صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

ناز خیالوی ایک عظیم شاعر اور صوفی

   ناز خیالوی  (1947-2010) پاکستان کے ایک مشہور صوفی شاعر، نغمہ نگار، اور ریڈیو براڈکاسٹر تھے۔ انہیں ان کی صوفیانہ نظم “تم اک گورکھ دھندا ہو” کی وجہ سے خاص طور پر جانا جاتا ہے، جسے مشہور قوال نصرت فتح علی خان نے گایا تھا۔  ابتدائی زندگی اور تعلیم ناز خیالوی کا اصل نام محمد نواز تھا۔ وہ 12 دسمبر 1947 کو تاندلیانوالہ، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے ایک مقامی اسکول میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے لاہور میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں سے انہوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ ایک اہم واقعہ!   ناز خیالوی کے بچپن کا ایک اہم واقعہ جو میرے علم میں ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ صرف 10 سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کے والد ان کے لیے ایک بہت بڑی تحریک اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ تھے، اور ان کی موت کا ناز خیالوی پر گہرا اثر پڑا۔  اس واقعہ نے ناز خیالوی کو زندگی کی ناپائیداری اور اس کی حقیقی معنویت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ اس نے انہیں اپنی شاعری میں روحانیت اور فلسفہ کے موضوعات پر توجہ دینے کی بھی ترغیب دی۔ ناز خیالوی نے اپنے والد کی یاد میں کئی نظمیں لکھیں۔ ان کی ایک مشہور نظم “میں نے دنیا کو چھوڑ دیا” اپنے والد کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔  اس نظم میں، ناز خیالوی اپنے والد کی موت کے بعد اپنے غم اور تنہائی کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ دنیا کی ناپائیداری اور مادی چیزوں کی بے معنی پن کے بارے میں بھی بات کرتے ہیں۔ ناز خیالوی کے والد کی موت ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔ اس واقعہ نے انہیں ایک شاعر اور ایک انسان کے طور پر شکل دینے میں مدد کی۔ شاعری اور موسیقی ناز خیالوی نے اپنی شاعری کا آغاز 1960 کی دہائی میں کیا تھا۔ انہوں نے غزلیں، نظمیں، اور صوفیانہ کلام لکھا۔ ان کی شاعری میں عشق، روحانیت، اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے۔  ان کی کچھ مشہور نظمیں اور نغمے درج ذیل ہیں: تم اک گورکھ دھندہ ہو میں نے دنیا کو چھوڑ دیا کیا بات ہے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے یہاں سے وہاں تک ان کی شاعری کو دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے اور ان کے کلام کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ ناز خیالوی کی موسیقی میں بھی گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے کئی نغمے لکھے اور گائے، جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئے۔  ریڈیو براڈکاسٹنگ ناز خیالوی نے ریڈیو پر بھی کام کیا۔ انہوں نے لاہور اور کراچی کے ریڈیو اسٹیشنوں کے لیے کئی پروگرام پیش کیے۔ دنیائے فانی سے رخصت  ناز خیالوی کا انتقال 12 دسمبر 2010 کو کنجوانی،  میں ہوا۔ وہ صرف 63 سال کے تھے۔ ناز خیالوی کے آخری ایام صحت کی خرابیوں میں گزرے۔ وہ کئی سالوں سے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ 2010 میں، ان کی صحت میں اچانک بگاڑ پیدا ہوا اور انہیں لاہور کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔  12 دسمبر 2010 کو، 63 سال کی عمر میں، وہ ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی وجہ دل کا دورہ بتائی جاتی ہے۔ ناز خیالوی کی موت پاکستان کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔ شاعری اور ادب کا ایک باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ۔  وہ ایک عظیم شاعر، نغمہ نگار، اور ریڈیو براڈکاسٹر تھے جنہوں نے اردو ادب اور موسیقی میں ایک اہم مقام حاصل کیا تھا۔ ان کی شاعری اور موسیقی آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کے ذریعے پسند کی جاتی ہے۔ ان کی وفات کے بعد، ان کی تدفین تاندلیانوالہ، پنجاب میں ان کے آبائی قبرستان میں کر دی گئی۔ ناز خیالوی کی موت سے اردو ادب اور موسیقی کی دنیا ایک روشن ستارہ کھو بیٹھی۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔ وراثت ناز خیالوی ایک عظیم شاعر، نغمہ نگار، اور ریڈیو براڈکاسٹر تھے۔ انہوں نے اردو ادب اور موسیقی میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ ان کی شاعری اور موسیقی آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کے ذریعے پسند کی جاتی ہے۔ ناز خیالوی کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق وہ ایک صوفی مرشد بھی تھے اور ان کے بہت سے مرید تھے۔۔نہیں فطرت سے بہت پیار تھا اور ان کی بہت سی شاعری قدرتی مناظر سے متاثر ہے۔ وہ ایک بہت اچھے انسان تھے اور ان کے بہت سے دوست تھے۔ ” مکمل غزل ”  تم اک گورکھ دھندہ ہو  پڑھنے لئے یہاں کلک کریں  ناز خیالوی ایک عظیم شخصیت تھے جنہوں نے اردو ادب اور موسیقی کو ایک قیمتی تحفہ دیا۔ ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی ۔  ★☆★☆★ ناز خیالوی شاعر نغمہ نگار صوفی تم اک گورکھ دھندہ ہو لاہور تاندلیانوالہ وفات وراثت بچپن والد کا انتقال روحانیت فلسفہ میں نے دنیا کو چھوڑ دیا Nazar Khayalvi Poet Songwriter Sufi Tum Ek Gorkh Dhanda Ho Lahore Tandlianwala Death Legacy Childhood Father’s Death Spirituality Philosophy Main Ne Duniya Ko Chhod Diya

