صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

یہ دنیا ہے عجب دنیا۔ عالمی سیاست کی بساط اور پاکستان کا کردار

 تحریر: اسد الحق قریشی اقوام عالم میں اکثر دو یا دو سے زائد ممالک میں کسی نہ کسی معاملے میں کشیدگی قائم ہوتی رہتی ہے اور اکثر معاملات میں باہمی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ نوبت جنگ تک پہنچ جاتی ہے اس کے پیچھے پس پردہ کچھ نادیدہ قوتوں کا عمل دخل بھی شامل حال ہوتا ہے جو ان اختلافات ہو بڑھاوا دینے اور بہکانے میں اپنا شیطانی کردار ادا کرنے کے لیے اپنی پراکسی کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ جس کی وجوہات میں ان کے اپنے مذموم مقاصد ہوتے ہیں جن میں اسلحے کی فروخت، معاشی عدم استحکام، ناپسندیدہ حکمرانوں کے تخت الٹنا، رجیم چینج، عدم استحکام وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ دنیا کے ممالک کے ان مسائل کے حل کے لیے دو مقتدرہ ادارے قائم کیے گئے پہلا UN دوسرا مسلم ممالک کی OIC۔ ان اداروں کے اجلاس منعقد ہوتے ہیں بحث و تکرار، ممبران کے اعلیٰ عہدیداروں کی تقاریر ہوتی ہیں، جن کے زریعے معاملات کی نوعیت کو سے آگاہی فراہم کی جاتی ہے آخر میں قراردادیں پیش کی جاتی ہیں ان پر رائے حاصل کرنے کے لیے ووٹنگ کے ذریعے قراردادوں کی منظوری کی جاتی ہے یا مسترد کی جاتی ہیں۔  لیکن اصل تلخ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ عملی طور پر صرف ایک فلاحی ادارے کے طور پر تو بہت مؤثر ادارہ ہے جس کے درجن سے زائد  ذیلی ادارے اور تنظیمیں دنیا بھر میں بہترین خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ لیکن جنرل اسمبلی میں منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمد ناپید ہے بلکل ایسے ہی جیسے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ فیصلے تو جاری کرتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کروانا ان کے اپنے بس میں بھی نہیں ہوتا یہی حال OIC کا بھی کے جس کے منعقدہ اجلاس محض رسمی کاروائیوں کے علاؤہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ گزشتہ چند دہائیوں سے دنیا بھر میں مختلف جنگوں، بارڈرز کی جھڑپوں، اندرونی و بیرونی سازشوں، پراکسی کے زریعے، خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹس کی خفیہ کاروائیوں کئی ممالک کے تخت بھی الٹے گئے، حکومتوں کو بدلا گیا قتل و غارتگری، دہشتگردی کی کارروائیوں کے زریعے متعدد ریاستوں کی عوام کو شدید ترین متاثر کیا گیا لاکھوں لوگ یتیموں، بیواؤں، لاوارث، بے آسرا و بے سروسامان، بے گھر، کہیں سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر تو کہیں پناہ گاہوں میں کہیں دوسرے ممالک میں ہجرت پر مجبور کر دیے گئے دوسرے لفظوں میں ہر جگہ انسانیت کی بھرپور تزلیل کی گئی، انسانیت کو روندھا گیا، جس کی واضح اور ژندہ مثال فلسطین، شام، لبنان، عراق، لبیا، سریا، چیچنیا، برما اور افریقہ کے متعدد ممالک و دیگر کئیں ممالک کے شہر و قصبے دنیائے عالم کی نظروں کے سامنے ہیں۔  دور حاضر کی اشد ترین ضرورت ہے کہ ایک بین الاقوامی سطح پر صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جس میں دنیا کے تمام مقتدر ممالک کو ممبر بنایا جائے انہیں میں سے کسی ایک کو اس ادارے کا سربراہ مقرر کیا جائے اور ضرورت کے مطابق چند با اختیار کمیٹیاں ترتیب دی جائیں طاقت کا محور و اختیارات کا حق صرف ادارے کا سربراہ اور ان کمیٹیوں کو بنایا جائے ہر قرارداد ووٹنگ کے زریعے منظور یا مسرد کی جائے کسی کو بھی ویٹو کا انفرادی اختیار حاصل نہ ہو کر فیصلہ میرٹ پر کیا جائے اور سب سے اہم منظور کی گئی قرارداد پر سختی سے عملدرآمد کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ اور اسے یقینی بنایا جائے کہ جو ملک عملدرآمد سے انکاری ہو یا اس کی مخالفت کرے تمام ممالک اس سے ہر فورم پر قطع تعلق اختیار کرے اس کے ساتھ ہر نوعیت کے معاہدے فل فور منسوخ کر دیے جائیں تجارت پر سخت پابندی نافظ کر دی جائے اور تمام ممالک سے سفارتی تعلقات بھی ختم کر دیے جائیں اور اس ملک میں موجود تمام سفارت خانے بند کر دیے جائیں یعنی اس ملک کو مکمل طور پر دنیا سے لاتعلق اور تنہا کر دیا جائے۔ تحریر: اسد الحق قریشی  چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ  +923122717987

صحافی کے قلم سے

جنرل عاصم منیر اور امت مسلمہ کی امیدیں

  تحریر: اسد الحق قریشی  چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ موجودہ جنگ کا اچانک آغاز امریکہ نے اسرائیل کے اکسانے پہ کیا اور جواب میں ایران نے اسرائیل سمیت امریکہ کے گلف میں موجود اڈوں پر تابڑتوڑ حملے شروع کر دیے اور چند ہی دنوں میں اپنے دشمنوں کو اس حالت میں پہنچا دیا کہ جنگ بندی کی صدائیں بلند ہونا شروع ہو گئیں جس کے لیے ٹرمپ نے پہلے اپنے دوست ممالک سے رجوع کیا لیکن حیرت انگیز طور پر نیٹو سمیت دیگر ممالک کے حکمرانوں نے بھی اس جنگ۔ میں امریکہ سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا جس کے پیش نظر ٹرمپ نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کا عندیا دے ڈالا اس سے پہلے کہ وہ کسی جذباتی نوعیت کے فیصلے کی جانب بڑھتا دنیا نے ایک عجیب نظارہ دیکھا کہ دنیائے عالم کا ایک نڈر، بیباک مرد مجاہد اور دنیا کی عظیم اور طاقتور فوج کا سربراہ جسے اس کی قابلیت اور بہترین صلاحیتوں کے اعزاز میں فیلڈ مارشل کا اعزاز عطا کیا گیا تھا، یعنی پاکستانی افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ صاحب میدان عمل میں اترے اور دونوں فریقوں کو اس بات پہ قائل بلکہ مجبور کر دیا کہ وہ جنگ روک کر مذاکرات کی میز پہ اکھٹے بیٹھ جائیں اور آپس کے تنازعات کو مذاکرات سے حل کریں اس کے لیے ہم ہر طرح کے تعاون کے ساتھ اپنے ملک میں دونوں فریقین کو دعوت دیتے ہیں۔ اور اس ثالثی کے لیے دیگر ممالک کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں گے جو دونوں ممالک کے مابین امن کے خواہاں ہیں۔  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی کوششیں رنگ لائیں اور 40 سال کی طویل مدت کی دوریاں اور دشمنیاں بالائے طاق رکھ   دونوں فریقین کی اعلیٰ قیادت و دیگر نمائیندے پاکستان پہنچ گئے اور ایک مذاکراتی عمل کا حصہ بن کر اک دوجے سے ہاتھ ملا کر آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت شروع کر دی اور اپنے اپنے مطالبات ایک دوسرے کو پیش کیے۔  ثالثیوں کی موجودگی میں بہت سے مطالبات پر اتفاق بھی کر لیا اور مشترکہ بیانیہ اور اعلان کی تیاریاں بھی شروع ہو رہی تھیں کہ اچانک فریقین کے بڑوں کی مداخلت نے مذاکرات کے اس عمل کو ڈیڈ لاک میں بدل ڈالا اور مزاکرات کا پہلا دور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو کر اگلے مرحلے کے عظم و ارادے کے ساتھ تعطل کا شکار ہو گیا۔ جب دونوں فریقین کی اعلیٰ قیادت کی واپسی اور ملک میں اندرونی مشاورت کے متعدد اجلاسوں کے باوجود معاملات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب نے بذات خود ایران و دیگر ممالک کے دورے کیے اور ایک بہترین ثالث کی حیثیت سے دنا میں اپنی ایسی دھاک بٹھائی کہ دشمن بھی۔ تعریف کرنے پہ مجبور ہو گئے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کئیں دشمنوں کی چیخیں نکل گئیں اور ان کا واویلا ساری دنیا نے بھرپور انجوائے کیا۔  ٹرمپ کی اس بے مقصد اور اچانک شروع کرنے والی جنگ نے دنیا کو یہ بھی باور کرا دیا کہ مسلم امہ کی یکجہتی کے علمبردار عظیم حکمرانوں، شاہ فیصل، یاسر عرافات، صدام۔ حسین، ضیاء الحق، معمر قزافی و دیگر کے خاتمے کے باوجود دور حاضر میں بھی ایک ایسا ہی مسلم فوج کا سربراہ منظر عام پہ چھا چکا ہے جس کی قابلیت، زہانت، معاملہ فہمی، مدبرانہ اور منصفانہ و ماہرانہ صلاحیت کی دنیا بھر میں چرچے ہو رہے ہیں جسے قرآن مجید کا علم بھی حاصل ہے اور دنیاوی ٹیکنالوجی کے علوم کے ساتھ جنگی حکمت عملی کا بھی ماہر ہے۔  یہ بھی عاصم منیر صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے باوجود دونوں فریقین کی جانب سے محض دھمکی آمیز بیان بازی تو کی جا رہی ہے لیکن جنگ دوبارہ شروع کرنے سے دونوں ہی کترا بھی رہے ہیں اور مزاکرات کے دوسرے اور حتمی دور کے لیے خواہشمند ہیں۔  دوسری جانب امت مسلمہ کے مظلوم طبقات بھی شدت سے منتظر اور مکمل پُرامید ہیں کہ ان دونوں فریقین کے جنگ کے خاتمے کے اعلامیے اور معاہدے کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب ان کی دادرسی کے لیے بھی عملی طور پر ایسے اقدامات ضرور کریں گے جو انہیں ظالموں کے ظلم و بربریت سے انہیں نجات دلائیں گے جس میں سر فہرست فلسطین کے یتیم بچے اور معصوم عوام ہیں، اردن، شام، لبیا، عراق، برما جیسے دیگر مسلم ممالک کے ظلم کی چکی میں پسنے والے بے بس مجبور اور لاچار بوڑھے، لاوارث، معزور، نوجوان، مرد، خواتین، بیوائیں، یتیم ببچیاں، شیر خوار بچے، بے گھر، لٹے پٹے مسلمان شامل ہیں۔ ان سب کی نظریں اب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی جانب پُرامید نگاہیں بچھانے بیٹھے ہیں۔ برسوں بعد امت کے ان بے سہاروں کو ایک مسلم حکمران یا سپہ سالار دکھائی دیا ہے جو حقیقت میں مسلم امہ کے مظلوموں کی دادرسی کی قابلیت و صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریر: اسد الحق قریشی  چیئرمین ابابیل خیرالبشر موومنٹ

