صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

واپڈا اور چیف لغاری سردار جمال خان کی للکار

کوہ سلیمان سے احمد خان لغاری غضب کی گرمی اور حبس کے موسم میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا دیگر فنی مسائل کی وجہ سے بجلی کی بندش معمول کی بات ہے لیکن دیہاتوں میں باوا آدم ہی نرالا ہے، بجلی نہ ہونے کی وجہ سے عام آدمی تو محکمہ کے کار پر دازوں اور عوامی نمائندوں کو کوس رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔ ایسے میں اگر وفاقی وزیر توانائی کے حلقوں کے قصبوں دیہاتوں میں اس حبس زدہ موسم میں لوگ بلبلارہے ہوں تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک کے دیگر علاقوں میں کیا صورت حال ہوگی؟ ان حالات میں وفاقی وزیر بجلی کے بڑے بھائی اور لغاری قبیلہ کے چیف سردار جمال خان لغاری میدان میں آئے انہوں نے ایک معرف واٹس ایپ گروپ میں واپڈا افسران کو للکارا۔ انہوں نے اس گروپ میں واضع طور پر بغیر لگی لپٹی تمام افسران کو خواب غفلت سے جگا یا اور کہا کہ وفاقی وزیر سردار اویس خان لغاری نے بارہا واپڈا افسران کوتنبیہ کی، سردار عمار اویس لغاری ایم این اے  نے دوھائیاں دی ہیں لیکن محکمہ کے ذمہ داران ٹس سے مس نہیں ہورہے۔ انہوں نے واپڈا کے متعلقہ افسران کو بجلی کی جلد بحالی کی نہ صرف ہہیں۔ کی بلکہ کہا کہ لوگوں نے اور افسران نے ان کا دوسرا چہرہ بھی دیکھا اگر حلقہ کے لوگوں سے رشوت اور دیگر ذرائع پر مجبور کرتے رہے تو پھر سختی سے نمٹا جائیگا اور متعلقہ افسران “میڑھ”لے کر نہ آجانا۔ سردار جمال خان لغاری نے مزید کہا کہ لغاری خاندان نے ہمیشہ شرافت کی سیاست کی ہے۔ اور ہمارے والد گرامی سردار فاروق احمد خان لغاری نے ہماری یہی تربیت کی ہے اور اگر وہ انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تو اپے بھائیوں کو موقع دیا کہ عوامی خدمت کریں۔ انہوں نے کہا ک اگر قوم کے چیف اور وفاقی وزیر کے بھائی کی بات پر بھی توجہ نہ دی جائے تو پھر یہ کیسی حکومت ہے! انہوں نے علاقے کے باشندوں کو بھی پیغام دیاکہ اپنا قبلہ درست کریں محکمہ کو شکایت کا موقع نہ دیں۔ وہ خود بھی اچھے اقدامات پر افسران کی تعریف کرتے ہیں اور ہر شخص کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہیں کیونکہ یہی ہماری تربیت اور دین کے سنہرے اصول بھی ہیں۔ عام آدمی جب ان تک شکایت لیکر آتے ہیں اور منتخب نمائندگان کی بات نہ مانی جائے تو عوامی غصہ انہیں برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کے واپڈا کے رویوں کی وجہ سے عام آدمی سولر انرجی پر جارہے ہیں تاکہ اپنی زندگی آسان ہو۔ ڈیرہ غازیخان کے اس گروپ میں ڈیرہ غازیخان کے سول، پولیس، سیاسی، صحافی اور کاروباری حضرات شریک ہیں جو اپنی آرا کا اظہار کرتے رہتے ہیں، ہر محکمہ کے مسائل، شکایات فی الفور گروپ میں شیئر کرنے سے حکام نوٹس بھی لیتے ہیں اور مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ منفرد بات ہوئی کہ لغاری قبیلہ کے سردار نے جس طرح نوٹس لیا اور محکمہ کے متعلقہ دوافسران کو معطل کرادیا اور بجلی کی فی الفور بحالی کا کام شروع ہوا تو عام آدمی نے جس انداز میں خیر مقدم کیا، باالخصوص لغاری قبیلہ کے نوجوانوں نے خیر مقدم کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ لغاری قوم اور قبیلہ کے لوگوں کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ چیف صاحب خود آگے بڑھ کے عوامی نمائندگی کریں کیونکہ قوم کا چیف ہی اپنی قوم قبیلہ کے لوگوں کی خوشی و غمی میں شریک ہوتا ہے۔ سیاسی امور میں رہنمائی کرتا ہے۔ چیف سب کو جانتا ہے، مخلص و غمخوار ہے، ہر کسی کو گلے لگا تا ہے اور واقعی ان کی گردن میں سریا نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سردار اویس لغاری سے کسی کو کوئی شکوہ ہوگا وہ بھی ہر کسی کے دکھ درد میں شرکت کرتے ہیں۔ اپنی وزارت میں بجلی بلوں میں ریلیف کیلئے دن رات کام کیا اور کام جاری ہے۔ غیر ضروری صوبائی ٹیکسز کے خاتمے کیلئے کوشاں ہیں، اپنی ریڈنگ خود کا تصور دیا اور اس نظام کو رائج بھی کردیا بجلی کے بلوں سے ٹی وی کی فیس ختم کرکے آئی پی پی سے کیے گئے معاہدوں پر مشاورت کرکے بجلی کے نرخوں میں خاطر خواہ کمی پر کام کر رہے ہیں۔  قارئین کرام! سردار جمال خان لغاری کو گروپ میں شامل لوگوں نے درخواست کی ہے کہ وہ خود سیاست اور قوم کے لوگوں سے مربوط رہیں۔ محض واپڈا ہی نہیں عوام کا خون چوس رہا بلکہ پولیس پٹوار خانے میں روارکھے جانے والے مظالم سے بھی نجات دلوائی جائے۔ انتقال اوررجسٹریوں کیلئے رشوت کا بازار گرم ہے اور اس گرمی و حبس ذدہ موسم میں طویل انتظار کی اذیت الگ ہے۔ مبینہ طور پر ایک محمد لال نامی ایک بزرگ اس دوران وفات پاگئے اور ورثاء نے اس پر شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ لغاری گروپ ڈیرہ غازیخان ڈویژن میں عددی اعتبار سے بھی زیادہ اسمبلی میں موجود ہیں وہ اپنا کردار موثر طریقے سے اور اپنی آواز جاندار انداز سے حکام تک پہنچائیں تو عام آدمی کے مسائل جو تھانہ، کچہری اور پٹوار خانے تک ہوتے ہیں وہ حل ہوسکتے ہیں کیونکہ اتنے بڑے اقتدار کے بعد بھی مسائل حل نہ ہوں تو پھر بدنصیبی ہوگی۔ چیف لغاری اگر میدان سیاست میں موثر کردار اداکریں جسطرح انہوں نے اب ساری انتظامیہ کو للکارا ہے تو افسر شاہی بات سننے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیگی۔ چیف کی شفقت اومثفقانہ رویہ سب کو یاد ہے۔ واپڈا افسران کی ملازمت سے معطلی نے بھی ثابت کیا کہ چیف لغاری قوم کی اپنی حیثیت ہے اور انہیں نظر انداز کرنا عام بات نہیں ہے۔  اور وہ چیف ہی ہوتا ہے اس کی قیادت میں سب متحد ہیں وہ سب ناراضگیاں ختم کرکے لوگوں کو منظم کرنے کا ہنر جانتے ہیں اسی لیے SDOچوٹی کو بھی انہوں نے معاف کر دیا ہے اور وہ ملازمت پر بحال ہوچکے ہیں۔

