صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

   بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

   بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

   بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

   بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا

صحافی کے قلم سے

ٹرمپ عمران اور ٹرسٹ

  15 جون 2023  محمد طارق خان  سابق امریکی صدر ٹرمپ کا نیویارک اٹارنی جنرل کے دفتر میں بیان ریکارڈ کیا گیا، جس میں ٹرمپ سے ان کے ٹرسٹ سے متعلق بھی سوالات کئے گئے۔ امریکی آئین میں پانچویں ترمیم کسی بھی ملزم کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ خاموشی اختیار کرے، کسی سوال کا جواب یا کوئی ایسی تحریر یا دستاویز نہ دے جسے استغاثہ اپنے حق میں اور ملزم کے خلاف استعمال کرسکے، اپنا مقدمہ اور الزامات ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہے، ٹرمپ نے اسی پانچویں ترمیم کا سہارا لیا اور اٹارنی جنرل دفتر کے کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ تاہم آپ ٹرسٹ کے متعلق اٹارنی جنرل آفس کے سوالات سے اندازا لگا سکتے ہیں کہ ہر ٹرسٹ کارِ خیر کے لئے نہیں بنایا جاتا، بسا اوقات ٹرسٹ کالا دھن چھپانے، ٹیکس چوری کرنے اور من پسند افراد کو نوازنے کے لئے بھی بنائے جاتے ہیں ۔۔ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو بھی ایسا ہی ایک ٹرسٹ بنا کر اربوں روپے کا کالا دھن ٹھکانے لگانے کے الزامات کا سامنا ہے۔  عمران کہتے ہیں ٹرسٹ بنایا تو کیا ہوا، ٹرسٹ نے یونیورسٹی بنائی تو کوئی جرم نہیں، مگر اس طرح کے گمراہ کن بیانات سے وہ اصل جرم کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ اصل جرم یہ کہ برطانیہ سے ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کی مد میں ضبط شدہ 190 ملین پونڈ کی خطیر رقم جو پاکستان کے سرکاری خزانے میں آنی تھی، وہ انہوں نے غیرقانونی طور پر دوبارہ ملک ریاض کے حوالہ کی، تاکہ وہ سپریم کورٹ میں ایک اور مقدمہ میں ملک ریاض پر عائد جرمانے کی مد میں جمع کروائی جا سکے، اس طرح سرکاری خزانے کو 190 ملین پونڈ کا نقصان پہنچایا گیا اور ملک ریاض کو 190 ملین پونڈ کا فائدہ ۔۔۔  جس کے عوض ملک ریاض سے اربوں روپے کی زمین بطور عطیہ لی گئی اور یہ عطیہ وزیراعظم ہوتے ہوئے ایک ٹرسٹ بنا کر اسکے نام پر وصول کیا گیا اور پھر اس پر زمین پر عمارات بھی ملک ریاض نے بطور عطیہ تعمیر کروائیں۔  وزیراعظم ہوتے ہوئے ٹرسٹ بنانا، بورڈ آف ٹرسٹیز میں صرف خاندان کو رکھنا اور ایک ایسی کاروباری شخصیت سے اس ٹرسٹ کے لئے زمین اور عمارت لینا جسے آپ نے بطور وزیراعظم 190 ملین پونڈ کا فایدہ پہنچایا ہو، اور کابینہ سے ایک سربمہر لفافے میں ایک غیرقانونی معاہدے کی منظوری لینا ۔۔۔ یہ سارے عمل غیر قانونی ہیں، چاہے آپ نے اس کے عوض مسجد بنوائی یا مدرسہ یا یونیورسٹی ۔۔۔ عطیات رشوت اور ملنے والا فائدہ یا رقم غیر قانونی ہی متصور ہوں گے۔۔۔   یہ بات ٹرمپ کے اس کلپ کے حوالے سے ان لوگوں کو سمجھانی ہے جنہیں اس معاملے میں کچھ ابہام ہے۔ رہے یوتھیئے تو یوتھیوں کے لئے کسی دلیل اور ثبوت کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے وہ اس پوسٹ سے دور رہیں ۔ 🔴🔵🔴🔵🔴

صحافی کے قلم سے

1947 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان دریاؤں کے پانی اور پہاڑی نمک پر معاہدے ۔ ایک جائزہ