صحافی کے قلم سے

نئے ڈیم پاکستان کی اہم ضرورت ہیں

  نئے ڈیم پاکستان کی ضرورت ہیں  تحریر : طاہر اشرف مغل ایک اچھی سوچ، سنجیدگی، اور مصلحت کی روشنی میں سوچنا ہر سیاستدان کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ وہ ملک اور عوام کے مفادات کو مد نظر رکھ کر فیصلے کریں تاکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی میں اضافہ ہو۔ انہیں احتیاط سے سیاسی اور معاشرتی معاملات کا سامنا کرنا چاہئے تاکہ ملک کو کسی بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔ ایسا کرتے ہوئے، سیاستدان ملک اور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کے لئے محنت کریں اور ملک اور عوام کے لیے سہولیات میسر ہوں اور ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے۔معیشت کی زیادہ مہنگائی اکثر اوقات سیاسی فیصلوں اور پالیسیوں پر مبنی ہوتی ہے۔ سیاسی لیڈروں کے فیصلوں کا اثر عام لوگوں کی زندگیوں پر برپا ہوتا ہے۔ جب سیاسی پالیسیں معیشت پر برا اثر ڈالتی ہیں، تو معاشرے میں مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ اس طرح سیاسی پروٹوکول اور فیصلے عوام کی روزمرہ زندگی پر بہت بڑا اثر ڈالتے ہیں۔سارا بوجھ عوام پر ہونا کبھی بھی اچھی بات نہیں ہوتی۔ ایک موزوں اور برابر تقسیم اہم ہے تکہ ہر شخص کو اپنی مکمل سرگرمیوں، کاموں کے لیے وقت مل سکے اور وہ اپنی معیشت کو بہتر بنا سکے۔ ایسی صورت میں، حکومتوں اور سیاستدانوں کو پوری ذمہ داری ہے کہ عوام کی آسانیوں اور معیشتی حالات کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کریں۔  تعلیمی اور صحیح خدمات کی فراہمی، روزگار کے مواقع، معیشتی ثبات، اور عدلیہ کے نظام کی بہتری عوام کی زندگیوں کو بہتر کرنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی سیاستدان بڑے حجم کی واردات کے ایک یا مزید طریقے اپنا سکتے ہیں۔ چند عمومی طریقے نیچے دئے گئے ہیں۔سیاستدان دیگر ملکوں کے سیاستدانوں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہیں تاکہ موجودہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے معاہدے اور سمجھوتے کر سکیں۔سیاستدان انوویشن اور ٹیکنالوجی کے ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جس سے واردات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔سیاستدان تعلیمی منصوبوں کے ذریعے اپنے ملک کے لوگوں کی تربیت کو بہتر بنا سکتے ہیں جو ملک میں مہارتیں بڑھاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ایسا بہت کم ہوا ہے ہمیشہ عوام اور خزانے کی بندر بانٹ ہی رہی ہے ہر کوئی اپنا حصہ لیتا ہے اور چلا جاتا ہے پھر نئے انتخابات نئی حکومت نئی پارٹی براجمان ہو جاتی ہے۔انصاف غریب عوام کیلئے بہت اہم ہے۔ انصاف کے غاصب یا غنی طبقے کنگالہ کرتے ہیں اور غریبوں کے حقوق کو مضبوطی سے محفوظ نہیں رکھتے۔ ایک معاشرت جہاں انصاف کی صداقت ہوتی ہے وہاں غریبوں کو بہتر مواقع فراہم ہوتے ہیں اور ملک کی ترقی میں بہتری آتی ہے۔ انصاف کو فروغ دینے سے ہی ہم ایک بہتر اور تناسب دار معاشرت بنا سکتے ہیں۔ انصاف غریب عوام کے درمیان توازن ایک صحتمند معاشرت کی بنیاد ہوتا ہے۔ انصاف اس فضائل کا نام ہے جو معاشرت میں ہر شخص کو برابر مواقع اور حقوق فراہم کرتا ہے۔ غریب عوام کو انصاف کا محسوس ہونا ضروری ہے تاکہ وہ بہتر حالات میں رہ سکیں اور معاشرت کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔غریبوں کو سہولتوں تک رسائی فراہم کرنا، ان کے لئے معاشی بنیادیات بنانا اور ان کی تعلیم اور صحت کو فروغ دینا ضروری ہے۔ اس طرح غریب عوام معاشرت کے مضبوط ستون بنتے ہیں اور تمام معاشرت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ انصاف اور غریب عوام کے مابین تعلق کو مضبوط بنانا، انسانیت کی بنیادی اخلاقیت کا اظہار ہے اور ہمیں ہر انسان کی انسانیت کی قدر کرنی چاہیے۔پاکستان کے لیے ڈیم بنانا بہت اہم اور ضروری قدم ہو سکتا ہے۔ ڈیم بنانے سے پانی کی ناپیدشی کم ہوتی ہے، بجلی کی پیداوار بڑھتی ہے، زرعی اراضی کو پانی فراہم ہوتا ہے اور سیلابوں کی مخفی خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہاں تیدین اپنے معیاری جواب دیتا ہے کہ پاکستان میں سدیم کی بڑی اور چھوٹی مناسب جگہ جات پر بنانا بہت ضروری ہے۔  اس کے علاوہ بھی پاکستان میں بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں چھوٹے ڈیم تعمیر کر کے بجلی کے ساتھ ساتھ زراعت میں بھی ترقی ہو سکتی ہے ۔ اور ہمارے بنجر علاقوں کے غریب لوگوں کو اگر پانی میسر ہو جائے تو ان علاقوں میں بہتر اجناس کی پیداوار شروع ہو سکتی ہے اس نہ صرف یہ کہ مقامی لوگوں کو فائدہ اور خوشحالی نصیب ہوگی بلکہ ملکی معیشت اور ترقی میں بھی اضافہ ہوگا ۔ لیکن اس سب کے لئے ہماری پاکستان کی سب سیاسی جماعتوں کو اقتدار کی رسا کسی کی بجائے اب قومی سلامتی اور مفادات کے لئے سوچنے کی ضرورت ہے،  ڈیم ملکی ترقی کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہیں ۔ اور اس کے لئے سب سیاسی قیادت اور سیول بیورو کریسی کو اب پرانی روش چھوڑ کر ان ملکی اور قومی مفادات بارے سوچنے اور فیصلے کرنے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ عوام جس حال میں اس وقت ہے وہ کسی بھی لاوہ کی پھٹ سکتے ہیں ۔ اور اشرافیہ کے خلاف اپنا غصہ نکالنے میں دیر نہیں کریں گے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اب اشرافیہ کو اپنی عیاشیاں چھوڑ کر عوامی منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کر کے ان کو شروع کرنے کی ضرورت ہے،   بلوچستان، خیبر پختونخواہ سندھ اور پنجاب میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے ڈیم بنانے جا سکتے ہیں اور ان سے مقامی عوام میں خوشحالی آسکتی ہے،  اس کے لئے مرکزی حکومت صوبائی حکومتوں سے مشورہ کر کے مل کر منصوبہ بندی کر سکتی ہیں ۔ اور اس عوامی خوشحالی کے لئے آپس کی سیاسی عداوتوں  کچھ وقت کے لئے بھول اور چھوڑ کر اب غرہب عوام کے لئے سوچنا چاہئے ۔  تاکہ عوام کا سیاست دانوں پر اعتماد بحال ہو۔ ورنہ اس وقت عام پاکستانی عوام یہی سوچتی پے کہ سیاست دانوں کو صرف اقتدار کی ضرورت کے وقت عوام یاد آتی ہے،  ورنہ ان کو عوام کہ کوئی پرواہ نہیں ہے۔  عوام کہ اس سوچ کو سیاست دان چاہئیں تو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ عوام کی فلاح وبہبود کے اصل منصوبے شروع کر کے،  امید کرتا ہوں کہ میری بات احکام بالا تک پہنچ گئی تو وہ اس پر ضرور غور کریں گے،   ☆☆☆☆☆ New dams in Pakistan Importance