صحافی کے قلم سے

معاہدہ ابراہیمی: اسلامی اور پاکستانی نکتہ نظر

میجر (ر) ساجد مسعود صادق امریکی ثالثی میں سن  2020ء میں ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں طے پائے جانے والے معاہدہ ابراہیمی پر سب سے پہلے  عرب امارات نے دستخط کیئے۔  “ابراہیمی معاہدہ”  بظاہر  اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے معاہدوں کا ایک سلسلہ ہے۔ اس معاہدے کا نام بائبل کے پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام پر رکھا گیا تھا، جو یہود، مسیحی اور مسلمانوں کے لیے مشترکہ پیغمبر ہیں۔  متحدہ عرب امارات کے فوراً بعد بحرین اس میں شامل ہوا۔ جب کہ جمہوریہ سوڈان اکتوبر 2020ء میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر رضامند ہوا تھا۔ 5 ویں فریق کے طور پر مراکش نے دسمبر 2020ء میں اس معاہدے پر دستخط کر کے اس میں شراکت اختیار کی تھی۔ اس وقت صدر ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں اس معاہدہ پر مزید جن  مُلکوں کو دستخط کرنے کے لیئے پریشر کا سامنا ہے ان میں پاکستان ایک ہے۔ پاکستان میں  اشرافیہ، این جی اوز اور میڈیا سےمتعلقہ ایک چھوٹے سے گروہ کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ پاکستان کے لیئے مُفید ہے۔ معاہدہ ابراہیمی کی فیس ویلیو یہ ہے کہ یہودی، عیسائی اور اسلام سب حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ایک جیسا رشتہ رکھتے ہیں۔   اس  تعلق کی بُنیاد کے دو ستون ہیں ایک مادی اور دوسرا روحانی  یا مذہبی پہلو۔ جہاں تک مادیت کی بات کی جائے تو عرب ممالک کی حد تک ہی یہ بات درست ہے اور اگر روحانی اور مذہبی سطح پر دیکھا جائے تو اس میں دیگر اسلامی ممالک بھی شامل ہوجاتے ہیں۔  یہاں پر یہ پہلو  بھی انتہائی اہم ہے کہ اسلامی ممالک مادی پہلو یا روحانی اور مذہبی پہلو میں سے کس کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں تک مادی پہلو کی بات کی جائے تو اس پر اسلامی ممالک کو ہرگز اسرائیل کے ساتھ تعلقات نہیں رکھنے چاہیئے کیونکہ صیہونی نظریہ “پرامزڈ لینڈ  یا گریٹر اسرائیل” کے مطابق عرب ممالک کے ساتھ اسرائیلی  موروثی جنگ اس وقت سے جاری ہے جب سے نبوت بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل علیہ السلام  کی طرف آئی۔  زمین کے قبضے سے لیکر قبلہ و کعبہ تک تینوں مذاہب (یہودیت، عیسائیت اور اسلام) حالتِ جنگ میں ہیں۔ موروثی  بُنیادوں پر  ہی فلسطین کے مُسلمان عیسائی پُشت پناہی پر  یہودی بربریت و مظالم  کا شکار نظر آتے ہیں۔ جہاں تک مذہبی یا روحانی پہلو کی بات کی جائے تو تمام تر اسلامی تعلیمات جو قرآن و حدیث کا نچوڑ ہیں ان کے تحت یہود ونصارٰی کے  روحانی قربت کی سخت سے نفی ہوتی ہے۔ تاریخی طور پر بھی یہودیوں اور عیسائیوں نے ثابت کیا ہے کہ انہوں نے مُسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بلکہ قرآن تو یہاں تک کہتا ہے کہ “یہود ونصارٰی کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے، اور جو ان سے تعلق رکھے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔” یہ باتیں پاکستانی سپہ سالار سے کیونکر مخفی رہ سکتی ہیں جو بذات خود  حافظ قرآن ہیں اور قرآن کے مکمل پیغام سے اچھی طرح سے واقف بھی ہیں۔ یہودی اور عیسائی جبلتی طور پر اسلام اور مُسلمانوں کے دُشمن ہیں جس کا مظاہرہ تاریخی عالم کی کُتب میں کئی مقامات پر محفوظ ہے۔ جہاں تک پاکستان کی مختصر تاریخ کا تعلق ہے تو اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیلیوں نے پاکستان کو ہمیشہ اپنا دُشمن ہی سمجھا ہے اور دُنیا کے ہرفورم پر اس کی مخالفت بھی کئی ہے اور پاکستان کو مٹانے کی ہر بھارتی سازش بشمول آپریشن سندور میں بھی ہمیشہ شامل رہے ہیں۔  جس طرح نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں مُسلمان ممالک کا مغربی طاقتوں نے قتل عام کیا ہے  کیا  اب بھی غزہ میں یہودی بربریت و مظالم میں بلکتے بچوں اور بوڑھوں کی دل ہلا دینے والی ویڈیو کلپس مُسلمان حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی نہیں؟  روس ٹوٹنے کے بعد جس طرح امریکہ واحد ہائپر سُپر پاور کے طور پر پوری دُنیا میں مُسلمانوں کے کشت و خون کا مُرتکب ہوا ہے اس کو بھول کر اب یہ سوچنا چاہیئے کہ بین الاقوامی سیاست میں چین اور روس کی مضبوطی سے ایک توازن  پیدا ہو چُکا ہے اس لیئے امریکہ ایک بار پھر چاپلوسی سے کام لیتے ہوئے اپنا اُلو سیدھا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان کو کسی بھی قسم کا پریشر خاطر میں نہ لاتے ہوئے اس معاہدہ سے بر ملا انکار کرنا چاہیئے اور جسے اللّٰہ نے مُسلمانوں کا دُشمن مقرر کیا ہے اُس دوست بنانا نہ صرف دُنیوی بلکہ اُخروی خسارے کا سبب ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی اور اسلامی ریاست ہے جسے مذہب، عقل اور تاریخ سب اس معاہدے میں شامل ہونے سے روکتے ہیں۔ امریکہ جب تک اپنی دوغلی پالیسی اور اسرائیل مُسلم دُشمنی سے باز نہیں آتے ایسے معاہدے میں شامل ہونا سراسر خود کُشی ہے۔  پاکستان کو اس صورتحال کو اچھی ڈپلومیسی سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مغربی استحصال نظام اپنی موت مرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نیتین یاہو اور سابقہ امریکہ صدور کے پوری دُنیا پر کنٹرول و قبضے کی خاطر لڑی گئی  مہلک جنگوں کے اثرات سے ابھی نکل نہیں پائی۔ ایسے میں امریکہ کی خواہش پر اس معاہدے پر دستخط کرکے پوری دُنیا کو سازشوں اور آگ کا جنگی میدان بنانے والے مغربی استحصالی نظام کو مضبوط بنانے کی بجائے پاکستان اگر اس کی مخالفت نہیں کرسکتا تو اس کو مضبوط کرنے کی غلطی سے بھی پاکستان کو اغراض کرنا چاہیئے۔  امریکہ جس ٹریڈ کا پاکستان کو لالچ دے رہا ہے اس کے تجربات سے پاکستان اٹھہتر سال سے گُزر رہا ہے وہ صدر ایوب کے الفاظ  میں کُچھ یوں ہیں “فرینڈز ناٹ ماسٹرزَ”  ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کہا کہ “ہینری از کلنگ۔”  پاک امریکہ تعلقات کے بارے صدر ایوب سے لیکر عمران خان تک تمام پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کے  تمام تر تجربات کا نچوڑ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو بتا رہا ہے کہ پاکستان مُستقبل میں امریکہ سے اپنے تعلقات استوار کرتے ہوئے احتیاط کرے۔ معاہدہ  ابراہیمی اور اس کے پیچھے چُھپے امریکی اور اسرائیلی  مقاصد کو سمجھے بغیر اس معاہدے کو  من و عن قبول کرنا یا اس

