صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

” ایرانی مسلمانوں کا قتل عام بند کروایا جائے “

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});                       پس , آئینہ   سکندربیگ                                            ایران میں مسلسل کئ روز سے انسانیت کا بے دریغ قتل عام جاری  ہے امریکہ اسرائیل اور ان کے سہولت کار ممالک ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنائی کی شہادت کے بعد معصوم شہریوں پر اندھا دھند بارود اور تباہ کن میزائیل  برسا رہے ہیں ساری دنیا بشمول اسلامی ممالک اپنے لبوں کو  سیئے  خاموش کھڑے تماشا دیکھ رہے ہیں ستم در ستم یہ ہے کہ کوئی  ملک بھی  ان مزکورہ  ممالک کے شر کے خوف سے ایرانی مسلمانوں  پر روا  رکھے جانے  والے  ظلم اور مسلط کی جانے والی جنگ  کے خلاف آواز بلند نہیں کر رہا جب کہ  دوسری طرف سارا مغرب بشمول فرانس جرمنی یو کے جارح  امریکہ کی پشت تھپ تھپا  رہے ہیں   ایران انقلاب کے بعد مسلسل  اندرونی اور بیرونی خلفشار کا سامنا کر رہا ہے  تیل کی دولت سے مالا مال یہ ملک نصف صدی سے استعماری طاقتوں کی معاشی دہشت گردی کے نشانے پر ہونے  کے باوجود  اپنے قدموں پر  مضبوطی سے کھڑا دکھائی دیتا ہے    شاندار تاریخی اور تہذیبی روایات کا حامل یہ ملک طویل جنگیں لڑنے کا وسیع تجربہ رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ زخموں پر زخم کھانے کے باوجود پورے قد سے کھڑا ہے  ایران کا قصور یہ ہے کہ وہ مظلوم اور محکوم فلسطینوں کی غیر مشروط حمایت کرتا ہے خطے میں گریٹر اسرائیل کا خواب دیکھنے  والوں کی راہ کا سب سے بڑا  روڑا ہے باقیوں کی طرح امریکہ کی چوکھٹ پر  سجدہ ریز نہیں ہوتا اپنی آزادی خود مختاری اور سالمیت  کی حفاظت کے لئے دفاعی صلاحیت بڑھانے کی فکر میں رہتا ہے جو کہ اس کا بنیادی  حق ہے مگر  مقدس ارض فلسطین پر ناجائز قبضہ جمائے  اسرائیل ہر دو چار ماہ بعد خوف زدہ ہو کر واویلا  شروع کر دیتا ہے ساتھ ہی دنیا کی خود ساختہ  عالمی سپر پاور امریکہ اور اس کے ہمنوا  ایرانیوں کو ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں صاف لگتا ہے کہ یہ جنگ دو یا تین ملکوں کے درمیان نہیں یہ جنگ نظرئیے کی جنگ ہے جس نے  ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے  ایران دنیا میں واحد ملک ہے جو وسیع و عریض رقبے کا مالک ہونے کے ساتھ بے تحاشا قدرتی وسائل سے مالا مال  ہے  اس کی ولولہ انگیز  قیادت ایرانی قوم اور مسلمانوں کے جذبات کی ہمیشہ  ترجمانی کرتے رہے ہیں  ایرانی اپنی جنگجویانہ خصلت  کے ساتھ اسلام کے  فلسفہ شہادت  پر یقین رکھنے والی بہادر قوم ہے جو  مظلوم امام حسین  کی قربانی اور کربلا میں بہائے جانے والے مقدس خون سے ایمانی طاقت اور توانائی کشید کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ  یکہ و تنہا ہونے کے باوجود  کبھی شکست تسلیم  نہیں کریں گے  ان کا  مقابلہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار گھٹیا ترین قوم سے ہے جو جنگی ضابطوں کی پرواہ کئے بغیر شہریوں اور ان کے لیڈر کو نشانہ بناتے ہیں ۔۔   پاکستان کے علاوہ  دیگر مہذب  ممالک اور اقوام متحدہ کو جنگ بندی کے لئے سنجیدہ کوششیں شروع کر دینی چاہیں خدشہ ہے کہ جنگ جاری رہنے کی  صورت میں دنیا کسی بڑے سانحہ سے دو چار ہو سکتی ہے ۔۔۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

صحافی کے قلم سے

واخان کاریڈور حقیقت، تاریخ اور پاکستان کے ممکنہ کردار کا تحقیقی جائزہ

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند مقدمہ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ایک علاقہ جو طویل عرصے تک تاریخ کی گود میں خاموش پڑا رہا، آج ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ ہے ” واخان کاریڈور ”  افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں واقع ایک تنگ اور لمبی پٹی، جو چین، تاجکستان اور پاکستان کے سنگم پر واقع ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان اس تزویراتی راہداری پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ تاہم، اس بحث میں ایک بنیادی اور اہم ترین نکتہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ ” وا خان کی پٹی کبھی بھی افغانستان کا مستقل اور موروثی حصہ نہیں رہی “ یہ مضمون درج ذیل نکات پر تفصیلی روشنی ڈالے گا: 1.  واخان کاریڈور کیا ہے اور اس کی جغرافیائی و تاریخی حیثیت 2.  یہ علاقہ برطانوی ہندوستان کا حصہ کیسے تھا اور کیسے افغانستان کو سونپا گیا 3.  برطانیہ افغانستان کو اس علاقے کی دیکھ بھال کے لیے معاوضہ کیوں ادا کرتا تھا 4.  موجودہ سیاسی صورتحال اور طالبان کی حساسیت 5.  پاکستان کے لیے اس علاقے کی اہمیت اور ممکنہ راستے واخان کاریڈور ، جغرافیائی حیثیت واخان کاریڈور دراصل ایک ” 350 کلومیٹر طویل اور 13 سے 65 کلومیٹر چوڑی پہاڑی پٹی ” ہے ۔ یہ افغانستان کے نقشے پر اس کے شمال مشرقی کونے سے نکلتی ہوئی ایک ” چمنی نما ” راہداری ہے جو افغانستان کو چین کے صوبے سنکیانگ سے ملاتی ہے ۔ اس کی شمالی سرحد پر تاجکستان ہے جبکہ جنوبی سرحد پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے ملتی ہے۔ یہ علاقہ ” ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں ” کے درمیان واقع ہے، جہاں نوشاخ کی چوٹی 7750 میٹر بلند ہے۔ یہیں سے دریائے آمو (جیحوں) کا منبع بھی نکلتا ہے، جو وسطی ایشیا کا ایک اہم دریا ہے۔ آج واخان میں ” واخی اور کرغیز قبائل ” آباد ہیں، جن کی تعداد تقریباً 12 سے 17 ہزار کے درمیان ہے ۔ یہ لوگ زیادہ تر ” ممیز مویشی پالنے اور زراعت ” سے وابستہ ہیں۔ تاریخی پس منظر واخان کی حقیقی حیثیت انگریزوں نے بفر زون کیوں بنایا؟ واخان کاریڈور کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ہمیں 19ویں صدی کے “عظیم کھیل” (Great Game) ” میں جانا ہوگا، جب برطانوی سلطنت اور روسی سلطنت وسطی ایشیا پر کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار تھیں ۔ برطانیہ کو شدید خدشہ تھا کہ روسی سلطنت جنوب کی طرف بڑھتی ہوئی برطانوی ہندوستان تک پہنچ جائے گی۔ روسی فوجوں نے تاشقند، سمرقند، بخارا اور خوقند جیسے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا جو برطانوی ہندوستان کے دروازے تصور کیے جاتے تھے ۔ انگریز اچھی طرح جانتے تھے کہ ہندوستان کی مکمل حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ روسیوں کو افغانستان تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اسی لیے انہوں نے افغانستان کو ایک ” بفر ریاست ” کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی ۔ کیا واخان افغانستان کا مستقل حصہ تھا؟ ” یہاں وہ نکتہ آتا ہے جو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے: واخان کا علاقہ کبھی بھی افغانستان کا موروثی اور مستقل حصہ نہیں تھا “ حقیقت یہ ہے کہ یہ پوری پٹی برطانوی ہندوستان کے زیرِ اثر علاقوں کا حصہ تھی یا ان سے منسلک تھی۔ 1893 میں ڈیورنڈ لائن معاہدے کے تحت برطانیہ نے افغانستان کے ساتھ سرحدوں کا تعین کیا ۔ اس معاہدے میں امیر عبدالرحمن خان کو واضح طور پر بتایا گیا کہ وہ واخان سے لے کر فارسی سرحد تک کی سرحدوں پر عمل کریں گے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واخان افغانستان کا حصہ تھا تو پھر برطانیہ اس کی دیکھ بھال کے لیے افغانستان کو معاوضہ کیوں دیتا تھا؟ معاوضے کی حقیقت تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ برطانوی حکومت نے امیر عبدالرحمن خان کی دوستانہ روش کے اعتراف میں ان کی سالانہ سبسڈی بڑھا کر ” اٹھارہ لاکھ روپے ” کر دی تھی ۔ اس کے علاوہ انہیں اسلحہ درآمد کرنے کی مکمل اجازت دی گئی اور تحفے کے طور پر اسلحہ دینے کا بھی وعدہ کیا گیا ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ: 1.  ” واخان ایک بفر زون تھا ” جو برطانیہ اور روس کے درمیان تصادم روکنے کے لیے بنایا گیا تھا ۔ 2.  ” افغانستان کو یہ علاقہ بطور امانت دیا گیا تھا ” نہ کہ مستقل ملکیت کے طور پر۔ 3.  ” برطانیہ باقاعدہ معاوضہ ادا کرتا تھا ” تاکہ افغانستان اس علاقے کی دیکھ بھال کرے اور اسے روسی توسیع پسندی سے بچائے ۔ 4.  اگر یہ افغانستان کا موروثی حصہ ہوتا تو برطانیہ کو اس کی دیکھ بھال کے لیے معاوضہ دینے کی ضرورت نہ تھی۔ چنانچہ واخان درحقیقت ” دو نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان ایک مصنوعی بفر زون ” تھا جسے انتظامی سہولت کے لیے افغانستان کے سپرد کیا گیا تھا۔ 1895 کا اینگلو-روسی معاہدہ مارچ 1895 میں طویل مذاکرات کے بعد برطانوی اور روسی حکومتوں کے درمیان نوٹوں کا تبادلہ ہوا جس میں پامیر پر برطانیہ اور روس کے اثر و رسوخ کے علاقوں کا تعین کیا گیا ۔ ایک مشترکہ کمیشن نے سرحدوں کا تعین کیا جس میں برطانوی اور روسی مندوبین شامل تھے ۔ 1895 میں برطانیہ اور روس نے ” پامیر باؤنڈری کمیشن ” قائم کیا جس نے واخان کی شمالی اور جنوبی سرحدوں کا تعین کیا ۔ اس میں یہ طے پایا کہ نہ چین اور نہ افغانستان اس علاقے میں مداخلت کریں گے — حالانکہ یہ علاقہ افغانستان کو دے دیا گیا تھا ۔ یہ واضح کرتا ہے کہ واخان کی حیثیت بین الاقوامی طاقتوں کے باہمی مفادات کے تحت طے پائی تھی، نہ کہ افغانستان کے موروثی حقوق کی بنیاد پر۔ حالیہ سیاسی صورتحال طالبان مخالف اتحاد کی دعوت حالیہ دنوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ طالبان مخالف اتحاد “نیشنل فرنٹ” نے پاکستان کو واخان کاریڈور پر عارضی کنٹرول سنبھالنے کی دعوت دی ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات: 1. ” طالبان کے خلاف محاذ ” نیشنل فرنٹ افغان طالبان کی حریف قوت ہے اور وہ چاہتی ہے