صحافی کے قلم سے

پاکستان زندہ باد

  سکندربیگ  مرزا                             ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی بھی نیک شگون ہے امید کی جا سکتی ہے کہ دو ہفتے کی مدت ختم ہونے  سے پہلے ہی فریقین کے درمیان  مستقل فائر بندی طے پا  جائے گی اس جنگ   جنگ میں   دونوں اطراف سے ہزاروں بے گناہ  معصوم شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں  مجموعی طور پر دنیا کا کھربوں ڈالر مالیت کا نقصان ہو چکا ہے  ایک طرف امن پسند تہذیب یافتہ ایرانی   قوم ہے  جو اپنی تمام تر کمزوریوں کے باوجود یزید, وقت کے مقابل ڈٹ کر کھڑی رہی  دنیا نے دیکھا کہ نو کروڑ مظلوم ایرانی دیسی ساختہ میزائلوں اور  نظرئیے کی طاقت سے لیس ہو کر  دجالی طاقتوں کے مقابل پوری قوت اور یقین  سے صف  آرا ہو گئے  جب کہ دوسری جانب طاقت کے نشے میں بد مست  اور  اخلاقیات سے عاری  شیطان کے  چیلے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہو کر چاروں طرف  سے ایرانی عوام پر ٹوٹ پڑے  تعلمی ادارے سجدہ گاہیں شفا خانے سڑکیں پل بجلی گھر  ہوائی اڈے صاف پانی کے زخائر غرض کہ ہر وہ جگہ جن کا تعلق سویلین ابادی سے تھا  مسلسل چالیس دن  تک  بلا روک ٹوک حملہ آوروں کے نشانوں پر رہے ہیں  صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے نفرت انگیز    بیانات اور بزدلانہ  فیصلوں نے پوری دنیا میں ایک  اعصاب شکن ہیجان برپا کر رکھا تھا حیرت ہے کہ ویژن سے عاری  سپر پاور کے سربراہ نے اپنی بچگانہ حرکتوں کی وجہ  سے  اپنی  قوم کو  دنیا کے سامنے شرمسار کیا امریکی  فوج کو  ایک لاحاصل  جنگ میں الجھا دیا اور بڑے پیمانے پر  بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگے ہنستے بستے شہروں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل  دیا عالمی  معیشت کو شدید کساد بازاری اور بد ترین  بحرانوں سے دو چار کر دیا نصف صدی سے حالت جنگ میں رہنے والے ایرانیوں نے امریکہ کا ناقابل شکست  ہونے کا تصور  اور رعب  پاش پاش کر کے  خلیج فارس کی  لہروں کی نظر کر دیا  قوم پرست اور مذہبی ایرانیوں نے لازوال قربانیاں پیش کر کے ثابت کر دیا کہ جنگجویانہ خصلت رکھنے والے ایرانی جنگجووں  سے جنگ لڑنا بچوں کا کھیل نہیں ہے  جنگیں جدید ہتھیاروں ایٹمی  دھمکیوں اور حفاظتی شیلڈ بنانے سے نہیں ایمانی قوت  اور اللہ کی نصرت سے جیتی جاتی ہیں جب کوئی قوم عزت کی موت  مرنا سیکھ لے تو  اسے دنیا کی  بڑی  سے بڑی طاقت  بھی شکست سے دو چار نہیں کر سکتی امید ہے  اس جنگ کے نتائج سے امریکہ اپنی اداؤں پر سنجیدگی سے غور کرے گا  معائدے کے نتیجے میں  ایک نیا  پر عزم اور طاقتور ایران دنیا کے نقشے پر ابھرے گا اب  ایران پر عائد  ناجائز  معاشی پابندیاں ہوا میں تحلیل ہو چکی ہیں موجودہ  رجیم   پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آئی ہے  دشمن کے عزائم خاک میں مل چکے ہیں ان کی حرکتوں سے ظاہر ہو رہا ہے کہ حریفوں کو پتھر کے دور میں بھیجنے والا ٹرمپ  ہندوستان کے  محمد شاہ رنگیلا اور روسی صدر گوربا چوف کی طرح  بہت جلد  تاریخ کے کوڑے دان کی زینت بننے والا ہے  جب کہ تباہ حال  ایران جرمنی اور جاپان کی طرح  ایک بار پھر  مضبوط اور خوشحال قوم  بن کر اقوام عالم میں  ہمیشہ  قائم و دائم  رہے گا ان شا اللہ ۔۔ اس جنگ میں پاکستانی حکومت کا کردار ہر لحاظ سے سراہے جانے کے لائق ہے  قیادت  نے نہ صرف خود کو غیر جانبدار رکھا  بلکہ گلف کی ساری ریاستوں کو بھی جنگ کے شعلوں سے دور رکھنے میں کامیاب رہے   تیل پیدا کرنے والے ممالک ہمیشہ  آتش گیر سیال مادے کے ڈھیر پر کھڑے  ہوتے  ہیں انہیں راکھ  بنانے کے لئے کسی  لمبی  چوڑی پلاننگ  کی  ضرورت نہیں ہوتی  ماچس کی ایک تیلی اس کام کے لئے  کافی سمجھی جاتی   ہے اس لئے خلیجی ممالک کو   مستقبل کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے لئے اپنے دست وبازو پر بھروسہ کرنا ہو گا  کیونکہ ملکی سلامتی اور اثاثوں کی حفاظت جیسے احساس معاملات بیرونی ٹھکیداروں کے سپرد نہیں کی جا سکتے   پاکستانی وزارت خارجہ پرائم منسٹر آفس  اور دیگر معاون اداروں کی کامیاب سفارت کاری نے عالمی برادری میں  پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا  ہے  کروڑوں انسانوں کو ہلاکت کے منہ سے بچانے پر پاکستانی قیادت مبارک باد کی مستحق ہے جب کہ بھارتی حکومت اور متعصب ہندو برادری پاکستان کی حالیہ  بے مثال  تاریخی  سہولت کاری  اور کامیاب سفارت کاری  پر نا خوش نظر آ رہی ہے انسانی اقدار سے  عاری جاہل  بھارتی میڈیا مسلسل  پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصرف ہے کسی نے  سچ کہا  ہے کہ حسد ایک لاعلاج مرض ہے جس کا  علاج لقمان حکیم کے پاس بھی  نہیں تھا   حاسد خود ہی حسد کی  آگ میں جل کر اپنے انجام کو  پہنچ جائیں گے    البتہ  خود کو حاسدوں  کے شر سے محفوظ رکھنے  کے لئے محتاط رہنے کی سخت  ضرورت ہوتی ہے  دعا ہے  یہ عارضی فائر بندی مستقل بنیادوں پر  امن سمجھوتے میں تبدیل ہو جائے عہد رواں میں   کرہ ارضی پر بھارت اور اسرائیل دو ایسے ملک ہیں جو  مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں ان کی کھلی دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں  یہ دونوں ابلیسی ملک دو ارب سے زیادہ مسلمانوں کو سطح  زمین پر پھلتا پھولتا  نہیں دیکھنا چاہتے اللہ تعالی  دنیا کو ان  تنگ نظر  نفسیاتی مریضوں کے  شر سے محفوظ رکھے آمین  ۔۔۔   بہت شکریہ 