صحافی کے قلم سے

جم خانہ کلب ڈیرہ غازیخان اورمحفل مشاعرہ

کوہ سلیمان سے احمد خان لغاری  ملکی و سیاسی حالات کا تبصرہ آرائی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔اعتراضات ،تنقید مشکل ہوچکی ہے۔  اخبار و جرائد شائع کرنے کی ذمہ داری اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے۔ بلکہ لکھنے والا عائد پابندیوں پر سوچتا ہے اور چشم تصور میں حوالات اور جیلوں کی سلاخیں مایوس کر دیتی ہیں اب میلوں ٹھیلوں، عرس کی تقریبات یا پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوعات بچتے ہیں جس پر لکھا جا سکتا ہے۔ چونکہ یہ عادت اور ٹھرک بہرحال پوری کرنی ہوتی ہے گزشتہ دنوں ایسی ہی ایک تقریب کا سنا تو خوشی ہوئی کہ اس حبس زدہ ماحول میں ٹھنڈی ہوا کا ایک  جھونکا محسوس ہوا ڈیرہ غازی خان کے جم خانہ کے زیر اہتمام ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ملکی و غیر ملکی شعرا کرام کو دعوت دی گئی تھی اس تقریب کے روح رواں جم خانہ کے چیئرمین کمشنر ڈیرہ غازی خان تھے۔ اور سیکرٹری جم خانہ ملک عبداللہ جڑھ بلحاظ عہدہ شعری نشست کے انعقاد کے ذمہ دار تھے دیگر افسران اور اہلکاران کی بھرپور محنت سے محفل مشاعرہ کا انعقاد ممکن ہو سکا کمشنر ڈیرہ غازی خان اپنی مختلف اضلاع میں تعیناتیوں کی وجہ سے شعراکرام سے تعلق اور رابطے کا تجربہ بھی رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام شعراء کرام نے اپنے کلام سے پہلے ان کا ذکر کیا اس محفل مشاعرہ میں ڈیرہ غازی خان سے تین خواتین شعرا کو مدعو کیا ہوا تھا اور مرد شعرا کرام نہ ہونے کے برابر تھے۔ لیکن یہ طے ہے کہ خواتین شعرا جن کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے وہ  واقعی قابل تعریف اور قابل فخر نام ہیں جنہیں پورا پاکستان جانتا ہے. مرد شعرا کی نمائندگی نہ ہونا یا برائے نام ہونا افسوس ناک ہے۔ ڈیرہ غازی خان ادب کے لحاظ سے اور فن شعروسخن سے ہمیشہ مالا مال رہا ہے اور سرکاری سطح پر آل پاکستان مشاعرے منعقد ہوتے رہے ہیں ڈویثرن اور ضلعی انتظامیہ نے ہمیشہ سرپرستی کی مقامی سطح پر بھی اردو اور سرائیکی مشاعرے منعقد ہوتے رہے ہیں۔ لیکن نہ جانے ادبی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں انفرادی سطح پر ڈیرہ غازی خان کی خواتین شاعرات کے شعری مجموعوں کا اگر ذکر کیا جائے تو وہ اب بھی سر فہرست ہیں  نظم و غزل کی کتابیں اب بھی شائع ہو رہی ہیں محترمہ نیر رانی کی ایک کتاب حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ جو اس مشاعرہ میں مختلف شعراء کرام اور اہل علم شعر و سخن میں دلچسپی رکھنے والوں کو پیش کی گئی ہیں۔ قارئین کرام ڈیرہ غازی خان میں مشاعروں کی تاریخ دیرینہ ہے لیکن اسی کی دہائی میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر سید آفتاب شاہ نے کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام کیا تھا جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ملک بھر سے شعرا کرام نے شرکت کی اور اہل ڈیرہ غازی خان کو خوب  محظوظ کیا کیونکہ وہ بھی خود اچھے شاعر تھے۔ اس لیے بھی سرکاری سرپرستی میں ایک عالی شان مشاعرے کا انعقاد ممکن ہو سکا. دوسرا مشاعرہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان سید شوکت علی شاہ جو خود شاعر ادیب اور سفر نگار تھے۔ انہوں نے بھی کل پاکستان مشاعرے کا انعقاد کر کے اپنی یادیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئے اس پیمانے پر شاید مشاعرہ نہیں ہو سکا۔ جشن بہاراں کے نام پر مشاعرے ہوتے رہے لیکن وہ محدود مشاعرے تھے 21 جون کو جو مشاعرہ جم خانہ کے سبرہ راز میں ہوا اسے آل پاکستان مشاعرہ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن سخت موسم گرمی حبس کی رات مشہور شعراء شریک تھے نظم غزل اور مزاح سے.  بھرپور شاعری تھی لیکن مشاعرہ کے لحاظ سے سامعین کی تعداد مایوس کن رہی. نامور شعرا کرام کی آمد کی خبروں کے بعد بھی کم حاضری کی وجہ سے موسم کی سختی ہی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ ماضی بتاتا ہے کہ بڑے بڑے مشاعروں میں ہمارے نوجوان اور بزرگ بھرپور شرکت کرتے رہے ہیں جم خانہ کے وسیع و عریض سبزہ زار میں سامعین ناظرین کے لیے پنکھوں اور کولروں کا معقول بندوبست کیا گیا تھا علاوہ ازیں کھانے پینے کا بھی وافر انتظام کیا گیا تھا مشاعرہ رات نو بجے کے بعد شروع ہوا جو رات تقریبا دو بجے تک جاری رہا مقامی شعراء کے علاوہ مہمان شعراء کرام میں رحمان فارس، طارق شبیر، زاہد فخری  کے علاوہ ڈاکٹر انعام الحق جاوید اور سید سلمان گیلانی نمایاں تھے۔ سنجیدہ شاعری  کے ساتھ مزاحیہ شاعری اور مترنم لہجے میں سامعین نے بہت پسند کیا اس مشاعرے نے منتظمین کو ایک پیغام دیا کہ مشاعرے میں شرکت کے لیے موسم کا خیال ضروری رکھا جانا چاہیے۔ اور جو لوگ شریک نہیں ہو سکے وہ بھی موسم کی سختی کی وجہ سے شرکت نہ کر سکے کمشنر ڈیرہ غازی خان جو خود علم و ادب نواز ہیں ان سے درخواست ہے کہ آئندہ مناسب موسم میں اسی سبزہ زار میں ایک بار پھر مشاعرے کا اہتمام کریں اور جو شعرائے کرام اس مشاعرے میں نہیں آ سکے یا جنہیں نہیں بلایا گیا انہیں بھی دعوت دیں تاکہ ایک بھرپور مشاعرہ ہو تاکہ وہ بھی ہمیشہ یاد رہیں آخر میں تمام منتظمین کا بھی شکریہ جن کی وجہ سے خوبصورت رات دیکھنے کو ملی اپنے عزیز ملک محمد عبداللہ جڑھ سیکٹری جم خانہ کلب کے بھی شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمیں مدعو کیا اور تمام دوست شریک ہوئے. میرے ساتھ دیگر شرکا میں ملک عبدالستار جڑھ ملک اللہ بخش جڑھ فیاض لغاری اور فاروق لغاری تھے امید کی جاتی ہے کہ کمیشنر ڈیرہ غازی خان ایک بار پھر محفل مشاعرے کی انعقاد پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اور امید کی جاتی ہے کہ موسم میں کل پاکستان مشاعرے کا اہتمام فرمائیں گے تاکہ سیاسی گھٹن اور حبس میں تمام لوگوں کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو سکے

صحافی کے قلم سے

اسرائیل، ایران جنگ اور نتائج

 کوہِ سلیمان سے  احمد خان لغاری  میں کوئی دفاعی تجربہ کار نہیں ہوں اور نہ ہی عالمی صف بندی کی باریکیوں کو سمجھ پا رہا ہوں لیکن ایک عام مگر ذی شعور اور فکر و نظر کے حامل انسان کی طرح بغیر لگی پٹی کچھ اپنی رائے کر سکتا ہوں جو میں نے کی ہے اور آپ کی خدمت میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔پہلے ہم فلسطین اور غزہ کی بات کریں تو ہم غزہ کے مسلمانوں کیلئے سوائے ان کی مرہم پٹی کے اور کیا کر سکتے ہیں اور غزہ کھنڈر بن چکا ہے اور لوگ کھانے اور پانی کیلئے لائنوں میں لگے نظر آتے ہیں اور دربدر بھٹکتے پھررہے ہیں۔ ہمارے سوشل میڈیا کے مجاہدین سرگرم ہیں مگر ان کی نصرت سے مثبت نتائج کی ہرگز توقع نہ پہلے تھی اور نہ اب منتظر رہیے گا۔ غزہ کے مسلمانوں کی طرح آج ایران بھی میدان کا رزار میں تنہا نظر آتا ہے۔ مسلمان ممالک کی محض سفارتی تائید کافی نہیں بلکہ بقول کسے جب میدان گرم ہوتے ہیں تو پھر تیرو تفنگ اور قوت بازو کی ضرورت ہوتی ہے جسکے میسر آنے کا دور دور تک امکان دکھائی نہیں دیتا۔ امریکہ کے عزائم تو بہت واضع ہے جو اسرائیل کا استحکام چاہتا ہے۔ اور ہر قسمی مزاحمت کا خاتمہ چاہتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ قرب کرسکتاہے۔ں اور خطے  کے اسلامی ممالک اور اہل اسلام کے عزائم کیا ہیں؟ ہمارے دینی بھائی انفرادی طور پر اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں، اجتماعی سوچ یا بقائے باہمی کا تصورنہ دارد۔ غرب لیگ پہلے بھی خاموش تماشائی اور ہنو ز خواب غفلت میں ہے اگر کچھ ہوا بھی تونشسند، گفتد برخواستذ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اگر غزہ اور ایران میں علاقائی ریاستیں خاموش تماشائی، غرب لیگ، اور آئی سی مہر بلب ہیں۔ تو کیا پاکستان ایران کی مدد کیلئے کوئی عملی قدم اٹھائے؟ ہم بھی ایک قومی ریاست ہیں سوائے مرہم پٹی کے اور کچھ نہیں کرسکیں گے۔ یہ امرکسی مسلم ملک کیلئے خوش کن نہیں ہے لیکن کیا کریں اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کو نشانہ بنا یا تو کوئی مدد کونہ آیا تو یہی وجہ ہے کہ دشمن آگے بڑھا، اسرائیل امریکہ کا ہرا اول دستہ ہے، وہ فلسطین تک پھیلے یا سعودی عرب اور اردن کو اپنی لپیٹ میں لے اسکو کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ وہ جس سر زمین کو چاہے اسرائیل بنادے۔ پاکستان کو چاروں جانب سے دشمن نے گھیر رکھا ہے لیکن آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی اس نے بحیثیت قومی ریاست حاصل کی ہے۔ چین نے اگر ہماری مدد کی تو مسلم امہ کی نمائندگی کے طور پر نہیں وہ قومی باہمی مفادات تھے جنہوں نے ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر مجبور کیا۔ جنگوں میں فی سبیل اللہ امدادیں نہیں ہواکرتیں، مذہبی جوش و جذبے سے اور قوت ایمانی نے بھر پور کردار ادا کیا۔ اس موقع پر بھی ایران اور سعودی عرب ثالث ہی تھے اور آنیاں جانیاں تک ہی محدود رہے کیونکہ انہیں بھی اپنے قومی مفادات ہی عزیز تھے، آئندہ بھی کوئی مسلم ملک ایسا کوئی قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔ سوائے اس کے یہ ریاستیں اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں کہ اسرائیل کو جارحیت سے باز رکھنے کی تدبیر کریں۔ اس وقت تک ایران کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہاہے جبکہ اسرائیل کے نقصان کو پورا کرنے کیلئے امریکہ ہے نا! سٹہا دیں ایران کے حصہ میں زیادہ ہیں جو یہ نقصان تو پورا نہیں ہوسکتا۔ اور افسوس صد افسوس اور آئی سی کا اجلاس طلب کیا جاتا جسمیں واضع موقف ہوتا لیکن خاموشی نیم رضامندی سمجھا جارہا ہے۔ امریکہ خود بھی اس آگ میں کودسکتا ہے اور پھر خاکم بدہن وہ خوفناک مناظر ہوسکتے ہیں۔ کاش ہماری اسلامی ریاستوں کو اتنی جرات اور سیاسی بصیرت ہوکہ وہ بطور امت مسلمہ ایک سیاسی وحدت بن جائے کیونکہ اب نوشتہ دیوار ہے اور قانون قدرت کے تحت امریکہ اب زوال کے راستے پر ہے اور صدر ٹرمپ نے جنگوں کے خاتمے کے اعلان کے علی الرغم خود کوئی بڑی جنگ چھڑنا چاہ رہاہے اور اسنے ثابت کر دیا کہ وہ کسی بڑے مشن پر ہے لیکن یہ جان لیں کہ نومنتخب صدر ٹرمپ امریکہ کا گورباچوف ثابت ہو سکتاہے۔ ہوسکتاہے یہ عمار ت گرتے گرتے وقت لے لیکن یہ ضرور ہو گا مشرق وسطی میں امریکہ کا راستہ صاف ہے اور کوئی رکاوٹ نہیں، روس اس قابل نہیں کہ مداخلت کرے وہ محض لشارالاسد کو بچا کر لے گیا اور میدان صاف کرنے میں بھرپور مدد کی، چین ہمیشہ سے تصادم کی پالیسی سے دور رہتا ہے وہ ہر ملک کی اقتصادی ترقی اور بحالی میں تو ہوسکتا ہے کسی معر کے میں مدد گار نہیں ہوگا۔ کسی بڑی قوت کی اسرائیل سے کوئی دشمنی نہیں وہ محض سفارتی دباؤ سے اسرائیل اور امریکی پیش قدمی کو روکنے  میں کردار ادا کرسکتاہے۔  لیکن اسرائیل اور امریکی پیش قدمی بڑھتی رہی تو وہ واضع طور پر تصادم سے بچنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ وہ براہ راست تصادم سے دور رہ سکیں۔ ہماری خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن خوش گمانیوں سے آگے نکل کر دیکھنا ہو گا۔ محض اسرائیل تباہی کی خوش گمانی سے کام نہیں چلے گا اور نہ ہی شوشل میڈیا کے مجاہدین کے عمل سے ممکن ہوگا، کسی کو برا بھلا کہنے اور گالیاں دینے سے بھی کسی کا کیا بگڑ جائیگا۔ سوشل میڈیا پر جنگیں نہیں لڑی جاتیں، اس طرح اسرائیل کے جہاز نہیں گریں گے۔ چین اور پاکستان کو بحر حال حکمت عملی کا جائزہ لینا ہوگا کہ اسرائیل سے پاکستان پہنچے تک ایران ہی ایک ریاست ہے جو ہمارے لیے بضر اسٹیٹ کا کام کررہی ہے۔اگر حاکم بدین یہ ختم ہوئی تو اسرائیل ہمارا ہمسائیہ ملک ہوگا اور پاکستان کے قریب تر ہوگا چین بعد میں ہے اور پاکستان ایٹمی طاقت ہے۔