صحافی کے قلم سے

تاریخ سے نا بلد میڈیا مینیجرز اور صحافت

  تحریر : محمد بلال افتخار خان میں نے الیکٹرونک میڈیا یکم مارچ دوہزار سات میں جوائن کیا۔۔ بڑے چینلز میں کام کیا اور چار چینلز جن میں چینل ۵ ، چینل 24، نیو ٹی وی، سنو ٹی وی وغیرہ شامل ہیں کی لانچنگ ٹیم میں بھی شامل تھا۔۔ اس کے علاوہ انڈس نیوز ، ایکسپریس اور ایکسپریس 247  کے لانچ کے فوراً بعد ان چینلز میں کام کرنے کا موقع ملا۔۔ اپنی سولہ سالہ میڈیا کی نوکری میں ایک چیز بار بار یاد دلائی گئی۔۔۔ بلال صاحب زیادہ تاریخ میں نا جایا کریں ، تجزیہ موجودہ حالات پر ہونا چاہئے نا کہ تاریخی ارتقاء پر۔۔۔  دوستو ہمارے میڈیا مینجرز تاریخ سے کیوں بھاگتے ہیں؟ میرا خیال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر اور کرنٹ افیئیرز کا مقصد معلومات کی ترسیل سے زیادہ انہیں بیچنا ہے۔۔۔ خبر اور کرنٹ افیئر پروگرامنگ ایک کموڈٹی ہے جس سے ایک تو جسے سپورٹ کیا جا رہا ہے اُس سے فائیدے لینے کی کوشش ہے اور دوسرا مخصوص سامعین کو انگیج کر کے ریٹنگ کمانی ہے جس سے اینکر اور چینل فائیدہ اُٹھا سکیں ، چینل کو اشتہارات ملیں اور اینکر کو بہتر نوکری اور معاشی ، سیاسی ،سماجی طاقتوروں سے فوائد حاصل ہوں (سب اینکر ایسا نہیں کرتے لیکن اکثریت یہی سوچ رکھتی ہے) المیہ یہ ہے کہ جس تاریخ سے ہم بھاگتے ہیں ۔۔۔۔وہی تاریخ ،جہاں ماضی کے تجربات بتاتی ہے وہان موجودہ حالات کے ارتقا اور ارتقا کے پیچھے چھپی طاقتوں، نظریات اور حالات کا بھی پتہ دیتی ہیں جو بالآخر  سیاسی اور سماجی کلچرل ڈویلپمنٹ اور اُن کے پیچھے چھپی وجوہات اور معروضی  کلچر کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔۔۔ تاریخ سے دوری اور سیل ایبل یا بکنے  والی کموڈٹی کی دوڑ نے جتنا پاکستانی صحافت کو نقصان پہنچایا ہے اُتنا کسی مارشل لاء اور جمہوری یا فوجی ڈیکٹیٹر شپ نے بھی نہیں پہنچایا۔۔۔ اس سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی  نے معاشرے کی  اساسی بنیاد مضبوط نہیں ہونے دی اور وہ وجوہات جن کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا اُسے  سمجھنے کی کوشش نہیں کی  ، مذید یہ کہ  جس نے چاہا اور جیسے چاہا بغیر تاریخ اور پاکستان کی نظریاتی اساس سمجھے پاکستان کے قومی مفاد اور اس کی سمت کی تشریح کی ۔۔۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہم تقریباً آٹھ دہائیاں گزارنے کے بعد بھی بے سمت اور کنفیوز ہیں۔۔۔ اس تمام کا فائیدہ اشرافیہ نے اُٹھایا اور پھر اُن صحافیوں نے جو یا تو حب الوطنی میں وہ نظریات بیچتے نظر آئے جن کا  اس زمین  اور نا ہی بنیادِ پاکستان سے مطابقت تھی ۔۔یا وہ جنہوں نے لالچ یا پھر محبت میں روح پاکستان سے زیادہ سیاسی اور اپنے نظریاتی اعتبار صحافت کی۔۔۔  انگریزی کی کہاوت ہے History repeats itself but with variations. کیونکہ ہم تاریخ سے بھاگے اس لئے آج بھی ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے دائرے میں بھاگ رہے ہیں۔۔۔ اور بے سمت ہونے کی وجہ سے ہم ایسے ہی بھاگتے رہیں گے۔۔۔۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے آمیں، ثم آمین

صحافی کے قلم سے

تاریخ سے نا بلد میڈیا مینیجرز اور صحافت

  تحریر : محمد بلال افتخار خان میں نے الیکٹرونک میڈیا یکم مارچ دوہزار سات میں جوائن کیا۔۔ بڑے چینلز میں کام کیا اور چار چینلز جن میں چینل ۵ ، چینل 24، نیو ٹی وی، سنو ٹی وی وغیرہ شامل ہیں کی لانچنگ ٹیم میں بھی شامل تھا۔۔ اس کے علاوہ انڈس نیوز ، ایکسپریس اور ایکسپریس 247  کے لانچ کے فوراً بعد ان چینلز میں کام کرنے کا موقع ملا۔۔ اپنی سولہ سالہ میڈیا کی نوکری میں ایک چیز بار بار یاد دلائی گئی۔۔۔ بلال صاحب زیادہ تاریخ میں نا جایا کریں ، تجزیہ موجودہ حالات پر ہونا چاہئے نا کہ تاریخی ارتقاء پر۔۔۔  دوستو ہمارے میڈیا مینجرز تاریخ سے کیوں بھاگتے ہیں؟ میرا خیال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر اور کرنٹ افیئیرز کا مقصد معلومات کی ترسیل سے زیادہ انہیں بیچنا ہے۔۔۔ خبر اور کرنٹ افیئر پروگرامنگ ایک کموڈٹی ہے جس سے ایک تو جسے سپورٹ کیا جا رہا ہے اُس سے فائیدے لینے کی کوشش ہے اور دوسرا مخصوص سامعین کو انگیج کر کے ریٹنگ کمانی ہے جس سے اینکر اور چینل فائیدہ اُٹھا سکیں ، چینل کو اشتہارات ملیں اور اینکر کو بہتر نوکری اور معاشی ، سیاسی ،سماجی طاقتوروں سے فوائد حاصل ہوں (سب اینکر ایسا نہیں کرتے لیکن اکثریت یہی سوچ رکھتی ہے) المیہ یہ ہے کہ جس تاریخ سے ہم بھاگتے ہیں ۔۔۔۔وہی تاریخ ،جہاں ماضی کے تجربات بتاتی ہے وہان موجودہ حالات کے ارتقا اور ارتقا کے پیچھے چھپی طاقتوں، نظریات اور حالات کا بھی پتہ دیتی ہیں جو بالآخر  سیاسی اور سماجی کلچرل ڈویلپمنٹ اور اُن کے پیچھے چھپی وجوہات اور معروضی  کلچر کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔۔۔ تاریخ سے دوری اور سیل ایبل یا بکنے  والی کموڈٹی کی دوڑ نے جتنا پاکستانی صحافت کو نقصان پہنچایا ہے اُتنا کسی مارشل لاء اور جمہوری یا فوجی ڈیکٹیٹر شپ نے بھی نہیں پہنچایا۔۔۔ اس سب کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی  نے معاشرے کی  اساسی بنیاد مضبوط نہیں ہونے دی اور وہ وجوہات جن کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا اُسے  سمجھنے کی کوشش نہیں کی  ، مذید یہ کہ  جس نے چاہا اور جیسے چاہا بغیر تاریخ اور پاکستان کی نظریاتی اساس سمجھے پاکستان کے قومی مفاد اور اس کی سمت کی تشریح کی ۔۔۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ آج ہم تقریباً آٹھ دہائیاں گزارنے کے بعد بھی بے سمت اور کنفیوز ہیں۔۔۔ اس تمام کا فائیدہ اشرافیہ نے اُٹھایا اور پھر اُن صحافیوں نے جو یا تو حب الوطنی میں وہ نظریات بیچتے نظر آئے جن کا  اس زمین  اور نا ہی بنیادِ پاکستان سے مطابقت تھی ۔۔یا وہ جنہوں نے لالچ یا پھر محبت میں روح پاکستان سے زیادہ سیاسی اور اپنے نظریاتی اعتبار صحافت کی۔۔۔  انگریزی کی کہاوت ہے History repeats itself but with variations. کیونکہ ہم تاریخ سے بھاگے اس لئے آج بھی ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے دائرے میں بھاگ رہے ہیں۔۔۔ اور بے سمت ہونے کی وجہ سے ہم ایسے ہی بھاگتے رہیں گے۔۔۔۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے آمیں، ثم آمین