صحافی کے قلم سے

یہ زمیں خطرات سے دو چار ہے

تحریر: سکندر بیگ مرزا  دنیا کی تاریخ میں آج تک   ہزاروں جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں  کئی سو کروڑ انسان ان جنگوں کا ایندھن بن چکے ہیں گوگل کے مطابق  اس وقت کراہ ارضی پر آباد انسانوں کی کل تعداد آٹھ سو تیس ارب کے لگ بھگ ہے جن میں دو سو ارب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے جو مشرق وسطی بر صغیر افریقہ اور یورپ کے مختلف ممالک میں آباد ہیں خلافت عثمانیہ اور ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد  مسلم  اکثریت  والے علاقے وقفے وقفے سے  عالمی طاقتوں کے پلے گراؤنڈز  بنے ہوئے  ہیں جنگ عظیم دوم (1939 سے 1945) میں آٹھ کروڑ پچاس لا کھ افراد لقمہ اجل بن گئے تھے  اس کے بعد پاک بھارت   ویت نام اور افغانستان  کی جنگوں میں بے شمار جانی اور مالی نقصان ہوا ایران عراق  جنگ نے لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں کو نگل لیا   1979 میں  افغانستان پر  روسی قبضے کے نتیجے میں بعد ازاں نائن الیون کی آڑ میں تیس چالیس لاکھ افغانی اور  پاکستانی شہریوں کو  موت کے گھاٹ اتار دیا  گیا اگر  نائن الیون کے بعد ہونے والے ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں یا  اخبارات کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ایک بہانہ تھا اصل  نشانہ افغانستان میں  ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی ملاں عمر کی اسلامی حکومت تھی اس کے علاوہ  افغان جہاد میں شامل جہادیوں کی بروقت  بیخ کنی کرنا  مقصود تھا اس دور میں امریکی دانشور نوم چومسکی سمیت بہت سارے جنگی مبصرین   کا کہنا تھا کہ  نیٹو ممالک کا اگلا نشانہ عراق اردن شام لیبیا  سوڈان ترکی ایران اور پاکستان ہوں گے دنیا نے دیکھا کہ ان کے تجزئیے سو فیصد درست ثابت ہوئے   یہ سب  ماضی قریب کے واقعات ہیں جن لوگوں نے  جنگوں میں حصہ لیا یا مشاہدہ کیا  ان کی اکثریت ابھی زندہ موجود  ہے اسلامی دنیا میں وہی کچھ ہوتا رہا جس کی پیشن گوئیاں کی جاتی رہی امریکیوں نے ان  ممالک میں اپنی پراکسیز کی مدد سے (  جن میں  داعش طالبان  کرائے کے دہشت گرد اور  ایجنسیاں شامل تھیں)  بڑے پیمانے پر  خون کی ہولی کھیلی گئی ان ملکوں  کے انفراسٹرکچر تباہ کر  دئے گئے ان کی  دفاعی صلاحیت کو  زیرو لیول پر  کر دیا گیا  ان کے   وسائل پر قبضہ کرنے کے بعد اپنے غلام ٹاوٹو ں کو عوام پر مسلط کر دیا گیا پٹرول گیس اور  معدنی دولت سے مالا مال عرب ریاستوں میں فوجی اڈے قائم کرنے کے بعد انہیں گردنوں سے دبوچ لیا گیا  اسرائیل کو خطے میں بدمعاش کا رول دے کر اس کی مکمل پشت پناہی کا ذمہ اپنے سر لے لیا ادھر  فلسطینی حریت پسند بے شمار  قربانیوں کے باوجود اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے سے انکاری رہے  ہیں جب کہ بے پناہ مصائب اور معاشی مشکلات کے باوجود ایران واحد ملک ہے جو غیر مشروط طور پر  فلسطینوں کے ساتھ ثابت قدمی سے  کھڑا رہا  بد ترین  معاشی پابندیوں کے باوجود  مشیت , ایزدی   سے ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت میں بتدریج قابل رشک  اضافہ کیا  اس کے سائنسدان    جدید ترین  میزائل ٹیکنالوجی کو مہارت سے بروے کار لانے کامیاب رہے  اپنی جوہری تنصیبات کی  فول پروف حفاظت کا موثر انتظام کیا   بھاری جانی اور مالی نقصان   کے باوجود تہران میں زندگی  معمول کے مطابق رواں دواں  ہے  دنیا کی اہم ترین  تجارتی گزرگاہ پر ایرانی پاسداران کا قبضہ مستحکم ہو چکا ہے نیٹو ممالک اور امریکہ کے پرانے اتحادی اس کا ساتھ دینے سے گریزاں ہیں ایرانی لیڈر شپ کی حرارکی اور ٹیئر  موثر اور مربوط بنیادوں  پر قائم ہے  جب کہ امریکہ کو نا اہل اور ویژن سے عاری قیادت  کا مسلہ درپیش ہے  جہاں دیدہ مدبر دور اندیش اور امن پسند لیڈران کا شدید  قحط  ہے غیر مستقل مزاج اور جوکر ٹائپ لوگ اہم ترین ملکی ذمہ دادیوں پر فائز  ہیں صدر ٹرمپ نے  سعودی  راہنما شہزادہ سلیمان کا تذکرہ جن  تحقیر آمیز الفاظ اور لہجے میں کیا ہے وہ  انتہائی  قابل مذمت ہے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ صدر ٹرمپ ولی عہد کو ایران پر حملہ آور ہونے پر اکساتا  رہا ہے امید ہے سعودی  شہزادہ اپنے انکار پر مضبوطی سے ڈٹا رہے گا فریقین کے بیچ میں جنگ بندی اور ثالثی کے لئے پاکستانی قیادت کا رول لائق  تحسین   ہے سیز فائیر  ایران امریکہ اسرائیل کے علاوہ  ساری   دنیا کے بہترین  مفاد میں ہے  چند خوف زدہ  سائیکو پیتھ  کمینے  خلق , خدا کے دشمن   بصیرت سے بے بہرہ ضمیر فروش مافیا  امن عالم کے لئے شدید خطرہ بن چکے ہیں  جہانبانی کے شوق میں مبتلا ان  زر پرستوں نے حالات کو خطر ناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے  آج پوری دنیا کے افق  پر ایک مرتبہ پھر جنگ کے خوف ناک  بادل منڈلا رہے ہیں جو کہ  انسان دوست سنجیدہ  عالمی راہنماوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے      یہ زمیں آفات سے دو چار ہے  زندگی صدمات سے دو چار ہے  جیت جاتے ہیں   سگ, اوارگاں  آدمیت  مات  سے  دو  چار  ہے  چھو لیا گر آسماں تو کیا   ہوا  خلق تو ظلمات سے دو چار ہے  آنکھ بھر لائی سمندر شہر میں  ہر گلی  برسات  سے دو چار ہے  سکندربیگ مرزا