1947 میں برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے بعد، پاکستان اور انڈیا کے درمیان کئی اہم مسائل پیدا ہوئے، جن میں دریاؤں کے پانی اور پہاڑی نمک کی تقسیم بھی شامل تھی۔ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے، دونوں ممالک نے 1947 میں دو اہم معاہدوں پر دستخط کیے: سندھ طاس معاہدہ اس معاہدے کے تحت، دریائے سندھ اور اس کے پانچ معاون دریاؤں (راوی، چناب، جہلم، ستلج اور بیاس) کے پانی کی تقسیم کا تعین کیا گیا۔ پاکستان کو مغربی دریاؤں (جہلم، چناب اور سندھ) پر کنٹرول حاصل ہوا، جبکہ انڈیا کو مشرقی دریاؤں (راوی، ستلج اور بیاس) پر کنٹرول حاصل ہوا۔ پہاڑی نمک کا معاہدہ اس معاہدے کے تحت، پاکستان اور انڈیا نے خیبر پختونخواہ کے نمک کے کانوں سے نمک کی پیداوار اور اس کی تقسیم پر اتفاق کیا۔ ہم اپنے اس مضمون میں ان دو معاہدوں کی تفصیلات، ان پر عمل درآمد کی صورتحال، اور ان معاہدوں کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیں گے ۔ سندھ طاس معاہدہ جنرل ایوب خان کے دور میں دوبارہ سندھ طاس معاہدے پر دستخط ہوئے  سندھ طاس معاہدہ ایک پیچیدہ اور تکنیکی معاہدہ تھا جس میں کئی سالوں کی مذاکرات کے بعد اتفاق کیا گیا تھا۔ معاہدے کی اہم شرائط درج ذیل ہیں:  پاکستان کو مغربی دریاؤں سے 36 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پانی حاصل کرنے کا حق حاصل ہوا۔ انڈیا کو مشرقی دریاؤں سے 40 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پانی حاصل کرنے کا حق حاصل ہوا۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے دریاؤں پر ڈیم اور دیگر آبی منصوبوں کی تعمیر کا حق حاصل کیا۔ ایک بین الاقوامی سندھ طاس کمیشن کی تشکیل کی گئی تاکہ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔ پہاڑی نمک کا معاہدہ پہاڑی نمک کا معاہدہ ایک نسبتاً سادہ معاہدہ تھا جس میں نمک کی پیداوار اور اس کی تقسیم پر اتفاق کیا گیا تھا۔ معاہدے کی اہم شرائط درج ذیل ہیں:  پاکستان اور انڈیا نمک کے کانوں سے نمک کی پیداوار میں برابر حصہ داری کریں گے۔ نمک کی تقسیم دونوں ممالک کی آبادی کے تناسب کے مطابق کی جائے گی۔ ایک مشترکہ انتظامیہ کی تشکیل کی گئی تاکہ نمک کے کانوں کا انتظام اور نمک کی تقسیم کی نگرانی کی جا سکے۔ لیکن نمک کی کوئی مخصوص قیمت مگر نہیں کی گئی تھی ۔ عمل درآمد کی صورتحال سندھ طاس معاہدہ اور پہاڑی نمک کا معاہدہ دونوں پر بڑی حد تک عمل درآمد کیا گیا ہے۔ سندھ طاس کمیشن نے دونوں ممالک کے درمیان پانی کے اختلافات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم، بہت سے مسائل اب بھی باقی ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت، پاکستان کو مغربی دریاؤں سے 36 ملین ایکڑ فٹ سالانہ پانی حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم، انڈیا نے کئی بار اس پانی کو روکنے کی کوشش کی ہے، اور اب تقریباً پانی روک چکا ہے جس سے پاکستان خشک سالی اور پانی کی کمی کا باعث بنا ہے۔ اور انڈیا اس پر ہڈ دھرمی کا مظاہرہ کرتا آرہا ہے ۔ پہاڑی نمک کے معاہدے کے تحت، پاکستان  انڈیا کی نمک کی ضرورت کو پورا کرے گا۔ لیکن اس، وقت حالات یہ ہیں کہ پاکستان سے انڈیا اپنی ضرورت سے زیادہ نمک لیتا ہے۔ اور پاکستان کا الزام ہے کہ انڈیا اسے یورپ اور امریکہ میں اپنی پروڈکٹ کہہ کر مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے ۔ خلافی ورزیاں پاکستان کا الزام ہے کہ انڈیا نے کئی بار سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، بشمول:  مغربی دریاؤں سے پانی روکنا غیر قانونی ڈیم اور آبی منصوبے بنانا سندھ طاس کمیشن کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرنا انڈیا کے غیر قانونی ڈیمز کے نام پاکستان کا الزام ہے کہ انڈیا نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کئی غیر قانونی ڈیم بنائے ہیں۔ ان میں سے کچھ اہم ڈیموں کے نام درج ذیل ہیں: تولتوا ڈیم یہ ڈیم دریائے راوی پر واقع ہے اور اس کی تعمیر 1989 میں مکمل ہوئی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ یہ ڈیم سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو دریائے راوی سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ راناپراد ڈیم  یہ ڈیم دریائے چناب پر واقع ہے اور اس کی تعمیر 2001 میں مکمل ہوئی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ یہ ڈیم بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو دریائے چناب سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ سالال ڈیم  یہ ڈیم دریائے چناب پر واقع ہے اور اس کی تعمیر 1987 میں مکمل ہوئی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ یہ ڈیم بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو دریائے چناب سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ پاکال ڈول ڈیم  یہ ڈیم دریائے ستلج پر واقع ہے اور اس کی تعمیر 2018 میں مکمل ہوئی تھی۔ پاکستان کا الزام ہے کہ یہ ڈیم بھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ اس سے پاکستان کو دریائے ستلج سے حاصل ہونے والے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ پاکستان نے انڈیا کے خلاف ان غیر قانونی ڈیموں کے معاملے پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ انڈیا نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے تمام ڈیم سندھ طاس معاہدے کے مطابق ہیں۔ تاہم، اس معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔ انڈیا کا پاکستان سےسستا نمک خرید کر عالمی منڈی میں مہنگا فروخت کرنا پہاڑی نمک کا معاہدے کے تحت، پاکستان اور انڈیا نمک کے کانوں سے نمک کی پیداوار میں برابر حصہ داری کریں گے۔ اور پاکستان انڈیا کی نمک کی ضرورت پوری کرتا رہے گا۔ تاہم، پاکستان کا الزام ہے کہ انڈیا نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے اور نمک کی زیادہ حاصل کر رہا ہے۔ انڈیا پاکستان سے سستا نمک خریدتا ہے اور اسے اپنے نام سے دنیا بھر میں فروخت کرتا ہے۔ اس سے پاکستان کو مالی نقصان ہوتا ہو رہا ہے ۔اور اس کی نمک کی صنعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان نے انڈیا

