صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

علمی تراشے بلال افتخار خان کے قلم سے۔

  دوبارہ تعمیر کے لئے توڑنا پڑتا ہے۔۔۔ ٹوٹنے والا اس عمل سے بھاگتا چاہتا ہے۔۔۔ وہ پیٹرن جو اُس نے اپنا رکھے ہوتے ہیں ۔۔۔نفس انہی میں تحفظ کی کیفیت پاتا ہے۔۔۔زمان و مکان کی قید اُسے رسی چھوڑنے نہیں دیتی۔۔۔ جبکہ بچانے والے کا فیصلہ  ہے کہ رسی چھوڑے گا تو ہی بچے گا۔۔۔ اسی کشمکش میں زندگی گزر جاتی ہے۔۔ اور امتحان کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ تمام پوٹینشل کے باوجود وہ امتحان میں فیل ہو جاتا ہے ،صرف اس لئے کے رسی  نہیں چھوڑی جاتی۔۔۔ اب اگر مالک کی رحمت شامل حال ہو تو حالات ایسے بن جاتے ہیں کے رسی چھوڑنی پڑتی ہے۔۔۔ لیکن اس نقطے تک پہنچنے کے لئے اُن اُن  صعوبتیون سے گزرنا پڑتا ہے جو نفس کے کس بل نکال دیتی ہیں۔۔۔ لیکن کئی بار رسی تو جل جاتی ہے لیکن بل خاکستر ہو کر ہی نکلتا ہے۔۔۔ پس اگر خاکستر ہو کر بھی بل نکل جائے تو رحمت ہے کیونکہ امتحان ختم ہونے سے پہلے کامیابی کی راہ مل گئی ورنہ امتحان میں بندہ تو رسی سے چمٹا ہی رہتا ہے۔۔۔ ہر لمحے اذیت سہتا ہے۔۔۔ حق جان کر بھی رسی کو نجات سمجھتا ہے۔۔۔ لمحے لمحے مرتا ہے لیکن ایک ہی بار مرنے سے ڈرتا ہے۔۔۔  عروج بھی حقیقت ہے اور ذوال بھی حقیقت ہے۔۔۔ کئی عروج دراصل ذوال ہوتے ہیں اور کئی ذوال  حقیقت میں عروج ۔۔یا کامیابی کی نوید ۔۔پس معرفت کا اصول اول ہے  خود کو اُس کے ہاتھون میں چھوڑ دو جو خالق و مالک ہے  محدود و لامحدود کا۔۔۔۔ پھر یا تو تم تھام لئے جاو گے۔۔۔ یا توڑ کر دوبارہ تعمیر ہوگے اور تھام لئے جاو گے۔۔۔ یا خود کی انا کے ہاتھوں ذبع ہو جاو گے اور قصور تمہارا ہو گا ۔۔ عشق کا بھی میعار ہوتا ہے پرونہ ہر دم جلنے کو تیار ہوتا ہے نفس بے قابو تو عیار ہوتا ہے کامیاب وہ جسے منزل سے پیار ہوتا ہے (محمد بلال افتخار) تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ  کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں (علامہ محمد اقبال) 🔷🔶🔴🔵🔴🔶🔷 ہمارے ولن ہمارے اندر کی سرکشی کا علامتی اظہار ہوتے ہیں جب سماج کے عمومی دھارے کا رُخ شر سے خیر کی طرف مڑنے لگے  گا تو ولن بھی اپنی موت آپ مر جاۓ گا قوم طاغوت پرستی کاشکار ہو تو وقت کے فرعونوں کے ظلم پر شکوہ کرنے سے پہلے اپنا احتساب ناگزیر ہے جیسے جیسے سماج میں خیر بڑھے گی تو شر کی قوتیں جو ولن بن کر راج کرتی ہیں دم توڑ جاٸیں گی افسوس اُس بےہنگم ہجوم پر جو سماج کا جزوِ لاینفک ہوتے ہوۓ بھی یکسو اور یکجہت ہو کر قوم نہ بن سکا اور اپنی کوتاہیاں دوسروں کے سر منڈھتا رہے ⭕🔵🔴🔶🔷⭕ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا: علم عمل کے ساتھ جڑا ہوا ہے،پس جو علم حاصل کرلیتا ہے وہ عمل کرتا ہے، اور علم عمل کو آواز دیتا ہے، اگر وہ اس کی آواز پر لبیک کہے تو ٹھیک ورنہ علم وہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ 🔷🔶🔴🔵⭕🔵🔴🔶🔷 جس نے رب کے لئے جھکنا سیکھ لیا وہی علم والا ہےکیونکہ علم والے کی پہچان عاجزی ہے اور جایل کی تکبر ہے۔۔۔۔منبہ والائیت امیر المومنین جناب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ 🔴🔵🔶🔷🔷🔶🔵🔴