صحافی کے قلم سے

ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – پردے کے پیچھے کے مہرے

قسط سوم: پردے کے پیچھے کے مہرے – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط سوم: پردے کے پیچھے کے مہرے تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 جمہوریت کا استعمال — بیرونی طاقتوں کے پاکستانی مہرے بیرونی فنڈنگ: سیاسی جماعتوں کے نام پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے متعدد سیاسی جماعتوں کے غیر ملکی فنڈنگ کیسز کی تحقیقات کی ہیں۔ USAID، NED، IRI، NDI جیسے اداروں کے ذریعے اربوں روپے کی فنڈنگ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو دی جاتی ہے۔ بدلے میں یہ جماعتیں ان ممالک کے ایجنڈے آگے بڑھاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا بیرونی طاقتوں کے ساتھ تعلق صرف ظاہری بیانیے تک محدود نہیں، بلکہ گہرے اسٹریٹجک مفادات پر مبنی ہے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے بیرونی تعلقات (حقیقی تجزیہ) سیاسی خاندان/جماعت بیرونی رابطہ (ظاہری) بیرونی رابطہ (حقیقی) کردار اور تنقیدی جائزہ بھٹو-زرداری خاندان(پاکستان پیپلز پارٹی) امریکہ، برطانیہ امریکہ، برطانیہ، مغربی ممالک روایتی طور پر امریکہ کے قریب ترین۔ بینظیر بھٹو کا امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ، آصف زرداری کا امریکی سفارت خانے سے قریبی تعلقات۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ مغربی مفادات کی ترجمانی کرتی رہی ہے۔ شریف خاندان(مسلم لیگ ن) سعودی عرب، امریکہ سعودی عرب، امریکہ، برطانیہ سعودی عرب کے قریب ترین۔ نواز شریف کا سعودی عرب میں جلاوطنی کا عرصہ۔ امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات۔ مسلم لیگ ن کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مغربی اور خلیجی مفادات کے تابع رہی ہے۔ عمران خان نیازی(تحریک انصاف) روس، چین کے قریب(2022 کے بعد) امریکہ، ہندوستان، اسرائیل کے قریب(2018-2022 کے دوران) حقیقت: عمران خان کا دور حکومت (2018-2022) امریکہ کے قریب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ • امریکہ: ان کی حکومت نے امریکی ڈرون حملوں پر پابندی نہیں لگائی، امریکہ سے قرضوں کا سلسلہ جاری رکھا، اور افغان امن مذاکرات میں امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھایا۔ • ہندوستان: کارتارپور راہداری کھولی، مودی حکومت کے ساتھ پشت پردہ تعلقات رہے۔ کشمیر کی صورتحال پر امریکہ کے مطابق نرم موقف اختیار کیا۔ • اسرائیل: ان کے دور میں اسرائیل سے پشت پردہ تعلقات کے شواہد ملتے ہیں۔ فلسطین کے حوالے سے سخت بیان سے گریز کیا گیا۔ • چین: سی پیک (CPEC) کے منصوبوں میں تاخیر ہوئی۔ چین کے ساتھ متعدد معاہدے ٹھپ ہو گئے۔ چینی حکومت نے ان کے دور کو “مشکل دور” قرار دیا۔ • روس: 2022 میں ماسکو کا دورہ امریکہ کی ناراضی کے باوجود کیا گیا، لیکن یہ دورہ روس مخالف مغربی بیانیے کے تحت اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے “دباؤ” کا حصہ تھا، حقیقی روس دوستی نہیں تھی۔ نتیجہ: 2022 کے بعد جب حکومت سے ہٹائے گئے تو “امریکہ مخالف” بیانیہ اپنایا گیا، جبکہ دور حکومت میں ان کی پالیسیاں امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق تھیں۔ فضل الرحمان(جمعیت علمائے اسلام – ف) سعودی عرب، قطر، ترکی سعودی عرب، قطر، ترکی، امریکہ (بالواسطہ) مذہبی بنیادوں پر قطر اور ترکی کے قریب۔ افغان طالبان کے ساتھ تاریخی تعلقات۔ امریکہ کی افغانستان پالیسی میں استعمال ہونے والا کردار۔ ▶ عمران خان کے دور حکومت کا تنقیدی جائزہ (2018-2022): اگرچہ 2022 کے بعد تحریک انصاف نے “امریکہ مخالف” اور “چین و روس دوست” کا بیانیہ اپنایا، لیکن دور حکومت کے حقائق کچھ اور ہی تھے۔ عمران خان کی حکومت نے: امریکہ کے ساتھ: ڈرون حملوں کو جاری رکھا، امریکی قرضوں پر انحصار بڑھایا، اور افغانستان میں امریکی انخلا کے دوران امریکی مفادات کی ترجمانی کی۔ ہندوستان کے ساتھ: کارتارپور راہداری کھول کر بھارتی ایجنڈے کو آگے بڑھایا، کشمیر پر بین الاقوامی فورمز میں خاموشی اختیار کی۔ اسرائیل کے ساتھ: پشت پردہ تعلقات قائم کیے، فلسطین کے مسئلے پر سخت موقف سے گریز کیا۔ چین کے ساتھ: سی پیک کے منصوبوں میں غیر ضروری تاخیر کی، چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھنڈا کیا۔ روس کے ساتھ: کوئی اسٹریٹجک معاہدہ نہیں کیا، روس مخالف مغربی بیانیے کا حصہ رہے۔ نتیجہ: عمران خان کا دور حکومت امریکہ، ہندوستان اور اسرائیل کے مفادات کے قریب ترین ادوار میں شمار ہوتا ہے۔ 2022 کے بعد “امریکہ مخالف” بیانیہ سیاسی بقا کی حکمت عملی تھی، حقیقی خارجہ پالیسی میں تبدیلی نہیں۔ افواج پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم پروپیگنڈے کی تاریخ: 1971 سے 2026 تک فوج مخالف پروپیگنڈہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر ٹرولز، بوٹس اور ڈیپ فیک کے ذریعے فوج کے خلاف مواد پھیلایا جا رہا ہے۔ روایتی میڈیا کے کچھ اینکرز بھی اس مہم کا حصہ ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے باری باری چلایا جاتا ہے — جب کوئی جماعت اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو وہ فوج کے خلاف نعرے لگاتی ہے، اور جب اقتدار میں آتی ہے تو فوج کی تعریف کرتی ہے۔ پروپیگنڈے کے پیچھے بیرونی ہاتھ: امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کی فوج کمزور ہو۔ بھارت را کے ذریعے فوج مخالف مہم چلاتا ہے۔ اسرائیل خاموش مگر خطرناک کردار ادا کر رہا ہے۔ فرقہ ورانہ سیاسی جماعتیں — تقسیم کا ہتھیار اہم فرقہ ورانہ جماعتیں اور بیرونی پشت پناہی جماعت فرقہ بیرونی رابطہ کردار سپاہ صحابہ / اہل سنت والجماعت دیوبندی سنی سعودی عرب سنی انتہا پسندی، شیعہ مخالف تشدد اسلامی تحریک پاکستان شیعہ ایران شیعہ حقوق کے نام پر ایران کا ایجنڈا تحریک لبیک پاکستان بریلوی قطر، ترکی مذہبی جذبات کا استعمال، سیاسی مفادات یہ جماعتیں عوام کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرتی ہیں اور بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے آگے بڑھاتی ہیں۔ ان کا وجود پاکستان کی قومی یکجہتی کے لیے زہر قاتل ہے۔ مستقبل کی پیشن گوئی — کیا پاکستان بچ سکتا ہے؟ تین منظرنامے منظرنامہ تفصیل امکانات بہترین سیاسی جماعتیں قومی مفاد پر متحد ہوں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ بند ہو، فرقہ ورانہ سیاست ختم ہو، بیرونی طاقتیں مداخلت بند کریں۔ پاکستان 2035 تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو۔ 10% متوقع موجودہ صورت حال جاری رہے۔ سیاسی جماعتیں آپس میں لڑتی رہیں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ جاری رہے، لیکن پاکستان ٹوٹنے نہ پائے۔ پاکستان درمیانی سطح پر رہے۔ 50% بدترین پاکستان تین طرفہ محاصرے (افغانستان، ایران، بھارت) میں گھر جائے۔ سیاسی جماعتیں ملک کو تقسیم کریں، فوج کے خلاف پروپیگنڈہ عوام میں پھیل جائے، بیرونی طاقتیں پاکستان کو تباہ کر دیں۔ 40% پاکستان کو کیا کرنا ہے؟ پاکستان کو