صحافی کے قلم سے

مسلم ولڈ آڈر کی راہ میں رکاوٹ

از محمد بلال افتخار خان آج کل کا مسلمان اگر عزت کی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور یہ چاہتا کہ اُس کے دین ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  ، اُن کے اصحاب اور اہل بیت اطہار  رضوان اللہ اجمعین اور عقائید کے خلاف توہین آمیز فتنہ گری نا کی جائے۔۔۔ تو لازم ہے کہ وہ امت کے نظریے کو سمجھے اور اس نظریے سے جڑے۔۔ جب ایک مسلمان کی عزت ، آبرو اور حرمت کے لئے امت میں احساس پیدا ہو جائے گا اور وہ اُن کے لئے اپنے مفاد چھوڑ کر کھڑے ہونا شروع ہو جائین گے تو پھر کسی کی جرت نہیں ہو گی کہ وہ اپنی حدود سے نکل کر فتنہ پروری کرنے کی جرت کر سکے۔۔۔ دشمن پہلے مسلم خون کی بے قدری کرتا ہے، جب ہم خاموش رہتے ہیں تو وہ  شعائر اسلام پر حملہ کرتا ہے ، جب ہم اس پر بھی آنکھین بند کر لیتے ہیں تو پھر ہی وہ جرت کر کے پیغمبر اسلام پر الزامات لگا کر ہمیں اپنے تشخص سے دور کرنے کی سعی کرتا ہے۔۔۔ یقین جانو  اسلامی عالمی نظام یا عالمی اسلامی پولیٹیکل آڈر صرف مسلمانوں کی منتشر خیالی اور اپنی شناخت کی دوری کی وجہ سے  نقصان اُٹھا رہا ہے۔۔۔   عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : اے کعبہ ! تو کس قدر پاکیزہ ہے ، تیری خوشبو کس قدر عمدہ ہے اور تو کتنا زیادہ قابل احترام ہے ؛ ( لیکن ) مومن کی عزت و احترام تجھ سے زیادہ ہے ، اللہ تعالی نے تجھ کو قابل احترام بنایا ہے اور( اسی طرح ) مومن کے مال، خون اور عزت کو بھی قابل احترام بنایا ہے اور اسی احترام کی وجہ سے اس بات کو بھی حرام قرار دیا ہے کہ ہم مومن کے بارے میں ذرا بھی بد گمانی کریں۔یہ حدیث طبرانی میں مرفوعا نقل کی گئی ہے اور ترمذی میں موقوفا روایت کی گئی ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کے نزدیک کعبہ اور مومن دونوں کی حیثیت و عزت ہے ؛ البتہ مومن کی عزت و احترام زیادہ ہے۔ ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر آج دین کی سربلندی کے دعوے داروں کی اکثریت دین سے زیادہ اپنی آنا کی سربلندی چاہتی ہے۔۔ اسی لئے جوڑنے سے زیادہ یہ تفریق پیدا کر رہے ہیں۔ علمی مسائل پر اختلاف تحقیق کا راستہ کھولتا ہے۔  دونوں فریقین جو صدق دل سے علم کی جستجو میں ہوں بحث اور دلائل کے بعد اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں جو ان کے درمیان احترام اور محبت کا سبب بن جاتا ہے۔۔لیکن بحث کی جب بنیاد ہی آنا کی تسکین ہو تو صرف فتنہ پیدا ہوتا ہے۔۔۔ غلط اور تمسخر سے لبریز الفاظ استعمال ہوتے ہیں آور تفریق میں اضافی ہوتا ہے۔۔ جہلم کے ایک انجینئر صاحب تبلیغ دین کی بجائے اپنے رویے سے یہی کر رہے ہیں۔۔ عالم صاحب علم اور صاحب اخلاق ہوتا ہے۔ اس کا اخلاق اور کردار اس کے علم کی گہرائی کا پتہ دیتے ہیں۔۔ عدل اور اسلام پرستوں کو اپنے نفوس کی چھوٹی چھوٹی خود پسندیوں کو چھوڑنا پڑے گا ۔ انگ ،نسل اور فرکے سے بلند ہو کر حب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ایک ہونا ہو گا ورنہ سب دعوے جھوٹے ہی ہو نگے۔ اور جھوٹ کی قسمت مار کھانا ہے۔  دوستو ! لا الہ الاللہ   کہنے اور ماننے کا تقاضہ یک جہتی ،اتحاد اور اللہ اور اس کے رسول سے وفاداری ہے۔۔   تو اے دوستو، آو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں اور ایک ہو جائیں۔۔۔ اللہ ہمیں ایک کرے۔۔۔آمیں مسلمان اس وقت تک انتشار کا شکار رہیں گے جب تک وہ آئیڈیاز کی جگہ آئیڈیالوجی مغربی تہذیب سے لے کر سیاست اور معاشرت میں سدھار کی کوششیں کرتے رہیں گے خاص ہے ترتیب میں قوم رسول ہاشمی 🔴🔴🔴🔴🔴 Muslim world order Ummah Islamic unity Sectarianism Fitna (discord) Respect for the Prophet Islamic scholarship Dawah (propagation of Islam) Hegemony Westernization مسلم عالمی نظام امت اتحاد امت مسلمہ فرقہ واریت فتنہ نبی کی عزت اسلامی اسکالرشپ دعوت سرداری مغربی تہذیب عزت حرمت خون مال آنا علم تحقیق اخلاق عدل حب رسول یک جہتی وفاداری انتشار آئیڈیالوجی سیاست معاشرت قوم رسول ہاشمی مسلم عالمی نظام کے قیام میں رکاوٹیں امت مسلمہ کی اتحاد کی اہمیت فرقہ واریت اور فتنہ کی تباہ کن اثرات نبی کی عزت کا تحفظ اسلامی اسکالرشپ کی اہمیت دعوت کا کردار سرداری کی لعنت مغربی تہذیب کے اثرات  علمی اور عالمانہ تنقیدی اور اصلاحی متاثر کن اور حوصلہ افزاء  قارئین کو مسلم امت کے سامنے درپیش چیلنجوں سے آگاہ کرنا امت مسلمہ میں اتحاد اور یکجہتی کی فضا پیدا کرنا فرقہ واریت اور فتنہ سے بچنے کی تلقین کرنا نبی کی عزت کا تحفظ کرنے کے لیے قارئین کو متحرک کرنا اسلامی اسکالرشپ اور دعوت کی اہمیت اجاگر کرنا قارئین کو مغربی تہذیب کے اثرات سے آگاہ کرنا ⭐⭐⭐⭐⭐