صحافی کے قلم سے

واخان کاریڈور، پاکستان کے لیے معدنی دولت کی راہداری یا نئے تنازعات کا دروازہ؟ (تحقیقی جائزہ)

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند تعارف،  وہ پٹی جس نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں سے متصل ایک ایسا علاقہ جو صدیوں سے تاریخ کا خاموش تماشائی رہا، آج ایک بار پھر عالمی سیاست کی زینت بنا ہوا ہے۔ یہ ہے ” واخان کاریڈور  ” — افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ بدخشاں میں واقع ایک تنگ اور لمبی پٹی، جو چین، تاجکستان اور پاکستان کے سنگم پر واقع ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایسی خبروں کا طوفان آیا ہے کہ پاکستان اس تزویراتی راہداری پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ افواہیں اس وقت مزید گرم ہوئیں جب دسمبر 2024 میں پاکستانی انٹیلیجنس افسر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک نے تاجکستان کا دورہ کیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ” واخان کاریڈور ہے کیا، اس کی کیا اہمیت ہے، اور آخر یہ پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟ ” کیا واقعی پاکستان اس پر قبضہ کر سکتا ہے؟ کیا یہ افغان طالبان کے لیے وارننگ ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جاننے کے لیے ہمیں تاریخ کے اوراق پلٹنے ہوں گے اور موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کا بغور جائزہ لینا ہوگا۔ واخان کاریڈور، تاریخ، جغرافیہ اور تشکیل جغرافیائی حیثیت واخان کاریڈور دراصل ایک ” 350 کلومیٹر طویل اور 13 سے 65 کلومیٹر چوڑی پہاڑی پٹی ” ہے۔ یہ افغانستان کے نقشے پر اس کے شمال مشرقی کونے سے نکلتی ہوئی ایک ” چمنی نما ” راہداری ہے جو افغانستان کو چین کے صوبے سنکیانگ سے ملاتی ہے۔ اس کی شمالی سرحد پر تاجکستان ہے جبکہ جنوبی سرحد پاکستان کے علاقے گلگت بلتستان سے ملتی ہے۔ یہ علاقہ ” ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں ” کے درمیان واقع ہے، جہاں نوشاخ کی چوٹی 7750 میٹر بلند ہے۔ یہیں سے دریائے آمو (جیحوں) کا منبع بھی نکلتا ہے، جو وسطی ایشیا کا ایک اہم دریا ہے۔ تاریخی پس منظر انگریزوں نے بفر زون کیوں بنایا؟ واخان کاریڈور کی تشکیل کا مقصد سمجھنے کے لیے ہمیں 19ویں صدی کے “عظیم کھیل” (Great Game) ” میں جانا ہوگا، جب برطانوی سلطنت اور روسی سلطنت وسطی ایشیا پر کنٹرول کے لیے برسرِ پیکار تھیں۔ (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); برطانیہ کو خدشہ تھا کہ روسی سلطنت جنوب کی طرف بڑھتی ہوئی برطانوی ہندوستان تک پہنچ جائے گی۔ اس لیے انگریزوں نے افغانستان کو ایک ” بفر ریاست ” کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی۔ 1895 میں برطانیہ اور روس کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ” پامیر باؤنڈری کمیشن ” قائم کیا گیا، جس نے واخان کاریڈور کی شمالی اور جنوبی سرحدوں کا تعین کیا۔ کیا افغان امیر عبدالرحمن پیسے لے کر اسے سنبھالنے پر رضا مند ہوا؟ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ امیر عبدالرحمن خان کو اس علاقے کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی، مگر اس کے بدلے انہیں برطانوی یقین دہانیاں اور مالی امداد بھی ملی تھی۔ یہ کوئی خوش خریدی ہوئی چیز نہیں تھی بلکہ ” دو نوآبادیاتی طاقتوں کے درمیان مفادات کا توازن ” تھا۔ افغانستان اس راہداری کو سنبھالنے پر اس لیے رضا مند ہوا کیونکہ اسے اپنی خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے برطانوی حمایت درکار تھی۔ اس طرح واخان کاریڈور کا قیام عمل میں آیا تاکہ 1. ” برطانوی ہندوستان اور روسی سلطنت کے درمیان براہِ راست تصادم نہ ہو “۔ 2. چین کے ساتھ افغانستان کی مشترکہ سرحد قائم ہو، جو روس کو مزید جنوب کی طرف بڑھنے سے روکے۔ 3. برطانوی ہندوستان کے دفاع کی قدرتی لائن قائم ہو۔ آبادی اور ثقافت آج واخان میں ” واخی اور کرغیز قبائل ” آباد ہیں، جن کی تعداد تقریباً 12 سے 17 ہزار کے درمیان ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر ” ممیز مویشی پالنے اور زراعت ” سے وابستہ ہیں۔ یہ علاقہ انتہائی پسماندہ اور دور دراز ہے جہاں جدید سہولیات تقریباً ناپید ہیں۔ تاہم یہاں ” مارکو پولو کی بھیڑوں، برفانی چیتے، بھورے ریچھ ” اور دیگر نایاب جنگلی حیات کی موجودگی نے اسے قومی پارک کا درجہ دلوایا ہے۔ حالیہ تنازع ، قبضے کی افواہیں اور حقیقت طالبان مخالف اتحاد (نیشنل فرنٹ) نے دعوت کیوں دی؟ حالیہ دنوں میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ طالبان مخالف اتحاد “نیشنل فرنٹ” نے پاکستان کو واخان کاریڈور پر عارضی کنٹرول سنبھالنے کی دعوت دی ہے۔ اس کی وجوہات کا تجزیہ کریں تو: 1. ” طالبان کے خلاف محاذ ” نیشنل فرنٹ افغان طالبان کی حریف قوت ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پاکستان طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اس راہداری کو استعمال کرے۔ 2. “ مقبوضہ علاقے کا مسئلہ ” یہ اتحاد سمجھتا ہے کہ واخان پر پاکستانی قبضے سے طالبان کی توجہ بٹے گی اور انہیں عسکری طور پر کمزور کیا جا سکتا ہے۔ 3. ” بین الاقوامی حمایت کی تلاش ” طالبان مخالف گروہ بین الاقوامی سطح پر اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بات اہم ہے کہ ” پاکستان نے سرکاری سطح پر ایسے کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی ” ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ” ملیحہ لودھی ” نے بھی ان خبروں کو “محض افواہیں” قرار دیا ہے۔ طالبان اس حوالے سے اتنے حساس کیوں؟ افغان طالبان نے واخان کاریڈور کی حفاظت کے لیے غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ” ملا یعقوب اس پر قبضے کی خبر سن کر بھاگا بھاگا واخان کیوں گیا؟“ ملا یعقوب، جو طالبان کے بانی ملا عمر کے بیٹے اور موجودہ افغان دفاع کے قائم مقام وزیر ہیں، ان خبروں کے بعد فوری طور پر بدخشاں کا دورہ کیا اور واخان میں سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔ اس کی وجوہات۔ 1. ” تزویراتی اہمیت ” واخان طالبان کے لیے چین کا گیٹ وے ہے۔ اگر پاکستان یا کوئی اور طاقت یہاں قابض ہو جاتی ہے تو طالبان کی چین سے براہِ راست رسائی ختم ہو جائے گی۔ 2. ” ٹی ٹی پی کا مسئلہ ” افغان طالبان پر الزام ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رہے ہیں۔ اگر پاکستان واخان پر قبضہ کرتا ہے تو یہ ٹی ٹی پی کے خلاف ایک بڑی کارروائی کا پیش خیمہ ہو