صحافی کے قلم سے

معروضی حالات میں منبرو محراب کی ذمہ داری

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق آج دُنیا کا کونسا خطہ ہے جہاں مُسلمانوں کا خون پانی کی طرح نہیں بہایا جارہا؟ فلسطین میں یہودی بربریت، کشمیر میں بُت پرستوں کی معصوم عورتوں بچوں پر یلغار، روہنگیا میں ایک ایک قبر میں سینکڑوں زندہ مسلمانوں کا  درگور کرنا اور ماضی میں جو کُچھ بوسنیا میں ہوا کیا یہ   سب ظلم و ستم مُسلمانوں کے دلوں کو  پگھلانے کے لیئے کافی نہیں؟ افسوس جو یہ  قبیح کام کرتے ہیں آج اُمت کا ایک بڑا حصہ انہی کی چاپلوسی ، ان کے لیئے سُرخ کارپٹ بچھانے، ان سے دوستیوں پر فخر کرنے، اُن سے امداد  کے نام پر بھیک لینے، ان کے ساتھ کاروبار کرنے میں مگن ہے۔   اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  اسلام  اور ایمان اب مُسلمانوں میں نہیں بچا۔ آج کے منبرو محراب کے وارثوں کا یہ حال ہے کہ “رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی ۔۔۔فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی۔” اس وقت جب دُنیا میں تیسری عالمی جنگ کی آہٹ واضح سُنائی دے رہی ہے ایسے میں مُسلمان اُمت فرقہ واریت کے ناسور میں  شدت کے ساتھ مُبتلا ہے۔ کسی کو خیال ہے کہ “ایمان، اتحاد، جہاد فی سبیل اللّٰہ” یہ کسی بھی میدان کارزار میں کامیابی کی تین چابیاں ہیں؟  آج  منبرو محراب عملی میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے سے یکسر قاصر نظر آتے ہیں کیونکہ بقول حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال “الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن ۔۔۔ مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور” آج مُلاں اور عملی زندگی  دو مخالف سمتوں میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔   آج اسلام کو مُلا سے زیادہ مجاہدین کی ضرورت ہے۔ مُسلمانوں کے معروضی حالات کا مطالعہ کرنے بیٹھیں اور اس میں منبرو محراب کے کردار پر جب غور کیا جائے تو بے اختیار زبان پر یہ الفاظ آتے ہیں  “دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے ۔۔۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔”  اگرچہ مسلمانوں کو دوسری امتوں کی نسبت فضیلت ہے لیکن عملی میدان میں رفتہ رفتہ  ان کا حال بھی سورة البقرة کے مطابق “اہل کتاب”  کی طرح ہوتا گیا۔  یہودیوں کو تو اللّٰہ نے فرمایا “ان پر میں نے ذلت، مسکینی اور اپنا غضب مسلط کردیا ہے” اور پھر  سورہ آل عمران میں فرمایا کہ ن پر ذلت اور مسکینی مسلط کی گئی ہے جب تک ان کو اللّٰہ یا انسانوں کی طرف سے سپورٹ نہ ملے۔  آج  فرقوں اور چھوٹے چھوٹے کمزور ممالک میں بٹے کسی طور بھی ذلت اور مسیکنی سے الگ زندگی نہیں گُذار رہے۔ ڈیڑھ ارب مُسلمان  پر مُشتمل  ستاون اسلامی ممالک آج بڑی طاقتوں کے سہارے کے محتاج ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں اتحاد نہیں ہے۔  پہلی امتوں کا بھی یہی حال تھا کہ جب اُن کے پاس “مکمل علم” یا  اللّٰہ کی طرف سے “واضح نشانیاں” آجاتی تھیں تو وہ آپس میں “ذاتی بغض” کی وجہ سے اختلاف کرتے تھے اور یوں کمزور ہوتے اور کافر اُن پر غالب آجاتے۔ عصرِ حاضر میں سُنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث وہ ٹائٹل ہیں جن کے سرکردہ مگر نام نہاد علماء  نے  مذہب اسلام کا حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ  جس کے پاس حقیقی علم ہوگا اور قرآن کا مطالعہ رکھتا ہوگا وہ کبھی تفرقہ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا کیونکہ وہ  ذلت و مسکینی اور غضب الہی  کو کیسے دعوت دے سکتا ہے  بلکہ یوں کہا جائے کہ وہ اپنے مُسلمان  بھائی سے “بغض” کیونکر رکھ سکتا ہے۔ لیکن آج  یہ بغض نام نہاد علماء میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہے اور  اسی  زہر کے زیرِ اثر  وہ  دین کی تبلیغ کرتے ہیں۔ آج جس وقت سارا عالم کُفر مُسلمانوں اور اسلام کو مٹانے پر تُلا ہوا ہے کم از کم ہمارے علماء قرآن کی اس بات پر تو عمل کرسکتے ہیں کہ “آؤ (اہل کتاب) ہم اُس کلمے پر اکٹھے ہوجائیں جو تم میں اور ہم میں مُشترک ہے۔” یہاں کلمہ سے مُراد “شرک کا ابطال اور توحید پر کاربندی” ہے۔ مُسلمانوں کو آج اگر بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جائے تو اس میں اہل حدیث، اہل سُنت (بریلوی اور دیوبندی)، اہل تشیع کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ فرقہ واریت اور تعصب کی عین اُتار کردیکھا جائے تو اہل حدیث کا دعوی حدیثِ نبوی ﷺ پر چلنے کا ہے، اہل تشیع  کا دعوی  آل  بیعت کی سُنت پر عمل کا ہے، بریلوی  اپنے آپ کو اولیاء اللّٰہ کا وارث سمجھتے ہیں اور دیوبندی دین اسلام کی تبلیغ کے دعویدار ہیں۔  ان  چاروں  افکار میں کوئی خرابی نہیں لیکن جب تک ان چاروں عناصر کو یک جا جمع نہ کیا جائے کوئی بھی کلمہ گو پورا مُسلمان بنتا ہی نہیں۔ قرآن و حدیث، آلِ بیعت کی محبت اور صالحین کا راستہ اور دین کا فروغ یہ سب جب احسن چیزیں ہیں تو پھر ایک ” ذاتی بغض”  ہی بچتا ہے جو ان سب گروہوں کو تقسیم کیئے ہوئے ہے۔ آج دُنیا میں ایک بھی  ایسا مُسلمان  مُلک نہیں جو تن تنہا عالم کُفر کا مقابلہ کرسکے اور مُسلمانوں میں اتحاد ہے نہیں کہ وہ مُتحد ہوکر  عالم کُفر کا مقابلہ کرسکیں۔  دہشت گردی کی جنگ سے لیکر آج تک  دُنیا بھر میں تمام اسلامی ممالک کو ایک ایک کرکے تباہ کیا گیا اور جو چند بچے انہی میں سے پاکستان ایک ہے۔ بھارت کے خلاف الحمدوللّٰہ پاکستانی عوام نے قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کیا اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی جس سے اپنے سے پانچ گُناہ بڑے دُشمن کو افواج پاکستان نے چِت کردیا۔ آج ایران پر یہودی یلغار ہے اور کُچھ  نادان  پاکستانی ایرانی آبادی کی اکثریت کے  شیعہ ہونے کی وجہ سے اُن کے ساتھ کھڑا ہونے کو گریزاں نظر آتے ہیں یا پھر ماضی میں ایران نے کوئی ایسی روش اختیار کی جو پاکستانی مُفاد میں نہیں تھی تو کیا اُس کو جواز بناکر یہودونصارٰی کی ایران پر بربریت کا تماشہ دیکھا جائے؟ یہی وہ  میدان ہے جہاں منبرو محراب اپنی  ذمہ داری پوری کرنی ہے اور مذہبی تفریق پر کاری ضرب لگاتے ہوئے “ذاتی بغض” کے زہر کا تریاق کرنا ہے۔ منبرو محراب کا حق