صحافی کے قلم سے

ٹرمپ عمران اور ٹرسٹ

 ٹرمپ عمران اور ٹرسٹ  15 جون 2023  محمد طارق خان  سابق امریکی صدر ٹرمپ کا نیویارک اٹارنی جنرل کے دفتر میں بیان ریکارڈ کیا گیا، جس میں ٹرمپ سے ان کے ٹرسٹ سے متعلق بھی سوالات کئے گئے۔ امریکی آئین میں پانچویں ترمیم کسی بھی ملزم کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرے، کسی سوال کا جواب یا کوئی ایسی تحریر یا دستاویز نہ دے جسے استغاثہ اپنے حق میں اور ملزم کے خلاف استعمال کرسکے، اپنا مقدمہ اور الزامات ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے، ٹرمپ نے اسی پانچویں ترمیم کا سہارا لیا اور اٹارنی جنرل دفتر کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ تاہم آپ ٹرسٹ کے متعلق اٹارنی جنرل آفس کے سوالات سے اندازا لگا سکتے ہیں کہ ہر ٹرسٹ کارِ خیر کے لئے نہیں بنایا جاتا، بسا اوقات ٹرسٹ کالا دھن چھپانے، ٹیکس چوری کرنے اور من پسند افراد کو نوازنے کے لئے بھی بنائے جاتے ہیں ۔۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی ایسا ہی ایک ٹرسٹ بنا کر اربوں روپے کا کالا دھن ٹھکانے لگانے کے الزامات کا سامنا ہے۔  عمران کہتے ہیں ٹرسٹ بنایا تو کیا ہوا، ٹرسٹ نے یونیورسٹی بنائی تو کوئی جرم نہیں، مگر اس طرح کے گمراہ کن بیانات سے وہ اصل جرم کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ اصل جرم یہ کہ برطانیہ سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کی مد میں ضبط شدہ 190 ملین پونڈ کی خطیر رقم جو پاکستان کے سرکاری خزانے میں آنی تھی، وہ انہوں نے غیرقانونی طور پر دوبارہ ملک ریاض کے حوالہ کی، تاکہ وہ سپریم کورٹ میں ایک اور مقدمہ میں ملک ریاض پر عائد جرمانے کی مد میں جمع کروائی جا سکے، اس طرح سرکاری خزانے کو 190 ملین پونڈ کا نقصان پہنچایا گیا اور ملک ریاض کو 190 ملین پونڈ کا فائدہ ۔۔۔  جس کے عوض ملک ریاض سے اربوں روپے کی زمین بطور عطیہ لی گئی اور یہ عطیہ وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک ٹرسٹ بنا کر اسکے نام پر وصول کیا گیا اور پھر اس پر زمین پر عمارات بھی ملک ریاض نے بطور عطیہ تعمیر کروائیں۔  وزیراعظم ہوتے ہوئے ٹرسٹ بنانا، بورڈ آف ٹرسٹیز میں صرف خاندان کو رکھنا اور ایک ایسی کاروباری شخصیت سے اس ٹرسٹ کے لئے زمین اور عمارت لینا جسے آپ نے بطور وزیراعظم 190 ملین پونڈ کا فایدہ پہنچایا ہو، اور کابینہ سے ایک سربمہر لفافے میں ایک غیرقانونی معاہدے کی منظوری لینا ۔۔۔ یہ سارے عمل غیر قانونی ہیں، چاہے آپ نے اس کے عوض مسجد بنوائی یا مدرسہ یا یونیورسٹی ۔۔۔ عطیات رشوت اور ملنے والا فائدہ یا رقم غیر قانونی ہی متصور ہوں گے۔۔۔   یہ بات ٹرمپ کے اس کلپ کے حوالے سے ان لوگوں کو سمجھانی ہے جنہیں اس معاملے میں کچھ ابہام ہے۔ رہے یوتھیئے تو یوتھیوں کے لئے کسی دلیل اور ثبوت کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے وہ اس پوسٹ سے دور رہیں ۔۔

صحافی کے قلم سے

ٹرمپ عمران اور ٹرسٹ

 ٹرمپ عمران اور ٹرسٹ  15 جون 2023  محمد طارق خان  سابق امریکی صدر ٹرمپ کا نیویارک اٹارنی جنرل کے دفتر میں بیان ریکارڈ کیا گیا، جس میں ٹرمپ سے ان کے ٹرسٹ سے متعلق بھی سوالات کئے گئے۔ امریکی آئین میں پانچویں ترمیم کسی بھی ملزم کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرے، کسی سوال کا جواب یا کوئی ایسی تحریر یا دستاویز نہ دے جسے استغاثہ اپنے حق میں اور ملزم کے خلاف استعمال کرسکے، اپنا مقدمہ اور الزامات ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے، ٹرمپ نے اسی پانچویں ترمیم کا سہارا لیا اور اٹارنی جنرل دفتر کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ تاہم آپ ٹرسٹ کے متعلق اٹارنی جنرل آفس کے سوالات سے اندازا لگا سکتے ہیں کہ ہر ٹرسٹ کارِ خیر کے لئے نہیں بنایا جاتا، بسا اوقات ٹرسٹ کالا دھن چھپانے، ٹیکس چوری کرنے اور من پسند افراد کو نوازنے کے لئے بھی بنائے جاتے ہیں ۔۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی ایسا ہی ایک ٹرسٹ بنا کر اربوں روپے کا کالا دھن ٹھکانے لگانے کے الزامات کا سامنا ہے۔  عمران کہتے ہیں ٹرسٹ بنایا تو کیا ہوا، ٹرسٹ نے یونیورسٹی بنائی تو کوئی جرم نہیں، مگر اس طرح کے گمراہ کن بیانات سے وہ اصل جرم کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ اصل جرم یہ کہ برطانیہ سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کی مد میں ضبط شدہ 190 ملین پونڈ کی خطیر رقم جو پاکستان کے سرکاری خزانے میں آنی تھی، وہ انہوں نے غیرقانونی طور پر دوبارہ ملک ریاض کے حوالہ کی، تاکہ وہ سپریم کورٹ میں ایک اور مقدمہ میں ملک ریاض پر عائد جرمانے کی مد میں جمع کروائی جا سکے، اس طرح سرکاری خزانے کو 190 ملین پونڈ کا نقصان پہنچایا گیا اور ملک ریاض کو 190 ملین پونڈ کا فائدہ ۔۔۔  جس کے عوض ملک ریاض سے اربوں روپے کی زمین بطور عطیہ لی گئی اور یہ عطیہ وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک ٹرسٹ بنا کر اسکے نام پر وصول کیا گیا اور پھر اس پر زمین پر عمارات بھی ملک ریاض نے بطور عطیہ تعمیر کروائیں۔  وزیراعظم ہوتے ہوئے ٹرسٹ بنانا، بورڈ آف ٹرسٹیز میں صرف خاندان کو رکھنا اور ایک ایسی کاروباری شخصیت سے اس ٹرسٹ کے لئے زمین اور عمارت لینا جسے آپ نے بطور وزیراعظم 190 ملین پونڈ کا فایدہ پہنچایا ہو، اور کابینہ سے ایک سربمہر لفافے میں ایک غیرقانونی معاہدے کی منظوری لینا ۔۔۔ یہ سارے عمل غیر قانونی ہیں، چاہے آپ نے اس کے عوض مسجد بنوائی یا مدرسہ یا یونیورسٹی ۔۔۔ عطیات رشوت اور ملنے والا فائدہ یا رقم غیر قانونی ہی متصور ہوں گے۔۔۔   یہ بات ٹرمپ کے اس کلپ کے حوالے سے ان لوگوں کو سمجھانی ہے جنہیں اس معاملے میں کچھ ابہام ہے۔ رہے یوتھیئے تو یوتھیوں کے لئے کسی دلیل اور ثبوت کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے وہ اس پوسٹ سے دور رہیں ۔۔