صحافی کے قلم سے

نظریے کبھی فنا نہیں ہوتے

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});  16 دسمبر 1971 کو  سقوط ڈھاکہ کے موقع       انڈین وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے  بیان جاری کیا  تھا ” آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ”  دنیا نے بھی  بیس بائس سال بعد   قائد اعظم  اور علامہ اقبال کے  دو قومی نظرئیے کو خلیج بنگال میں ڈوبتے ہوئے دیکھا تھا  مگر آج نصف صدی بعد  ہر آنکھ  محو حیرت ہے کہ وہ ڈوبا ہوا  نظریہ  دوبارا زندہ ہو کر کس طرح  نئی شکل میں سطح آب پر آ  نمودار ہوا ہے۔   جماعت اسلامی مشرقی پاکستان آغاز ڈے ہی  متحدہ پاکستان کی حامی تھی مجیب کی تحریک کے دوران کھل کر مکتی باہنی فورس اور حملہ اور انڈین فوج کے مقابل مزاحمت کرتی رہی  پاکستانی فوج  کے شانہ بشانہ البدر اور الشمس کے بے شمار  سر فروشوں  نے مادر وطن کی سالمیت اور یکجہتی کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کئے بنگلہ دیش کے وجود میں انے کے بعد عوامی لیگ کے غنڈوں نے چن چن کر جماعت اسلامی کے حامیوں کو موت کے گھاٹ اتارا  حسینہ واجد کی طویل عرصہ حکمرانی  کے دوران  لیڈروں اور کارکنوں پر عرصہ حیات تنگ کئے رکھا جیلوں اور عقوبت خانوں میں ان پر ستم کے پہاڑ توڑے گئے جبری گمشدگیاں اور پھانسیاں روز کا معمول بنا دیا گیا حتی کہ جماعت اسلامی کے امیر اور سنیئر ترین سیاسی راہنما پروفیسر غلام اعظم کو بھی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا گوگل کے مطابق انڈین نواز حسینہ واجد کی حکومت کے دوران  2700 سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو شہید کیا گیا جن میں بی این بی اور دیگر جماعتوں کے اراکین بھی شامل ہیں اپنی دانست میں حسینہ واجد  نے اس کے اقتدار کی راہ میں آنے والی  تمام سیاسی اور غیر سیاسی قوتوں کا صفایا کر دیا تھا مگر اللہ کا اپنا نظام ہے جو سیاہ  رات کی کوکھ سے سورج نکالتا ہے جس کے حکم سے  زمین پر زندگی سانسیں بھرتی ہے اسی  کا فیصلہ حتمی اور آخری ہوتا ہے نوجوان طالب علم راہنما عثمان ہادی کی ولولہ انگیز قیادت میں  طلبہ تحریک کے دوران  1400 نوجوانوں نے اپنا  لہو دے کر ظلم نا انصافی اور فسطائیت کی نمائندہ حکومت کو اقتدار  کے ایوانوں سے  نکال باہر کیا ڈھاکہ یونیورسٹی میں  جہاں 1970 میں اسلامی جھاترو شبر کے ناظم  عبد المالک اور کئی  دیگر  طلبہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا اج چھاترو شبر راج کرتی ہے سلہٹ چٹاگانگ کھلنا کی پانچ بڑی یونیورسٹیوں میں اسلامی چھاترو شبر بھاری اکثریت سے الیکشن جیتی ہے  بنگلہ دیش کی جینزی ( نوجوان نسل)  گلی کوچوں   شہروں  دیہاتوں   میں ڈھاری    ( ترازو ) کے نعرے بلند کرتے نظر آتے ہیں ڈاکٹر شفیق الرحمن جیسے ترقی پسند صاحب بصیرت راہنما میر  جماعت  ہیں انہوں نے   اپنی ولولہ انگیز قیادت مستقل مزاجی جرات استقامت اور فکر مودودی کی روشنی میں جماعت کو لانچنگ پیڈ پر لا کھڑا کیا ہے نیشنل سٹیزن پارٹی کے علاوہ بارہ دیگر جماعتوں کا اتحاد کل فیصلہ کن جیت کے لئے میدان میں اترے گا ان کے مقابل بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارثی ہے کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے کسی ایک کی جیت نظریہ پاکستان کی جیت ہو گی یقین واثق ہے کہ  مستقبل میں دونوں برادر اسلامی ممالک  معاشی سیاسی  عسکری   تعلمی اور سماجی  میدان میں باہم  مضبوط    رشتے استوار کریں گے ۔۔۔

