک اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسرائیلی حملے کے مظلوم کے طور پر خود کو پیش کرکے اور معلومات کو اسی طرح پھیلانے جیسے وہ ہو رہی ہیں، حماس دنیا بھر کے سامعین سے براہ راست رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، روایتی میڈیا کے محافظوں سے بچ نکلا ہے۔ حماس کا سوشل میڈیا کا استعمال بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں خاص طور پر موثر رہا ہے۔ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصاویر اور ویڈیوز وسیع پیمانے پر آن لائن شیئر کیے گئے ہیں، جس سے اسرائیل کے اقدامات پر غصہ اور مذمت پھیل گئی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل کی کہانی کو اکثر پروان چڑھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل کو اکثر اپنے اعمال کو دفاع کے طور پر منطقی کرنے کے لیے جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر فلسطینیوں کی اموات کی غیر متناسب طور پر زیادہ تعداد اور صریح جھوٹ کو پھیلانے کی کوشش کے پیش نظر، جسے اس کی کوشش کرنے والے سامعین کی جانب سے فوری طور پر غلط ثابت کردیا جاتا ہے۔ غزہ کی جنگ نے ناظرین کو جدید جنگی صورتحال میں معلومات اور پروپیگنڈے کے کردار کے بارے میں کئی اہم سبق سکھائے ہیں۔ انفارمیشن کے دور میں، زبانی جنگ جیتنا اسی طرح اہم ہو سکتا ہے جیسے جسمانی جنگ جیتنا۔ دونوں فریقوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور اہداف کو سامعین تک موثر طریقے سے پہنچائیں۔ معلومات اور عام میڈیا کے دور میں، سوشل میڈیا دونوں فریقوں کے لیے ایک موثر ہتھیار بن گیا ہے۔ اسے عوامی رائے کو متاثر کرنے، غلط معلومات پھیلانے اور حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے War of Minds  Conflict  Ideologies  Propaganda  Perception  Misinformation  Rivalry  Narratives  Psychological warfare  Cognitive dissonance  Media influence Israel-Palestine War  Gaza Strip  West Bank  Jerusalem  Two-state solution  Occupation  Settlements  Intifada  Peace process  Hamas  IDF (Israeli Defense Forces) Human Rights in Gaza  Blockade  War crimes  Palestinian refugees  UNRWA  Water crisis  Freedom of movement  Healthcare  Education  Child rights  International law violations