صحافی کے قلم سے

ٹرسٹ۔۔۔ اور۔۔۔۔ القادر ٹرسٹ

 ٹرسٹ۔۔۔ اور۔۔۔۔ القادر ٹرسٹ: ٹرسٹ کے دو معنی ہیں، ایک  لغوی اور ایک قانونی۔ لغوی معنی کے لحاظ ٹرسٹ کا معنی “اعتماد” ہے اور قانونی لحاظ سے “ٹرسٹ” ایک ڈھیلا ڈھالا سا خیراتی ادارہ ہوتا ہے جس میں آثاثوں کی ملکیت ٹرسٹی (ادارے کے سربراہ) کے پاس ہوتی ہے۔ ٹرسٹ قائم کر کے وراثت ٹیکس، گفٹ ٹیکس، ویلتھ ٹیکس اور ٹرانسفر ٹیکس سے بچا جا سکتا ہے۔ انکم ٹیکس سے پاک آمدنی اور اثاثے وصول کیے جا سکتے ہیں. ٹرسٹ کو تجارتی مقاصد کیلیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس کے اثاثوں کو نسل در نسل منتقل بھی کیا جا سکتا ہے۔ ٹرسٹ کے اثاثے حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہوتے اور ان کا عوامی ریکارڈ پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، ٹرسٹ کے معاملات پوری رازداری سے ٹرسٹی کی منشاء کے مطابق طے پا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس فاؤنڈیشن ایک زیادہ قانونی ادارہ ہوتا ہے، اس میں فرد کی بجائے تنظیم اثاثوں کی مالک ہوتی ہے، فاؤنڈیشن کو تجارتی مقاصد کیلیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، جانشینی نہیں ہو سکتی اور اس کا عوامی ریکارڈ موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔۔ فاؤنڈیشن زیادہ قانونی ادارہ ہوتا ہے جبکہ ٹرسٹ کو عوامی ڈومین میں رکھنے کیلیے فی الحال کوئی تفصیلی قوانین موجود نہیں ہیں۔۔ ٹرسٹ کے قوانین کو جان بوجھ کر مبہم رکھا گیا ہے تا کہ اشرافیہ اس کے ذریعہ ٹیکس بھی بچا سکے، تجارت بھی کر سکے اور عوامی سطح پر نیک نامی بھی کما سکے۔۔ عام آدمی نے صرف ویلفیئر آرگنائزیشن، ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کا نام سنا ہوتا ہے، اسے ان کے قانونی فرق کا پتا نہیں ہوتا، وہ اس قسم کے سب اداروں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ گھاگ لوگ اس فرق سے آگاہ ہوتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔ گویا “ٹرسٹ” کے نام پر عوامی ٹرسٹ (اعتماد) حاصل کیا جاتا ہے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ ٹرسٹ کے نام پر عوامی ٹرسٹ کو دھوکا دیا جا رہا ہو۔ اب آتے ہیں “القادر ٹرسٹ” کی طرف.  القادر ٹرسٹ کے معاملات کو سمجھنے کیلیے دو الگ الگ کیسوں کا سمجھنا ضروری ہے جو بعد میں جُڑ کر ایک ہو جاتے ہیں۔  پہلا کیس: ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات پورا کرنے کیلیے حکومتِ سندھ نے 2013 میں کراچی کے ضلع ملیر کے ساتھ منسلک ایک نیا شہر قائم کرنے کا اعلان کیا اور اس کیلیے کراچی-حیدرآباد سپر ہائی-وے پر 17617 ایکڑ زمین مختص کی۔ اس کیلیے “ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی” کے نام سے ادارہ قائم کیا گیا۔ عوام سے 15000 روپے فی کس کے فارم پر پلاٹوں کی قرعہ اندازی کیلیے رقم اکٹھی کی گئی۔ بعد میں ملک ریاض کو وہاں پر بحریہ ٹاؤن قائم کرنے کا خیال ستایا تو حکومتِ سندھ کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کر دی گئی۔ ملک ریاض نے بلوچستان اور ٹھٹھہ کے ویرانوں میں خریدی گئی سستی زمینوں کا تبادلہ زرداری سسٹم کی ملی بھگت سے کراچی-حیدر آباد سپر ہائی وے پر کروا لیا اور بحریہ ٹاؤن بڑھتے بڑھتے 30 ہزار ایکڑ پر پھیل گیا۔ 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے یہ کیس پیش ہوا، چیف جسٹس نے ان زمینی تبادلہ جات پر ریمارکس دیے کہ: “چاندی کے بدلے سونا خریدا گیا”–  بحریہ ٹاؤن پر چونکہ آبادی بھی ہو چکی تھی لیکن زمینوں کی الاٹمینٹ اور تبادلہ جات غیر قانونی تھے لہذا اس کا حل عدالت نے یہ پیش کیا کہ قومی خزانے کو جو نقصان پہنچایا گیا ہے ملک ریاض اسے پورا کرے۔ ملک ریاض نے تصفیے کے بعد 460 ارب روپے قسطوں میں ادا کرنے کا اقرار کیا ۔ اس وصولی کیلیے سپریم کورٹ کے تحت ایک اکاؤنٹ قائم کیا گیا اور طے پایا کہ ملک ریاض 460 ارب روپے کی قسطیں اس اکاؤنٹ میں جمع کروایا کرے گا اور وہاں سے رقم قومی خزانے کو منتقل ہوتی رہے گی۔ ملک ریاض یہ قسطیں ابھی تک جمع کروا رہا ہے۔۔ ۔۔ یہ پہلا کیس ہے۔۔  دوسرا کیس: لندن منی لانڈرنگ کیس: دوسرا کیس پاکستان سے باہر برطانیہ کا ہے۔ 2019 کے اوائل میں ملک ریاض کو برطانیہ کی *نیشنل کرائم ایجنسی* (NCA) نے منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت شاملِ تفتیش کیا کہ ملک ریاض نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر منی لانڈرنگ کرتے ہوئے ایک خطیر رقم برطانیہ منتقل کی۔ ملک ریاض نے NCA سے بھی تصفیہ کیا اور 190 ملین پاؤنڈ (تقریبًا 60 ارب روپے) لندن میں NCA کو جمع کروا دیئے۔ NCA کے مطابق یہ رقم چونکہ پاکستان سے منی لانڈرنگ کے ذریعہ برطانیہ منتقل ہوئی تھی اور یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی لہذا اس رقم کو پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ ۔۔ یہ دوسرا کیس ہے۔  اب دیکھتے ہیں کہ دونوں کیس آپس میں جُڑتے کس طرح ہیں ۔۔ لندن سے رقم کی پاکستان منتقلی اور وفاقی کابینہ کا اجلاس: 22 نومبر 2019 کو لندن ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ نے ملک ریاض سے وصول کی گئی رقم پاکستان منتقل کرنے کا اعلان کیا۔  اس سے پہلے ستمبر 2019 میں شہزاد اکبر کی ڈورچیسٹر ہوٹل میں ملک ریاض سے ملاقات ہوئی۔ بعد میں ملک ریاض کی بیٹی کی شادی پر بھی برطانیہ میں ملک ریاض سے ملاقات کی۔ شہزاد اکبر نے ہی NCA سے کہا کہ وہ ملک ریاض سے عدالت سے باہر باہر ہی سمجھوتہ کر لیں۔ اس وجہ سے ملک ریاض برطانیہ میں سزا سے بچ گئے اور رقم دے کر سزا سے جان چھڑا لی۔  رقم کی پاکستان منتقلی کے بعد 3 دسمبر 2019 کو 21 رکنی وفاقی کابینہ کا اجلاس عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ جس میں شیریں مزاری، مراد سعید، شیخ رشید، پرویز خٹک، شفقت محمود،  زلفی بخاری اور شہزاد اکبر کے علاوہ باقی وزراء موجود تھے. شہزاد اکبر نے ایجنڈے کے آئٹم نمبر 2 کے تحت ایک سیل بند لفافہ پیش کر کے کابینہ سے اسے بغیر کھولے منظور کرنے کو کہا۔  ایک اخباری رپورٹ کے مطابق : اسلام آباد میں جاری کابینہ کے اس اجلاس کے دوران معمول سے کچھ ہٹ کر ہوا۔ وزیرِاعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کو ‘ایجنڈا سے ہٹ کر’ ایک معاملہ پیش