صحافی کے قلم سے

عالمی بساط پر کیا چل رہا ہے؟

اگر ہم اس وقت عالمی سیاست پر نظر ڈالیں تو ساری دنیا میں عجیب سا حال ہے ۔ اس عالمی بساط پر دنیا دو گروہوں میں تقسیم نظر آتی ہے ۔ ایک طرف امریکہ اور اس کے حواری ہیں۔ تو دوسری طرف چین اور روس ایک بلاگ بنا رہے ہیں ۔ اور یہ سب ایک عظیم جنگ کی تیاری کے لئے ہو رہا ہے،  ساری دُنیا خاموشی سے یا اعلانیہ جنگ کی تیاری میں مصروف نظر آتی ہے ۔ اور اس جنگ کے بارے میں تینوں سامی مذاہب میں ذکر ہے، یعنی، یہودی، مسلمان اور عیسائی سب جانتے ہیں کہ ایک عالمی تباہ کن جنگ ہونی ہے اور اب اس کی تیاری کر رہے ہیں ۔ موجودہ وقت میں اگر ہم نظر دوڑائیں تو جہاں امت مسلمہ جنگوں کی تیاری کرتی نظر آتی ہے مثلاً سعودی عرب اس وقت دنیا میں ہندستان کے بعد دوسرا بڑا اسلحے کا خریدار ہے۔وہیں ایران سمیت پاکستان اور ترکی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ہر روز نت نئے تجربات اور ایجادات کی جا رہی ہیں۔اور اسلحے کی دوڑ میں آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ سب اسی نزدیک آتی ہوئی جنگ کی تیاریوں کا نتیجہ ہے۔ جہاں عالم کفر کی تیاری چند قدم آگے نظر آتی ہے۔وہاں امت امت مسلمہ بھی کسی کافر ملک سے کم نظر نہیں آرہے۔ امریکہ اپنے حامیوں کو مسلسل اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔اور اپنی صف والے ممالک کی مالی مدد بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔اس عالمی جنگ کی شروعات اور اختتام والے ممالک کا جائزہ لیتے ہیں۔ آغاز والے ممالک=احادیث کی روشنی میں اس جنگ کا آغاز مشرق سے ہوگا۔اور مشرق میں اس وقت ہندوستان امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی ہے۔امریکہ پاکستان کو اپنا اتحادی کہتا تو ہے۔مگر اپنی ہر طرح کی ٹیکنالوجی ہندستان کو فراہم کر رہا ہے۔دفاعی نظام سمیت اگلے اہداف کو نشانہ بنانے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں سمیت لڑاکا طیارے۔لڑاکا آبدوزیں اور دیگر جنگی ٹیکنالوجی دے رہا ہے۔ دوسرا مشرقی ملک=ہندستان کے مدمقابل اس وقت پاکستان ہے۔جو کہ اس غزوہِ اور عالمی جنگ سے مکمل با خبر اور اس کے مطابق اپنی تیاری کر رہا ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے اس بات کو ہوا دینے کی کوشش کی کہ ہندستان کے ساتھ کبھی بھی جنگ نہیں ہوگی۔ان بے جا میزائلوں اور فوج کی کوئی ضرورت نہیں ایک غریب ملک اور غریب عوام اتنے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے فوجی اخراجات کو کم کرنے کیلئے کبھی پینشن بند کرو اور کبھی تعداد کم کرنے کی باتیں ہوتی ہیں۔اور کبھی میزائلوں کو بیچ کر معیشت بہتر اور قرض اتارنے کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ان سازشیوں سے جب بھی احادیث کا زکر ہوا تو انہوں نے پاکستان اور ہندوستان کے بننے کو اس  حدیث سے تشبیہ دی۔یا 65 اور 71 کی جنگ کو اس حدیث سے تشبیہ دے کر معاملہ ختم کرنے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔خیر پاک فوج ہمارے حکمرانوں سے زیادہ ان احادیث پر نا صرف یقین رکھتی ہے۔بلکہ اسی کے مطابق تیاری بھی کر رہی ہے۔ اس جنگ کے دوسری جگہ= فلسطین اور اسرائیل اس جنگ کے دوسرے کردار ہیں۔