صحافی کے قلم سے

معروضی حالات میں منبرو محراب کی ذمہ داری

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق آج دُنیا کا کونسا خطہ ہے جہاں مُسلمانوں کا خون پانی کی طرح نہیں بہایا جارہا؟ فلسطین میں یہودی بربریت، کشمیر میں بُت پرستوں کی معصوم عورتوں بچوں پر یلغار، روہنگیا میں ایک ایک قبر میں سینکڑوں زندہ مسلمانوں کا  درگور کرنا اور ماضی میں جو کُچھ بوسنیا میں ہوا کیا یہ   سب ظلم و ستم مُسلمانوں کے دلوں کو  پگھلانے کے لیئے کافی نہیں؟ افسوس جو یہ  قبیح کام کرتے ہیں آج اُمت کا ایک بڑا حصہ انہی کی چاپلوسی ، ان کے لیئے سُرخ کارپٹ بچھانے، ان سے دوستیوں پر فخر کرنے، اُن سے امداد  کے نام پر بھیک لینے، ان کے ساتھ کاروبار کرنے میں مگن ہے۔   اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ  اسلام  اور ایمان اب مُسلمانوں میں نہیں بچا۔ آج کے منبرو محراب کے وارثوں کا یہ حال ہے کہ “رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی ۔۔۔فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی۔” اس وقت جب دُنیا میں تیسری عالمی جنگ کی آہٹ واضح سُنائی دے رہی ہے ایسے میں مُسلمان اُمت فرقہ واریت کے ناسور میں  شدت کے ساتھ مُبتلا ہے۔ کسی کو خیال ہے کہ “ایمان، اتحاد، جہاد فی سبیل اللّٰہ” یہ کسی بھی میدان کارزار میں کامیابی کی تین چابیاں ہیں؟  آج  منبرو محراب عملی میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنے سے یکسر قاصر نظر آتے ہیں کیونکہ بقول حکیم الامت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال “الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن ۔۔۔ مُلّا کی اذاں اور، مجاہد کی اذاں اور” آج مُلاں اور عملی زندگی  دو مخالف سمتوں میں سفر کرتے نظر آتے ہیں۔   آج اسلام کو مُلا سے زیادہ مجاہدین کی ضرورت ہے۔ مُسلمانوں کے معروضی حالات کا مطالعہ کرنے بیٹھیں اور اس میں منبرو محراب کے کردار پر جب غور کیا جائے تو بے اختیار زبان پر یہ الفاظ آتے ہیں  “دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے ۔۔۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔”  اگرچہ مسلمانوں کو دوسری امتوں کی نسبت فضیلت ہے لیکن عملی میدان میں رفتہ رفتہ  ان کا حال بھی سورة البقرة کے مطابق “اہل کتاب”  کی طرح ہوتا گیا۔  یہودیوں کو تو اللّٰہ نے فرمایا “ان پر میں نے ذلت، مسکینی اور اپنا غضب مسلط کردیا ہے” اور پھر  سورہ آل عمران میں فرمایا کہ ن پر ذلت اور مسکینی مسلط کی گئی ہے جب تک ان کو اللّٰہ یا انسانوں کی طرف سے سپورٹ نہ ملے۔  آج  فرقوں اور چھوٹے چھوٹے کمزور ممالک میں بٹے کسی طور بھی ذلت اور مسیکنی سے الگ زندگی نہیں گُذار رہے۔ ڈیڑھ ارب مُسلمان  پر مُشتمل  ستاون اسلامی ممالک آج بڑی طاقتوں کے سہارے کے محتاج ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ ان میں اتحاد نہیں ہے۔  پہلی امتوں کا بھی یہی حال تھا کہ جب اُن کے پاس “مکمل علم” یا  اللّٰہ کی طرف سے “واضح نشانیاں” آجاتی تھیں تو وہ آپس میں “ذاتی بغض” کی وجہ سے اختلاف کرتے تھے اور یوں کمزور ہوتے اور کافر اُن پر غالب آجاتے۔ عصرِ حاضر میں سُنی، شیعہ، بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث وہ ٹائٹل ہیں جن کے سرکردہ مگر نام نہاد علماء  نے  مذہب اسلام کا حُلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ  جس کے پاس حقیقی علم ہوگا اور قرآن کا مطالعہ رکھتا ہوگا وہ کبھی تفرقہ کے قریب بھی نہیں پھٹکے گا کیونکہ وہ  ذلت و مسکینی اور غضب الہی  کو کیسے دعوت دے سکتا ہے  بلکہ یوں کہا جائے کہ وہ اپنے مُسلمان  بھائی سے “بغض” کیونکر رکھ سکتا ہے۔ لیکن آج  یہ بغض نام نہاد علماء میں کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہے اور  اسی  زہر کے زیرِ اثر  وہ  دین کی تبلیغ کرتے ہیں۔ آج جس وقت سارا عالم کُفر مُسلمانوں اور اسلام کو مٹانے پر تُلا ہوا ہے کم از کم ہمارے علماء قرآن کی اس بات پر تو عمل کرسکتے ہیں کہ “آؤ (اہل کتاب) ہم اُس کلمے پر اکٹھے ہوجائیں جو تم میں اور ہم میں مُشترک ہے۔” یہاں کلمہ سے مُراد “شرک کا ابطال اور توحید پر کاربندی” ہے۔ مُسلمانوں کو آج اگر بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جائے تو اس میں اہل حدیث، اہل سُنت (بریلوی اور دیوبندی)، اہل تشیع کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ فرقہ واریت اور تعصب کی عین اُتار کردیکھا جائے تو اہل حدیث کا دعوی حدیثِ نبوی ﷺ پر چلنے کا ہے، اہل تشیع  کا دعوی  آل  بیعت کی سُنت پر عمل کا ہے، بریلوی  اپنے آپ کو اولیاء اللّٰہ کا وارث سمجھتے ہیں اور دیوبندی دین اسلام کی تبلیغ کے دعویدار ہیں۔  ان  چاروں  افکار میں کوئی خرابی نہیں لیکن جب تک ان چاروں عناصر کو یک جا جمع نہ کیا جائے کوئی بھی کلمہ گو پورا مُسلمان بنتا ہی نہیں۔ قرآن و حدیث، آلِ بیعت کی محبت اور صالحین کا راستہ اور دین کا فروغ یہ سب جب احسن چیزیں ہیں تو پھر ایک ” ذاتی بغض”  ہی بچتا ہے جو ان سب گروہوں کو تقسیم کیئے ہوئے ہے۔ آج دُنیا میں ایک بھی  ایسا مُسلمان  مُلک نہیں جو تن تنہا عالم کُفر کا مقابلہ کرسکے اور مُسلمانوں میں اتحاد ہے نہیں کہ وہ مُتحد ہوکر  عالم کُفر کا مقابلہ کرسکیں۔  دہشت گردی کی جنگ سے لیکر آج تک  دُنیا بھر میں تمام اسلامی ممالک کو ایک ایک کرکے تباہ کیا گیا اور جو چند بچے انہی میں سے پاکستان ایک ہے۔ بھارت کے خلاف الحمدوللّٰہ پاکستانی عوام نے قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کیا اور افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگئی جس سے اپنے سے پانچ گُناہ بڑے دُشمن کو افواج پاکستان نے چِت کردیا۔ آج ایران پر یہودی یلغار ہے اور کُچھ  نادان  پاکستانی ایرانی آبادی کی اکثریت کے  شیعہ ہونے کی وجہ سے اُن کے ساتھ کھڑا ہونے کو گریزاں نظر آتے ہیں یا پھر ماضی میں ایران نے کوئی ایسی روش اختیار کی جو پاکستانی مُفاد میں نہیں تھی تو کیا اُس کو جواز بناکر یہودونصارٰی کی ایران پر بربریت کا تماشہ دیکھا جائے؟ یہی وہ  میدان ہے جہاں منبرو محراب اپنی  ذمہ داری پوری کرنی ہے اور مذہبی تفریق پر کاری ضرب لگاتے ہوئے “ذاتی بغض” کے زہر کا تریاق کرنا ہے۔ منبرو محراب کا حق