صحافی کے قلم سے

عالمی حالات پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان

عالمی حالات ، پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان   تحریر :خالد خان رند اس وقت دنیا پھر میں ایک نیا بلاگ بننے جارہا ہے جس کی قیادت چین کر رہا ہے،  اس بلاگ میں روس اور چین اہم ممالک ہیں اور اس کے علاوہ سعودی عرب، ایران ترکیه اور کئی اہم ممالک اس میں شامل ہونے جارہے ہیں، اس بلاگ سے امریکہ کی اجارہ داری اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو شدید خطرہ لاحق ہیں، چین اور روس پہلے ہی ڈالر کی بجائے روبل اور چینی یوان میں کاروبار کر رہے ہیں، روس عالمی تجارت میں ڈالر نہیں لے رہا اور اپنا تیل یورپ کو روبل یا یوان میں بیچ رہا ہے ، یہ جو نیا بلاگ بن رہا ہے اس میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کی ایک خاص اہمیت ہے، اس کے علاوہ پاکستان کی عسکری قوت کی بھی ایک  خاص اہمیت ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بھی ہے،   اگر اس سارے عالمی تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان چینی بلاگ میں چلا جائے اور امریکہ سے دور ہو،  اور پاکستانی سیاست امریکہ کی تابع نہ ہو، یا یہاں ایسی حکومت ہو جو امریکہ مخالف ہو اور وہ امریکی ایجنڈے پر نہ چلے،  اس کے لئے امریکہ اس وقت پاکستان کی سیاست میں دخل اندازی کر رہا ہے، ہمارے کئی سیاسی قائدین اس کے پے رول پر ہیں،  یہ دیکھنے کے لئے کہ کون امریکہ پے رول پر ہیں یا امریکی مفادات اور ایجنڈے کے لئے کام کر رہے ہیں، ہمیں ان سیاسی جماعتوں کے منشور یا نعروں پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے،   اس کے علاوہ یاد رہے کہ عالمی طاقتیں شروع دن سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت ہیں،  ہمارے پڑوسی انڈیا پر کبھی بھی اس طرح ایٹمی پروگرام کی وجہ سے دباؤ نہیں ڈالا گیا جس طرح سے پاکستان مسلسل عالمی دباؤ میں رہا ہے،  پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کو سلام پیش کیا جانا چاہئے جنہوں نے اپنے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر اس ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا، اور اسے باضابطہ پروگرام میں تبدیل کر کے پاکستان کو عالمی ایٹمی قوت تسلیم کروایا،   لیکن بات ختم نہیں ہوئی، اور عالمی خفیہ طاقتیں آج بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک اور ختم کروانے کے لئے مسلسل متحرک ہیں، اور وہ ایسے حالات بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ رہے،  کیوں کہ ایٹمی پاکستان اور ایک طاقتور فوج کا مالک پاکستان عالمی استعماری قوتوں کو پسند نہیں ہے،  اور اس پر اگر پاکستان باضابطہ طور پر چینی بلاگ میں شامل ہو جاتا ہے اور ڈالر سے بھی جان چھڑا لیتا ہے تو پاکستان اقتصادی ترقی کر سکتا ہے، کیوں کہ چین عالمی طور پر جنگوں پر بلکہ تجارتی تعلقات پر یقین رکھتا ہے،  اور اس نے اپنی تجارتی طاقت سے ساری دنیا کو جکڑ لیا ہے،  دوسری طرف چین اپنے ہمنوا ممالک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ہے،  اس وقت پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف ہے، اور چین کے پاکستان سے تعلقات بھی بہت پرانے ہیں،  سابق حکومت (پی ٹی آئی دور) میں پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچا اور سی پیک جیسے پروگرام کو نقصان پہنچا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے چین کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس میں پاکستان کی عسکری قیادت کا دورہ چین اہمیت رکھتا ہے،  اس سارے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس وقت پاکستان میں کیا سیاسی صورتحال ہے؟  اور سیاسی جماعتیں کس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں،   ویسے تو پاکستان میں سب سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ امریکی مفادات کا زیادہ خیال رکھا ہے، بجائے پاکستان کے قومی مفادات کے،  اور اس وقت بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے،   لیکن اس وقت عالمی حالات پہلے جیسے نہیں ہیں، عالمی حالات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں بھی کچھ اسی طرح کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں،   امریکہ سازش کا بیانیہ بنا کر عوام کو ہمنوا بنانے والے عمران خان دراصل امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،   اور یہ سب سمجھنے کے لئے کسی افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں ہے،  بلکہ ان کی حکومت کے دور میں ہونے والے سب اقدامات اور منظور ہونے والے بل اس بات کے گواہ ہیں، کہ وہ امریکی ایجنڈے پر کاربند رہے تھے یا کہ مخالف?  ان کے دور حکومت میں پاکستان کے چین سے درینہ تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی ، سی پیک پر کام رک گیا، لیکن ایک جمہوری عمل سے ان کی حکومت ختم ہونے پر انہوں نے عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے، جھوٹ پر مبنی امریکی سازش کا بیانیہ بنا کر سادہ لوح عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا،  اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے پر کام شروع کرتے ہوئے عوام کو اپنی ہی افواج کے خلاف ورغلانے کا کام شدت سے شروع کر دیا، فوج کی کردار کشی کرتے ہوئے عوام کو ان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی،   اور اب کرپشن کے کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو کچھ پی ٹی آئی نے کیا ہے،  اس سے واضع طور پر نظر آرہا ہے کہ یہ روایتی انداز کی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش ہے،   سرکاری املاک پر اور خاص کر عسکری قیادت اور عسکری املاک پر جتھوں کی صورت حملے شروع ہو گئے اور یہ وہ مقامات تھے جہاں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور را جیسے پاکستان دشمن پہلے حملوں کی کوشش کر چکی ہیں،  اور نظر یہ آتا ہے کہ یہ سب پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے،  اس طرح کی جتھہ بندی راتوں رات نہیں ہوتی،   اور بلکل اسی انداز کے مناظر اور حالات پر مبنی ہالی وڈ کی فلمیں بن چکی ہیں، پاکستان کے بارے ميں،  ان فلموں میں دیکھایا گیا کہ اس طرح کے حملوں کے بعد امریکہ پاکستان میں آپریشن کر کے پاکستان