صحافی کے قلم سے

ایران کو غلط سمجھنا دباؤ نے مزاحمت کو کیسے تقویت دی

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); تحریر: محمد بلال افتخار خان جیسا کہ کہاوت ہے، “وقت کی بہترین صفت اس کی تبدیلی کی صلاحیت ہے، ارتقاء وقت کا پوشیدہ چہرہ ہے۔” اسی سچائی نے ایران کی جدید تاریخ کو تشکیل دیا ہے۔ 1979 میں ملک میں ایک انقلاب برپا ہوا جس نے مغرب نواز بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور شاہ کو جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ پہلوی دورِ حکومت، کئی لحاظ سے، نوآبادیاتی نظام کا مظہر تھا—مغربی جدیدیت کی ایک ایسی پیداوار جس نے حکمران خاندان اور ایرانی اشرافیہ کو گہرا متاثر کیا تھا۔ اگر بادشاہت نے اس عوامی تحریک سے سبق سیکھا ہوتا جس نے 1950 کی دہائی کے اوائل میں محمد مصدق کو اقتدار میں لایا تھا، تو تاریخ شاید ایک مختلف رخ اختیار کرتی۔ بروقت اصلاحات پائیدار استحکام پیدا کر سکتی تھیں۔ اس کے بجائے، غیر ملکی حمایت یافتہ ایک جوابی انقلاب نے ایک کمزور “منفی امن” مسلط کیا، جو بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں منہدم ہو گیا۔ انقلابی رہنما غیر تیار نہیں تھے۔ انہوں نے نئے اداروں کی تعمیر سے پہلے موجودہ ریاستی ڈھانچے اور تزویراتی ثقافت (Strategic Culture) کا گہرا مطالعہ کیا۔ اس بنیادی تبدیلی نے شاہ کے دور کے نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور ایسے ادارے قائم کیے جنہیں انہوں نے “خرد درجے کی نوآبادیات” (Micro-level coloniality)—یعنی مغرب کے لطیف ثقافتی، سیاسی اور نظریاتی اثرات—کے خلاف ایک مضبوط دیوار کے طور پر دیکھا۔ آج ایران کی لچک (Resilience) اسی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے میں پنہاں ہے۔ متوازی انقلابی ادارے اب روایتی اداروں پر حاوی ہیں: ‘بسیج’ ملیشیا کا سماجی دائرہ کار باقاعدہ پولیس سے زیادہ وسیع ہے، جبکہ ‘سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی’ (IRGC) قومی فوج ‘ارتش’ سے زیادہ طاقت رکھتی ہے۔ یہ ادارے خاص طور پر نظام کے تحفظ اور سیاسی کنٹرول کے آلات کے طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ آغاز ہی سے مغرب نے اس انقلاب کو محض شاہ کے خلاف بغاوت کے طور پر نہیں، بلکہ خود مغربی تہذیب کے رد کے طور پر دیکھا۔ لبرل حیاتیاتی سیاست (Biopolitical) کے مفروضوں پر مبنی اس تشریح نے ایران کی تبدیلی کو ایک تہذیبی چیلنج بنا کر پیش کیا۔ نتیجتاً، دہائیوں کی پابندیوں، دشمنی اور مبینہ سازشوں نے ایران کی مابعد انقلاب اشرافیہ کے عزم اور ان کے عدم تحفظ (Insecurities) دونوں کو مزید سخت کر دیا ہے۔ اس تاریخی تجربے نے ایک ایسی تزویراتی ثقافت پیدا کی ہے جو مغرب پر شدید بے اعتباری کرتی ہے۔ ساتھ ہی، شاہ کے دور کی تلخ یادیں اکثر ایرانیوں کو بادشاہت کی بحالی کی طرف مائل ہونے سے روکتی ہیں۔ اگرچہ شہریوں کی اکثریت نسلی طور پر فارسی ہے، لیکن اہم اقلیتی برادریاں مذہبی مقتدرہ سے بیزار نظر آتی ہیں۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ شاہ مخالف تحریک نظریاتی طور پر متنوع تھی، جس میں ‘مجاہدینِ خلق’ اور ‘فدائینِ خلق’ جیسے سوشلسٹ گروہ بھی شامل تھے، جن میں سے بہت سے اب جلاوطنی میں رہ کر اسلامی جمہوریہ کی مخالفت کرتے ہیں، اور بسا اوقات مغربی حکومتوں کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں۔ مسلسل پابندیوں نے عام ایرانیوں پر شدید معاشی مشکلات مسلط کی ہیں۔ جہاں مغرب نے معاشی دباؤ سے پیدا ہونے والی تکلیف سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے، وہاں ایران کی طویل تہذیبی تاریخ نے سماجی لچک اور تزویراتی آگاہی کو فروغ دیا ہے۔ پابندیاں کمزوریاں تو پیدا کرتی ہیں، لیکن وہ خود انحصاری اور تنوع کی حوصلہ افزائی بھی کرتی ہیں۔ اس تناظر میں، چین ایک اہم متبادل شراکت دار کے طور پر ابھرا ہے، جو ایسی معاشی راہیں فراہم کر رہا ہے جو ایران کی تنہائی کو کم کرتی ہیں۔ ایک وقت تھا، خاص طور پر انقلاب کے ابتدائی سالوں میں، جب تہران کمزور نظر آتا تھا۔ حتیٰ کہ حالیہ برسوں میں بھی روس جیسے کلیدی شراکت داروں نے ہچکچاہٹ دکھائی ہے؛ مثال کے طور پر، شام میں روسی فضائی دفاعی نظام کئی بار اسرائیلی حملوں کے خلاف ایرانی افواج کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا، اور کئی بار روس نے یہ تاثر دیا کہ وہ ایران کے اقدامات سے ناخوش ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر کثیر قطبی نظام (Multipolarity) کی طرف منتقلی نے ایران کو ایک مرکزی علاقائی کھلاڑی کے طور پر دوبارہ مستحکم کر دیا ہے۔ اس کے تزویراتی جغرافیہ، مغرب پر گہری بے اعتباری، یوکرین جنگ اور اسرائیل کے لیے مغربی حمایت نے تہران کو چین اور روس دونوں کے لیے تیزی سے قیمتی بنا دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں چین کا کردار بڑی حد تک ایک عملی مصلحت پسند، استحکام لانے والے اور ثالث کا رہا ہے۔ بیجنگ کی ثالثی میں ہونے والے سعودی ایران مفاہمت نے علاقائی حرکیات کو بدل دیا ہے اور فوری تناؤ کو کم کیا ہے، چاہے بنیادی رقابتیں اب بھی برقرار ہوں۔ حالیہ برسوں میں ایران کو متعدد امتحانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی دباؤ نے اسے بیرونی طور پر چیلنج کیا، جبکہ اندرونی احتجاج نے ریاستی اتھارٹی کا امتحان لیا، لیکن یہ نظام قائم رہا۔ دریں اثنا، جیسے جیسے لاطینی امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے، چین اور روس تہران کے ساتھ سٹریٹجک تعاون گہرا کرنے کے لیے زیادہ تیار نظر آتے ہیں۔ واشنگٹن اب تیزی سے اس حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ مکمل جنگ “پیرھک” (Pyrrhic)—یعنی ایسی جیت جو ہار سے بدتر ہو—ثابت ہوگی۔ اس کے باوجود، سیاسی بقا اور دائیں بازو کی قوم پرستی کے زیر اثر، نیتن یاہو جیسے رہنما اب بھی محاذ آرائی کی راہ اپنا سکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں ایک بھرپور جنگ کا امکان کم ہے۔ اس کے بجائے، مغربی اور اسرائیلی حکمت عملی کا رخ ممکنہ طور پر “ٹارگٹڈ پریشر” کی طرف ہوگا: انٹیلی جنس آپریشنز، سائبر وارفیئر، معاشی ہیرا پھیری، اور اشرافیہ کے اتحاد کو توڑنے کی کوششیں۔ آنے والا مرحلہ روایتی فوجی تصادم کے بجائے قوتِ برداشت اور اثر و رسوخ کا مقابلہ ہوگا۔ ایران کا انقلابی نظام اسی قسم کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ آیا یہ نظام ٹوٹے بغیر اندرونی سماجی تبدیلیوں اور بیرونی حالات کے مطابق خود کو ڈھال پائے گا یا نہیں، یہی بات نہ صرف ایران کے

صحافی کے قلم سے

افغانستان کا نیا قانونی نظام اسلامی اصولوں کی مسخ شدہ تشریح اور اس کے خطرناک اثرات