صحافی کے قلم سے

ایران اسرائیل جنگ پاکستان کے بقاء کی جنگ ہے

میجر (ر) ساجد مسعود صادق پاک بھارت جنگ کے دوران  بھارت افواج پاکستان بھارت کے ساتھ 9/10 مئی کی رات کو  سہاگ رات منالی ہے اب پاکستانی ائرفورس کو شیروں کو ہنی مون کے لیئے ایران کی طرف روانہ ہونا چاہیئے کیونکہ وہاں بھی یہودی شیرنی سندور لگا کر آئی ہے۔ ہندو اور یہودیوں جنونیوں کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ایک ہی زبان سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں شیطانی اور امن دُشمن قوتیں ہیں جنہیں امریکہ، برطانیہ جیسے کئی مغربی ممالک کی پُشت پناہی حاصل ہے۔  سن 1973ء مین اگر پاکستان  اسرائیل جنگ میں پاکستان ان عرب ممالک کی حمایت کرسکتا ہے جنہوں نے مُسلمانوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپتے ہوئے خلافت عثمانیہ کو توڑنے میں  یہودونصارٰی کا ساتھ دیا تو اپنے ہمسائے ایران کی کیوں نہیں؟  ایران تو ویسے بھی وہ مُلک ہے جو ہمارا پڑوسی بھی ہے اور ایک مُسلمان مُلک بھی اور ہمسائیوں کے حقوق اسلام میں کتنے ہیں اگر اس کی سمجھ نہ بھی آئے تو اس جنگ میں پاکستان پر حصہ لینا اس لیئے بھی واجب ہے کہ ایران دراصل پاکستان کی بالواسطہ جنگ لڑررہا ہے۔ اسرائیل پاکستان کا کُھلا دُشمن ہے اس سے جنگ پاکستان پر فرض ہے۔ پاکستان کو ایراہے۔ا ہر حال میں کُھل کر ساتھ دینا چاہیئے اور امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کرنا چاہیئے۔ پاکستان نے  اپنی اٹھہتر سالہ تاریخ میں ہمیشہ امریکہ کے ساتھ ایک مخلص اتحادی ہونے کا ثبوت دیا ہے جبکہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ قدم قدم دھوکہ دیا کیا ہے۔ پاک بھارت جنگ سے شروع میں امریکی صدر ٹرمپ کی عدم دلچسپی اور پھر جب پاکستان  بھارت کا ہمیشہ کے لیئے جنازہ نکالنے کے لیئے تیار تھا عین اُس وقت جنگ بندی کے لیئے مُتحرک ہونا یہ امن کے لیئے نہیں تھا۔ یہ وہ امریکی بدنیتی تھی جس کے تحت سن 1962ء میں بھی امریکہ نے پاکستان کو چین بھارت جنگ میں فائدہ اُٹھانے سے محروم کیا۔ اسی طرح سن  1971ء میں  پاکستان کی امداد کا وعدہ پورا نہ کرکے بھی بھارت کو پاکستان توڑنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اور دہشت گردی کی جنگ میں تو پاکستان کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ ملکر مکمل طور پر تباہ کرنا بھی امریکہ ہی کا پلان تھا۔  امریکہ دُنیا میں کبھی بھی امن کا خواہاں نہیں رہا ہے بلکہ امریکہ دُنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور مُسلم کُش مُلک ہے۔ دُنیا میں امن کے نام پر دہشت گردی کی جنگ کے دوران اس نے عالم اسلام بشمول پاکستان کو اجاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ امریکہ  پاکستان کا کُھلا دُشمن ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام  کے آغاز سے لیکر ایٹمی دھماکوں  تک امریکہ نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے سے  امریکہ نے روکنے کی ہر ممکنہ کوشش کی۔ آغاز میں ہی پاکستان کی فرانس کے ساتھ  ایٹمی پلانٹ کی ڈیل کو پریشر ڈال کر کینسل کروایا۔ ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی وجہ سے بھٹو کو تختہ دار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، صدر ضیاء الحق اور ڈاکٹر عبدالقدیر تک تمام  پاکستان قیادت کی تذلیل و تضحیک اور ان کے قتل تک امریکہ بالواسطہ شامل ہے۔ آج بھی اسرائیلی ہٹ دھرمی اور معصوم نہتے فلسطینوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے انسانیت نما درندے نیتن یاہو،  ناجائز اور زبردستی طور پر بنائے گئے مُلک اسرائیل  کا نہایت ڈھٹائی سے نہ صرف امریکہ  کھل کرساتھ دے رہا ہے بلکہ اپنے تمام عیسائی ممالک کو بھی  “اس کارِ بد “میں ساتھ ملائے ہوئے ہے۔ اسرائیل، امریکہ، بھارت اور برطانیہ حقیقت میں “ایکسز آف ایول” اور اسلام دُشمن قوتیں ہیں ۔ ان سے جنگ حقیقی اسلامی جہاد ہے۔ دُنیا کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر پاکستان کو کبھی غلطی نہیں کرنی چاہیئے۔ پاکستان ایک نظریاتی اسلامی مُلک ہے جس کے قیام کا دُنیا میں  جب کوئی بھی حامی نہیں تھا اُس  وقت پاکستان کو آزاد مُلک کے طور پر  سب سے پہلے ایران نے تسلیم کیا۔  سُنی شیعہ کی لائنیں کھینچنے والے عقل کے اندھوں کو علم نہیں کہ جنگ حکمت عملی کے تحت رسول اللّٰہ ﷺ نے کافروں یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی معاہدے کیئے۔ کسی کو ان معاہدوں میں اپنا حلیف بنایا تو کسی کے ساتھ ملکر باقاعدہ جنگ لڑی۔  جنگ میں کسی بھی مُسلمان کو یہ  اصول  یاد رکھنا چاہیئے کہ آپ کے دُشمن کا مُلک دُشمن  آپ کا دوست ہے۔ سُنی شیعہ اور عربی عجمی ٹوپی ڈرامہ بہت ہوچکا ہے۔  غزہ کے نہتے اور معصوم و مظلوم اسرائیلی بربریت کا شکار فلسطینیوں سے صرف نظر کرکے امریکہ سے معاہدے اور دوستیاں  اور عرب ممالک کی امریکی غلامی کا  طریقہ  کُفر کے عین قریب ہے۔ یہی بات اللّٰہ نے واضح طور پر اہل ایمان کو بتائی ہے کہ یہودو نصارٰی کبھی تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران میں پاکستان کی امریکہ کی طرف سے تعریفیں اور پاک بھارت جنگ پر  داد کے ڈونگرے برسانا سوائے دھوکے کے کُچھ نہیں ۔ اب سمجھ آررہی ہے کہ  امریکہ نے پاک بھارت جنگ رکوائی بھی اسی وجہ سے تھی امریکہ اور اسرائیل پہلے ایران سے نپٹنا چاہتے تھے۔ بھارت کا آپریش سندور ابھی جارہی ہے پاکستان کو یہ بات بھولنی نہیں چاہیئے۔ اللّٰہ کا قرآن گواہ ہے کہ “جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے یہ خوش ہوتے ہیں اور جب کوئی خوشی ملتی ہے تو ان کو اچھا نہیں لگتا۔” ایران اس وقت اپنی جنگ سے زیادہ پاکستانی بقاء کی  جنگ لڑ رہا ہے کیونکہ ایران کے بعد پاکستانی ایٹمی پروگرام اسرائیل کا اگلہ ہدف ہے۔ یہ نکتہ پاکستانی پالیسی سازوں کو مکمل طور پر سمجھتے ہوئے  پاکستان کو ایران اسرائیل جنگ کے اختتام کا انتظار کرنے کی بجائے اس جنگ میں ایران کو کامیاب بنانے میں ہی پاکستان کی بقاء کا راز چُھپا پوا ہے۔پاکستان کو امریکہ یا اتحادیوں کی فکر بالکل نہیں کرنی چاہیئے اور نہ ہی اپنے مُستقبل کی پرواہ کیونکہ پاکستان کا مُستقبل امریکہ اور مغرب کا ساتھ دینے میں نہیں بلکہ روس اور چین کا ساتھ دینے میں ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی شکست کے ایران سے بھی بڑے خواہاں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی شکست دراصل امریکہ کی