اس وقت  چاہے ایٹمی طور پر ہو یا کسی بھی صورت میں۔اسرائیل اس آخری جنگ کیلئے مکمل طور پر تیار ہے۔امریکہ اس کی مکمل مالی امداد کے ساتھ ساتھ بھاری ہتھیاروں کے ذریعے مکمل تعاون کر رہا ہے۔وہاں امت مسلمہ اس وقت مشرق وسطی میں طاقت کو برابر رکھنے کیلئے ہتھیار خریدنے سمیت تیار کرتا تو نظر آتا ہے۔مگر فلسطینیوں کی مدد کرتا نظر آ رہا۔ مگر میں یہاں پر زیادہ لمبی بحث یا قصے نہیں چھیڑوں گا۔کیونکہ ہوگا وہی جو منظور خدا ہوگا۔اور جیسا اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا ہے۔ مگر وقتی طور پر عالم کفر غزوہِ ہند اور آخری عالمی جنگ جس کو (ہرمجدون یا آرمیگڈون )کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی نا صرف تیاری کر رہا ہے۔بلکہ اپنی عالمی سطح پر بساط بچھا چکا ہے۔ حدیث مبارکہ میں جس جس خطے سے(خراسان )جہادی یا اللّٰہ کے لشکر نکلنے کا زکر ہوا ہے۔اس وقت وہاں کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہاں پر مکمل طور پر دہشتگرد تنظیموں کا کنٹرول ہے۔افغانستان کا کچھ علاقہ اور ایران کے کچھ حصے سمیت پاکستان کا بھی کچھ علاقہ اس حدیث کے زمرے میں آتا ہے۔ پاکستان کے شیروں اور عوام نے اپنا لہو دے کر اپنا علاقہ تو ان دہشتگردوں سے واگزار کروا لیا ہے۔ لیکن ایران اور افغانستان کے ان علاقوں میں اس وقت مکمل طور پر امریکی یا اسرائیل کے پیدا کردا اسلام دشمنوں خارجیوں کا نا صرف کنڑول ہے۔بلکہ وہ اسلام کے نام پر سادہ لوح عوام کو اپنے مقصد کیلئے استعمال بھی کرتے ہیں۔ ان کو بنانے کا مقصد بڑا واضح ہے۔امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ان دہشتگردوں سے اسلام کے نام پر وہ سب کروایا جس بات سے اسلام نے منع کیا ہے۔عام شہریوں کے قتلِ عام سمیت اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔فساد برپا کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا ہے۔اسکولوں ، مسجدوں ، مندروں ،گرجا گھروں سمیت اولیاء کرام کے مزارات کو نشانہ بنایا گیا۔اور یہ سب اسلام کے نام پر اس لئے کیا گیا تا کہ جہاد پسند اور آخری جنگ کے منتظر لوگ ان علاقوں کا رخ کریں اور ان اسرائیلی اور امریکہ کے ایجنٹوں کے ساتھ مل کر اصل مقصد سے بھٹک جائیں۔ پاک فوج نے تو اس آخری جنگ(ہرمجدون   )کو سامنے رکھتے ہوئے آج سے کئی سال پہلے اس کی تیاری شروع کر دی۔اور دہشتگردی کے اس ناسور کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔اور اپنا ہر چپہ چپہ ان دہشتگردوں سے نا صرف واہگزار کروایا بلکہ وہاں پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے اپنی رٹ قائم کی۔مگر افغانستان اور ایران نا صرف ان دہشتگردوں کو محفوظ پناہگاہیں مہیا کر رہے ہیں۔بلکہ اگر پاکستان اس عمل پر ردعمل ظاہر کرتا ہے تو اس پر دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔جو اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ یہ دو ملک کسی صورت بھی غزوہِ ہند اور ( last warfaith the betal of the ) پر کسی صورت یقین نہیں رکھتے۔اگر رکھتے بھی ہیں تو یہ دوسری جانب کھڑے ہیں۔ اس سوچ کی ایک اکثریت اس وقت پاکستان میں بھی پائی جاتی ہے۔جو