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); نئے قانون کا تعارف ایک نیا قانونی ڈھانچہ جس میں اسلامی اقدار کا فقدان جنوری 2026 میں افغان طالبان کے نام نہاد آئینی مسودے کے منظر عام پر آنے سے افغانستان میں ایک ” متنازعہ قانونی تبدیلی ” کا آغاز ہوا ہے۔ یہ 3 حصوں، 10 ابواب اور 119 شقوں پر مشتمل دستاویز جسے طالبان رجیم نے نئے آئین کے طور پر پیش کیا ہے، دراصل اسلامی اصولوں کی ” من مانی تشریح ” پر مبنی ہے۔ اس کے نفاذ نے افغانستان میں ایک ایسے نظام کو جنم دیا ہے جو اسلامی تعلیمات کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ اسلامی قانون کی صحیح روح توحید، عدل، مساوات اور انسانی وقار کے تحفظ پر مبنی ہے، لیکن طالبان کا پیش کردہ نظام ان اصولوں کی صریح خلاف ورزی کرتا نظر آتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں قانون سازی کا عمل ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں، علماء کی اجتماعی رائے (اجماع) اور منطقی قیاس (قیاس) کے ذریعے ہوتا رہا ہے۔ افغانستان کا نیا نظام اس تاریخی اور علمی روایت سے یکسر مختلف ہے، جس میں طالبان کی انتہاپسندانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ طالبان کے نئے قانونی ڈھانچے کی مرکزی خصوصیات 1. طبقاتی تقسیم اسلامی مساوات کا انکار طالبان کے نام نہاد آئین نے افغان معاشرے کو چار طبقوں میں تقسیم کر دیا ہے: علماء، اشرافیہ، متوسط اور نچلا طبقہ۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ معاشرے کو غلام اور آزاد کے دو بڑے گروہوں میں تقسیم کر کے غلامی کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ تقسیم بنیادی اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ قرآن مجید میں صراحتاً بیان کیا گیا ہے: “اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بیشک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے” (الحجرات: 13)۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر تمام انسانوں کی بنیادی مساوات کا اعلان کیا ہے، اور تقویٰ کو معیارِ فضیلت قرار دیا ہے، نہ کہ خاندان، قبیلے یا معاشرتی طبقے کو۔ نبی کریم ﷺ کے آخری خطبے میں بھی انسانی مساوات پر زور دیا گیا: “تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، اور نہ کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے”۔ طالبان کا طبقاتی نظام ان اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی ہے۔  طالبان کے طبقاتی نظام اور اسلامی مساوات کا موازنہ | طالبان کا طبقاتی نظام | اسلامی تعلیمات | | معاشرہ چار طبقوں (علماء، اشرافیہ، متوسط، نچلا طبقہ) میں تقسیم | تمام انسان آدم و حوا کی اولاد، بنیادی مساوات | | غلامی کی قانونی حیثیت | غلامی کے خاتمے کی ترغیب، آزادی کے لیے اقدامات | | ذات پات کی بنیاد پر حقوق میں تفریق | تقویٰ کو معیارِ فضیلت قرار دیا گیا | | ہندو ذات پات نظام سے مشابہت | اسلامی اخوت و مساوات | 2. خواتین کے حقوق: اسلامی وقار کی پامالی طالبان کے نئے قوانین خواتین کے بنیادی حقوق کو سلب کرتے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق: – عورت کو مرد کی قانونی ذمہ داری قرار دے کر مرد کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ عورت کو کسی کام سے روک سکتا ہے اور اپنی بات منوانے کے لیے اس پر تشدد کر سکتا ہے – 9 سال کی بچی کو قانوناً عورت قرار دے کر اس سے شادی کو جائز ٹھہرایا گیا ہے – گھروں کے کمروں میں موجود کھڑکیاں اینٹوں سے بند کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے تاکہ عورتیں گھروں میں پردے میں رہیں – خواتین کی تعلیم پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جنہیں “عالمی سطح پر کڑی تنقید” کا سامنا ہے اسلامی نقطہ نظر سے عورت کا مقام انتہائی بلند و برتر ہے۔ قرآن مجید میں عورتوں کے حقوق کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی ہے۔ اسلام عورت کو تعلیم حاصل کرنے، ملکیت رکھنے، کاروبار کرنے اور معاشرتی زندگی میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے۔ طالبان کے قوانین اسلامی تعلیمات کے برعکس ہیں۔ 3. مذہبی آزادی اسلامی رواداری سے انحراف نئے قوانین کے تحت تمام غیر سنی مسلمان، بشمول شیعہ، کو قانونی طور پر گمراہ اور بدعتی قرار دیا گیا ہے۔ اسلام میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں واضح ہے: “دین میں کوئی زبردستی نہیں” (البقرہ: 256)۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کے یہودیوں اور دیگر مذہبی گروہوں کے ساتھ معاہدہ کر کے ان کے حقوق کی ضمانت دی تھی۔ طالبان کا رویہ اسلامی تعلیمات کے اس پہلو سے متصادم ہے۔ 4. عدالتی نظام اسلامی انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی طالبان کے نئے قوانین میں انصاف کے حصول کے لیے بنیادی تحفظات شامل نہیں ہیں۔ حراست کے نئے قوانین کے تحت مشتبہ افراد کی حراست 72 گھنٹوں سے بڑھا کر 10 دن کر دی گئی ہے۔ قیدی طالبان عدالت کے حکم کے بغیر رہائی کے حق سے محروم ہو گئے ہیں۔ اسلامی قانون میں انصاف کے حصول کے واضح اصول ہیں۔ قرآنی آیات اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بے گناہی کا مفروضہ، منصفانہ سماعت کا حق، اور ثبوت کے معیارات واضح کیے گئے ہیں۔ طالبان کا نظام ان اسلامی اصولوں کے برعکس ہے۔ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک متبادل قانونی ڈھانچہ بنیادی اسلامی اصول جو افغان قانون سازی میں شامل ہونے چاہئیں: 1. توحید کی بالادستی 2.  تمام قوانین کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انسانوں کی خواہشات کی تکمیل۔ 2. عدل و انصاف اسلامی قانون سازی کا مرکزی مقصد عدل قائم کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: “اے ایمان والو! انصاف پر قائم رہنے والے ہو جاؤ” (النساء: 135)۔ 3. مساوات اسلامی قانون میں تمام شہریوں کے بنیادی حقوق برابر ہونے چاہئیں۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: “لوگ برابر ہیں جیسے کنگن کے دانت برابر ہوتے ہیں“۔ 4. انسانیت کا