صحافی کے قلم سے

بجٹ2025/2026: تنخواہوں میں اضافہ ہوتو ایسا

میجر (ر) ساجد مسعود صادق بجٹ 2025/2026آگیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6%اضافہ ہوگیا اور پینشن میں 7% اضافہ۔ اس پر ایک طرف دل کرتا ہے حکومت کو  شاباش دی جائے اور سرکاری ملازمین کو مُبارک لیکن جب پارلیمینٹیرینز کی تنخواہ میں اضافے پر نظر پڑتی ہے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے الفاظ ختم ہوجاتے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی (ایاز صادق) اور چیئرمین سینٹ (یوسف رضا گیلانی) کی تنخواہ میں 500% اضافہ  کیا گیا ہے اور 6,50,000/- روپے اس میں مزید  Sumptuous Allowance کے بھی شامل کیئے گئے ہیں۔  اسی طرح  تمام پارلیمینٹرین کی تنخواہوں میں 188% فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔  سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے  اور ممبرز پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ کا موازنہ  دل دہلا دینے کے لیئے کافی ہے۔  اس پر ہی بس نہیں بلکہ  “عوام”  کو  یکم جولائی سے اور “عوامی نمائیندوں”  کو یکم جنوری سے یہ اضافہ ملے گا۔ لیکن جب وزیر خزانہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا تو حکومتی پارٹیوں کے ممبرز  اسمبلی نے بہت زور زور سے ڈیسک بجائے  ڈیسک بجانے  کا کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ عوام کی داد رسی؟ حکومت وقت کی سخاوت؟یا پھر حکومت کی  غربت نوازی یا پھر  شاید سرکاری ملازمین  کے ساتھ وزیرخزانہ کے مذاق پر اُن کو داد۔  پارلیمینٹیرینز کی سرکاری گاڑیاں کتنی ہوں گی؟  ملازمین کتنے ہوں گے؟  پٹرول کی مد میں کیا ملے گا؟ بیرونی دوروں پر کتنا خرچ کریں گے؟  میڈیکل کے نام پر کتنی ادائیگی ہوگی؟ کوئی لگے ہاتھوں آئی  ایم ایف سے ہی  پوچھ لے کہ اے معاشی آقا! عوام کی چمڑی تو ادھیڑتے ہو  کبھی حکمرانوں کی تنخواہوں پر بھی  پابندی لگاؤ،  اور  کبھی حکمرانوں کے اللّوں تللّوں  پر بھی پابندی لگاؤ۔  کُرسی کی خاطر ایک دوسرے کی پگڑیا اچھالنے والوں  کی  اپنی  تنخواہ میں اضافے پر اتحاد عوام کے لیئے درس عبرت تو رکھتا ہے لیکن یہ کام ذرا عقل والا ہے جس سے عوام کو سروکار نہیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  خلافت کے پہلے دن ہی صبح سویرے سر پر کپڑوں کی گٹھڑی رکھ کر بازار کو نکلے  تو لوگوں نے پوچھا کہ آپ کدھر کو جاتے ہیں کہا کپڑے بیچنے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ اگر کپڑے بیچیں گے تو حکومت کون چلائے گا۔جواب دیا میرا اور میرے بچوں کا گذارہ کیسے ہوگا۔ کہا گیا کہ آپ سرکاری خزانے سے تنخواہ مقرر کرلیں۔  جب بہت تھوڑی تنخواہ مقرر کی تو لوگوں نے کہا کہ اس سے گذارہ نہ ہوا تو کیا کریں گے  فرمایا میں مزدور کی زدوری بڑھا دوں گا۔ یہ نہیں کہا میں اپنی تنخواہ  500% یا  188%  بڑھا دوں گا۔ پاکستانی صادق و امین حکمرانوں اور  صدیق اکبررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی تنخواہ میں اضافہ۔ اضافہ ہو تو ایسا۔ اب عوام کی سانس اور قبر پر بس ٹیکس باقی ہے باقی عوام کو ہر چیز پر ٹیکس دینا پڑتا ہے لیکن مِلوں، فیکٹریوں اور زمینوں کے مالکان جو پارلیمنٹ میں براجمان ہیں وہ اس ڈیوٹی سے مُستثنٰی ہیں بلکہ انہیں یہ حق  حاصل ہے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے بھی اپنا حصہ  اپنی مرضی سے وصول کریں۔ کیا ان حکمرانوں یا وقت کے فرعونوں کی اس نا انصافی کا حساب نہیں ہونا۔ جب آخرت میں حساب کتاب ہوگا تو وہاں نہ کوئی “پیر گیلانی” ہوگا  نہ ” ایاز صادق” کیونکہ خُدا کا انصاف کا ترازو ہمارے حکمرانوں اور ہماری عدالتوں کے انصاف سے الگ ہے۔ ہماری عدالتیں طاقتوروں کا ساتھ دیتی ہیں اور کمزوروں کا استحصال کرتی ہیں جبکہ وہاں ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے “محمود ایاز” وہاں عہدے نہیں کردار بولے  گا اور نامہ اعمال کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

صحافی کے قلم سے

یک نہ شد تین شد

احمد خان لغاری کوہ سلمان سے  ڈیرہ غازیخان شہر میں دوتین واقعات اس وقت ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں جس کا جی چاہتا ہے وہ ان واقعات پر دل کھول کر تبصرہ کررہا ہے ، حق میں یا مخالفت میں ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ پہلا واقعہ ڈیرہ غازیخان میں ایک مبینہ ٹک ٹاکر کی شادی ہے ، دوسرا واقعہ گلبرگ ہائوسنگ کے متاثرین کا حق انہیں دلا یا جائے جو اس کاروبار میں بطور حصہ دار لٹ چکے ہیں یا پھر وہ غریب جو ایک پلاٹ کے جھانسے میں اپنی ساری جمع پونجی لٹا بیٹھے ہیں، تیسرا سوشل میڈ یا پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر کے قصابوں اور جعلی دودھ جیسے کاروبار میں ملوث افراد کی سرکوبی کی خبریں اور ویڈیوز ہیں ۔ پہلا واقعہ کی طرف جو بہت شہرت حاصل کر چکا ہے وہ ایک شادی ہے جو مبینہ طور پر ایک ٹک ٹاکر کی شادی جو تین دن تک جاری رہی شہر کے علاوہ ملک بھر سے اور اس سے بڑھ کر بیرون ملک سے بھی مہمانوں کی آمد کا بہت چرچا ہے ، مقامی دو شادی ھالوں میں غیر معمولی رش تھا ، کھانے کا وسیع بندوبست کیا گیا تھا مگر حسب دستور شادیوں میں جسطرح ہوتا ہے کسی کے ہاتھ میں پلیٹ تھی تو کسی کے ہاتھ میں چمچ تھا کسی نے کھانے کا بندوبست منا سب نہ ہونے کا گلہ کیا تو چند حامی لوگوں نے اورمنتظمین کی طرف سے تردید کی جاتی رہی اور پھر طوفان بدتمیزی برپا ہے جو ہنوز جاری و ساری ہے ۔ شادی ھالوں سےنکل کر یہ جھگڑا ذاتی لڑائیوں میں بدل چکا ہے ۔ طوفان بدتمیزی تو تینوں دن جاری رہا جب بھنگڑے، ڈانس ، جھومر اور رقص و سُرور کی محفلیں جاری رہیں اور ہمارے نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا اور باہر سے آنے والے ایک ماہر حکیم جو قومی سطح کے سیاستدانوں سے اپنی جنسی پراڈکٹ پر انعام یافتہ بتائے جارہے ہیں انہوں نے بھی خواتین اور ٹرانس جینڈر شخصیات پر خوب نوٹ نچھاور کیے۔ تین دن تک ہونے والے طوفان بدتمیزی پر ہماری انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی کیونکہ وہ سردار بھی ہے اور امیر کبیر شخص بھی ہے ۔ اور اصل سردار بھی یہ سب دیکھتے رہ گئے عوام بھی سمجھنے سے قاصر ہے کہ سردار اصل میں کون ہے ؟ ہوسکتا ہے ضلعی انتظامیہ نے یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا ہوکہ وہ خود دیکھ لیں کہ سردار کون ہے۔ ہمارےمذہبی طبقہ کی پراسرار خاموشی بھی بتارہی ہے کہ لنگاہ ہی واقعی سردار ہے۔ اس اخلاق باختہ ماحول پر مجرمانہ خاموشی بہت سارے لوگوں کو بے نقاب کر چکی ہے ۔ انتظآمیہ اس کا ہی خیال کرلیتی کہ صوبے کی وزیر اعلی ایک خاتون ہے اور اس کے صوبے میں اور ایک ایسے شہر میں یہ سب کچھ ہواجو شرم و حیا اور خاص روایات کا امین علاقہ ہے ۔  قارئین کرام! گذشتہ کئی دنوں سے گلبرگ ہائوسنگ سوسائیٹی میں غریب لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹنے کے بعد ان کے پاس محض فائلیں ہیں اور وہ لٹ چکے ہیں ۔ اس سکیم کےحقداروں میں کئی پردہ نشین شامل ہیں جو اب شرفا کے روپ میں سامنے آکر غریبوں کی لوٹی ہوئی دولت واپس دلوانے کا چکمہ دے کر اصل مجرمان کو راہ فرر دے رہے ہیں ۔ گلبرگ ہائوسنگ کے مالک ایم پی اے بن چکے اور انہیں کیسے ایم پی اے بنوایا گیا، کون لوگ اس کے دست بازو تھے ان میں چند چہرے اب سامنے آکر عوامی ہمدردی سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں اور چند شرفا اپنی صفائیاں دے رہے ہیں متاثرین گلبر گ کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا گیاہے تاکہ ان کازور ٹوٹ جائے اور ساری رقم ڈکارنے میں آسانی رہے۔ ہمارے لوگ بھی ہمیشہ سے لٹنے آرہے ہیں کبھی میڈیسن والوں سے کبھی بائک کے نا پر اور کبھی پلاٹوں کے نام پر لیکن زیادہ تر وہ لوگ جو اصل میں پلاٹوں کا کاروبار کررہے تھے ۔ کئی لوگوں کو دیگر سو سائٹیوں میں پلاٹ کے نام پر پھر دھوکہ اور کسی کو رقم واپسی کا جھانسہ دیکر خاموش رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ عام آدمی جو متاثرہ ہے وہ پہچان ہی نہیں سکتا کہ اصل ذمہ دار کون ہے ؟۔ گلبرگ ہائوسنگ میں رہائش پذیر ہمارے ایک وزیر با تدبیر نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کو بدنام کیا جارہا ہے ان کا اصغر گورمانی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کام ہے کہ وہ اور سردار اویس لغاری متاثرین کےلئے اصغر گورمانی کا پیچھا کرتے رہیں۔ وزیر موصوف خود مظلوم ہیں ان کی قریبی عزیزہ بھی متاثرین میں شامل ہے۔ ڈیرہ غازیخان کے اس سپوت کا اس گلبرگ قضیے سے لاتعلقی کا اظہار اپنی جگہ لیکن عوام کے سامنے حقائق آنے چاہیں ۔ وزیر موصوف نے اپنی تقریر میں غیر اخلاقی سرائیکی محاورہ کا استعمال کرکے اپنی قابلیت کا اظہار تو کردیا لیکن ساتھ ہی ڈیوالہ کا ترجمہ گوالہ کے ہم وزن کرکے علمی رعب جھاڑا ہے اس سے عام آدمی کو مایوس ضرور کیا ہے ۔  حرف آخر کے طور پر سنجیدہ واحقات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمارے شہر کے اسسٹنٹ کمشنر جو قصاب اور جعلی دودھ فروشوں پر کریک ڈائون کررہے ہیں ان کی کارکردگی اوپر بیان کیے گئے واقعات میں دب کر رہ گئی ہے ۔ موصوف آئے روز قصاب کو جرمانے اور گرفتار کرنے ریٹس کی پڑتال جیسے عوامی مسائل کو حل کرنے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں وہ باتیں عوام تک نہیں پہنچ رہی ہیں کیونکہ اس وقت ایک سردار کی شادی کے چرچے اور گلبرگ متاثرین کو رقوم کی واپسی جیسے اہم معاملات پر عوامی توجہ مرکوز ہے جبکہ اسسٹنگ کمشنر ہیڈ کوارٹر کی کارکردگی کی بات رہ گئی ہے ۔ اور وہ کہتے ہونگے۔ تیرے اردگر وہ شورتھا، مری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہہ سکانہ تو سن سکا، میری بات بیچ میں رہ گئی