صحافی کے قلم سے

لارڈ میکالے برصغیر کے تعلیمی نظام کا معمار یا اس کی اصلی علمی وراثت اور ثقافت کا دشمن؟

لارڈ ٹامس بیبنگٹن میکالے ایک برطانوی سیاست دان، مورخ، اور مصنف تھے جنہوں نے 19ویں صدی کے اوائل میں ہندوستان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ اپنی تقریروں اور مضامین کے لیے مشہور ہیں، جن میں انہوں نے ہندوستانی ثقافت اور معاشرے پر تبصرے کیے۔ انہوں نے ہندوستان کے لیے ایک نیا تعلیمی نظام بھی تجویز کیا جس نے ملک کی تعلیمی تاریخ پر نمایاں اثر ڈالا۔ لارڈ میکالے کی ذاتی زندگی اور مذہبی خیالات لارڈ میکالے 25 اکتوبر 1800 کو لندن، انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ممتاز وکیل اور سیاست دان زیکری میکالے کے بیٹے تھے۔ انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی اور 1826 میں وکیل کے طور پر پریکٹس شروع کی۔ 1830 میں، وہ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 1834 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ لارڈ میکالے ایک لبرل سیاست دان تھے اور انہوں نے مختلف سماجی اصلاحات کی حمایت کی۔ وہ ایک سیکولر بھی تھے اور ان کا خیال تھا کہ مذہب کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ میں بھی گہری دلچسپی لی اور ہندوستان میں عیسائیت پھیلانے کے لیے کام کیا۔ ہندوستان کے حالات پر لارڈ میکالے کی تقریر 1835 میں، لارڈ میکالے کو ہندوستان میں تعلیم کے بارے میں ایک کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا۔ اس کمیٹی نے ہندوستان کے لیے ایک نیا تعلیمی نظام تجویز کیا جس کا مقصد ہندوستانیوں کو مغربی طرز فکر اور اقدار سے متعارف کرانا تھا۔ 2 فروری 1835 میں ‘لارڈ میکالے’ نے اس کمیٹی کے اعلیٰ اجلاس میں کچھ اس طرح بات کی!   میں نے ہندوستان کے سارے طول و عرض میں سفر کیا ہے۔ اور مجھے کوئی بھی شخص یہاں بھکاری یا چور نظر نہیں آیا۔ اس ملک میں میں نے بہت زیادہ دولت دیکھی ہے، لوگوں کی اخلاقی اقدار بلند ترین ہیں اور سمجھ بوجھ اتنی اچھی ہے کہ میرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو کبھی فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ ہم ان کی دینی اور ثقافتی اقدار کے اس ورثہ کو توڑ نہ دیں جو انکی اس ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے میں یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ ہم ان کا قدیم تعلیمی نظام اور تہذیبی ورثہ تبدیل کریں۔ کیونکہ اگر ہندوستانی لوگ یہ سمجھیں کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اپنی اشیاء سے بہتر ہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھو دیں گے ( اور حقیقتاً ایسا ہی ہوا) اور حقیقتاً ویسی ہی مغلوب قوم بن جائیں گے جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے ذہنی غلام، لارڈ میکالے نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے لیے سب سے اچھی چیز یہ ہوگی کہ وہ اپنی روایتی ثقافت کو ترک کر دے اور مغربی ثقافت کو اپنا لے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان “ہندوستان کی تمام مقامی زبانوں سے زیادہ طاقتور ہے” اور یہ کہ “انگریزی تعلیم ہندوستانیوں کو انگریزوں کے ساتھ ہم آہنگ کرے گی اور انہیں ایک قوم بنا دے گی۔” (ہاں دوستو یہی “لارڈ میکالے” جس نے ہمارا نظام تعلیم تخلیق کیا تھا! اور جس کو ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ کیوں کہ اس تعلیم نظام سے کلرک۔ افسر سیاست دان، شاعر اور اس طرح کی چیزیں تو بن سکتی ہیں۔ جو انگریزی زبان بولنے لکھنے کو فخر سمجھیں اور اپنی زبان اور ثقافت کو حقیر جانے ۔ لیکن اعلیٰ درجے کے سائنس دانوں اور اور اسلام پسند معاشرے اور اپنی ثقافت اور زبان سے پیار کرنے والے افراد حاصل نہیں کر سکتے جو ایک المیہ ہے ) ہندوستان کے لیے تعلیمی نظام کی تشکیل لارڈ میکالے کی تقریر نے ہندوستان کے لیے نئے تعلیمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نظام کا مقصد ہندوستانیوں کو انگریزی زبان، مغربی ادب اور سائنس، اور برطانوی اقدار کی تعلیم دینا تھا۔ اس نظام کے تحت، انگریزی کو ہندوستان کے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کی زبان کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ ہندوستانی زبانوں اور ثقافتوں کو تعلیمی نصاب سے بڑی حد تک ہٹا دیا گیا۔ سادہ الفاظ استعمال کروں تو اس طرح برصغیر کی اصل ثقافت کو ختم کر کے برطانوی ثقافت نافذ کر دی گئی تعلم کے نام پر۔  تعلیمی نظام کے اثرات لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام نے ہندوستان پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ اس نے ہندوستانی معاشرے میں ایک نیا طبقہ پیدا کیا جو انگریزی زبان اور ثقافت میں مہارت رکھتا تھا۔ اس طبقے نے برطانوی حکومت میں اہم عہدے سنبھالے اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ( اور بعد میں پاکستان پر بھی وہی قابض ہیں اور وہ آج بھی پاکستان کی عام عوام کو کمتر سمجھتے ہیں ۔ ) تاہم، لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام کے کچھ منفی اثرات بھی تھے۔ اس نظام نے ہندوستانیوں کو اپنی روایتی ثقافت سے الگ کر دیا اور ان میں برطانوی ثقافت کے لیے ایک احساسِ برتری پیدا کر دیا۔ اس نے ہندوستانی زبانوں اور ثقافتوں کو کم تر سمجھا اور ان کی اہمیت کو کم کر دیا۔ اس نظام نے ہندوستان میں تعلیم کو بھی مہنگا اور اشرافیہ کے لیے قابل رسائی بنا دیا۔ غریب اور دیہی علاقوں کے لوگوں کے لیے انگریزی تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو گیا۔ برصغیر کی ثقافت پر اثرات لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام نے برصغیر کی ثقافت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس نے ہندوستانی معاشرے میں ایک تقسیم پیدا کر دی، جس میں ایک طبقہ انگریزی زبان اور ثقافت سے وابستہ تھا اور دوسرا طبقہ اپنی روایتی ثقافت سے جڑا ہوا تھا۔ اس نظام نے ہندوستانی ادب، موسیقی، اور فنون لطیفہ کو بھی متاثر کیا۔ بہت سے ہندوستانی فنکاروں اور مصنفین نے مغربی اندازوں اور موضوعات کو اپنا لیا۔ تاہم، لارڈ میکالے کے تعلیمی نظام نے ہندوستانی ثقافت پر بہت زیادہ منفی اثرات کیے۔ اس نے ہندوستانیوں کو مغربی علم اور خیالات سے متعارف کرایا اور انہیں جدید دنیا کے ساتھ جوڑنے میں مدد کی۔ ( یہ سوچ برطانیہ کے ذہنی غلاموں کی ہے ورنہ حقیقت کیا اس دور کا ہر وہ باشعور شخص جانتا ہے جو تاریخ کے علم سے کچھ واقفیت رکھتا ہے)  اس نے ہندوستانی معاشرے