صحافی کے قلم سے

پاکستانی نوجوانوں کو درپیش مواقع اور چیلنجز اور ان کا حل

  پاکستان میں، نوجوان آبادی کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ تاہم، انہیں بہت سے مواقع اور چیلنجوں کا سامنا ہے جو ان کے مستقبل کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتے ہیں۔ دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان چیلنجوں سے نمٹنا پاکستان کے خوشحال مستقبل کی تشکیل کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کے لیے مواقع 1. ڈیجیٹل انقلاب: ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا عروج پاکستانی نوجوانوں کے لیے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی کو جمہوری بنایا ہے، جس سے نوجوانوں کو آن لائن کورسز، ٹیوٹوریلز اور کورسیرا، اڈیمی، اور خان اکیڈمی جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نئی مہارتیں اور علم حاصل کرنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ مزید برآں، ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور ٹیک اسٹارٹ اپس کی ترقی کاروباری منصوبوں کے لیے نئی راہیں فراہم کرتی ہے۔ 2. انٹرپرینیورشپ: پاکستانی نوجوانوں میں کاروباری جذبے میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ وزیر اعظم کے کامیاب جوان پروگرام جیسے حکومتی اقدامات کا مقصد نوجوان کاروباریوں کو مالی مدد اور تربیت فراہم کرنا ہے۔ یہ ماحول جدت طرازی اور سٹارٹ اپس کے قیام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر روزگار کی تخلیق اور معاشی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ 3. تعلیم اور اسکالرشپ: پاکستان کے اندر اور بیرون ملک تعلیم اور اسکالرشپ کے مواقع تک رسائی میں اضافہ ایک اور اہم فائدہ ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی وظائف باصلاحیت طلباء کو باوقار اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بناتے ہیں، جس کے نتیجے میں ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔ 4. نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے پروگرام: کئی غیر سرکاری تنظیمیں اور بین الاقوامی ایجنسیاں ایسے پروگرام پیش کرتی ہیں جن کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ پروگرام قیادت کی ترقی، ہنر کی تربیت، اور کمیونٹی سروس پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جو نوجوانوں کو معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ 5. کھیل اور ثقافتی تبادلہ: کھیلوں اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں میں شرکت بین الاقوامی شناخت اور کیریئر کے مواقع کے دروازے کھول سکتی ہے۔ کھیلوں، فنون اور ثقافتی تقریبات میں نوجوانوں کی شمولیت عالمی روابط کو فروغ دے سکتی ہے اور ذاتی ترقی کو بڑھا سکتی ہے۔ پاکستانی نوجوانوں کو درپیش چیلنجز 1. بے روزگاری: سب سے زیادہ پریشان کن مسائل میں سے ایک نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح ہے۔ ڈگریاں رکھنے کے باوجود، بہت سے گریجویٹس اپنی مہارتوں اور مارکیٹ کی طلب میں مماثلت کی وجہ سے مناسب ملازمتیں تلاش کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ روزگار کے مواقع کی یہ کمی مایوسی اور مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ 2. تعلیمی عدم مساوات: پورے پاکستان میں معیاری تعلیم تک رسائی ناہموار ہے۔ دیہی علاقوں اور معاشی طور پر پسماندہ کمیونٹیز کے پاس اکثر تعلیمی وسائل محدود ہوتے ہیں، جو نوجوانوں کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ عدم مساوات غربت کے ایک چکر کو برقرار رکھتی ہے اور مستقبل کے امکانات کو محدود کرتی ہے۔ 3. سیاسی عدم استحکام: سیاسی عدم استحکام اور بدعنوانی سماجی و اقتصادی ماحول کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، جس سے نوجوانوں کے لیے اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ گورننس میں غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاری اور معاشی نمو کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے بے روزگاری اور کم روزگاری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ 4. ذہنی صحت کے مسائل: پاکستانی نوجوانوں میں ذہنی صحت ایک بڑھتی ہوئی تشویش ہے۔ تعلیمی کارکردگی، ملازمت کی عدم تحفظ، اور سماجی توقعات کے دباؤ تناؤ، اضطراب اور افسردگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے، دماغی صحت کے وسائل اور سپورٹ سسٹم اکثر ناکافی ہوتے ہیں۔ 5. صنفی تفاوت: صنفی عدم مساوات ایک اہم مسئلہ ہے، خاص طور پر نوجوان خواتین کے لیے۔ ثقافتی اصول اور سماجی توقعات خواتین کے لیے مواقع کو محدود کر سکتی ہیں، تعلیم، ملازمت اور قائدانہ کردار میں ان کی شرکت کو محدود کر سکتی ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حل 1. تعلیم اور ہنر کی ترقی کو بڑھانا: بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے، تعلیمی نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر زیادہ زور دینے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو عملی اور ضرورت کے مطابق ہنر فراہم کرنے کے لیے پیشہ ورانہ تربیت اور ہنرمندی کی ترقی کے پروگراموں کو وسعت دی جانی چاہیے۔ تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان تعاون سے تعلیم اور روزگار کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 2. انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینا: حکومت اور نجی شعبے کے اقدامات کو فنڈنگ، رہنمائی، اور کاروباری ترقی کے وسائل تک رسائی فراہم کر کے نوجوان کاروباریوں کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔ اسٹارٹ اپس کے لیے انکیوبیٹرز اور ایکسلریٹر بنانا اختراعی آئیڈیاز کو پروان چڑھانے اور انٹرپرینیورشپ کے کلچر کو فروغ دینے میں مدد کر سکتا ہے۔ 3. تعلیمی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا: تعلیمی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری، خاص طور پر کم سہولت والے علاقوں میں، تعلیمی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اسکولوں کی تعمیر اور اپ گریڈیشن، اسکالرشپ فراہم کرنے، اور اساتذہ کی تربیت میں معاونت کے اقدامات اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرسکتے ہیں کہ تمام نوجوانوں کو معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔

صحافی کے قلم سے

6 ستمبر 1965 کی سنہری یادیں

   میجر (ر) ساجد مسعود صادق 5/6 ستمبر سن 1965  کی رات  کو 2بجے 23  فیلڈ رجمنٹ آرٹلری (المعروف گنز آف واہگہ) کے اپریشن روم میں رجمنٹ کے تمام آفیسرز جمع تھے اور رجمنٹ کمانڈر  لاہور کے واہگہ بارڈر پر دُشمن کے ممکنہ حملے کے بارے ضروری احکامات جاری کررہا تھا۔ رات تین بجے کے قریب باٹا پور روڈ پر اسی رجمنٹ کے آرٹلری ابزرورز کی ایک ٹیم رواں دواں تھی جس میں ایک ینگ لیفٹینٹ نے بارڈر پر اور ایک کیپٹن نے باٹا پور کی مسجد کے مینار پر روشنی پھیلنے سے پہلے ابزرویشن پوسٹس قائم کرنی تھیں۔ کیپٹن کی منزل جلد آگئی اور لیفٹینٹ جب اپنے ساتھ ایک اپریٹر اور گن مین کو لیکر بارڈر کے قریب پہنچا تو اُسے پاکستانی علاقے کے اندر انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنے والی بھارتی سپاہ نے گرفتار کرلیا۔ اس چھوٹی سی ٹیم کو جب بھارتی بٹالین کمانڈر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے پاکستانی فوج کے بارے میں سوال پوچھا کہ “وہ (پاکستانی فوجی) کدھر ہیں؟ لیفٹیننٹ نے  بڑے اطمینان سے جواب دیا آگے بڑھو وہ تمہارے استقبال کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔” (بحوالہ رجمنٹل ہسٹری 23 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری المعروف  گنز آف واہگہ ) 6 ستمبر 1965 کی رات کو تین بجے دُشمن چُپکے سے بارڈر پار کرچُکا تھا اور  رعونت پر مبنی پروگرام یہ تھا کہ یہ فوج صبح ناشتہ جاکر لاہور کے جمخانہ کلب میں کرے گی۔ ایسے میں پاکستان کے صدر ایوب کے پاکستان ریڈیو پر خطاب کے الفاظ “بزدل دُشمن نے رات کی تاریکی میں ہمارے بارڈر پر اچانک حملہ کردیا ہے” نے پاکستانی قوم کے اندر ایک بجلی سی بھردی  اور پُوری قوم   ہی دفاع وطن کی خاطر کٹ مرنے کے لیئے  بارڈر کی طرف چل پڑی پھر اس کے علاوہ شکرگڑھ (چونڈہ) کے محاذ پر اقوامِ عالم کی جنگی تاریخ  کا سب سے بڑا ٹینکوں پر مُشتمل ایک ہجوم اُمڈ آیا لیکن ان ٹینکوں کے سامنے پاکستانی فوج کے سپاہی سینے سے بم باندھ کر لیٹ گئے ان دونوں محاذوں پر بھارتی حملہ کو بڑی جُرات سے ناکام  بنانے کے  بعد بھارت پر جوابی حملہ (کاؤنٹر اٹیک) کیا گیا اور پاکستانی فوج دیکھتے ہی دیکھتے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں کشمیر کو بھارت سے کاٹنے کے بالکل قریب پہنچ گئی۔   ایک طرف  لاہور شالامار باغ میں شیرنی اور رانی (پاکستانی میڈیم اور ہیوی توپیں) چنگھاڑ رہی تھیں تو  دوسری طرف کھیم کرن اور چھمب جوڑیاں میں ہندو بنیے کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں۔ 23 ستمبر تک جنگ بندی کے وقت  پاکستان  590 مربع کلومیٹر  کا علاقہ  بھارت سے چھین چُکا تھا جن میں سے 490مربع کلومیٹر چھمب سیکٹر اور  50 مربع کلومیٹر کھیم کرن سیکٹر کا علاقہ شامل تھا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کا آغاز  جنوری کی ابتداء میں ہی ہوچُکا تھا جب  “کچھ” اور “سندھ” کے درمیانی 3500 مربع کلومیٹر  سمندری علاقے “رن” جسے  “رن آف کچھ” بھی کہا جاتا ہے  پر پاک بھارت کی جھڑپ ہوئی جس پر پاکستانی افواج نے بھارت کو عبرتناک شکست دے کر قبضہ کرلیا بعد میں اس تنازعہ  کی ثالثی امریکی صدر ووڈ رُو ولسن نے کی۔ مارچ کے مہینے میں بھارتی صدر لال بہادر شاستری نے  بھارتی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیئے شق نمبر 356اور357 کا اضافہ کرتے ہوئے کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیا جس پر کشمیریوں نے احتجاج شروع کردیا اور کشمیری لیڈر “شیخ عبداللّٰہ” کو بھارت نے پابند سلاسل کردیا جس پر کشمیری عوام اور بھی بپھر گئے۔  کشمیر پر کنٹرول کے مسئلے پر بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف واویلہ شروع کردیا اور آخر کار پاکستان کو 24 جولائی کو ایک کمانڈو اپریشن “آپریشن جبرالٹر”  لانچ کرنا پڑا یوں تو  5اگست کو ہی بھارت نے پاکستان پر حملے کا اعلان تو کردیا لیکن اصل  1965 کی جنگ کا باقاعدہ  آغاز 6 ستمبر کو بھارتی حملے سے ہوا۔ اس جنگ میں لاہور، چونڈہ ، چھمب اور کھیم کرن کے محاذوں پر پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم نے ملکر وہ تاریخ رقم کی کہ جس کو پاکستان کا دُشمن  بھارت کبھی بُھلا نہ سکے گا۔ محض  17 دن کی جنگ کے بعد بھارت اپنی واضح شکست کو سامنے دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ ایسے میں بین الاقوامی سُپر پاورز  بھی اس جنگ میں کُود گئیں۔ امریکہ  نے تو اس جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کردیا لیکن روس بھارت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ایسے میں چین نے بھی بھارت پر حملے کی دھمکی دے دی۔ آج 58سال بعد پاکستانی قوم  اور اُس کے  ارباب اقتدار کے لیئے  ایک موقعہ ہے کہ وہ  اس چیز پر غور فکر کریں  کہ  1965 میں بھارت کو ناکوں چُنے چبوانی والی پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم سن 1971میں کیوں ناکام ہوئیں؟ جس کا سادہ سا جواب ہے کہ  1965 میں پاکستانی قوم اور پاکستانی افواج یَکمُشت و یک جاں تھے جبکہ سن 1971 میں اقتدار کی رسہ کشی میں پاکستانی افواج اور سیاستدانوں کے درمیان  ہٹ دھرمی کی وجہ سے  ایک خلیج  تو تھی لیکن حالات  کی نزاکت کے ادراک سے عاری قیادت اُس وقت پاکستان کو کنٹرول کررہی تھی۔  اس سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ آج  پاکستان میں سن 1965 سے بہت مختلف سیاسی فضاء اور ماحول ہے اگر یوں کہا جائے کہ آج کا پاکستان بالکل  سن 1971 کے نومبر و دسمبر جیسا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ بھارت بھی ایک تسلسل سے پاکستان کے مشرقی بارڈر پر چھیڑ خوانی میں مصروف ہے اور  بالخصوص مُودی سرکار جس دن سے اقتدار میں آئی ہے پاکستان بھارت سے حالت جنگ میں ہے ایسے میں پاکستانی سیاسی انتشار ، معاشی کمزوری  اور پاکستانی افواج اور قوم میں بڑھتے فاصلے پاکستان کو دُرست سمت میں لیکر ہر گز نہیں جارہے۔ ایسے میں عسکری و سیاسی قائدین کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے اور عوام کو بھی بین الاقوامی بالخصوصی بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہوکر مایوسی کی بجائے حالات کی نزاکت کو بھی سمجھنا چاہیئے اور دُشمن کی تمام چالوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔ جدید دور میں جنگ میدان جنگ سے زیادہ میڈیا پر لڑی جاتی ہے جسے ہائبرڈ وار یا ففتھ یا سکس