صحافی کے قلم سے

عالمی حالات پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان

عالمی حالات ، پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان   تحریر :خالد خان رند اس وقت دنیا پھر میں ایک نیا بلاگ بننے جارہا ہے جس کی قیادت چین کر رہا ہے،  اس بلاگ میں روس اور چین اہم ممالک ہیں اور اس کے علاوہ سعودی عرب، ایران ترکیه اور کئی اہم ممالک اس میں شامل ہونے جارہے ہیں، اس بلاگ سے امریکہ کی اجارہ داری اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو شدید خطرہ لاحق ہیں، چین اور روس پہلے ہی ڈالر کی بجائے روبل اور چینی یوان میں کاروبار کر رہے ہیں، روس عالمی تجارت میں ڈالر نہیں لے رہا اور اپنا تیل یورپ کو روبل یا یوان میں بیچ رہا ہے ، یہ جو نیا بلاگ بن رہا ہے اس میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کی ایک خاص اہمیت ہے، اس کے علاوہ پاکستان کی عسکری قوت کی بھی ایک  خاص اہمیت ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بھی ہے،   اگر اس سارے عالمی تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان چینی بلاگ میں چلا جائے اور امریکہ سے دور ہو،  اور پاکستانی سیاست امریکہ کی تابع نہ ہو، یا یہاں ایسی حکومت ہو جو امریکہ مخالف ہو اور وہ امریکی ایجنڈے پر نہ چلے،  اس کے لئے امریکہ اس وقت پاکستان کی سیاست میں دخل اندازی کر رہا ہے، ہمارے کئی سیاسی قائدین اس کے پے رول پر ہیں،  یہ دیکھنے کے لئے کہ کون امریکہ پے رول پر ہیں یا امریکی مفادات اور ایجنڈے کے لئے کام کر رہے ہیں، ہمیں ان سیاسی جماعتوں کے منشور یا نعروں پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے،   اس کے علاوہ یاد رہے کہ عالمی طاقتیں شروع دن سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت ہیں،  ہمارے پڑوسی انڈیا پر کبھی بھی اس طرح ایٹمی پروگرام کی وجہ سے دباؤ نہیں ڈالا گیا جس طرح سے پاکستان مسلسل عالمی دباؤ میں رہا ہے،  پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کو سلام پیش کیا جانا چاہئے جنہوں نے اپنے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر اس ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا، اور اسے باضابطہ پروگرام میں تبدیل کر کے پاکستان کو عالمی ایٹمی قوت تسلیم کروایا،   لیکن بات ختم نہیں ہوئی، اور عالمی خفیہ طاقتیں آج بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک اور ختم کروانے کے لئے مسلسل متحرک ہیں، اور وہ ایسے حالات بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ رہے،  کیوں کہ ایٹمی پاکستان اور ایک طاقتور فوج کا مالک پاکستان عالمی استعماری قوتوں کو پسند نہیں ہے،  اور اس پر اگر پاکستان باضابطہ طور پر چینی بلاگ میں شامل ہو جاتا ہے اور ڈالر سے بھی جان چھڑا لیتا ہے تو پاکستان اقتصادی ترقی کر سکتا ہے، کیوں کہ چین عالمی طور پر جنگوں پر بلکہ تجارتی تعلقات پر یقین رکھتا ہے،  اور اس نے اپنی تجارتی طاقت سے ساری دنیا کو جکڑ لیا ہے،  دوسری طرف چین اپنے ہمنوا ممالک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ہے،  اس وقت پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف ہے، اور چین کے پاکستان سے تعلقات بھی بہت پرانے ہیں،  سابق حکومت (پی ٹی آئی دور) میں پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچا اور سی پیک جیسے پروگرام کو نقصان پہنچا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے چین کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس میں پاکستان کی عسکری قیادت کا دورہ چین اہمیت رکھتا ہے،  اس سارے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس وقت پاکستان میں کیا سیاسی صورتحال ہے؟  اور سیاسی جماعتیں کس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں،   ویسے تو پاکستان میں سب سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ امریکی مفادات کا زیادہ خیال رکھا ہے، بجائے پاکستان کے قومی مفادات کے،  اور اس وقت بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے،   لیکن اس وقت عالمی حالات پہلے جیسے نہیں ہیں، عالمی حالات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں بھی کچھ اسی طرح کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں،   امریکہ سازش کا بیانیہ بنا کر عوام کو ہمنوا بنانے والے عمران خان دراصل امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،   اور یہ سب سمجھنے کے لئے کسی افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں ہے،  بلکہ ان کی حکومت کے دور میں ہونے والے سب اقدامات اور منظور ہونے والے بل اس بات کے گواہ ہیں، کہ وہ امریکی ایجنڈے پر کاربند رہے تھے یا کہ مخالف?  ان کے دور حکومت میں پاکستان کے چین سے درینہ تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی ، سی پیک پر کام رک گیا، لیکن ایک جمہوری عمل سے ان کی حکومت ختم ہونے پر انہوں نے عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے، جھوٹ پر مبنی امریکی سازش کا بیانیہ بنا کر سادہ لوح عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا،  اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے پر کام شروع کرتے ہوئے عوام کو اپنی ہی افواج کے خلاف ورغلانے کا کام شدت سے شروع کر دیا، فوج کی کردار کشی کرتے ہوئے عوام کو ان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی،   اور اب کرپشن کے کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو کچھ پی ٹی آئی نے کیا ہے،  اس سے واضع طور پر نظر آرہا ہے کہ یہ روایتی انداز کی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش ہے،   سرکاری املاک پر اور خاص کر عسکری قیادت اور عسکری املاک پر جتھوں کی صورت حملے شروع ہو گئے اور یہ وہ مقامات تھے جہاں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور را جیسے پاکستان دشمن پہلے حملوں کی کوشش کر چکی ہیں،  اور نظر یہ آتا ہے کہ یہ سب پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے،  اس طرح کی جتھہ بندی راتوں رات نہیں ہوتی،   اور بلکل اسی انداز کے مناظر اور حالات پر مبنی ہالی وڈ کی فلمیں بن چکی ہیں، پاکستان کے بارے ميں،  ان فلموں میں دیکھایا گیا کہ اس طرح کے حملوں کے بعد امریکہ پاکستان میں آپریشن کر کے پاکستان