صحافی کے قلم سے

دماغوں کی جنگ

صدیوں سے لڑائیوں میں تلوار اور آتش کا استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن انٹرنیٹ کے تیز رفتار دور میں، جنگی میدان حقیقی مورچوں سے نکل کر وسیع ہوچکا ہے۔ خوش آمدید پکسلز اور ٹویٹس کے دور میں، جہاں اصل لڑائی صرف زمین کے لیے نہیں بلکہ ذہنوں کے لیے ہے۔ جنگ ارادوں کا ٹکراؤ ہے لیکن ارادوں کی جڑیں سیاست میں ہوتی ہیں۔ کلاؤزویتز نے جنگ کی تعریف “سیاسی پالیسی کا (شدید) دوسرے طریقوں سے (توسیع)” کے طور پر کی ہے۔ کلاؤزویتز یہ سمجھتے تھے کہ فوجی کارروائی کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اندرونی انتشار اور معاشرتی کشمکش سے بچنے کے لیے، عامہ حوصلے کو برقرار رکھنا اور جنگ کے اخراجات کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ معلومات اور پروپیگنڈا جنگ کے اہم میدان ہیں جنہیں حکمت عملی سازوں اور منصوبہ سازوں کو کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ عوامی رائے کو کنٹرول کرنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت تنازعہ کے نتیجے کا تعین کرنے میں اہم ہوتی جا رہی ہے، اس کے باوجود کہ روایتی فوجی طاقتوں کو اب بھی لڑائی میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ کلاؤزویتز کے جنگ کے تصور کی روایتی تشریح “سیاست کا دوسرے ذرائع سے تسلسل” تھی۔ انفارمیشن کے دور میں، اس تصور کی ایک نئی اہمیت ہے۔ غزہ میں تصادم، فائر آرمز اور  بارود کے استعمال کے علاوہ، ڈیجیٹل میڈیا کے محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ بھی ہے، جس میں مین اسٹریم اور سوشل میڈیا بھی شامل ہیں۔ حماس کے سوشل میڈیا کے استعمال کی کامیابی غزہ تنازعہ کی ایک اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسرائیلی حملے کے مظلوم کے طور پر خود کو پیش کرکے اور معلومات کو اسی طرح پھیلانے جیسے وہ ہو رہی ہیں، حماس دنیا بھر کے سامعین سے براہ راست رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، روایتی میڈیا کے محافظوں سے بچ نکلا ہے۔ حماس کا سوشل میڈیا کا استعمال بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں خاص طور پر موثر رہا ہے۔ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصاویر اور ویڈیوز وسیع پیمانے پر آن لائن شیئر کیے گئے ہیں، جس سے اسرائیل کے اقدامات پر غصہ اور مذمت پھیل گئی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل کی کہانی کو اکثر پروان چڑھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل کو اکثر اپنے اعمال کو دفاع کے طور پر منطقی کرنے کے لیے جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر فلسطینیوں کی اموات کی غیر متناسب طور پر زیادہ تعداد اور صریح جھوٹ کو پھیلانے کی کوشش کے پیش نظر، جسے اس کی کوشش کرنے والے سامعین کی جانب سے فوری طور پر غلط ثابت کردیا جاتا ہے۔ غزہ کی جنگ نے ناظرین کو جدید جنگی صورتحال میں معلومات اور پروپیگنڈے کے کردار کے بارے میں کئی اہم سبق سکھائے ہیں۔ انفارمیشن کے دور میں، زبانی جنگ جیتنا اسی طرح اہم ہو سکتا ہے جیسے جسمانی جنگ جیتنا۔ دونوں فریقوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور اہداف کو سامعین تک موثر طریقے سے پہنچائیں۔ معلومات اور عام میڈیا کے دور میں، سوشل میڈیا دونوں فریقوں کے لیے ایک موثر ہتھیار بن گیا ہے۔ اسے عوامی رائے کو متاثر کرنے، غلط معلومات پھیلانے اور حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے War of Minds  Conflict  Ideologies  Propaganda  Perception  Misinformation  Rivalry  Narratives  Psychological warfare  Cognitive dissonance  Media influence Israel-Palestine War  Gaza Strip  West Bank  Jerusalem  Two-state solution  Occupation  Settlements  Intifada  Peace process  Hamas  IDF (Israeli Defense Forces) Human Rights in Gaza  Blockade  War crimes  Palestinian refugees  UNRWA  Water crisis  Freedom of movement  Healthcare  Education  Child rights  International law violations