صحافی کے قلم سے

قرض کیسے چڑھتا اور کیسے اترتا ہے

پاکستان کا ایک بڑا اخبار پچھلے ایک ہفتے سے معیشت کی بہتری کے لئیے چوٹی کے ماہرین سے ،کر ڈالو، کے نام سے ایک بحث مباحثہ جاری رکھے ہوئے ہے جس کا مقصد پاکستانی معیشت کی بحالی اور بہتری ہے۔    اس سے چند ایک لطیفے یاد آ رہے ہیں۔ ایک شخص کے بیٹے نے منطق میں ڈگری حاصل کی۔ایک دن ناشتہ کرتے ہوئے بیٹے نے کہا ابا جی میں سامنے پڑے ہوئے ایک  آملیٹ کو دلائل کی مدد سے دو کر سکتا ہوں۔بیٹے کے کئ فضول قسم کے دلائل سن کر باپ نے چپکے سے آملیٹ کھا کر کہا۔۔۔بیٹے دوسرا آملیٹ تم کھا لو۔     پاکستان کا بجٹ جون میں پیش ہوتا ہے۔جس کی تیاری دو تین ماہ پہلے شروع ہوجاتی ہے۔ بجٹ دستاویزات تیار کرنے پر محکمہ خزانہ کے اہل کاروں کو ایک یا دو ماہ کی اضافی تنخواہ دی جاتی ہے۔جون کے پہلے ہفتے میں قومی اسمبلی میں خوب شور شرابے کے پس منظر میں بجٹ پیش کرنے کا سنہرا کارنامہ سر انجام دے کر اسی دن منظور کر لیا جاتا ہے۔     اب جولائی 2023 سے جون 2024 کے بجٹ کو سمجھ لیں۔۔ فرض کرلیں یکم جولائی 2023 سے 31 جون 2024 تک پاکستان کا کل خرچہ 14460 کھرب میں روپے ہو گا۔ اس کو آسانی کی خاطر روپے سمجھ لیں۔جبکہ کل آمدن 7536 روپے ہو گی۔  اب 14460 میں سے 7536 نکال دیں تو باقی 6924 روپے بنتے ہیں۔ یعنی یہ 6924 روپے کے خسارے کا بجٹ ہے۔ (جو ہماری تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے) یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیجیے کہ 6924 روپے خرچ کہاں کہاں کرنے ہیں یہ فیصلہ تو ہو گیا ہے لیکن یہ 6924 روپے آئیں گے کہاں سے، اس بارے میں ابھی سوچنا ہے۔ اگر کوئی بندوبست نہ ہوا تو پھر قرضہ لے کر پورے کر لیں گے۔ اب آ جائیے کہ ہماری اصل اور ذاتی آمدن جو 7536 روپے ہو گی اس کو کیسے خرچ کرنے کا پلان ہے۔ تو جناب اس میں سے 7303 روپے تو سابقہ قرضوں کی واپسی میں چلے جائیں گے۔ اور باقی بچیں گے 233 روپے۔ اور ایک عدد چھنکنا۔     اصل میں 14460 روپے کا نہیں بلکہ 233 روپے کا بجٹ ہے۔ اور انہی 233 روپوں سے دفاعی اخراجات، تعلیم، صحت، تنخواہوں، پنشن وغیرہ کا بندوبست کیا جائے گا۔ ترقیاتی کام بھی ہوں گے اور بینظیر انکم سپورٹ، لیپ ٹاپ، سکالرشپس اور دیگر فلاحی منصوبے بھی انہی پیسوں سے پورے کرنے ہیں۔  یہی 233 روپے ہمارے ذاتی ہیں، باقی سارے پیسے کسی اور کے ہوں گے۔ کچھ آئی ایم ایف والے انکل باہر سے بھیجیں گے اور کچھ کمرشل بینکوں والے چاچوؤں سے ادھار لے لیں گے۔ چائنہ، یو اے ای اور سعودیہ والے کزنز سے بھی کچھ امیدیں ہے۔ اگر وہ دے دیں گے تو ان کا بھی بھلا اور نہ دیں گے تو ہماری طرف سے شکوہ کوئی نہیں ہو گا۔ کیونکہ سیانے بہت پہلے کہہ گئے ہیں کہ بھکاریوں کا کوئی انتخاب نہیں ہوتا ہے۔ منصوبے دیکھیں تو کیا بات ہے خزانہ دیکھیں تو ٹکا نہیں ہے۔۔۔۔پلے نہی سیر آٹا تے ہنگدی دا سنگ پاٹا۔   اب مہنگے ملبوسات پہنے ہوئے وزیر سینکڑوں قسم کے منصوبے گنوائیں گے،عوام کی حالت بہتر کرنے کا کہیں گے،غربت ختم کرنے کا اعلان کریں گے لیکن اپنے پاس پھوٹی کوٹی تک نہیں ہے۔کبھی کسی بجٹ میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہم مزید قرضے نہیں لیں گے۔ہم سادہ رہیں گے اور سادگی کو اپنائیں گے۔اپنا رہن سہن بہت سادہ کریں گے۔مختلف سہولیات نہیں لیں گے۔ کوئی شان وشوکت نہیں دکھائیں گے۔بس ٹیکس لگانے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں جو صرف غریب ادا کریں گے۔    حکومت صرف اپنی عیاشیاں اور خرچ پورے کرنے کے لئیے قرض لیتی ہے غریب سے غریب بندہ اپنا سارا خرچ خود کرتا ہے۔ملکی وسائل سے حاصل کردہ دولت کا کوئی حساب کتاب نہیں کہ کدھر جارہی ہے۔ایک ایٹمی ملک ایک ارب ڈالر قرض کے لئیے آئی ایم ایف اور دیگر ممالک میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے جب کہ بنگلادیش اور ہندوستان سینکڑوں ارب ڈالرز تجارت سے کما رہے ہیں۔ائی ایم ایف،ورلڈ بینک اور دوسرے مالیاتی ادارے ہمیں کبھی بھی قرضوں سے آزاد نہیں کریں گے۔وہ تھوڑی سی بھیک دے کر ہمیں ذلیل وخوار کرنے کے لئیے زندہ رکھیں گے۔     ہماری حکمت عملی تشکیل دینے والوں کے دماغ بہت چھوٹے ہیں ڈنگ ٹپاو کام کرتے ہیں۔پچھلے برس کسانوں کے گھروں پر چھاپے مار کر گندم خریدی پھر مہنگی گندم درآمد کی اور اب اپنی گندم خریدنی نہیں ہے بلکہ اس کو مہنگے داموں اسمگل کریں گے۔پہلے سولر لگانے ہر رعایتیں دیں اور اب ٹیکس لگا رہے ہیں۔     پاکستان سے اسمگلنگ تین راستوں سے ہوتی ہے۔زمینی، ہوائی اور بحری ان تین راستوں کی محافظ عوام نہیں ہے بلکہ ملکی محافظ ادارے ہیں۔پھر اسمگلنگ کیسے ہوتی ہے۔سادے سے دیہاتی بندے سے ملکی معیشت ٹھیک اور بہتر کرنے کا پوچھ لیں تو ٹھیک حل بتائے گا جو سینکڑوں چوٹی کے ماہرین  معیشت کے مشوروں پر بھاری ہوگا قرض ہے تو سادگی اختیار کریں اور اخراجات کم سے کم کریں اور قرض اتارنے کے لئیے مزید قرض نہ لیں اور اپنے وسائل سے کام چلائیں

Scroll to Top