صحافی کے قلم سے

6 ستمبر 1965 کی سنہری یادیں

   میجر (ر) ساجد مسعود صادق 5/6 ستمبر سن 1965  کی رات  کو 2بجے 23  فیلڈ رجمنٹ آرٹلری (المعروف گنز آف واہگہ) کے اپریشن روم میں رجمنٹ کے تمام آفیسرز جمع تھے اور رجمنٹ کمانڈر  لاہور کے واہگہ بارڈر پر دُشمن کے ممکنہ حملے کے بارے ضروری احکامات جاری کررہا تھا۔ رات تین بجے کے قریب باٹا پور روڈ پر اسی رجمنٹ کے آرٹلری ابزرورز کی ایک ٹیم رواں دواں تھی جس میں ایک ینگ لیفٹینٹ نے بارڈر پر اور ایک کیپٹن نے باٹا پور کی مسجد کے مینار پر روشنی پھیلنے سے پہلے ابزرویشن پوسٹس قائم کرنی تھیں۔ کیپٹن کی منزل جلد آگئی اور لیفٹینٹ جب اپنے ساتھ ایک اپریٹر اور گن مین کو لیکر بارڈر کے قریب پہنچا تو اُسے پاکستانی علاقے کے اندر انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنے والی بھارتی سپاہ نے گرفتار کرلیا۔ اس چھوٹی سی ٹیم کو جب بھارتی بٹالین کمانڈر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے پاکستانی فوج کے بارے میں سوال پوچھا کہ “وہ (پاکستانی فوجی) کدھر ہیں؟ لیفٹیننٹ نے  بڑے اطمینان سے جواب دیا آگے بڑھو وہ تمہارے استقبال کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔” (بحوالہ رجمنٹل ہسٹری 23 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری المعروف  گنز آف واہگہ ) 6 ستمبر 1965 کی رات کو تین بجے دُشمن چُپکے سے بارڈر پار کرچُکا تھا اور  رعونت پر مبنی پروگرام یہ تھا کہ یہ فوج صبح ناشتہ جاکر لاہور کے جمخانہ کلب میں کرے گی۔ ایسے میں پاکستان کے صدر ایوب کے پاکستان ریڈیو پر خطاب کے الفاظ “بزدل دُشمن نے رات کی تاریکی میں ہمارے بارڈر پر اچانک حملہ کردیا ہے” نے پاکستانی قوم کے اندر ایک بجلی سی بھردی  اور پُوری قوم   ہی دفاع وطن کی خاطر کٹ مرنے کے لیئے  بارڈر کی طرف چل پڑی پھر اس کے علاوہ شکرگڑھ (چونڈہ) کے محاذ پر اقوامِ عالم کی جنگی تاریخ  کا سب سے بڑا ٹینکوں پر مُشتمل ایک ہجوم اُمڈ آیا لیکن ان ٹینکوں کے سامنے پاکستانی فوج کے سپاہی سینے سے بم باندھ کر لیٹ گئے ان دونوں محاذوں پر بھارتی حملہ کو بڑی جُرات سے ناکام  بنانے کے  بعد بھارت پر جوابی حملہ (کاؤنٹر اٹیک) کیا گیا اور پاکستانی فوج دیکھتے ہی دیکھتے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں کشمیر کو بھارت سے کاٹنے کے بالکل قریب پہنچ گئی۔   ایک طرف  لاہور شالامار باغ میں شیرنی اور رانی (پاکستانی میڈیم اور ہیوی توپیں) چنگھاڑ رہی تھیں تو  دوسری طرف کھیم کرن اور چھمب جوڑیاں میں ہندو بنیے کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں۔ 23 ستمبر تک جنگ بندی کے وقت  پاکستان  590 مربع کلومیٹر  کا علاقہ  بھارت سے چھین چُکا تھا جن میں سے 490مربع کلومیٹر چھمب سیکٹر اور  50 مربع کلومیٹر کھیم کرن سیکٹر کا علاقہ شامل تھا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کا آغاز  جنوری کی ابتداء میں ہی ہوچُکا تھا جب  “کچھ” اور “سندھ” کے درمیانی 3500 مربع کلومیٹر  سمندری علاقے “رن” جسے  “رن آف کچھ” بھی کہا جاتا ہے  پر پاک بھارت کی جھڑپ ہوئی جس پر پاکستانی افواج نے بھارت کو عبرتناک شکست دے کر قبضہ کرلیا بعد میں اس تنازعہ  کی ثالثی امریکی صدر ووڈ رُو ولسن نے کی۔ مارچ کے مہینے میں بھارتی صدر لال بہادر شاستری نے  بھارتی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیئے شق نمبر 356اور357 کا اضافہ کرتے ہوئے کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیا جس پر کشمیریوں نے احتجاج شروع کردیا اور کشمیری لیڈر “شیخ عبداللّٰہ” کو بھارت نے پابند سلاسل کردیا جس پر کشمیری عوام اور بھی بپھر گئے۔  کشمیر پر کنٹرول کے مسئلے پر بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف واویلہ شروع کردیا اور آخر کار پاکستان کو 24 جولائی کو ایک کمانڈو اپریشن “آپریشن جبرالٹر”  لانچ کرنا پڑا یوں تو  5اگست کو ہی بھارت نے پاکستان پر حملے کا اعلان تو کردیا لیکن اصل  1965 کی جنگ کا باقاعدہ  آغاز 6 ستمبر کو بھارتی حملے سے ہوا۔ اس جنگ میں لاہور، چونڈہ ، چھمب اور کھیم کرن کے محاذوں پر پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم نے ملکر وہ تاریخ رقم کی کہ جس کو پاکستان کا دُشمن  بھارت کبھی بُھلا نہ سکے گا۔ محض  17 دن کی جنگ کے بعد بھارت اپنی واضح شکست کو سامنے دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ ایسے میں بین الاقوامی سُپر پاورز  بھی اس جنگ میں کُود گئیں۔ امریکہ  نے تو اس جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کردیا لیکن روس بھارت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ایسے میں چین نے بھی بھارت پر حملے کی دھمکی دے دی۔ آج 58سال بعد پاکستانی قوم  اور اُس کے  ارباب اقتدار کے لیئے  ایک موقعہ ہے کہ وہ  اس چیز پر غور فکر کریں  کہ  1965 میں بھارت کو ناکوں چُنے چبوانی والی پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم سن 1971میں کیوں ناکام ہوئیں؟ جس کا سادہ سا جواب ہے کہ  1965 میں پاکستانی قوم اور پاکستانی افواج یَکمُشت و یک جاں تھے جبکہ سن 1971 میں اقتدار کی رسہ کشی میں پاکستانی افواج اور سیاستدانوں کے درمیان  ہٹ دھرمی کی وجہ سے  ایک خلیج  تو تھی لیکن حالات  کی نزاکت کے ادراک سے عاری قیادت اُس وقت پاکستان کو کنٹرول کررہی تھی۔  اس سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ آج  پاکستان میں سن 1965 سے بہت مختلف سیاسی فضاء اور ماحول ہے اگر یوں کہا جائے کہ آج کا پاکستان بالکل  سن 1971 کے نومبر و دسمبر جیسا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ بھارت بھی ایک تسلسل سے پاکستان کے مشرقی بارڈر پر چھیڑ خوانی میں مصروف ہے اور  بالخصوص مُودی سرکار جس دن سے اقتدار میں آئی ہے پاکستان بھارت سے حالت جنگ میں ہے ایسے میں پاکستانی سیاسی انتشار ، معاشی کمزوری  اور پاکستانی افواج اور قوم میں بڑھتے فاصلے پاکستان کو دُرست سمت میں لیکر ہر گز نہیں جارہے۔ ایسے میں عسکری و سیاسی قائدین کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے اور عوام کو بھی بین الاقوامی بالخصوصی بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہوکر مایوسی کی بجائے حالات کی نزاکت کو بھی سمجھنا چاہیئے اور دُشمن کی تمام چالوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔ جدید دور میں جنگ میدان جنگ سے زیادہ میڈیا پر لڑی جاتی ہے جسے ہائبرڈ وار یا ففتھ یا سکس