صحافی کے قلم سے

دماغوں کی جنگ

صدیوں سے لڑائیوں میں تلوار اور آتش کا استعمال ہوتا رہا ہے، لیکن انٹرنیٹ کے تیز رفتار دور میں، جنگی میدان حقیقی مورچوں سے نکل کر وسیع ہوچکا ہے۔ خوش آمدید پکسلز اور ٹویٹس کے دور میں، جہاں اصل لڑائی صرف زمین کے لیے نہیں بلکہ ذہنوں کے لیے ہے۔ جنگ ارادوں کا ٹکراؤ ہے لیکن ارادوں کی جڑیں سیاست میں ہوتی ہیں۔ کلاؤزویتز نے جنگ کی تعریف “سیاسی پالیسی کا (شدید) دوسرے طریقوں سے (توسیع)” کے طور پر کی ہے۔ کلاؤزویتز یہ سمجھتے تھے کہ فوجی کارروائی کو برقرار رکھنے کے لیے عوام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اندرونی انتشار اور معاشرتی کشمکش سے بچنے کے لیے، عامہ حوصلے کو برقرار رکھنا اور جنگ کے اخراجات کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنا ضروری ہے۔ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان موجودہ جنگ ایک واضح یاد دہانی ہے کہ معلومات اور پروپیگنڈا جنگ کے اہم میدان ہیں جنہیں حکمت عملی سازوں اور منصوبہ سازوں کو کسی بھی منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ عوامی رائے کو کنٹرول کرنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت تنازعہ کے نتیجے کا تعین کرنے میں اہم ہوتی جا رہی ہے، اس کے باوجود کہ روایتی فوجی طاقتوں کو اب بھی لڑائی میں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ کلاؤزویتز کے جنگ کے تصور کی روایتی تشریح “سیاست کا دوسرے ذرائع سے تسلسل” تھی۔ انفارمیشن کے دور میں، اس تصور کی ایک نئی اہمیت ہے۔ غزہ میں تصادم، فائر آرمز اور  بارود کے استعمال کے علاوہ، ڈیجیٹل میڈیا کے محاذوں پر لڑی جانے والی جنگ بھی ہے، جس میں مین اسٹریم اور سوشل میڈیا بھی شامل ہیں۔ حماس کے سوشل میڈیا کے استعمال کی کامیابی غزہ تنازعہ کی ایک اہم ترین خصوصیت ہے۔ اسرائیلی حملے کے مظلوم کے طور پر خود کو پیش کرکے اور معلومات کو اسی طرح پھیلانے جیسے وہ ہو رہی ہیں، حماس دنیا بھر کے سامعین سے براہ راست رابطہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے، روایتی میڈیا کے محافظوں سے بچ نکلا ہے۔ حماس کا سوشل میڈیا کا استعمال بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں خاص طور پر موثر رہا ہے۔ غزہ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصاویر اور ویڈیوز وسیع پیمانے پر آن لائن شیئر کیے گئے ہیں، جس سے اسرائیل کے اقدامات پر غصہ اور مذمت پھیل گئی ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل کی کہانی کو اکثر پروان چڑھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیل کو اکثر اپنے اعمال کو دفاع کے طور پر منطقی کرنے کے لیے جانچ پڑتال کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر فلسطینیوں کی اموات کی غیر متناسب طور پر زیادہ تعداد اور صریح جھوٹ کو پھیلانے کی کوشش کے پیش نظر، جسے اس کی کوشش کرنے والے سامعین کی جانب سے فوری طور پر غلط ثابت کردیا جاتا ہے۔ غزہ کی جنگ نے ناظرین کو جدید جنگی صورتحال میں معلومات اور پروپیگنڈے کے کردار کے بارے میں کئی اہم سبق سکھائے ہیں۔ انفارمیشن کے دور میں، زبانی جنگ جیتنا اسی طرح اہم ہو سکتا ہے جیسے جسمانی جنگ جیتنا۔ دونوں فریقوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مقاصد اور اہداف کو سامعین تک موثر طریقے سے پہنچائیں۔ معلومات اور عام میڈیا کے دور میں، سوشل میڈیا دونوں فریقوں کے لیے ایک موثر ہتھیار بن گیا ہے۔ اسے عوامی رائے کو متاثر کرنے، غلط معلومات پھیلانے اور حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے War of Minds  Conflict  Ideologies  Propaganda  Perception  Misinformation  Rivalry  Narratives  Psychological warfare  Cognitive dissonance  Media influence Israel-Palestine War  Gaza Strip  West Bank  Jerusalem  Two-state solution  Occupation  Settlements  Intifada  Peace process  Hamas  IDF (Israeli Defense Forces) Human Rights in Gaza  Blockade  War crimes  Palestinian refugees  UNRWA  Water crisis  Freedom of movement  Healthcare  Education  Child rights  International law violations