صحافی کے قلم سے

یک نہ شد تین شد

احمد خان لغاری کوہ سلمان سے  ڈیرہ غازیخان شہر میں دوتین واقعات اس وقت ٹاپ ٹرینڈ بن چکے ہیں جس کا جی چاہتا ہے وہ ان واقعات پر دل کھول کر تبصرہ کررہا ہے ، حق میں یا مخالفت میں ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ پہلا واقعہ ڈیرہ غازیخان میں ایک مبینہ ٹک ٹاکر کی شادی ہے ، دوسرا واقعہ گلبرگ ہائوسنگ کے متاثرین کا حق انہیں دلا یا جائے جو اس کاروبار میں بطور حصہ دار لٹ چکے ہیں یا پھر وہ غریب جو ایک پلاٹ کے جھانسے میں اپنی ساری جمع پونجی لٹا بیٹھے ہیں، تیسرا سوشل میڈ یا پر اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر کے قصابوں اور جعلی دودھ جیسے کاروبار میں ملوث افراد کی سرکوبی کی خبریں اور ویڈیوز ہیں ۔ پہلا واقعہ کی طرف جو بہت شہرت حاصل کر چکا ہے وہ ایک شادی ہے جو مبینہ طور پر ایک ٹک ٹاکر کی شادی جو تین دن تک جاری رہی شہر کے علاوہ ملک بھر سے اور اس سے بڑھ کر بیرون ملک سے بھی مہمانوں کی آمد کا بہت چرچا ہے ، مقامی دو شادی ھالوں میں غیر معمولی رش تھا ، کھانے کا وسیع بندوبست کیا گیا تھا مگر حسب دستور شادیوں میں جسطرح ہوتا ہے کسی کے ہاتھ میں پلیٹ تھی تو کسی کے ہاتھ میں چمچ تھا کسی نے کھانے کا بندوبست منا سب نہ ہونے کا گلہ کیا تو چند حامی لوگوں نے اورمنتظمین کی طرف سے تردید کی جاتی رہی اور پھر طوفان بدتمیزی برپا ہے جو ہنوز جاری و ساری ہے ۔ شادی ھالوں سےنکل کر یہ جھگڑا ذاتی لڑائیوں میں بدل چکا ہے ۔ طوفان بدتمیزی تو تینوں دن جاری رہا جب بھنگڑے، ڈانس ، جھومر اور رقص و سُرور کی محفلیں جاری رہیں اور ہمارے نوجوانوں نے بھرپور حصہ لیا اور باہر سے آنے والے ایک ماہر حکیم جو قومی سطح کے سیاستدانوں سے اپنی جنسی پراڈکٹ پر انعام یافتہ بتائے جارہے ہیں انہوں نے بھی خواتین اور ٹرانس جینڈر شخصیات پر خوب نوٹ نچھاور کیے۔ تین دن تک ہونے والے طوفان بدتمیزی پر ہماری انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی کیونکہ وہ سردار بھی ہے اور امیر کبیر شخص بھی ہے ۔ اور اصل سردار بھی یہ سب دیکھتے رہ گئے عوام بھی سمجھنے سے قاصر ہے کہ سردار اصل میں کون ہے ؟ ہوسکتا ہے ضلعی انتظامیہ نے یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا ہوکہ وہ خود دیکھ لیں کہ سردار کون ہے۔ ہمارےمذہبی طبقہ کی پراسرار خاموشی بھی بتارہی ہے کہ لنگاہ ہی واقعی سردار ہے۔ اس اخلاق باختہ ماحول پر مجرمانہ خاموشی بہت سارے لوگوں کو بے نقاب کر چکی ہے ۔ انتظآمیہ اس کا ہی خیال کرلیتی کہ صوبے کی وزیر اعلی ایک خاتون ہے اور اس کے صوبے میں اور ایک ایسے شہر میں یہ سب کچھ ہواجو شرم و حیا اور خاص روایات کا امین علاقہ ہے ۔  قارئین کرام! گذشتہ کئی دنوں سے گلبرگ ہائوسنگ سوسائیٹی میں غریب لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹنے کے بعد ان کے پاس محض فائلیں ہیں اور وہ لٹ چکے ہیں ۔ اس سکیم کےحقداروں میں کئی پردہ نشین شامل ہیں جو اب شرفا کے روپ میں سامنے آکر غریبوں کی لوٹی ہوئی دولت واپس دلوانے کا چکمہ دے کر اصل مجرمان کو راہ فرر دے رہے ہیں ۔ گلبرگ ہائوسنگ کے مالک ایم پی اے بن چکے اور انہیں کیسے ایم پی اے بنوایا گیا، کون لوگ اس کے دست بازو تھے ان میں چند چہرے اب سامنے آکر عوامی ہمدردی سمیٹنے میں لگے ہوئے ہیں اور چند شرفا اپنی صفائیاں دے رہے ہیں متاثرین گلبر گ کو کئی حصوں میں تقسیم کردیا گیاہے تاکہ ان کازور ٹوٹ جائے اور ساری رقم ڈکارنے میں آسانی رہے۔ ہمارے لوگ بھی ہمیشہ سے لٹنے آرہے ہیں کبھی میڈیسن والوں سے کبھی بائک کے نا پر اور کبھی پلاٹوں کے نام پر لیکن زیادہ تر وہ لوگ جو اصل میں پلاٹوں کا کاروبار کررہے تھے ۔ کئی لوگوں کو دیگر سو سائٹیوں میں پلاٹ کے نام پر پھر دھوکہ اور کسی کو رقم واپسی کا جھانسہ دیکر خاموش رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ عام آدمی جو متاثرہ ہے وہ پہچان ہی نہیں سکتا کہ اصل ذمہ دار کون ہے ؟۔ گلبرگ ہائوسنگ میں رہائش پذیر ہمارے ایک وزیر با تدبیر نے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ان کو بدنام کیا جارہا ہے ان کا اصغر گورمانی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کام ہے کہ وہ اور سردار اویس لغاری متاثرین کےلئے اصغر گورمانی کا پیچھا کرتے رہیں۔ وزیر موصوف خود مظلوم ہیں ان کی قریبی عزیزہ بھی متاثرین میں شامل ہے۔ ڈیرہ غازیخان کے اس سپوت کا اس گلبرگ قضیے سے لاتعلقی کا اظہار اپنی جگہ لیکن عوام کے سامنے حقائق آنے چاہیں ۔ وزیر موصوف نے اپنی تقریر میں غیر اخلاقی سرائیکی محاورہ کا استعمال کرکے اپنی قابلیت کا اظہار تو کردیا لیکن ساتھ ہی ڈیوالہ کا ترجمہ گوالہ کے ہم وزن کرکے علمی رعب جھاڑا ہے اس سے عام آدمی کو مایوس ضرور کیا ہے ۔  حرف آخر کے طور پر سنجیدہ واحقات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ہمارے شہر کے اسسٹنٹ کمشنر جو قصاب اور جعلی دودھ فروشوں پر کریک ڈائون کررہے ہیں ان کی کارکردگی اوپر بیان کیے گئے واقعات میں دب کر رہ گئی ہے ۔ موصوف آئے روز قصاب کو جرمانے اور گرفتار کرنے ریٹس کی پڑتال جیسے عوامی مسائل کو حل کرنے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں وہ باتیں عوام تک نہیں پہنچ رہی ہیں کیونکہ اس وقت ایک سردار کی شادی کے چرچے اور گلبرگ متاثرین کو رقوم کی واپسی جیسے اہم معاملات پر عوامی توجہ مرکوز ہے جبکہ اسسٹنگ کمشنر ہیڈ کوارٹر کی کارکردگی کی بات رہ گئی ہے ۔ اور وہ کہتے ہونگے۔ تیرے اردگر وہ شورتھا، مری بات بیچ میں رہ گئی نہ میں کہہ سکانہ تو سن سکا، میری بات بیچ میں رہ گئی

Scroll to Top