صحافی کے قلم سے

6 ستمبر 1965 کی سنہری یادیں

   میجر (ر) ساجد مسعود صادق 5/6 ستمبر سن 1965  کی رات  کو 2بجے 23  فیلڈ رجمنٹ آرٹلری (المعروف گنز آف واہگہ) کے اپریشن روم میں رجمنٹ کے تمام آفیسرز جمع تھے اور رجمنٹ کمانڈر  لاہور کے واہگہ بارڈر پر دُشمن کے ممکنہ حملے کے بارے ضروری احکامات جاری کررہا تھا۔ رات تین بجے کے قریب باٹا پور روڈ پر اسی رجمنٹ کے آرٹلری ابزرورز کی ایک ٹیم رواں دواں تھی جس میں ایک ینگ لیفٹینٹ نے بارڈر پر اور ایک کیپٹن نے باٹا پور کی مسجد کے مینار پر روشنی پھیلنے سے پہلے ابزرویشن پوسٹس قائم کرنی تھیں۔ کیپٹن کی منزل جلد آگئی اور لیفٹینٹ جب اپنے ساتھ ایک اپریٹر اور گن مین کو لیکر بارڈر کے قریب پہنچا تو اُسے پاکستانی علاقے کے اندر انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنے والی بھارتی سپاہ نے گرفتار کرلیا۔ اس چھوٹی سی ٹیم کو جب بھارتی بٹالین کمانڈر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے پاکستانی فوج کے بارے میں سوال پوچھا کہ “وہ (پاکستانی فوجی) کدھر ہیں؟ لیفٹیننٹ نے  بڑے اطمینان سے جواب دیا آگے بڑھو وہ تمہارے استقبال کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔” (بحوالہ رجمنٹل ہسٹری 23 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری المعروف  گنز آف واہگہ ) 6 ستمبر 1965 کی رات کو تین بجے دُشمن چُپکے سے بارڈر پار کرچُکا تھا اور  رعونت پر مبنی پروگرام یہ تھا کہ یہ فوج صبح ناشتہ جاکر لاہور کے جمخانہ کلب میں کرے گی۔ ایسے میں پاکستان کے صدر ایوب کے پاکستان ریڈیو پر خطاب کے الفاظ “بزدل دُشمن نے رات کی تاریکی میں ہمارے بارڈر پر اچانک حملہ کردیا ہے” نے پاکستانی قوم کے اندر ایک بجلی سی بھردی  اور پُوری قوم   ہی دفاع وطن کی خاطر کٹ مرنے کے لیئے  بارڈر کی طرف چل پڑی پھر اس کے علاوہ شکرگڑھ (چونڈہ) کے محاذ پر اقوامِ عالم کی جنگی تاریخ  کا سب سے بڑا ٹینکوں پر مُشتمل ایک ہجوم اُمڈ آیا لیکن ان ٹینکوں کے سامنے پاکستانی فوج کے سپاہی سینے سے بم باندھ کر لیٹ گئے ان دونوں محاذوں پر بھارتی حملہ کو بڑی جُرات سے ناکام  بنانے کے  بعد بھارت پر جوابی حملہ (کاؤنٹر اٹیک) کیا گیا اور پاکستانی فوج دیکھتے ہی دیکھتے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں کشمیر کو بھارت سے کاٹنے کے بالکل قریب پہنچ گئی۔   ایک طرف  لاہور شالامار باغ میں شیرنی اور رانی (پاکستانی میڈیم اور ہیوی توپیں) چنگھاڑ رہی تھیں تو  دوسری طرف کھیم کرن اور چھمب جوڑیاں میں ہندو بنیے کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں۔ 23 ستمبر تک جنگ بندی کے وقت  پاکستان  590 مربع کلومیٹر  کا علاقہ  بھارت سے چھین چُکا تھا جن میں سے 490مربع کلومیٹر چھمب سیکٹر اور  50 مربع کلومیٹر کھیم کرن سیکٹر کا علاقہ شامل تھا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کا آغاز  جنوری کی ابتداء میں ہی ہوچُکا تھا جب  “کچھ” اور “سندھ” کے درمیانی 3500 مربع کلومیٹر  سمندری علاقے “رن” جسے  “رن آف کچھ” بھی کہا جاتا ہے  پر پاک بھارت کی جھڑپ ہوئی جس پر پاکستانی افواج نے بھارت کو عبرتناک شکست دے کر قبضہ کرلیا بعد میں اس تنازعہ  کی ثالثی امریکی صدر ووڈ رُو ولسن نے کی۔ مارچ کے مہینے میں بھارتی صدر لال بہادر شاستری نے  بھارتی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیئے شق نمبر 356اور357 کا اضافہ کرتے ہوئے کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیا جس پر کشمیریوں نے احتجاج شروع کردیا اور کشمیری لیڈر “شیخ عبداللّٰہ” کو بھارت نے پابند سلاسل کردیا جس پر کشمیری عوام اور بھی بپھر گئے۔  کشمیر پر کنٹرول کے مسئلے پر بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف واویلہ شروع کردیا اور آخر کار پاکستان کو 24 جولائی کو ایک کمانڈو اپریشن “آپریشن جبرالٹر”  لانچ کرنا پڑا یوں تو  5اگست کو ہی بھارت نے پاکستان پر حملے کا اعلان تو کردیا لیکن اصل  1965 کی جنگ کا باقاعدہ  آغاز 6 ستمبر کو بھارتی حملے سے ہوا۔ اس جنگ میں لاہور، چونڈہ ، چھمب اور کھیم کرن کے محاذوں پر پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم نے ملکر وہ تاریخ رقم کی کہ جس کو پاکستان کا دُشمن  بھارت کبھی بُھلا نہ سکے گا۔ محض  17 دن کی جنگ کے بعد بھارت اپنی واضح شکست کو سامنے دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ ایسے میں بین الاقوامی سُپر پاورز  بھی اس جنگ میں کُود گئیں۔ امریکہ  نے تو اس جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کردیا لیکن روس بھارت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ایسے میں چین نے بھی بھارت پر حملے کی دھمکی دے دی۔ آج 58سال بعد پاکستانی قوم  اور اُس کے  ارباب اقتدار کے لیئے  ایک موقعہ ہے کہ وہ  اس چیز پر غور فکر کریں  کہ  1965 میں بھارت کو ناکوں چُنے چبوانی والی پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم سن 1971میں کیوں ناکام ہوئیں؟ جس کا سادہ سا جواب ہے کہ  1965 میں پاکستانی قوم اور پاکستانی افواج یَکمُشت و یک جاں تھے جبکہ سن 1971 میں اقتدار کی رسہ کشی میں پاکستانی افواج اور سیاستدانوں کے درمیان  ہٹ دھرمی کی وجہ سے  ایک خلیج  تو تھی لیکن حالات  کی نزاکت کے ادراک سے عاری قیادت اُس وقت پاکستان کو کنٹرول کررہی تھی۔  اس سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ آج  پاکستان میں سن 1965 سے بہت مختلف سیاسی فضاء اور ماحول ہے اگر یوں کہا جائے کہ آج کا پاکستان بالکل  سن 1971 کے نومبر و دسمبر جیسا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ بھارت بھی ایک تسلسل سے پاکستان کے مشرقی بارڈر پر چھیڑ خوانی میں مصروف ہے اور  بالخصوص مُودی سرکار جس دن سے اقتدار میں آئی ہے پاکستان بھارت سے حالت جنگ میں ہے ایسے میں پاکستانی سیاسی انتشار ، معاشی کمزوری  اور پاکستانی افواج اور قوم میں بڑھتے فاصلے پاکستان کو دُرست سمت میں لیکر ہر گز نہیں جارہے۔ ایسے میں عسکری و سیاسی قائدین کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے اور عوام کو بھی بین الاقوامی بالخصوصی بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہوکر مایوسی کی بجائے حالات کی نزاکت کو بھی سمجھنا چاہیئے اور دُشمن کی تمام چالوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔ جدید دور میں جنگ میدان جنگ سے زیادہ میڈیا پر لڑی جاتی ہے جسے ہائبرڈ وار یا ففتھ یا سکس