صحافی کے قلم سے

ڈس انفارمیشن کی جنگ پاک فوج کے کردار پر پروپیگنڈا اور حقیقت

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); یہ غازی یہ تیرے پرسرار بندے ایس ایس جی ٹریننگ سینٹر کے باہر نصب وہ  سنگ میل محض پتھر اور رنگ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک نظریے کا مجسم اعلان ہے۔ اس پر کندہ یروشلم، دہلی اور سری نگر کے فاصلے کسی جغرافیائی سبق سے زیادہ، تربیت پانے والے ہر کمانڈو کے ذہن و روح میں ایک مقصد کی تخم ریزی کرتے ہیں۔ یہ مقصد صرف جغرافیائی حدود کا دفاع نہیں، بلکہ ان اصولوں، نظریات اور امتوں سے وابستگی کا اظہار ہے جن کے تحفظ کی ذمہ داری ایک سپاہی اپنے کندھوں پر محسوس کرتا ہے۔ یہاں، پتھر پر لکھے گئے یہ عدد درحقیقت ایمان کے پیمانے ہیں، جو یہ باور کرانے آئے ہیں کہ ایک سپاہی کی نظریں محض سرحدی چوکیوں تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ہونے والے مظالم اور ناانصافیوں کو بھی دیکھتی اور پرکھتی ہیں۔ تاہم، اسی مقدس فریضہ شناسی اور جذبۂ حریت کو ایک مخصوص گروہ، جسے تحریر میں “ابن ابی منافق گروپ” سے تعبیر کیا گیا ہے، اپنی سیاسی و نظریاتی اغراض کے لیے مسخ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ان کا الزام عجیب paradox ہے: وہ پاک فوج کو امریکی ایجنٹ قرار دیتے ہوئے یہ پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں کہ اگر وہ فلسطین جاتی ہے تو وہ درحقیقت امریکی اور صیہونی مفادات کی تکمیل کرے گی۔ یہ نکتہ غور طلب ہے کہ جو گروہ خود ممکنہ طور پر بیرونی اخراجات اور ایجنڈے پر چل رہا ہو، وہ اپنے دفاع اور مقبولیت کے لیے قومی اداروں کو ہی بیرونی طاقتوں کا آلۂ کار ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ یہ بالکل وہی نفاق ہے جس کی طرف قرآن مجید میں واضح اشارہ ملتا ہے: “اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ یاد رکھو! یہی لوگ فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں” (سورۃ البقرہ: 11-12)۔ ان کے الفاظ “اصلاح” کے ہوتے ہیں، مگر ان کی حرکات، ان کے تعلقات اور ان کا پروپیگنڈا اکثر و بیشتر انتشار، بداعتمادی اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ایس ایس جی کے سنگ میل کی علامت کے پیچھے حقیقت اس بورڈ کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے پیچھے کارفرما فکری اور نظریاتی ڈھانچے کو دیکھنا ہوگا۔ پاکستان کی مسلح افواج، بالخصوص اس کی ایلیٹ فورسز، کی تربیت محض جسمانی مشقوں اور ہتھیار چلانے تک محدود نہیں۔ اس تربیت کا ایک اہم ستار نظریاتی علم اور جہادی جذبے کی افزائش ہے۔ یروشلم کا نام اس بورڈ پر اس لیے ہے کہ وہ اسلام کے قبلہ اول کی علامت ہے، جس پر صیہونی قبضہ عالم اسلام کے لیے ایک دائمی زخم ہے۔ یہ نام کمانڈو کے دل میں امت مسلمہ سے وابستگی اور مقبوضہ فلسطین کی آزادی کی تڑپ کو زندہ رکھتا ہے۔ دہلی کا نام کشمیر کی نہ ختم ہونے والی دردناک داستان، اس پر بھارت کے غیرقانونی تسلط، اور وہاں کے عوام پر ہونے والے مظالم کی یاد دہانی کراتا ہے۔ سری نگر کشمیر کا دل ہے، جس کی آزادی پاکستانی قوم کے نظریے کا مرکز ہے۔ یہ بورڈ، درحقیقت، ایک “نظریاتی کمپاس” ہے۔ یہ تربیت کے سخت ترین اوقات میں، جب جسم تھک کر چور ہو رہا ہوتا ہے، سپاہی کو یہ یاد دہانی کرانے کے لیے ہے کہ وہ محض ایک فوجی نہیں، بلکہ ایک مقصد کا حامل مجاہد ہے۔ اس کی جدوجہد محض تنخواہ یا ملازمت کے لیے نہیں، بلکہ ایک اعلیٰ تر نظریے، یعنی اسلام کی حفاظت، مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور وطن کی سرزمین کے دفاع کے لیے ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو پاک فوج کے جوان کو دنیا کی بہترین فوجیوں میں سے ایک بناتا ہے۔ پروپیگنڈے کا جال اور “امریکی ایجنٹ” کا نعرہ “ابن ابی منافق گروپ” یا ان جیسے دیگر عناصر، جو مختلف پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں، اسی جذبے اور نظریاتی وابستگی کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا مرکزی ہتھیار “امریکی ایجنٹ” یا “غلام فوج” کا لیبل لگانا ہے۔ یہ ایک پرانا، مگر اکثر مؤثر رہنے والا، پروپیگنڈا طریقہ ہے۔ اس کے پیچھے درج ذیل مقاصد کارفرما ہوسکتے ہیں: 1. قومی یکجہتی کو کمزور کرنا پاک فوج ملک کی سب سے منظم اور سب سے زیادہ بااعتماد قومی ادارہ ہے۔ اس پر اعتماد کو مجروح کر کے پورے معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی پھیلائی جاسکتی ہے۔ 2.  عوامی توجہ ہٹانا جب قوم کسی بیرونی دشمن یا داخلی بحران کی بجائے اپنے ہی محافظ اداروں کے بارے میں شکوک و شبہات میں الجھی ہو، تو اس کے اصل مسائل اور ان کے پیچھے کارفرما حقیقی عناصر پردے کے پیچھے چھپے رہتے ہیں۔ 3. بیرونی ایجنڈے کی تکمیل یہ گروہ خود بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہوں گے۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے جس کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسے غیرمستحکم اور اندرونی کشمکش میں مبتلا کرنا خطے میں کئی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ اپنے آپ کو “اصلاح کار” ظاہر کرتے ہوئے قومی دفاعی مراکز پر حملہ کرنا درحقیقت انہی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ 4. نظریہ پاکستان کو مسخ کرنا پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ پاک فوج کا نظریاتی تربیتی بورڈ اسی نظریے کی عکاسی کرتا ہے۔ اسے “امریکی ایجنٹ” ثابت کرنا درحقیقت پاکستان کے قیام کے بنیادی مقصد ہی پر حملہ ہے۔ فلسطین کا معاملہ جذبات کا استحصال فلسطین کا معاملہ پوری امت مسلمہ کے جذبات کا مرکز ہے۔ پاک فوج کے ہر فرد کا دل بھی فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ تاہم، ایک ریاست کی حیثیت سے فوجی مداخلت ایک پیچیدہ جیوپولیٹیکل فیصلہ ہے، جس میں لاکھوں عوامل کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ پاک فوج حکومت کی پالیسی کا تابع ہے۔ پروپیگنڈا کرنے والے اس پیچیدہ حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے، محض جذباتی نعروں سے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ “فوج نہیں جا رہی، کیونکہ وہ امریکہ کی ایجنٹ ہے۔” یہ انتہائی سطحی اور گمراہ کن تجزیہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج نے تاریخ میں کبھی بھی مسلم ممالک کے خلاف جنگ میں امریکہ یا کسی اور طاقت کا ساتھ نہیں دیا۔ بلکہ، اس نے بوسنیا، سربیا کے خلاف

صحافی کے قلم سے

” زندگی آگ کے ڈھیر پر “

سکندر بیگ مرزا        ”  پس, آئینہ “  یوں تو وطن عزیز جب سے معرض وجود میں آیا ہے قدرتی آفات اور آسمانی بلیات نے اس   کا راستہ دیکھ رکھا  ہے آئے روز یہاں روح فرسا اور دل دہلا دینے والے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں  بد قسمتی سے ان  واقعات اور حادثات کو ایک خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی  گیس سلنڈر پھٹنے اور آتش زدگی  کے واقعات  کو یہاں  معمول  کے واقعات سمجھا جاتا ہے   سترہ جنوری کی شب جناح روڈ کراچی پر واقع تین منزلہ عمارت  گل پلازہ میں رونما ہونے والے   واقعہ نے وقتی طور پر پورے ملک کو غم زدہ کر دیا اس روح فرسا سانحہ  کی رپورٹ پوری دنیا میں حیرت کے ساتھ  سنی گئی کہ   ترقی یافتہ دور میں بھی پاکستان جیسے ملک میں اس قسم کے دل سوز واقعات پر قابو پانے کے لئے حفاظتی اقدامات کا  کوئی موثر   نظام  موجود  نہیں ہے گل پلازہ کے واقعہ میں 26  ہلاکتوں کے علاوہ 77 شہریوں کو  گمشدہ قرار دے کر فائل کلوز کر دی گئی ہے اس طرح  آگ میں جل کر مرنے والوں کی تعداد دانستہ طور پر  کم بتائی گئی ہے  تا کہ حکومت معاوضوں کی ادائیگیوں سے بچ جائے   ایک ہزار دوکانوں کے علاوہ    تین اربںسے زائد  کا سامان     جل کر خاکستر ہو چکا ہے اس مرحلے پر  نقصانات کی تفصیل بتانا مقصود نہیں مقصود یہ ہے کہ پاکستان میں آتش زدگی کی روک تھام کے لئے سوائے بیان بازی کے کوئی عملی اقدامات  نہیں کئے جاتے  حالانکہ 2024 اور 2025 میں  صرف کراچی شہر میں 2500 سے زیادہ آتش  زدگی کے واقعات رونما  ہو  چکے تھے   لیکن ہر واقعہ کو قدرتی حادثے کا نام دے کر فائلوں میں دفن کر دیا جانا رہا ہے یہ  ہمارے قومی اداروں کا مروجہ طریقہ کا ہے   حالانکہ آتش زدگی کے واقعات کو قدرتی آفات کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاسکتا دریاوں ندی نالوں میں جنم لینے والے   سیلاب سونامی اور  زلزلوں کی تباہ کاریوں کے سامنے  انسان ہمیشہ    بے بس ہو تے ہیں   گو کہ بروقت تدابیر   اختیار کر لینے سے  ایسے مواقع پر   جانی نقصانات کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے   لیکن آتش زدگی کے واقعات کو قدرتی آفات  قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس میں انسانی کردار کا ملوث ہونا بعید از قیاس نہیں ہوتا  مشاہدے میں یہ بات ائی ہے کہ سرکاری دفاتر بالخصوص مالیاتی اداروں میں ریکارڈ کو جان بوجھ کر نذر آتش کیا جاتا ہے تا کہ  فراڈ اور مالی بد عنوانیوں کے  شواہد تلف کئے جا سکیں  اس کے علاوہ گیارہ ستمبر  دو ہزار باراں   کو بلدیہ فیکٹری کراچی میں جرائم پیشہ بھتہ خوروں نے دو سو نوے  مزدورں کو زندہ جلا کر گارمینٹس فیکٹری کو   راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا   تھا  اس افسوس ناک واقعہ  میں مہاجر قومی موومنٹ کے دشت گر ملوث نکلے علاوہ ازیں  گھروں ہوٹلوں  فیکٹریوں اور   گاڑیوں میں گیس سلنڈروں کے دھماکے معمولی کی خبریں  سمجھی  جاتی ہیں  ناقص میٹریل سے  تیار شدہ  گیس سلنڈر سرے عام فروخت کئے جاتے ہیں زائد المعیاد  سلنڈر گاڑیوں اور گھروں  میں استعمال ہوتے ہیں دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں  محکمے موجود  ہیں تنخوائیں بر وقت ادا کی جاتی ہیں  ضروری سازو سامان  اور گاڑیوں کی مرمت اور پٹرول کے لئے اربوں روپے کے فنڈز ہر سال مختص کئے جاتے ہیں   سرکار نے ایک ہی نیچر کا کام کرنے کے لئے کئی کئی متوازی محکمے قائم کر رکھے ہیں صرف اگ بجھانے کے لئے سول ڈیفس 1122  سپشل فائر فاٹئنگ سکواڈز کے علاوہ  دیگر معاون محکمے ملک میں ناگہانی آفات کی صورت میں   مل کر بھی آگ پر قابو پانے    کی  صلاحیت   نہیں رکھتے میرے نزدیک  آتش زدگی   سرا سر  انسانی  مجرمانہ  غفلت کا شاخسانہ ہوتی ہے سرکاری ملازمین  اگر پچاس فیصد بھی  فرائض کی ادائیگی  کریں تو بڑے سے  بڑے رونما ہونے والے سانحات کو کم کیا جا سکتا ہے سول ڈیفینس محکمے والوں کو مکمل علم ہوتا  ہے کہ سرکاری دفاتر   غیر سرکاری مارکیٹوں پلازوں ہوٹلوں  سکولوں ہسپتالوں شادی ہالوں  کے علاوہ پبلک پلیسز پر  آتش زدگی کے واقعات کا سد باب کرنے کے لئے کس قسم کے فائر فائٹنگ  ارینج منٹ   کی ضرورت ہوتی ہے سچ تو یہ ہے کہ کوئی محکمہ اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے سر انجام نہیں  دینا    جس کا نتیجہ یہ نکلا  ہے کہ  پورا ملک بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے خدشہ ہے کہ سرکاری بھتہ خور اور سویلین مافیاز  مل کر پورے ملک کو کسی بڑے سانحہ سے دوچار نہ کر دیں      فارم 47 اور ان کے تخلیق کاروں کو اگر حکمرانی کا شوق ہے تو اس کے بنیادی تقاضے بھی نبھائیں  کرپشن لاقانونیت مہنگائی سمگلنگ قومی دولت کی چوری چکاری  جہالت اور فرقہ  واریت  کا راستہ  بر وقت  روکیں   انسانی جانوں کا زیاں  اور  قومی   مالی نقصان خود بخود رک جائے گا وگرنہ اب پورا ملک کسی  ٹائم بم پر تو بیٹھا ہوا ہے خدا نخواستہ  کسی   لمحے بھی   کوئی دلخراش  سانحہ  جنم لے سکتا ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔     یہ زمیں آفات سے دو چار ہے  زندگی صدمات سے دو چار ہے  آنکھ بھر لائی سمندر شہر میں   ہر گلی برسات سے دو چار ہے  بجھ گئے کتنے ستارے رات کو  ہر قدم خدشات سے دو چار ہے  جیت جاتے ہیں سگ, آوارگاں آدمیت مات سے دو چار ہے  ۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صحافی کے قلم سے