صحافی کے قلم سے

ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست

قسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 قطر اور یو اے ای کا دوہرا کردار دوہا مذاکرات: مہمان نوازی یا پناہ گاہ؟ قطر نے 2013 میں افغان طالبان کے لیے دوحہ میں سیاسی دفتر کھولا۔ یہ وہی دفتر تھا جہاں 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور طالبان کے درمیان تین مذاکراتی دور — دوحہ، استنبول اور پھر دوحہ — قطر کی میزبانی میں ہوئے۔ پاکستان نے شواہد پیش کیے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں مقیم ہے۔ یو اے ای: اقتصادی ترقی کے نام پر اسٹریٹجک تعاون متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن اس نے کابل میں سفارتی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ یو اے ای کا کردار قطر کے مقابلے میں پاکستان کے زیادہ قریب ہے، لیکن وہ بھی خلیجی مفادات کے تحت چلتا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ — خطے میں نئی آگ 28 فروری 2026: وہ دن جب مشرق وسطیٰ بدل گیا 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے واضح کیا: “افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ سنگل پوائنٹ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی ہو گا، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، اور پاکستان کو واسل اسٹیٹ میں تبدیل کرنا ہو گا۔” خواجہ آصف کی تنبیہ: “صہیونی ایجنڈے” کے تحت ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے تاکہ اسرائیل کی اثر و رسوخ پاکستان کی سرحدوں تک پھیلائی جا سکے۔ عظیم طاقتوں کی شطرنج: امریکہ، روس، چین امریکہ: وسطی ایشیا میں واپسی امریکہ کی نئی حکمت عملی وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی ہے، تاکہ روس اور چین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔ چین: سی پیک اور استحکام کی جدوجہد چین کے لیے پاکستان کا استحکام کوئی آپشن نہیں، ضرورت ہے۔ سی پیک میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ روس: پرانی سوویت سرزمین پر نظر روس کسی صورت نہیں چاہتا کہ امریکہ وسطی ایشیا میں مضبوط ہو جائے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم اور فوجی تعاون کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان — بگڑتے تعلقات کی حقیقت تین مذاکراتی دور: دوحہ، استنبول اور ناکامی دور مقام تاریخ نتیجہ پہلا دور دوحہ اکتوبر 2025 عبوری معاہدہ، عارضی جنگ بندی دوسرا دور استنبول 25-29 اکتوبر 2025 ناکام، طالبان نے پہلے کے معاہدے سے انکار کیا تیسرا دور استنبول 6-7 نومبر 2025 ناکام، کوئی معنی خیز معاہدہ نہ ہو سکا پاکستان کی شرائط: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت کا خاتمہ، عسکریت پسندوں کی ملک بدری۔ طالبان کا موقف: مسلمانوں کے درمیان مذاکرات بہتر ہیں، جبری اقدامات نہیں۔ اختتامیہ: مہروں کی نئی ترتیب قطر طالبان کو سفارتی پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔ یو اے ای اقتصادی تعاون کے نام پر اسٹریٹجک مفادات آگے بڑھا رہا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ نے خطے میں نئی آگ لگا دی ہے۔ ان سب کے درمیان پاکستان ہے — جو اس شطرنج کی بساط پر ایک مہرہ ہے۔ مہرے بھی کبھی کبھی کھلاڑی بن جاتے ہیں۔ © 2026 داستان گو | تحقیق: عمر مختار رند | جملہ حقوق محفوظ ہیں قسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط دوم: خطے کی نو تشکیل شدہ جغرافیائی سیاست تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 قطر اور یو اے ای کا دوہرا کردار دوہا مذاکرات: مہمان نوازی یا پناہ گاہ؟ قطر نے 2013 میں افغان طالبان کے لیے دوحہ میں سیاسی دفتر کھولا۔ یہ وہی دفتر تھا جہاں 2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ معاہدہ ہوا۔ پاکستان اور طالبان کے درمیان تین مذاکراتی دور — دوحہ، استنبول اور پھر دوحہ — قطر کی میزبانی میں ہوئے۔ پاکستان نے شواہد پیش کیے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی قیادت افغانستان میں طالبان کی سرپرستی میں مقیم ہے۔ یو اے ای: اقتصادی ترقی کے نام پر اسٹریٹجک تعاون متحدہ عرب امارات پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، لیکن اس نے کابل میں سفارتی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ یو اے ای کا کردار قطر کے مقابلے میں پاکستان کے زیادہ قریب ہے، لیکن وہ بھی خلیجی مفادات کے تحت چلتا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ — خطے میں نئی آگ 28 فروری 2026: وہ دن جب مشرق وسطیٰ بدل گیا 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ اس حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ دفاعی وزیر خواجہ آصف نے واضح کیا: “افغانستان، ایران اور بھارت کا مشترکہ سنگل پوائنٹ ایجنڈا پاکستان کے خلاف دشمنی ہو گا، ہماری سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا، اور پاکستان کو واسل اسٹیٹ میں تبدیل کرنا ہو گا۔” خواجہ آصف کی تنبیہ: “صہیونی ایجنڈے” کے تحت ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے تاکہ اسرائیل کی اثر و رسوخ پاکستان کی سرحدوں تک پھیلائی جا سکے۔ عظیم طاقتوں کی شطرنج: امریکہ، روس، چین امریکہ: وسطی ایشیا میں واپسی امریکہ کی نئی حکمت عملی وسطی ایشیائی ریاستوں میں اپنی موجودگی بڑھانے کی ہے، تاکہ روس اور چین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔ چین: سی پیک اور استحکام کی جدوجہد چین کے لیے پاکستان کا استحکام کوئی آپشن نہیں، ضرورت ہے۔ سی پیک میں 60 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی حفاظت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ روس: پرانی سوویت سرزمین پر نظر روس کسی صورت نہیں چاہتا کہ امریکہ وسطی ایشیا میں مضبوط ہو جائے۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم اور فوجی تعاون کے ذریعے اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); پاکستان اور افغانستان — بگڑتے تعلقات کی حقیقت تین مذاکراتی دور: دوحہ، استنبول اور ناکامی دور مقام تاریخ نتیجہ پہلا دور دوحہ اکتوبر 2025 عبوری معاہدہ، عارضی جنگ بندی دوسرا دور استنبول 25-29 اکتوبر 2025

صحافی کے قلم سے

ڈالر کلاشنکوف اور کیمرہ

  قسط اول: ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط اول: جدید جنگ کے تین ہتھیار تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 تمہید: جنگ کا نیا چہرہ جب ہم جنگ کا لفظ سنتے ہیں تو اکثر ذہن میں ٹینک، طیارے اور میدان جنگ کی خاک اڑتی نظر آتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں جنگ کی شکل بدل چکی ہے۔ آج کی جنگ میں فتح و شکست کا تعین روایتی میدان جنگ کی بجائے تین بڑے محاذوں پر ہوتا ہے: پیسہ (اقتصادی محاذ)، ہتھیار (عسکری محاذ) اور میڈیا (نفسیاتی محاذ)۔ اگر ہم ان تینوں کے رخ کو غور سے دیکھیں تو بہت سے وہ پردے چاک ہو جاتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے پردہ پوشی کرنے کے لیے دکھائے جاتے ہیں۔ پہلا ستون: مالیاتی جنگ (ڈالر کا ہتھیار) کابل میں اترنے والی چارٹرڈ فلائٹس امریکی محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا (2021) کے بعد بھی، خفیہ چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے کابل میں نقد ڈالر کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پروازیں اکثر موالم ایئرلائنز (Moalem Airlines) اور دیگر چارٹرڈ سروسز کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ ہر 7 سے 10 دن بعد 40 سے 80 ملین ڈالر کی رقم کابل ایئرپورٹ پر اترتی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر محاصرہ جب پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا، تو اس پر ایسی شرائط عائد کی گئیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے مشکل ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، اور توانائی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ — یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے پاکستان کی متوسط طبقے کی کمر توڑ دی۔ جبکہ افغانستان کو بغیر کسی شرط کے نقد ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دوسرا ستون: عسکری جنگ (اسلحے کی سیاست) امریکی انخلا: سب سے بڑا اسلحہ ڈمپ 15 اگست 2021 کو جب امریکی افواج افغانستان سے بے ترتیبی سے نکلیں، تو انہوں نے پیچھے اتنا اسلحہ چھوڑا جتنا کہ کسی نیٹو ملک کی پوری فوج کے پاس ہوتا ہے۔ SIGAR کے مطابق: 75,000 سے زائد فوجی گاڑیاں، 200 سے زائد طیارے اور ہیلی کاپٹر، 600,000 سے زائد چھوٹے ہتھیار، اور 80,000 ٹن گولہ بارود۔ ٹی ٹی پی کے ہتھیار: امریکی اسلحے کی سیریل نمبرز 2023 میں باجوڑ ایجنسی میں پاکستان آرمی کے آپریشن میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے سے ایم 4 کاربائنیں برآمد ہوئیں جن پر امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے سیریل نمبرز موجود تھے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے پاس موجود جدید اسلحہ کسی مقامی بازار سے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک منظم سپلائی چین کا حصہ ہے۔ تیسرا ستون: میڈیا اور نفسیاتی جنگ بی بی سی، الجزیرہ: آزاد میڈیا یا ریاستی ترجمان؟ مغربی میڈیا کو “آزاد” کہا جاتا ہے، لیکن ان کے فنڈنگ کے ذرائع اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے ریاستی پالیسیوں کے تحت چلتے ہیں۔ بی بی سی برطانوی حکومت کے تحت چلنے والا ادارہ ہے۔ الجزیرہ قطری حکومت کا ترجمان۔ ان کی کوریج میں واضح تعصب دیکھا جا سکتا ہے۔ تضاد: جب افغان طالبان کو “امن پسند” دکھانا ہوتا ہے تو انہیں پرائم ٹائم پر بٹھایا جاتا ہے۔ جب پاکستان میں کوئی معمولی واقعہ ہوتا ہے، تو اسے “خونی فوجی آپریشن” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); اعداد و شمار اور ڈیٹا افغانستان میں چھوڑے گئے اسلحے کی تفصیلات (SIGAR) ہتھیار کی قسم تعداد مالیت (امریکی ڈالر) ہموی گاڑیاں 22,000+ $4.4 بلین بکتر بند گاڑیاں 53,000+ $10 بلین+ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر 100+ $2 بلین ایم 4 کاربائن رائفلیں 200,000+ $300 ملین اختتامیہ: حقیقت کا پردہ چاک یہ مضمون محض ایک تجزیہ نہیں ہے، بلکہ ایک دستاویز ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان آج کس قسم کی جنگ میں گھرا ہوا ہے۔ یہ جنگ روایتی نہیں ہے۔ یہ ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرے سے لڑی جا رہی ہے۔ حقیقت بہت واضح ہے، بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ موجود ہو۔ © 2026 داستان گو | تحقیق: عمر مختار رند | جملہ حقوق محفوظ ہیں (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); قسط اول: ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط اول: جدید جنگ کے تین ہتھیار تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 تمہید: جنگ کا نیا چہرہ جب ہم جنگ کا لفظ سنتے ہیں تو اکثر ذہن میں ٹینک، طیارے اور میدان جنگ کی خاک اڑتی نظر آتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں جنگ کی شکل بدل چکی ہے۔ آج کی جنگ میں فتح و شکست کا تعین روایتی میدان جنگ کی بجائے تین بڑے محاذوں پر ہوتا ہے: پیسہ (اقتصادی محاذ)، ہتھیار (عسکری محاذ) اور میڈیا (نفسیاتی محاذ)۔ اگر ہم ان تینوں کے رخ کو غور سے دیکھیں تو بہت سے وہ پردے چاک ہو جاتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے پردہ پوشی کرنے کے لیے دکھائے جاتے ہیں۔ پہلا ستون: مالیاتی جنگ (ڈالر کا ہتھیار) کابل میں اترنے والی چارٹرڈ فلائٹس امریکی محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا (2021) کے بعد بھی، خفیہ چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے کابل میں نقد ڈالر کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پروازیں اکثر موالم ایئرلائنز (Moalem Airlines) اور دیگر چارٹرڈ سروسز کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ ہر 7 سے 10 دن بعد 40 سے 80 ملین ڈالر کی رقم کابل ایئرپورٹ پر اترتی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر محاصرہ جب پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا، تو اس پر ایسی شرائط عائد کی گئیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے مشکل ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، اور توانائی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ — یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے پاکستان کی متوسط طبقے کی کمر توڑ دی۔ جبکہ افغانستان کو بغیر کسی شرط کے نقد ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دوسرا ستون: عسکری جنگ (اسلحے کی سیاست) امریکی انخلا: سب سے بڑا اسلحہ ڈمپ 15 اگست 2021 کو جب امریکی افواج افغانستان سے بے ترتیبی سے نکلیں، تو انہوں نے پیچھے اتنا اسلحہ چھوڑا جتنا کہ کسی نیٹو ملک کی پوری فوج کے پاس ہوتا ہے۔ SIGAR کے مطابق: 75,000 سے زائد