صحافی کے قلم سے

6 ستمبر 1965 کی سنہری یادیں

   میجر (ر) ساجد مسعود صادق 5/6 ستمبر سن 1965  کی رات  کو 2بجے 23  فیلڈ رجمنٹ آرٹلری (المعروف گنز آف واہگہ) کے اپریشن روم میں رجمنٹ کے تمام آفیسرز جمع تھے اور رجمنٹ کمانڈر  لاہور کے واہگہ بارڈر پر دُشمن کے ممکنہ حملے کے بارے ضروری احکامات جاری کررہا تھا۔ رات تین بجے کے قریب باٹا پور روڈ پر اسی رجمنٹ کے آرٹلری ابزرورز کی ایک ٹیم رواں دواں تھی جس میں ایک ینگ لیفٹینٹ نے بارڈر پر اور ایک کیپٹن نے باٹا پور کی مسجد کے مینار پر روشنی پھیلنے سے پہلے ابزرویشن پوسٹس قائم کرنی تھیں۔ کیپٹن کی منزل جلد آگئی اور لیفٹینٹ جب اپنے ساتھ ایک اپریٹر اور گن مین کو لیکر بارڈر کے قریب پہنچا تو اُسے پاکستانی علاقے کے اندر انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنے والی بھارتی سپاہ نے گرفتار کرلیا۔ اس چھوٹی سی ٹیم کو جب بھارتی بٹالین کمانڈر کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس نے پاکستانی فوج کے بارے میں سوال پوچھا کہ “وہ (پاکستانی فوجی) کدھر ہیں؟ لیفٹیننٹ نے  بڑے اطمینان سے جواب دیا آگے بڑھو وہ تمہارے استقبال کے لیئے تیار بیٹھے ہیں۔” (بحوالہ رجمنٹل ہسٹری 23 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری المعروف  گنز آف واہگہ ) 6 ستمبر 1965 کی رات کو تین بجے دُشمن چُپکے سے بارڈر پار کرچُکا تھا اور  رعونت پر مبنی پروگرام یہ تھا کہ یہ فوج صبح ناشتہ جاکر لاہور کے جمخانہ کلب میں کرے گی۔ ایسے میں پاکستان کے صدر ایوب کے پاکستان ریڈیو پر خطاب کے الفاظ “بزدل دُشمن نے رات کی تاریکی میں ہمارے بارڈر پر اچانک حملہ کردیا ہے” نے پاکستانی قوم کے اندر ایک بجلی سی بھردی  اور پُوری قوم   ہی دفاع وطن کی خاطر کٹ مرنے کے لیئے  بارڈر کی طرف چل پڑی پھر اس کے علاوہ شکرگڑھ (چونڈہ) کے محاذ پر اقوامِ عالم کی جنگی تاریخ  کا سب سے بڑا ٹینکوں پر مُشتمل ایک ہجوم اُمڈ آیا لیکن ان ٹینکوں کے سامنے پاکستانی فوج کے سپاہی سینے سے بم باندھ کر لیٹ گئے ان دونوں محاذوں پر بھارتی حملہ کو بڑی جُرات سے ناکام  بنانے کے  بعد بھارت پر جوابی حملہ (کاؤنٹر اٹیک) کیا گیا اور پاکستانی فوج دیکھتے ہی دیکھتے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں کشمیر کو بھارت سے کاٹنے کے بالکل قریب پہنچ گئی۔   ایک طرف  لاہور شالامار باغ میں شیرنی اور رانی (پاکستانی میڈیم اور ہیوی توپیں) چنگھاڑ رہی تھیں تو  دوسری طرف کھیم کرن اور چھمب جوڑیاں میں ہندو بنیے کی چیخیں آسمان تک پہنچ رہی تھیں۔ 23 ستمبر تک جنگ بندی کے وقت  پاکستان  590 مربع کلومیٹر  کا علاقہ  بھارت سے چھین چُکا تھا جن میں سے 490مربع کلومیٹر چھمب سیکٹر اور  50 مربع کلومیٹر کھیم کرن سیکٹر کا علاقہ شامل تھا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کا آغاز  جنوری کی ابتداء میں ہی ہوچُکا تھا جب  “کچھ” اور “سندھ” کے درمیانی 3500 مربع کلومیٹر  سمندری علاقے “رن” جسے  “رن آف کچھ” بھی کہا جاتا ہے  پر پاک بھارت کی جھڑپ ہوئی جس پر پاکستانی افواج نے بھارت کو عبرتناک شکست دے کر قبضہ کرلیا بعد میں اس تنازعہ  کی ثالثی امریکی صدر ووڈ رُو ولسن نے کی۔ مارچ کے مہینے میں بھارتی صدر لال بہادر شاستری نے  بھارتی قانون میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے لیئے شق نمبر 356اور357 کا اضافہ کرتے ہوئے کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیا جس پر کشمیریوں نے احتجاج شروع کردیا اور کشمیری لیڈر “شیخ عبداللّٰہ” کو بھارت نے پابند سلاسل کردیا جس پر کشمیری عوام اور بھی بپھر گئے۔  کشمیر پر کنٹرول کے مسئلے پر بھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان کے خلاف واویلہ شروع کردیا اور آخر کار پاکستان کو 24 جولائی کو ایک کمانڈو اپریشن “آپریشن جبرالٹر”  لانچ کرنا پڑا یوں تو  5اگست کو ہی بھارت نے پاکستان پر حملے کا اعلان تو کردیا لیکن اصل  1965 کی جنگ کا باقاعدہ  آغاز 6 ستمبر کو بھارتی حملے سے ہوا۔ اس جنگ میں لاہور، چونڈہ ، چھمب اور کھیم کرن کے محاذوں پر پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم نے ملکر وہ تاریخ رقم کی کہ جس کو پاکستان کا دُشمن  بھارت کبھی بُھلا نہ سکے گا۔ محض  17 دن کی جنگ کے بعد بھارت اپنی واضح شکست کو سامنے دیکھ کر بوکھلا سا گیا۔ ایسے میں بین الاقوامی سُپر پاورز  بھی اس جنگ میں کُود گئیں۔ امریکہ  نے تو اس جنگ سے لاتعلقی کا اعلان کردیا لیکن روس بھارت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہوگیا ایسے میں چین نے بھی بھارت پر حملے کی دھمکی دے دی۔ آج 58سال بعد پاکستانی قوم  اور اُس کے  ارباب اقتدار کے لیئے  ایک موقعہ ہے کہ وہ  اس چیز پر غور فکر کریں  کہ  1965 میں بھارت کو ناکوں چُنے چبوانی والی پاکستانی افواج اور پاکستانی قوم سن 1971میں کیوں ناکام ہوئیں؟ جس کا سادہ سا جواب ہے کہ  1965 میں پاکستانی قوم اور پاکستانی افواج یَکمُشت و یک جاں تھے جبکہ سن 1971 میں اقتدار کی رسہ کشی میں پاکستانی افواج اور سیاستدانوں کے درمیان  ہٹ دھرمی کی وجہ سے  ایک خلیج  تو تھی لیکن حالات  کی نزاکت کے ادراک سے عاری قیادت اُس وقت پاکستان کو کنٹرول کررہی تھی۔  اس سنہری دور کو یاد کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ آج  پاکستان میں سن 1965 سے بہت مختلف سیاسی فضاء اور ماحول ہے اگر یوں کہا جائے کہ آج کا پاکستان بالکل  سن 1971 کے نومبر و دسمبر جیسا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ بھارت بھی ایک تسلسل سے پاکستان کے مشرقی بارڈر پر چھیڑ خوانی میں مصروف ہے اور  بالخصوص مُودی سرکار جس دن سے اقتدار میں آئی ہے پاکستان بھارت سے حالت جنگ میں ہے ایسے میں پاکستانی سیاسی انتشار ، معاشی کمزوری  اور پاکستانی افواج اور قوم میں بڑھتے فاصلے پاکستان کو دُرست سمت میں لیکر ہر گز نہیں جارہے۔ ایسے میں عسکری و سیاسی قائدین کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے اور عوام کو بھی بین الاقوامی بالخصوصی بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کا شکار ہوکر مایوسی کی بجائے حالات کی نزاکت کو بھی سمجھنا چاہیئے اور دُشمن کی تمام چالوں پر بھی نظر رکھنی چاہیئے۔ جدید دور میں جنگ میدان جنگ سے زیادہ میڈیا پر لڑی جاتی ہے جسے ہائبرڈ وار یا ففتھ یا سکس

صحافی کے قلم سے

پاکستان میں بلوچ سرداروں کو دی جانے والی رائلٹی: تاریخی پس منظر اور موجودہ صورتحال