میڈیکل سٹوڈنٹس اور این آر ای۔لمحہ فکریہ

 کوہ سلمان سے احمد خان لغاری دنیا بھر میں والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اختیار دیتے ہیں، اولاد جس شعبہ میں چاہیں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، اکثر ممالک میں بچوں کو تعلیم کیلئے ضروری قرض اور وظائف بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں یا پھر انجینئر بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ معاشرے میں اعل مقام کیلئے یہی دو شعبہ جات قابل تکریم سمجھے جاتے ہیں۔ جو طالبعلم تعلیمی اعتبار سے بہتر ہے وہ غریب کی اولا ہی کیوں نہ ہو وہ میٹرک اور ایف ایس سی میں اعلی نمبر وں کے ساتھ ہر دو شعبہ جات میں سرکاری اداروں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تعلیمی وظائف کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں، اورسرکاری اداروں میں بھی دوران تعلیم طلباء ٹیو شنز پڑھا کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ متمول والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلہ دلواتے ہیں اور ایک محتاط انداز کے مطابق ایک کروڑ سے زائد اخراجات کے بعد وہ اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایم بی بکررہاہوں۔  داخلہ کی دسترس نہ ہو تو ڈینٹل کے شعبے میں چار سالہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ انجینئر ز بھی سرکاری اداروں میں کم اخراجات پر فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ میڈیکل کے شعبے میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بہتات کے باعث ڈاکٹر ز بے روزگار ہیں اور بے روزگاری کا ایک سیلاب جو ان شعبہ جات میں دیکھا گیا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہماری خواہش او ر خواب اگر اندرون ملک پورے نہیں ہورہے تو اپنی اولا کو ہر صورت ڈاکٹر بنانے کیلئے بیرون ممالک بھی میڈیکل کا عام ہیں اور ہزاروں طلبا و طالبات بیرون ملک باالخصوص میڈیکل کی تعلیم کے حصول کیلئے مقیم ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں پڑھنے والوں کیلئے ضروری قراردیاگیا ہے کہ PMDCکے تحت NREکاامتحان پاس کرنا ہوگا۔ بیرون ممالک سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کیلئے امتحان کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے ہی ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں سے تعلیم مکمل کرنے والوں سے یہ ٹیسٹ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپنے سرکاری ادارے اور سرکار کی طرف سے منظور شدہ اداروں میں دوبارہ ٹیسٹ لینا اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد ہے اور یہ کھلاتضاد ہے۔ یہ بات بھی طے ہے جو محنتی طلبا ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں وہ سرکاری اداروں میں تمام امتحانات پاس کرکے ملازمت حاصل کرتے ہیں وگرنہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں سرکار ی ملازمت کررہے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ پانچ سال تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر زانتہائی کم مشاہرہ پر دن رات ڈیوٹیاں دیکر اپنے والدین کے سنہری خوابوں کی تعبیر بنے نظر آتے ہیں۔ حکومتی کارپردازوں نے بیسک ہیلتھ یونٹس پرائیویٹ کردیے اور اب بڑے ہسپتالوں کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے کے انتظامات ہورہے ہیں اور جو بڑے لوگ پہلے سے بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کا لجز کے مالکان ہیں، ان کے حوالے کرنے پر مذاکرات ہورہے ہیں۔ آج پاکستان اور بیرون ممالک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اپنے ہی ملک کے ادارے PMDCکے تحت NREکے امتحانات یا ٹیسٹ پاس کر نے کی کوشش کرنے میں مسلسل ناکام نظرآرہے ہیں۔ گذشتہ سال 2025کے ماہ دسمبر میں منعقد ہونے والے امتحان کے نتائج کے حوالے سے ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔  پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)کے تحت منعقد کیے جانے والے نیشنل رجسٹریشن ایگزام (NRE) کا امتحان چودہ دسمبر 2025کو ملک بھر میں ہوا۔ یہ امتحان خاص طور پر بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کیلئے ضروری ہے، تاکہ وہ پاکستان میں پریکٹس /ہاؤس جاب رجسٹریشن کیلئے اہلیت ثابت کرسکیں۔ امتحان میں شامل امیدواروں کی کل تعداد سات ہزار چھیتر جسمیں ڈینٹل گریجویٹس بھی شامل ہین، کامیاب امیدواروں کی تعداد ایک ہزار چارسو تہتر رہی جبکہ ڈینٹل گریجویٹس کے کل چھ امیدوار پاس ہوئے۔ یہ نتیجہ ظاہر کر تا ہے کہ تقریباً 78فیصد اور 92فیصد ڈینٹل امیدوار ناکام رہے جو پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار، امتحانی تیاری، اور کریکولم سے میل نہ کھانے جیسے معاملات پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پی ایم ڈی سی اپنے قوانین کے مطابق ہر سال دوبارNREمنعقد کرتا ہے۔ جون2025کے امتحان میں بھی تقریباً یہی صورت حال رہی۔ ماہ جون میں میڈیکل پاس ریٹ 25-26فیصد رہا۔ بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں تعلیم کا معیار مختلف ممالک میں یکساں نہیں ہوتاپچھلے امتحان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ممالک جیسے کرغستان، چین، قازقستان، ازبکستان وغیرہ سے آئے ہوئے طلبہ کا پاس ریٹ بہت کم تھا جبکہ چند دیگر ممالک کے طلبہ بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہین کہ جہاں سے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہاں کے تعلیمی نصاب، تدریسی مواد اور طبی مشق Clinical Exposure)) پی ایم ڈی سی کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ امتحا میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس امتحان میں صرف تھیوری نہیں بلکہ کلینکل بنیادوں پر علم اور فیصلے کی صلاحیت بھی جانچی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کلینکل تربیت /پریکٹس میں کمزور رہے، یا ان کے تعلیمی نظا م میں پریکٹیکل امپورٹنس کی کمی تھی، اس لیے وہ اس امتحان میں بہتر کارکردگی نہ دکھاپائے۔ کسی بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل گریجویٹس نے نتائج کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے اور پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیاہے کہ امتحان کو عالمی معیارات کے مطابق بنایا جائے اور نتائج کا تفصیلی سکور کارڈ شائع کیا جائے،تاکہ طلبا سمجھ سکیں کہ وہ کس شعبے میں کمزور ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ کچھ طلبا اور والدین امتحان کے معیار،پالیسی یا علامتی شفافیت سے مطمئن نہیں ہیں۔ رہامعاملہ پاکستان میں MBBSکرنے والے طلبا و طالبات کی ناکامی کا، تو ان کے لئے بھی یہ امتحان لازمی ہے تاکہ وہ پروفیشنل رجسٹریشن حاصل کرسکیں یہ بھی عام طور پر سخت