صحافی کے قلم سے

ڈالر کلاشنکوف اور کیمرہ

  قسط اول: ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط اول: جدید جنگ کے تین ہتھیار تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 تمہید: جنگ کا نیا چہرہ جب ہم جنگ کا لفظ سنتے ہیں تو اکثر ذہن میں ٹینک، طیارے اور میدان جنگ کی خاک اڑتی نظر آتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں جنگ کی شکل بدل چکی ہے۔ آج کی جنگ میں فتح و شکست کا تعین روایتی میدان جنگ کی بجائے تین بڑے محاذوں پر ہوتا ہے: پیسہ (اقتصادی محاذ)، ہتھیار (عسکری محاذ) اور میڈیا (نفسیاتی محاذ)۔ اگر ہم ان تینوں کے رخ کو غور سے دیکھیں تو بہت سے وہ پردے چاک ہو جاتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے پردہ پوشی کرنے کے لیے دکھائے جاتے ہیں۔ پہلا ستون: مالیاتی جنگ (ڈالر کا ہتھیار) کابل میں اترنے والی چارٹرڈ فلائٹس امریکی محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا (2021) کے بعد بھی، خفیہ چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے کابل میں نقد ڈالر کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پروازیں اکثر موالم ایئرلائنز (Moalem Airlines) اور دیگر چارٹرڈ سروسز کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ ہر 7 سے 10 دن بعد 40 سے 80 ملین ڈالر کی رقم کابل ایئرپورٹ پر اترتی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر محاصرہ جب پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا، تو اس پر ایسی شرائط عائد کی گئیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے مشکل ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، اور توانائی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ — یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے پاکستان کی متوسط طبقے کی کمر توڑ دی۔ جبکہ افغانستان کو بغیر کسی شرط کے نقد ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دوسرا ستون: عسکری جنگ (اسلحے کی سیاست) امریکی انخلا: سب سے بڑا اسلحہ ڈمپ 15 اگست 2021 کو جب امریکی افواج افغانستان سے بے ترتیبی سے نکلیں، تو انہوں نے پیچھے اتنا اسلحہ چھوڑا جتنا کہ کسی نیٹو ملک کی پوری فوج کے پاس ہوتا ہے۔ SIGAR کے مطابق: 75,000 سے زائد فوجی گاڑیاں، 200 سے زائد طیارے اور ہیلی کاپٹر، 600,000 سے زائد چھوٹے ہتھیار، اور 80,000 ٹن گولہ بارود۔ ٹی ٹی پی کے ہتھیار: امریکی اسلحے کی سیریل نمبرز 2023 میں باجوڑ ایجنسی میں پاکستان آرمی کے آپریشن میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے سے ایم 4 کاربائنیں برآمد ہوئیں جن پر امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے سیریل نمبرز موجود تھے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے پاس موجود جدید اسلحہ کسی مقامی بازار سے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک منظم سپلائی چین کا حصہ ہے۔ تیسرا ستون: میڈیا اور نفسیاتی جنگ بی بی سی، الجزیرہ: آزاد میڈیا یا ریاستی ترجمان؟ مغربی میڈیا کو “آزاد” کہا جاتا ہے، لیکن ان کے فنڈنگ کے ذرائع اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے ریاستی پالیسیوں کے تحت چلتے ہیں۔ بی بی سی برطانوی حکومت کے تحت چلنے والا ادارہ ہے۔ الجزیرہ قطری حکومت کا ترجمان۔ ان کی کوریج میں واضح تعصب دیکھا جا سکتا ہے۔ تضاد: جب افغان طالبان کو “امن پسند” دکھانا ہوتا ہے تو انہیں پرائم ٹائم پر بٹھایا جاتا ہے۔ جب پاکستان میں کوئی معمولی واقعہ ہوتا ہے، تو اسے “خونی فوجی آپریشن” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); اعداد و شمار اور ڈیٹا افغانستان میں چھوڑے گئے اسلحے کی تفصیلات (SIGAR) ہتھیار کی قسم تعداد مالیت (امریکی ڈالر) ہموی گاڑیاں 22,000+ $4.4 بلین بکتر بند گاڑیاں 53,000+ $10 بلین+ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر 100+ $2 بلین ایم 4 کاربائن رائفلیں 200,000+ $300 ملین اختتامیہ: حقیقت کا پردہ چاک یہ مضمون محض ایک تجزیہ نہیں ہے، بلکہ ایک دستاویز ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان آج کس قسم کی جنگ میں گھرا ہوا ہے۔ یہ جنگ روایتی نہیں ہے۔ یہ ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرے سے لڑی جا رہی ہے۔ حقیقت بہت واضح ہے، بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ موجود ہو۔ © 2026 داستان گو | تحقیق: عمر مختار رند | جملہ حقوق محفوظ ہیں (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); قسط اول: ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – داستان گو ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط اول: جدید جنگ کے تین ہتھیار تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 تمہید: جنگ کا نیا چہرہ جب ہم جنگ کا لفظ سنتے ہیں تو اکثر ذہن میں ٹینک، طیارے اور میدان جنگ کی خاک اڑتی نظر آتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں جنگ کی شکل بدل چکی ہے۔ آج کی جنگ میں فتح و شکست کا تعین روایتی میدان جنگ کی بجائے تین بڑے محاذوں پر ہوتا ہے: پیسہ (اقتصادی محاذ)، ہتھیار (عسکری محاذ) اور میڈیا (نفسیاتی محاذ)۔ اگر ہم ان تینوں کے رخ کو غور سے دیکھیں تو بہت سے وہ پردے چاک ہو جاتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے پردہ پوشی کرنے کے لیے دکھائے جاتے ہیں۔ پہلا ستون: مالیاتی جنگ (ڈالر کا ہتھیار) کابل میں اترنے والی چارٹرڈ فلائٹس امریکی محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا (2021) کے بعد بھی، خفیہ چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے کابل میں نقد ڈالر کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پروازیں اکثر موالم ایئرلائنز (Moalem Airlines) اور دیگر چارٹرڈ سروسز کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ ہر 7 سے 10 دن بعد 40 سے 80 ملین ڈالر کی رقم کابل ایئرپورٹ پر اترتی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر محاصرہ جب پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا، تو اس پر ایسی شرائط عائد کی گئیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے مشکل ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، اور توانائی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ — یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے پاکستان کی متوسط طبقے کی کمر توڑ دی۔ جبکہ افغانستان کو بغیر کسی شرط کے نقد ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دوسرا ستون: عسکری جنگ (اسلحے کی سیاست) امریکی انخلا: سب سے بڑا اسلحہ ڈمپ 15 اگست 2021 کو جب امریکی افواج افغانستان سے بے ترتیبی سے نکلیں، تو انہوں نے پیچھے اتنا اسلحہ چھوڑا جتنا کہ کسی نیٹو ملک کی پوری فوج کے پاس ہوتا ہے۔ SIGAR کے مطابق: 75,000 سے زائد