   تحریر : عمر مختار رند بلوچستان، جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، اپنی منفرد جغرافیائی، ثقافتی، اور سیاسی حیثیت کی وجہ سے ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس علاقے میں سرداری نظام، جو بلوچ معاشرت کا اہم جزو ہے، آج بھی بہت مؤثر ہے۔ سرداروں کا کردار یہاں کے سماجی ڈھانچے، مقامی انتظامیہ، اور سیاسی فیصلوں میں انتہائی نمایاں ہے۔ اس مضمون میں ہم بلوچ سرداروں کو دی جانے والی رائلٹی اور وظائف کا جائزہ لیں گے، جو برطانوی دور سے لے کر پاکستان کے قیام اور موجودہ دور تک جاری ہیں۔  برطانوی دور میں رائلٹی کا نظام برطانوی راج کے دوران بلوچستان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ برطانوی حکام نے اس علاقے کو اپنے اثر و رسوخ میں رکھنے کے لیے مختلف قبائلی سرداروں کے ساتھ کئی معاہدے کیے۔ اس وقت کے سردار، جو اپنے اپنے علاقوں کے مطلق العنان حکمران ہوتے تھے، برطانوی حکومت کے ساتھ مختلف نوعیت کے تعلقات رکھتے تھے۔ ان تعلقات کو مضبوط بنانے اور مقامی مزاحمت کو کم کرنے کے لیے برطانوی حکام نے بلوچ سرداروں کو وظائف اور رائلٹی کی صورت میں مالی فوائد فراہم کیے۔ کلات اسٹیٹ، جس کی سربراہی خان آف قلات کرتے تھے، برطانوی حکومت کے ساتھ ایک خاص معاہدے کے تحت رائلٹی حاصل کرتی تھی۔ خان آف قلات کو تیل، گیس، اور دیگر قدرتی وسائل کے بدلے میں رائلٹی دی جاتی تھی۔ برطانوی دور میں خان آف قلات کی حیثیت ایک نیم خودمختار ریاست کے سربراہ کی تھی، اور وہ اپنے علاقے میں مکمل اختیار رکھتے تھے۔ اسی طرح، مری، بگٹی، اور مینگل جیسے بڑے قبائل کے سرداروں کو بھی برطانوی حکومت کی جانب سے وظائف دیے جاتے تھے۔ ان سرداروں کو ان کے قبائلی علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے اور برطانوی مفادات کے تحفظ کے عوض مالی امداد فراہم کی جاتی تھی۔ ان وظائف کا مقصد نہ صرف ان سرداروں کو خوش رکھنا تھا بلکہ برطانوی حکام کی جانب سے بلوچستان کے اسٹریٹجک علاقے میں اپنا کنٹرول مضبوط بنانا بھی تھا۔  پاکستان کے قیام کے بعد رائلٹی کا نظام: 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد بھی بلوچ سرداروں کو رائلٹی اور وظائف دیے جاتے رہے ہیں۔ نئے ملک میں ان سرداروں کی حیثیت میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی بلکہ ان کے اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوا۔ بلوچستان میں قدرتی وسائل کی دریافت اور ان کی اہمیت کے پیش نظر، حکومت پاکستان نے بھی سرداروں کے ساتھ برطانوی حکام کی طرز پر معاہدے کیے اور انہیں رائلٹی کی صورت میں مالی فوائد فراہم کیے۔ 1952 میں سوئی گیس فیلڈ کی دریافت کے بعد، مری قبیلے کے سردار کو ایک نمایاں رائلٹی دی جانے لگی، جو آج بھی جاری ہے۔ یہ رائلٹی سوئی گیس کے ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ ہوتی ہے، جسے سردار اور ان کے خاندان کے افراد کو دی جاتی ہے۔ دیگر بڑے قبائل، جیسے بگٹی اور مینگل، بھی اپنے علاقوں میں موجود وسائل کے بدلے رائلٹی حاصل کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کی حکومت نے بلوچستان میں دیگر سرداروں کو بھی مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے مالی فوائد فراہم کیے۔ ان منصوبوں کا مقصد صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود تھا، مگر اکثر یہ فوائد سرداروں تک ہی محدود رہے، اور عام عوام کو ان سے بہت کم فائدہ پہنچا۔  موجودہ صورتحال اور تنازعات  موجودہ دور میں بلوچ سرداروں کو دی جانے والی رائلٹی کا معاملہ ہمیشہ سے ایک متنازعہ مسئلہ رہا ہے۔ ایک طرف تو سرداروں کو بڑی مقدار میں رائلٹی دی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف بلوچستان کے عام عوام اس کے ثمرات سے محروم رہتے ہیں۔ یہ صورتحال بلوچستان میں غم و غصہ اور عدم اطمینان کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ بلوچستان میں اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ سردار اپنی رائلٹی اور وظائف کا زیادہ تر حصہ اپنے ذاتی استعمال میں لاتے ہیں اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خرچ نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں، بلوچستان کے عوام غربت، بے روزگاری، اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ رائلٹی کا یہ نظام اکثر غیر شفاف ہوتا ہے اور اس کی صحیح مقدار اور تقسیم کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ مختلف حکومتوں نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، مگر سرداری نظام کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ ان میں تبدیلی لانا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔ سردار، جو روایتی طور پر اپنے علاقوں میں بے پناہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، حکومت کے ترقیاتی منصوبوں میں مداخلت کر کے ان کی کامیابی میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بلوچستان کے قدرتی وسائل پر کنٹرول کا مسئلہ بھی ہمیشہ سے سرداروں اور حکومت کے درمیان تنازعہ کا باعث بنا رہا ہے۔ سرداروں کا کردار اور مستقبل کی راہیں  بلوچستان میں سرداروں کو دی جانے والی رائلٹی کا نظام ایک پیچیدہ اور متنازعہ مسئلہ ہے، جو نہ صرف بلوچستان کے عوام بلکہ پورے پاکستان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ایک طرف، سرداروں کا اثر و رسوخ اور ان کے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کی اہمیت ہے، تو دوسری طرف، عوام کی فلاح و بہبود اور بلوچستان کی ترقی کا مسئلہ ہے۔ آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان اور بلوچ سردار مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو شفاف ہو اور جس میں بلوچستان کے عوام کو بھی حصہ مل سکے۔ سرداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا اور عوام کی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔  بلوچستان کے قدرتی وسائل کا فائدہ صرف چند خاندانوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس سے پورے صوبے اور ملک کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ رائلٹی کا نظام زیادہ شفاف اور منصفانہ بنایا جائے، تاکہ بلوچستان کے عوام کو بھی ان کے جائز حقوق مل سکیں۔ ♦♦♦♦♦ یہ مضمون بلوچ سرداروں کو دی جانے والی رائلٹی کے تاریخی اور موجودہ پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کرتا ہے اور اس معاملے پر ایک

صحافی کے قلم سے

بدقسمت عوام اور خوش قسمت حکمران

  ہم اکثر دیکھتے ہیں اور اب تو محسوس بھی کرتے ہیں کہ ہمارے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب کردہ عوامی نمائندوں نے ہمیشہ اسمبلیوں میں اپنے لیے یا اپنی پارٹی اور اپنی اپنی جماعتوں کے لیے تن من کی بازی لگا کر اونچی اونچی آواز میں آواز اٹھائی ہے کیا عوام کے لیے اس عوام کے حقوق کے لیے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ہمارے منتخب کردہ نمائندوں کی زبان کیوں رک جاتی ہے کاش ایسا ہوتا کہ عوامی نمائندے عوام کے استحقاق کیلئے اکٹھے ہوئے ہوتے۔ ان عوام کیلئے آواز اٹھائی ہوتی جو اِن کے دعووں اور وعدوں میں آ کر ہر بار مینڈیٹ دے بیٹھتے ہیں۔ ہوشربا مہنگائی ہو یا شہری سہولیات‘ ان سبھی سے بے نیاز عوامی نمائندوں کو عوام کی حالتِ زار پر تو کبھی رحم نہ آیا۔ اپنے ضمیر پر کیسا کیسا بوجھ اٹھائے ہائوس میں سج دھج کر آ بیٹھتے ہیں۔ عوام سے وعدہ خلافیوں اور بد عہدیوں میں ڈوبے ہر دور میں صرف اپنے ہی بت کی پرستش کرتے ہیں۔ انکی لوٹ مار کی داستانیں ہوں یا دیگر سکینڈل‘ یہ انہیں اپنا استحقاق سمجھ کر نازاں اور شاداں دکھائی دیتے ہیں۔ لوٹ مار کی داستانیں ہوں یا ایوان کے اندر بیٹھ کر اپنی دنیا سنوارنے کی دھن‘ سیاسی سرکس میں قلابازیاں ہوں یا ایوان میں لگا اکھاڑا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی ہو یا دست و گریباں ہونے کے واقعات۔ دشنام طرازی ہو یا تند و تیز جملوں کا تبادلہ۔ الغرض عوامی مسائل سے بے نیازی کے سبھی مناظر کو قانونی تحفظ دینے کیلئے کیا حلیف کیا حریف‘ سبھی ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مفادات کے جھنڈے تلے ایک بار پھر اکٹھے نظر آتے ہیں۔عوام کو روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،ایسا کرکے حکمران کسی پر کوئی احسان نہیں کر تے۔ پاکستان میں گزشتہ مالی سال میں غربت بڑھ کر تشویش ناک حد تک پہنچ گئی ہے جس سے مزید سوا کروڑ افراد غربت کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ اس وقت 12کروڑ 50لاکھ افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔عوام اگر احتجاج کریں تو ان پر مہنگائی کے کوڑے برسائے جاتے ہیں تاکہ وہ اس نظام سے بغاوت کا سوچ بھی نہ سکیں۔ عوام مرتے ہیں تو مریں ان کی بلا سے۔ رعایہ اور عوام میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عوام کے حقوق ہوتے ہیں جیسے مغرب میں ہیں اور رعایا کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ بظاہر آزاد ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ غلام ہی ہوتے ہیں۔ہم آج بھی 21ویں صدی میں حکمران طبقات کی رعیت ہیں۔ نہ معاشی نہ سیاسی نہ انسانی حقوق ۔ایک حکمت عملی کے تحت رعایا کو مسلسل خوف اور عدم تحفظ میں مبتلا رکھا جاتا ہے۔ان سیاسی جماعتوں کے لیڈرز میں کسی کو بھی عوام سے کوئی سروکار نہیں بس ہر کوئی وزیراعظم کی سیٹ پر آنا چاہتا ہے تاکہ وہ مزید فرعونیت کا مظاہر ہ کر سکے۔ پوری دنیا  میں سیاسی منصب  اور عہدے عوام کی خدمت کے  لیے  ہوتے ہیں اس لیے ان  عہدوں پر براجمان ہونا ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی ہے مگر ہمارے سیاست دان تو ان عہدوں پر آکر عوام کو کوئی فائدہ پہنچانے کی بجائے اپنے مفادات کا تحفظ کرنے پر قانون سازی کرتے ہں اور اس پر شرمندہ ہونے کی بجائے اعزاز سمجھتے ہیں۔پاکستانی عوام بدقسمت ہیں کہ انہیں ایک لالچی، خودغرض اور عوام دشمن حکمران طبقے سے پالا پڑا ہے۔ یہ دو فیصد حکمران طبقہ 98 فیصد عوام کا خون چوس کر اپنے مفادات اور عیاشیوں کا خرچ پورا کر رہا ہے۔ اس نظام ظلم کے خلاف متحد ہونے، مخلص قیادت کو پہچان کر اسکے پیچھے چلنے کی ضرورت ہے۔میرے چند دوست ایسے بھی ہیں جن کو ہمارے سیاسی قائدین سے اتنا شدید لگاؤ ہے کہ وہ اپنے محبوب قائدین کی خاطر دن کے اجالے کو رات کہنے سے نہیں چوکتے اور اب بھی اپنی تمام تر تعلیمی و ذہنی قابلیت کے ساتھ موجودہ سیاسی نظام کے کرتا دھرتا حضرات سے اپنی آخری امیدیں لگائے اپنی زندگی کے سنہرے دن کاٹ رہے ہیں کہ شاید ابھی مداری کے چغے میں کوئی ایسا سحر سامری ہو جس کے پھونکنے سے نہ صرف پاکستان کے تمام مسائل حل ہو جائیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم کا قرضہ، بے روزگاری، مہنگائی اور تمام نام نہاد مافیاز کا خاتمہ بھی ہو جائے جن کی وجہ سے واحد اسلامی ایٹمی طاقت ایشین ٹائیگر بن جائے 🔵🔴🔵🔴🔵