صحافی کے قلم سے

یقیناً کم ظرفی ہر گناہ کی بنیاد ہے اور اعلٰی ظرفی ہی ہر نیکی کا اصل

    انسان ایک پیچیدہ مخلوق ہے جس میں مختلف قسم کی صلاحیتیں اور کمزوریاں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم صلاحیت ظرف کی ہے، جسے ہم عام طور پر برداشت، تحمل اور وسعتِ نظر کے طور پر سمجھتے ہیں۔ ظرف ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے، مشکلات کا مقابلہ کرنے اور زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کی جدوجہد میں مدد دیتا ہے۔ کم ظرفی اور گناہ کم ظرفی ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو گناہوں کی طرف لے جاتا ہے۔ کم ظرف لوگ دوسروں کی بات برداشت نہیں کر سکتے، جلدی غصہ ہوتے ہیں، اور اپنے مفادات کو دوسروں کے مفادات سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر حسد، غیبت، تکبر، اور ظلم جیسے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ایک مثال حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے ایک شخص نے پوچھا کہ “مجھے بتائیں کہ حسد کیسے پیدا ہوتا ہے؟” حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ “حسد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اپنے سے زیادہ کامیاب اور خوشحال دیکھتا ہے۔” اعلٰی ظرفی اور نیکی اعلٰی ظرفی ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو نیک کاموں کی طرف مائل کرتا ہے۔ اعلیٰ ظرف لوگ دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں، مشکلات کا صبر و تحمل سے مقابلہ کرتے ہیں، اور دوسروں کی مدد کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر سخاوت، عفو و درگزر، اور ایثار جیسے نیک کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ ایک مثال حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جو شخص سخاوت کرتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے، اور جو شخص عفو و درگزر کرتا ہے، اللہ اسے وسعت عطا کرتا ہے، اور جو شخص قطع تعلقی کرتا ہے، اللہ اسے محتاج کرتا ہے۔” کم ظرفی کے نقصانات کم ظرفی کے بہت سے نقصانات ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:  کم ظرف لوگ دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم نہیں کر سکتے۔  کم ظرف لوگ اکثر غصے اور پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔  کم ظرف لوگ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ اعلٰی ظرفی کے فوائد اعلٰی ظرفی کے بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں  اعلیٰ ظرف لوگ دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرتے ہیں۔  اعلیٰ ظرف لوگ زندگی میں خوش اور مطمئن رہتے ہیں۔  اعلیٰ ظرف لوگ زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ اعلٰی ظرفی کیسے حاصل کی جائے؟ اعلٰی ظرفی ایک ایسا وصف ہے جسے سیکھا اور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں:  دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور رواداری کا مظاہرہ کریں۔  صبر و تحمل کی مشق کریں۔  دوسروں کی مدد کرنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہیں۔  اپنے غصے اور جذبات پر قابو رکھیں۔  اپنے آپ کو دوسروں کے مقام پر رکھ کر سوچیں۔ حاصل کلام یقیناً کم ظرفی ہر گناہ کی بنیاد ہے اور اعلٰی ظرفی ہی ہر نیکی کا اصل ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ظرف میں اضافہ کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک بہتر انسان بن سکیں اور زندگی میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ یاد رکھنے کے چند  اہم نکات ہم اپنی روز مرہ زندگی میں روزانہ کی بنیاد پر اگر غور وفکر کریں تو ہمیں اپنے ارد گرد کئی ایسے کردار نظر آتے ہیں جو اعلیٰ ظرفی اور کم ظرفی مثالیں پیش کرتے پھرتے ہیں ۔  لیکن اگر ہم تجزیہ کریں تو اعلیٰ ظرف شخص غریب اور مفلس ہونے کے باوجود شاکر اور صابر ہوگا اور اس کے چہرے پر آپ کو ایک اطمنان ملے گا،  لیکن اس کے بر عکس کم ظرف شخص مالی آسودگی کے باوجود بے چین اور پریشان دیکھے گا ۔ اور اس کی زبان سے آپ کبھی شکر کے یا خیر کے کلمات شاید ہی سن پائیں،   اور جو شخص شکر اور صبر کی نعمت سے محروم ہو وہ گناہ کی طرف راغب ہو جاتا ہے،  اور شاکر اور صابر شخص گناہ سے دور رہتا ہے،  کیوں کہ شکر اور صبر کرنے والا اللہ کے قریب ہوجاتا ہے اور اور جو اللہ کے قریب ہو وہ گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے ۔ اور اس میں اللہ کی مدد بھی اس کے شامل حال ہوتی ہے،

صحافی کے قلم سے

قابل رحم ہے وہ قوم جس کے ہاتھ میں نور ہو اور وہ پھر بھی ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے لگے

   اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام عطا کیا ہے اور اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اس نے انسان کو عقل و دانش کی نعمت سے نوازا ہے اور اسے ہدایت و رہنمائی کے لیے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی صورت میں نور عطا کیا ہے۔ لیکن اگر انسان اس نور کو اپنے ہاتھوں سے ضائع کر دے اور ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے لگے تو یہ اس کے لیے ایک بہت بڑی بدقسمتی ہے۔ نور کی تعریف نور کی لغوی معنی روشنی کے ہیں۔ اصطلاحی معنی میں نور سے مراد ہدایت و رہنمائی ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ ہدایت و رہنمائی کا نور ہیں جو انسان کو ظلمات کے اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتے ہیں۔ ظلمات کی تعریف ظلمات کی لغوی معنی اندھیرے کے ہیں۔ اصطلاحی معنی میں ظلمات سے مراد گمراہی اور ضلالت ہے۔ مسلمان قابل رحم قوم وہ قوم جس کے ہاتھ میں نور ہو اور وہ پھر بھی ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے لگے، وہ قابل رحم ہے۔ اس قوم کی حالت اس شخص کی مانند ہے جس کے ہاتھ میں مشعل ہو اور وہ پھر بھی راستہ نہ دیکھ سکے۔ اسلام میں نور کی اہمیت اسلام میں نور کی بہت اہمیت ہے۔ قرآن مجید نور ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نور کی رحمت ہیں۔ اسلام انسان کو ظلمات کے اندھیرے سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے نصیحت ہم مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات پر عمل کر کے اپنی زندگیوں کو نور سے منور کریں۔ ہمیں ظلمات کے اندھیرے سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے کی وجوہات مسلمانوں کے ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں: * دینی علم کی کمی دینی علم کی کمی مسلمانوں کو ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے کا باعث بنی ہیں اس لئے مسلمانوں کو دین کے علم کی جستجو ہو لمحہ کرتے رہنا چاہئے ۔ جب مسلمانوں کو اپنے دین کے بارے میں بنیادی معلومات نہیں ہوتیں تو وہ گمراہ کن نظریات اور عقائد کا شکار ہوتے ہیں۔ * بدعات اور خرافات بدعات اور خرافات مسلمانوں کو ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے کا باعث بنی ہیں۔ جب مسلمان دین میں نئی چیزیں شامل کرتے چلے گئے ہیں یا دین کے بارے میں غلط عقائد رکھنے لگے ہیں تو وہ گمراہی کی راہ پر چل پڑے اور نور کو چھوڑ کر ظلمات کی طرف راغب ہو گئے ۔ * معاشرتی بگاڑ معاشرتی بگاڑ مسلمانوں کو ظلمات کے اندھیرے میں بھٹکنے کا باعث بن سکتی ہے۔ جب مسلمان معاشرے میں برائیاں عام ہو جاتی ہیں تو مسلمان ان برائیوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور گمراہ ہو سکتے ہیں۔ ظلمات کے اندھیرے سے بچنے کے طریقے مسلمانوں کو ظلمات کے اندھیرے سے بچنے کے لیے درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں * دینی علم حاصل کریں مسلمانوں کو اپنے دین کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہیے۔ انہیں قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرنا چاہیے اور علماء دین سے رہنمائی لینی چاہیے۔ * بدعات اور خرافات سے بچیں مسلمانوں کو بدعات اور خرافات سے بچنا چاہیے۔ انہیں دین میں نئی چیزیں شامل نہیں کرنی چاہئیں اور دین کے بارے میں غلط عقائد نہیں رکھنے چاہئیں۔ * معاشرے میں برائیوں کا مقابلہ کریں مسلمانوں کو معاشرے میں برائیوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہیں اپنے نفس کی بجائے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرنی چاہئے ۔ کیوں کہ اس مادی دور میں انسان رب سے دور ہوتا جارہا ہے اور اس فانی دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے،  جبکہ ایک مسلمان جس کے پاس دین اسلام کا نور موجود ہے،  کتاب ھدایت القرآن موجود ہے احادیث نبویؐ موجود ہیں وہ کیسے ان ابلیسی ظلمات میں گم ہو سکتا ہے؟ اگر آج مسلمان ان ظلمات کے اندھیروں میں گم ہیں تو، اس کی وجہ دین سے دوری، نفس کے پیروی اور نور اللہ سے ( القران الحکیم)  سے راہنمائی حاصل نہ کرنا ہے،  مسلمان دوبارہ سے بیدار ہو سکتے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالیں ۔ اس پر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کیا فرماتے ہیں  علامہ اقبالؒ کے چند اشعار: غلامی غلامی پستی ہے اور آزادی بلندی ہے غلامی ذلت ہے اور آزادی عزت ہے علم علم ہے نور یقین ہے علم سے علم ہے قوت یقین ہے علم سے عمل عمل سے ہی آدمی بنتا ہے کامل عمل سے ہی دنیا میں نام ہوتا ہے توحید توحید ہے وحدت کا پیغام توحید ہے ملت کا نظام آزادی آزادی ہے میرا مقصد آزادی ہے میرا نعرہ امت مسلمہ امت مسلمہ ایک جسم ہے اس کے ارکان سب ایک ہیں حکومت حکومت ہے عوام کی حکومت ہے خدا کی انصاف انصاف ہے بنیاد نظام کی انصاف ہے روحِ جمہوریت کی تعلیم تعلیم ہے زندگی کی روشنی تعلیم ہے ترقی کی کنجی اخوت اخوت ہے امت کی قوت اخوت ہے امت کی عزت یہ اشعار علامہ اقبالؒ کے افکار و نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اشعار میں علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو علم، عمل، توحید، آزادی، انصاف، تعلیم اور اخوت کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک مسلمانوں کی موجودہ حالت قابل رحم ہے۔ ان کے پاس نور ہے لیکن وہ ظلمات کے اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں۔ انہیں اپنی حالت کو بدلنے کے لیے علم، عمل، توحید، آزادی، انصاف، تعلیم اور اخوت کو اپنانا ہوگا۔

Scroll to Top