صحافی کے قلم سے

ڈالر کلاشنکوف اور کیمرہ

  قسط اول: ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – داستان گو * { margin: 0; padding: 0; box-sizing: border-box; } body { font-family: ‘Segoe UI’, Tahoma, Geneva, Verdana, sans-serif; background: #f5f3f0; color: #1e2a2e; line-height: 1.7; padding: 20px; } .container { max-width: 1200px; margin: 0 auto; background: white; border-radius: 20px; box-shadow: 0 10px 30px rgba(0,0,0,0.1); overflow: hidden; padding: 30px 40px; } h1 { font-size: 2.5rem; color: #b91c1c; border-right: 8px solid #b91c1c; padding-right: 20px; margin-bottom: 20px; font-weight: 800; } h2 { font-size: 1.8rem; color: #b91c1c; margin-top: 30px; margin-bottom: 15px; border-bottom: 2px solid #b91c1c; padding-bottom: 8px; } h3 { font-size: 1.4rem; color: #2c5282; margin-top: 25px; margin-bottom: 12px; font-weight: 600; } h4 { font-size: 1.2rem; color: #2b6cb0; margin-top: 20px; margin-bottom: 10px; font-style: italic; } p { margin-bottom: 16px; text-align: justify; } .author { font-size: 1rem; color: #4a5568; margin-bottom: 30px; border-left: 4px solid #b91c1c; padding-left: 15px; } table { width: 100%; border-collapse: collapse; margin: 20px 0; background: #fff; box-shadow: 0 1px 3px rgba(0,0,0,0.1); } th, td { border: 1px solid #cbd5e0; padding: 12px; text-align: left; vertical-align: top; } th { background-color: #b91c1c; color: white; font-weight: bold; } tr:nth-child(even) { background-color: #f9f9f9; } .highlight { background-color: #fff3e0; padding: 15px; border-left: 5px solid #b91c1c; margin: 20px 0; } footer { margin-top: 40px; padding-top: 20px; border-top: 1px solid #e2e8f0; font-size: 0.9rem; text-align: center; color: #4a5568; } @media (max-width: 768px) { .container { padding: 20px; } h1 { font-size: 1.8rem; } h2 { font-size: 1.4rem; } h3 { font-size: 1.2rem; } } ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہقسط اول: جدید جنگ کے تین ہتھیار تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند | اشاعت: 23 مارچ 2026 تمہید: جنگ کا نیا چہرہ جب ہم جنگ کا لفظ سنتے ہیں تو اکثر ذہن میں ٹینک، طیارے اور میدان جنگ کی خاک اڑتی نظر آتی ہے۔ مگر موجودہ دور میں جنگ کی شکل بدل چکی ہے۔ آج کی جنگ میں فتح و شکست کا تعین روایتی میدان جنگ کی بجائے تین بڑے محاذوں پر ہوتا ہے: پیسہ (اقتصادی محاذ)، ہتھیار (عسکری محاذ) اور میڈیا (نفسیاتی محاذ)۔ اگر ہم ان تینوں کے رخ کو غور سے دیکھیں تو بہت سے وہ پردے چاک ہو جاتے ہیں جو ہمیں حقیقت سے پردہ پوشی کرنے کے لیے دکھائے جاتے ہیں۔ پہلا ستون: مالیاتی جنگ (ڈالر کا ہتھیار) کابل میں اترنے والی چارٹرڈ فلائٹس امریکی محکمہ خزانہ کے دستاویزات کے مطابق، افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا (2021) کے بعد بھی، خفیہ چارٹرڈ فلائٹس کے ذریعے کابل میں نقد ڈالر کی ترسیل کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ پروازیں اکثر موالم ایئرلائنز (Moalem Airlines) اور دیگر چارٹرڈ سروسز کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ ہر 7 سے 10 دن بعد 40 سے 80 ملین ڈالر کی رقم کابل ایئرپورٹ پر اترتی ہے۔ پاکستان کی معیشت پر محاصرہ جب پاکستان نے 2023 میں آئی ایم ایف سے قرض لیا، تو اس پر ایسی شرائط عائد کی گئیں جو کسی بھی خود مختار ملک کے لیے مشکل ہیں۔ ٹیکسوں میں اضافہ، سبسڈیز کا خاتمہ، اور توانائی کے نرخوں میں بے تحاشہ اضافہ — یہ وہ اقدامات تھے جنہوں نے پاکستان کی متوسط طبقے کی کمر توڑ دی۔ جبکہ افغانستان کو بغیر کسی شرط کے نقد ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ دوسرا ستون: عسکری جنگ (اسلحے کی سیاست) امریکی انخلا: سب سے بڑا اسلحہ ڈمپ 15 اگست 2021 کو جب امریکی افواج افغانستان سے بے ترتیبی سے نکلیں، تو انہوں نے پیچھے اتنا اسلحہ چھوڑا جتنا کہ کسی نیٹو ملک کی پوری فوج کے پاس ہوتا ہے۔ SIGAR کے مطابق: 75,000 سے زائد فوجی گاڑیاں، 200 سے زائد طیارے اور ہیلی کاپٹر، 600,000 سے زائد چھوٹے ہتھیار، اور 80,000 ٹن گولہ بارود۔ ٹی ٹی پی کے ہتھیار: امریکی اسلحے کی سیریل نمبرز 2023 میں باجوڑ ایجنسی میں پاکستان آرمی کے آپریشن میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے سے ایم 4 کاربائنیں برآمد ہوئیں جن پر امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کے سیریل نمبرز موجود تھے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے پاس موجود جدید اسلحہ کسی مقامی بازار سے نہیں آیا، بلکہ یہ ایک منظم سپلائی چین کا حصہ ہے۔ تیسرا ستون: میڈیا اور نفسیاتی جنگ بی بی سی، الجزیرہ: آزاد میڈیا یا ریاستی ترجمان؟ مغربی میڈیا کو “آزاد” کہا جاتا ہے، لیکن ان کے فنڈنگ کے ذرائع اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ادارے ریاستی پالیسیوں کے تحت چلتے ہیں۔ بی بی سی برطانوی حکومت کے تحت چلنے والا ادارہ ہے۔ الجزیرہ قطری حکومت کا ترجمان۔ ان کی کوریج میں واضح تعصب دیکھا جا سکتا ہے۔ تضاد: جب افغان طالبان کو “امن پسند” دکھانا ہوتا ہے تو انہیں پرائم ٹائم پر بٹھایا جاتا ہے۔ جب پاکستان میں کوئی معمولی واقعہ ہوتا ہے، تو اسے “خونی فوجی آپریشن” کا نام دے کر پیش کیا جاتا ہے۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); اعداد و شمار اور ڈیٹا افغانستان میں چھوڑے گئے اسلحے کی تفصیلات (SIGAR) ہتھیار کی قسم تعداد مالیت (امریکی ڈالر) ہموی گاڑیاں 22,000+ $4.4 بلین بکتر بند گاڑیاں 53,000+ $10 بلین+ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر 100+ $2 بلین ایم 4 کاربائن رائفلیں 200,000+ $300 ملین اختتامیہ: حقیقت کا پردہ چاک یہ مضمون محض ایک تجزیہ نہیں ہے، بلکہ ایک دستاویز ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان آج کس قسم کی جنگ میں گھرا ہوا ہے۔ یہ جنگ روایتی نہیں ہے۔ یہ ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرے سے لڑی جا رہی ہے۔ حقیقت بہت واضح ہے، بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ موجود ہو۔ © 2026 داستان گو | تحقیق: عمر مختار رند | جملہ حقوق محفوظ ہیں (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); قسط اول: ڈالر، کلاشنکوف اور کیمرہ – داستان گو * { margin: 0; padding: 0; box-sizing: border-box; } body { font-family: ‘Segoe UI’, ‘Noto Nastaliq Urdu’, Tahoma, Geneva, Verdana, sans-serif; background: #f5f3f0; color: #1e2a2e; line-height: 1.8; font-size: 18px; padding: 0; margin: 0; } .container { width: 100%; max-width: 1400px; margin: 0 auto; background: white; box-shadow: 0 0 30px rgba(0,0,0,0.05); padding: 40px 60px; } h1 { font-size: 2.8rem; color: #b91c1c; border-right: 8px solid #b91c1c; padding-right: 25px; margin-bottom: 25px; font-weight: 800; line-height: 1.3; } h2 { font-size: 2rem; color: #b91c1c; margin-top: 40px; margin-bottom: 20px; border-bottom: 3px solid #b91c1c; padding-bottom: 10px; } h3 { font-size: 1.6rem; color:

صحافی کے قلم سے

کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ مذہبی جنگ ہے؟

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});  تحقیق و ترتیب:عمر مختار رند  کیا امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ جنگ صرف دو ریاستوں کے درمیان سرحدی تنازعہ ہے یا اس سے بڑھ کر کوئی اور گہرا معاملہ ہے؟ جب ایک امریکی سینیٹر ایران کے رہنما کو “مذہبی نازی” قرار دے ، جب فوجی کمانڈر اپنے دستوں کو یہ بتائیں کہ صدر ٹرمپ کو “یسوع مسیح نے آرماجیڈن کی آگ روشن کرنے کے لیے منتخب کیا ہے” ، اور جب امریکی سفیر بائبل کے حوالوں سے “عظیم تر اسرائیل” کے خواب دیکھے ، تو پھر یہ محض سیاست نہیں رہتی بلکہ مذہب کی ایک خطرناک تفسیر بن جاتی ہے۔ یہ مضمون اسی المیے کا جائزہ لیتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ کس طرح مذہبی جنون نے امریکہ اور اسرائیل کی خارجہ پالیسی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اور کیوں مسلم ممالک کو اس صورت حال پر گہرائی سے غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس تحقیق میں ہم ان بیانات اور واقعات کا تجزیہ کریں گے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنگ محض مفادات کا ٹکراؤ نہیں بلکہ ایک “مقدس جنگ” کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ باب اول ٫ تمہید – امریکی بیان کا پس منظر فروری 2026ء میں امریکی سینیٹر ایلیسا سلاٹکن نے مشی گن میں رمضان ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو امریکی عوام پر واضح کرنا چاہیے کہ ان حملوں کا مقصد کیا ہے ۔ لیکن اس موقع پر دو یہودی تنظیموں – جیوش فیڈریشن آف ڈیٹرائٹ اور AIPAC – نے ان حملوں کی کھل کر حمایت کی۔ AIPAC کے بیان میں کہا گیا کہ “ایران کے ہاتھوں امریکی خون ہے” اور انہوں نے 1983ء میں بیروت میں میرینز پر حملے کا حوالہ دیا ۔ یہ صرف ایک سیاسی حمایت نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک گہرا مذہبی تصور کارفرما تھا۔ اس سے پہلے جنوری 2026ء میں ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو “مذہبی نازی” قرار دیا اور کہا کہ اگر ایران میں مظاہرین قتل ہوئے تو “ڈونلڈ جے ٹرمپ کا قتل ہوگا” ۔ ان بیانات میں مذہبی اشتعال کی ایک لہر واضح تھی۔ لیکن اصل انکشاف مارچ 2026ء میں ہوا جب ملٹری ریلیجیس فریڈم فاؤنڈیشن (MRFF) نے انکشاف کیا کہ امریکی فوجی کمانڈر اپنے دستوں کو بتا رہے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ “خدا کے منصوبے” کا حصہ ہے۔ ایک نان کمیشنڈ آفیسر نے شکایت درج کرائی کہ ان کے کمانڈر نے کہا: “صدر ٹرمپ کو یسوع مسیح نے ایران میں آرماجیڈن کی آگ روشن کرنے کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ مسیح کی واپسی کا راستہ ہموار ہو” ۔ یہ بیانات صرف ایک یونٹ تک محدود نہیں تھے بلکہ MRFF کو 50 فوجی تنصیبات سے 200 سے زائد کالز موصول ہوئیں ۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); اس پس منظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا امریکی پالیسی واقعی مذہب سے متاثر ہے یا یہ محض پروپیگنڈہ ہے؟ باب دوم ٫ تاریخی پس منظر – یہودیت، عیسائیت اور اسلام میں مذہبی جنگ کا تصور جب ہم مذہبی جنگ کی بات کرتے ہیں تو تینوں توحیدی مذاہب میں اس کی مختلف صورتیں موجود ہیں۔ یہودیت میں “ہیرم” کا تصور ہے جس کا مطلب ہے مکمل تباہی اور فنا۔ عہد نامہ قدیم میں بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ کنعان کے شہروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیں ۔ عیسائیت میں صلیبی جنگیں اس کی روشن مثال ہیں جب پوپ اربن دوم نے 1095ء میں مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اسلام میں جہاد کا تصور ہے جو اگرچہ بنیادی طور پر نفس کی جنگ ہے، لیکن دفاعی جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔ جدید دور میں یہ تصورات مذہبی صیہونیت اور عیسائی صیہونیت میں تبدیل ہو گئے ہیں۔ مذہبی صیہونی یہ مانتے ہیں کہ اسرائیل کا قیام مسیحا کی آمد کی شرط ہے، جبکہ عیسائی صیہونی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی حمایت کرنا بائبل کی پیشگوئیوں کی تکمیل ہے۔ باب سوم ٫ عیسائی صیہونیت اور امریکی سیاست پر اس کے اثرات امریکہ میں عیسائی صیہونیت کی تحریک بہت مضبوط ہے۔ یہ تحریک سکھاتی ہے کہ یہودیوں کا فلسطین میں جمع ہونا اور یروشلم پر قبضہ مسیح کے دوسرے آنے کی شرط ہے۔ جان ہگی جیسے مبلغین نے ایران پر حملے کو “آخری زمانے کی علامت” قرار دیا ہے ۔ ٹرمپ کے روحانی مشیر پاؤلا وائٹ نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت پر زور دیا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ موجودہ وزیر دفاع پِیٹ ہیگسیتھ، جو خود ایک بنیاد پرست عیسائی ہیں، نے پینٹاگون میں ماہانہ عبادت کی سیریز شروع کر رکھی ہے۔ انہوں نے ڈگ ولسن جیسے مبلغ کو پینٹاگون میں خطاب کی دعوت دی جو ہم جنس پرستی کو جرم قرار دینے اور خواتین کے ووٹ کے حق کے خلاف ہیں ۔ امریکی سفیر مائیک ہکابی تو خود ایک بیپٹسٹ مبلغ ہیں اور کرسچن صیہونی ہیں۔ انہوں نے صراحت سے کہا کہ “خدا نے ابراہیم کے ذریعے یہ سرزمین اپنی منتخب قوم کو دی ہے” اور امریکہ کو چاہیے کہ اسرائیل کو برکت دے، کیونکہ بائبل میں ہے کہ “جو اسرائیل کو برکت دے گا، خدا اسے برکت دے گا” ۔ باب چہارم ٫ “Pax Judaica” اور “Greater Israel” کا خواب فروری 2026ء میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ٹکر کارلسن کے انٹرویو میں “Pax Judaica” اور “Greater Israel” کے تصور کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا حق ہے کہ وہ “نیل سے فرات تک” کے علاقے پر قبضہ کرے، جس میں اردن، شام، لبنان، سعودی عرب اور عراق کے بڑے حصے شامل ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ صیہونی تحریک کے بانیوں میں سے ایک تھیوڈور ہرزل نے بھی “Nil to Euphrates” کا خواب دیکھا تھا۔ لیکن جب یہ خواب کسی امریکی سفیر کی زبان سے نکلتا ہے، اور وہ بھی بائبل کے حوالے سے، تو یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ چودہ مسلم ممالک اور عرب لیگ، OIC اور GCC نے مشترکہ بیان میں ان بیانات کی مذمت کی اور کہا کہ یہ “انتہا پسندانہ

Scroll to Top