صحافی کے قلم سے

جمہوریت کی آڑ میں عوام

جمہوریت کی آڑ میں عوام کے احساسات اور اُمیدوں کے ساتھ کھیلنا بہت افسوسناک اور نامناسب بات ہے۔ جمہوریت ایک نظام ہے جس میں عوام کو فیصلہ ساز کردار اختیار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور حکمرانوں کو عوام کی دلچسپیوں اور مسائل پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ اسلامی اصولوں اور اخلاقی تعلیمات کے مطابق خوشحال معاشرت کا بنیادی رُوکن جمہوری نظام ہے۔ جمہوریت میں عوام کو حکومت کا انتخاب کرنے کا حق دیا جاتا ہے اور حکمرانوں کو عوام کے مفادات کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسلامی ریاستوں میں بھی عوام کی مرضی کو اہمیت دی جاتی ہے اور حکمرانوں کو عدلیہ اور شرعی احکام کی پاسداری کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ عوام کی رضاکارانہ سلوک اور مثبت شراکت ایک مضبوط اور خوبصورت جمہوری نظام کی بنیاد بناتی ہے۔ایسی صورت میں اگر عوام کا استحلال ہوتا ہے تو یہ معاشرتی اور سیاسی فضا کے لیے بہت برا اثر آتا ہے۔ عوام کو انتخابات کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیل کردار کرنے کا موقع حاصل ہوتا ہے اور اگر وہ اپنے حقوق کا استعمال نہیں کرتے ہیں تو ان کی استحقاق داریوں کا نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے عوام کو جمہوریت کے نظام کے تحت اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا خوبصورتی سے استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ہمیں حکمرانوں کی باتوں اور کارروائیوں کو چیلنے کے لئے ہوشیار رہنا چاہئے۔ ان کے فیصلوں کو سراہنا اور ان کی سرگرمیوں کو نگرانی کرنا ہمارا فرض ہے۔حکمرانوں کو ہمیشہ عوام کے مفادات کی پہلی ترجح دینی چاہئے۔ ان کو بیوقوف بنانے کی کوششوں کا مکمل احتراز کرنا چاہئے اور ان کے حکم کاروں کا احتساب بھی کرنا چاہئے۔عوام کو بیوقوف بنانے کی کوششوں سے بچنے کے لئے ہمیں آگاہ اور تیار رہنا ہوگا۔ ہمیں حکمرانوں کی پالیسیوں اور فیصلوں کو جاننا چاہئے اور ان کے فیصلوں پر مکمل توجہ دینی چاہئے۔انتہائی اہم ہے کہ ہم حکومتی کارروائیوں اور حکمرانوں کو کھیلنے کی کوششوں سے بچیں اور ان کی نگرانی کریں تاکہ عوام کے مفادات کو اعلی ترین پلیٹفارم پر رکھا جائے۔ آپ کس ملک کے حکمرانوں کی بات کر رہے ہیں؟ غربت کی زیادہ معنوں میں موجودہ زمانہ میں کوئی بھی ملک محترموں کی حکومت میں غربت کا تنازع ہو سکتا ہے، جس سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ تاہم حکمرانوں کو اس بات کا بھی پتہ ہوتا ہے کہ غربت کی وجوہات کیا ہیں کیونکہ حکمران ہی ان سب وجوہات کا سبب ہیں اور وہ عوام کی خواہشات اور زندگی کی حقیقت کو سمجھ کر ان سے کھیل کھیلتے ہیں۔ ان کی پالیسیوں اور فیصلوں کا مقصد ہمیشہ عوام کی بہتری اور غربت کے خاتمے کی طرف ہونا چاہئے۔ ہماری غریب عوام اور حکمران کے درمیان فاصلے کا توازن برقرار کرنا ایک اہم مسئلہ ہے۔ حکمرانوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی عوام کے مسائل کا حل دیکھیں اور ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ لیکن اکثر اوقات یہ حقیقت ہوتی ہے کہ عوام کی غربت اور مصائب کا حساسیت قابو نہیں ہوتی اور وہ ان مسائل کا حل نہیں نکال پاتے۔غریب عوام کو معیشتی اور سماجی حقوق کا تاثر ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور حکمرانوں کی زیر اہتمام حکومتوں کو ان کے حقوق کی حفاظت اور ترقی فراہم کرنے کی مسئلہ بازی نہ ہو۔ حکومتیں ایسی بنیادی اقدار فراہم کرنی چاہئے جو عوام کو معیشتی سکونت، تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولت فراہم کریں۔ عوام کو بعد ازاں موقع فراہم کیا جانا چاہئے کہ وہ خود اپنی ترقی کے لیے کام کر سکیں اور بیروزگاری اور غربت سے نجات حاصل کر سکیں۔ غریب عوام اور حکمران کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لیے ان دونوں کے درمیان ایک مثبت اور بنیادی تعلقات کی بنیاد رکھنی چاہئے تاکہ مل کر معاشرتی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ اس طرح ہم سب ایک بہتر اور مضبوط معاشرتی نظام قائم کر سکتے ہیں جہاں ہر فرد اپنے حقوق کے حصول کی توقع رکھ سکتا ہے ⭕🔴⭕🔴⭕

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

   بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا

Scroll to Top