صحافی کے قلم سے

عالمی حالات پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان

عالمی حالات ، پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان   تحریر :خالد خان رند اس وقت دنیا پھر میں ایک نیا بلاگ بننے جارہا ہے جس کی قیادت چین کر رہا ہے،  اس بلاگ میں روس اور چین اہم ممالک ہیں اور اس کے علاوہ سعودی عرب، ایران ترکیه اور کئی اہم ممالک اس میں شامل ہونے جارہے ہیں، اس بلاگ سے امریکہ کی اجارہ داری اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو شدید خطرہ لاحق ہیں، چین اور روس پہلے ہی ڈالر کی بجائے روبل اور چینی یوان میں کاروبار کر رہے ہیں، روس عالمی تجارت میں ڈالر نہیں لے رہا اور اپنا تیل یورپ کو روبل یا یوان میں بیچ رہا ہے ، یہ جو نیا بلاگ بن رہا ہے اس میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کی ایک خاص اہمیت ہے، اس کے علاوہ پاکستان کی عسکری قوت کی بھی ایک  خاص اہمیت ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بھی ہے،   اگر اس سارے عالمی تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان چینی بلاگ میں چلا جائے اور امریکہ سے دور ہو،  اور پاکستانی سیاست امریکہ کی تابع نہ ہو، یا یہاں ایسی حکومت ہو جو امریکہ مخالف ہو اور وہ امریکی ایجنڈے پر نہ چلے،  اس کے لئے امریکہ اس وقت پاکستان کی سیاست میں دخل اندازی کر رہا ہے، ہمارے کئی سیاسی قائدین اس کے پے رول پر ہیں،  یہ دیکھنے کے لئے کہ کون امریکہ پے رول پر ہیں یا امریکی مفادات اور ایجنڈے کے لئے کام کر رہے ہیں، ہمیں ان سیاسی جماعتوں کے منشور یا نعروں پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے،   اس کے علاوہ یاد رہے کہ عالمی طاقتیں شروع دن سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت ہیں،  ہمارے پڑوسی انڈیا پر کبھی بھی اس طرح ایٹمی پروگرام کی وجہ سے دباؤ نہیں ڈالا گیا جس طرح سے پاکستان مسلسل عالمی دباؤ میں رہا ہے،  پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کو سلام پیش کیا جانا چاہئے جنہوں نے اپنے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر اس ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا، اور اسے باضابطہ پروگرام میں تبدیل کر کے پاکستان کو عالمی ایٹمی قوت تسلیم کروایا،   لیکن بات ختم نہیں ہوئی، اور عالمی خفیہ طاقتیں آج بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک اور ختم کروانے کے لئے مسلسل متحرک ہیں، اور وہ ایسے حالات بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ رہے،  کیوں کہ ایٹمی پاکستان اور ایک طاقتور فوج کا مالک پاکستان عالمی استعماری قوتوں کو پسند نہیں ہے،  اور اس پر اگر پاکستان باضابطہ طور پر چینی بلاگ میں شامل ہو جاتا ہے اور ڈالر سے بھی جان چھڑا لیتا ہے تو پاکستان اقتصادی ترقی کر سکتا ہے، کیوں کہ چین عالمی طور پر جنگوں پر بلکہ تجارتی تعلقات پر یقین رکھتا ہے،  اور اس نے اپنی تجارتی طاقت سے ساری دنیا کو جکڑ لیا ہے،  دوسری طرف چین اپنے ہمنوا ممالک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ہے،  اس وقت پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف ہے، اور چین کے پاکستان سے تعلقات بھی بہت پرانے ہیں،  سابق حکومت (پی ٹی آئی دور) میں پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچا اور سی پیک جیسے پروگرام کو نقصان پہنچا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے چین کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس میں پاکستان کی عسکری قیادت کا دورہ چین اہمیت رکھتا ہے،  اس سارے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس وقت پاکستان میں کیا سیاسی صورتحال ہے؟  اور سیاسی جماعتیں کس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں،   ویسے تو پاکستان میں سب سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ امریکی مفادات کا زیادہ خیال رکھا ہے، بجائے پاکستان کے قومی مفادات کے،  اور اس وقت بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے،   لیکن اس وقت عالمی حالات پہلے جیسے نہیں ہیں، عالمی حالات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں بھی کچھ اسی طرح کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں،   امریکہ سازش کا بیانیہ بنا کر عوام کو ہمنوا بنانے والے عمران خان دراصل امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،   اور یہ سب سمجھنے کے لئے کسی افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں ہے،  بلکہ ان کی حکومت کے دور میں ہونے والے سب اقدامات اور منظور ہونے والے بل اس بات کے گواہ ہیں، کہ وہ امریکی ایجنڈے پر کاربند رہے تھے یا کہ مخالف?  ان کے دور حکومت میں پاکستان کے چین سے درینہ تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی ، سی پیک پر کام رک گیا، لیکن ایک جمہوری عمل سے ان کی حکومت ختم ہونے پر انہوں نے عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے، جھوٹ پر مبنی امریکی سازش کا بیانیہ بنا کر سادہ لوح عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا،  اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے پر کام شروع کرتے ہوئے عوام کو اپنی ہی افواج کے خلاف ورغلانے کا کام شدت سے شروع کر دیا، فوج کی کردار کشی کرتے ہوئے عوام کو ان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی،   اور اب کرپشن کے کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو کچھ پی ٹی آئی نے کیا ہے،  اس سے واضع طور پر نظر آرہا ہے کہ یہ روایتی انداز کی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش ہے،   سرکاری املاک پر اور خاص کر عسکری قیادت اور عسکری املاک پر جتھوں کی صورت حملے شروع ہو گئے اور یہ وہ مقامات تھے جہاں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور را جیسے پاکستان دشمن پہلے حملوں کی کوشش کر چکی ہیں،  اور نظر یہ آتا ہے کہ یہ سب پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے،  اس طرح کی جتھہ بندی راتوں رات نہیں ہوتی،   اور بلکل اسی انداز کے مناظر اور حالات پر مبنی ہالی وڈ کی فلمیں بن چکی ہیں، پاکستان کے بارے ميں،  ان فلموں میں دیکھایا گیا کہ اس طرح کے حملوں کے بعد امریکہ پاکستان میں آپریشن کر کے پاکستان

Scroll to Top