صحافی کے قلم سے

میڈیکل سٹوڈنٹس اور این آر ای۔لمحہ فکریہ

 کوہ سلمان سے احمد خان لغاری دنیا بھر میں والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کا حق اور اختیار دیتے ہیں، اولاد جس شعبہ میں چاہیں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکتے ہیں، اکثر ممالک میں بچوں کو تعلیم کیلئے ضروری قرض اور وظائف بھی دیتے ہیں۔ پاکستان میں ہمارا المیہ یہ ہے کہ والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں یا پھر انجینئر بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ معاشرے میں اعل مقام کیلئے یہی دو شعبہ جات قابل تکریم سمجھے جاتے ہیں۔ جو طالبعلم تعلیمی اعتبار سے بہتر ہے وہ غریب کی اولا ہی کیوں نہ ہو وہ میٹرک اور ایف ایس سی میں اعلی نمبر وں کے ساتھ ہر دو شعبہ جات میں سرکاری اداروں میں داخل ہوجاتے ہیں اور تعلیمی وظائف کے ساتھ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہیں، اورسرکاری اداروں میں بھی دوران تعلیم طلباء ٹیو شنز پڑھا کر تعلیم جاری رکھتے ہیں۔ متمول والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں داخلہ دلواتے ہیں اور ایک محتاط انداز کے مطابق ایک کروڑ سے زائد اخراجات کے بعد وہ اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایم بی بکررہاہوں۔  داخلہ کی دسترس نہ ہو تو ڈینٹل کے شعبے میں چار سالہ ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ انجینئر ز بھی سرکاری اداروں میں کم اخراجات پر فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ میڈیکل کے شعبے میں پرائیویٹ میڈیکل کالجز کی بہتات کے باعث ڈاکٹر ز بے روزگار ہیں اور بے روزگاری کا ایک سیلاب جو ان شعبہ جات میں دیکھا گیا ہے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہماری خواہش او ر خواب اگر اندرون ملک پورے نہیں ہورہے تو اپنی اولا کو ہر صورت ڈاکٹر بنانے کیلئے بیرون ممالک بھی میڈیکل کا عام ہیں اور ہزاروں طلبا و طالبات بیرون ملک باالخصوص میڈیکل کی تعلیم کے حصول کیلئے مقیم ہیں۔ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں پڑھنے والوں کیلئے ضروری قراردیاگیا ہے کہ PMDCکے تحت NREکاامتحان پاس کرنا ہوگا۔ بیرون ممالک سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات کیلئے امتحان کی بات سمجھ میں آتی ہے لیکن اپنے ہی ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ اداروں سے تعلیم مکمل کرنے والوں سے یہ ٹیسٹ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اپنے سرکاری ادارے اور سرکار کی طرف سے منظور شدہ اداروں میں دوبارہ ٹیسٹ لینا اپنے ہی اداروں پر عدم اعتماد ہے اور یہ کھلاتضاد ہے۔ یہ بات بھی طے ہے جو محنتی طلبا ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہیں وہ سرکاری اداروں میں تمام امتحانات پاس کرکے ملازمت حاصل کرتے ہیں وگرنہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں سرکار ی ملازمت کررہے ہیں۔ یہ الگ موضوع ہے کہ پانچ سال تعلیم حاصل کرنے والے ڈاکٹر زانتہائی کم مشاہرہ پر دن رات ڈیوٹیاں دیکر اپنے والدین کے سنہری خوابوں کی تعبیر بنے نظر آتے ہیں۔ حکومتی کارپردازوں نے بیسک ہیلتھ یونٹس پرائیویٹ کردیے اور اب بڑے ہسپتالوں کو بھی نجی شعبہ کے حوالے کرنے کے انتظامات ہورہے ہیں اور جو بڑے لوگ پہلے سے بڑے ہسپتالوں اور میڈیکل اینڈ ڈینٹل کا لجز کے مالکان ہیں، ان کے حوالے کرنے پر مذاکرات ہورہے ہیں۔ آج پاکستان اور بیرون ممالک سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا و طالبات جو اپنی تعلیم مکمل کرچکے ہیں اپنے ہی ملک کے ادارے PMDCکے تحت NREکے امتحانات یا ٹیسٹ پاس کر نے کی کوشش کرنے میں مسلسل ناکام نظرآرہے ہیں۔ گذشتہ سال 2025کے ماہ دسمبر میں منعقد ہونے والے امتحان کے نتائج کے حوالے سے ہوشربا حقائق سامنے آئے ہیں جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کررہاہوں۔  پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC)کے تحت منعقد کیے جانے والے نیشنل رجسٹریشن ایگزام (NRE) کا امتحان چودہ دسمبر 2025کو ملک بھر میں ہوا۔ یہ امتحان خاص طور پر بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل اور ڈینٹل گریجویٹس کیلئے ضروری ہے، تاکہ وہ پاکستان میں پریکٹس /ہاؤس جاب رجسٹریشن کیلئے اہلیت ثابت کرسکیں۔ امتحان میں شامل امیدواروں کی کل تعداد سات ہزار چھیتر جسمیں ڈینٹل گریجویٹس بھی شامل ہین، کامیاب امیدواروں کی تعداد ایک ہزار چارسو تہتر رہی جبکہ ڈینٹل گریجویٹس کے کل چھ امیدوار پاس ہوئے۔ یہ نتیجہ ظاہر کر تا ہے کہ تقریباً 78فیصد اور 92فیصد ڈینٹل امیدوار ناکام رہے جو پاکستان میں میڈیکل اور ڈینٹل تعلیم کے معیار، امتحانی تیاری، اور کریکولم سے میل نہ کھانے جیسے معاملات پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پی ایم ڈی سی اپنے قوانین کے مطابق ہر سال دوبارNREمنعقد کرتا ہے۔ جون2025کے امتحان میں بھی تقریباً یہی صورت حال رہی۔ ماہ جون میں میڈیکل پاس ریٹ 25-26فیصد رہا۔ بیرون ملک میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں تعلیم کا معیار مختلف ممالک میں یکساں نہیں ہوتاپچھلے امتحان کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ممالک جیسے کرغستان، چین، قازقستان، ازبکستان وغیرہ سے آئے ہوئے طلبہ کا پاس ریٹ بہت کم تھا جبکہ چند دیگر ممالک کے طلبہ بہتر کارکردگی نہ دکھا سکے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہین کہ جہاں سے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہاں کے تعلیمی نصاب، تدریسی مواد اور طبی مشق Clinical Exposure)) پی ایم ڈی سی کے معیار کے مطابق نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ امتحا میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس امتحان میں صرف تھیوری نہیں بلکہ کلینکل بنیادوں پر علم اور فیصلے کی صلاحیت بھی جانچی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کلینکل تربیت /پریکٹس میں کمزور رہے، یا ان کے تعلیمی نظا م میں پریکٹیکل امپورٹنس کی کمی تھی، اس لیے وہ اس امتحان میں بہتر کارکردگی نہ دکھاپائے۔ کسی بیرون ملک تعلیم یافتہ میڈیکل گریجویٹس نے نتائج کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے اور پی ایم ڈی سی سے مطالبہ کیاہے کہ امتحان کو عالمی معیارات کے مطابق بنایا جائے اور نتائج کا تفصیلی سکور کارڈ شائع کیا جائے،تاکہ طلبا سمجھ سکیں کہ وہ کس شعبے میں کمزور ہے۔ یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ کچھ طلبا اور والدین امتحان کے معیار،پالیسی یا علامتی شفافیت سے مطمئن نہیں ہیں۔ رہامعاملہ پاکستان میں MBBSکرنے والے طلبا و طالبات کی ناکامی کا، تو ان کے لئے بھی یہ امتحان لازمی ہے تاکہ وہ پروفیشنل رجسٹریشن حاصل کرسکیں یہ بھی عام طور پر سخت

Scroll to Top