Pakistan social media viral

Pakistan social media viral

دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا ہونے جا رہا ہے؟

 چین کو کیسے ختم کیا جائے ؟؟؟؟؟؟ برطانیہ اور فرانس کا یوکرائن میں فوجیں بھیجنے کا فیصلہ۔۔۔۔۔۔ برطانیہ اور فرانس دونوں ہی یخ و دی لابی کے سرکردہ ممالک ہیں۔ ان کا یوکرائن میں فوجیں بھیجنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔وینزویلا میں رشیا اور چین کی  امریکہ کے خلاف مزاحمت کو روکنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ ابھی چند دن میں دو بڑے معاہدے ہونے والے ہیں دونوں کے ڈرافٹ تیار ہیں ایک پاکستان + ترکی + سعودی عرب جو مشرق وسطیٰ میں از را ایلی امریکی پیش قدمی کو مینیج کرنے کیلئے۔ دوسرا پاکستان بنگلہ دیش جنوبی ایشیاء میں انڈیا امریکہ کو روکنے کیلئے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دونوں محاذوں پر پاکستانی فوج کا کردار بڑا کلیدی ہوگا۔ یورپ کو یوکرائن کے محاذ پر ذبح کروانا مقصود ہے۔ چین کا سر دست براہِ راست کسی بارڈر پر ٹکراؤ بنتا نظر نہیں آرہا۔ وہ دو جگہ پر آکر اپنی لڑائی خود لڑے گا ایک تائیوان میں امریکہ کے خلاف جس سے روس کو کور ملے گا اور امریکہ براہِ راست روس سے ٹکرانے سے بچ جائے گا۔ دوسری لڑائی وہ انڈیا کے خلاف سیون سسٹر اور بنگلہ دیشی سمندر میں انڈیا کے خلاف لڑے گا تاکہ آبنائے ملائکہ جو بلاک ہونے بچا سکے۔ ایک محاذ اور کھلتا نظر آرہا ہے ہو سکتا ہے کہ ایران براہ راست از را ایل پر حملہ کر دے تاکہ خلیج میں موجود امریکی بحری بیڑے غیر محفوظ ہو جائیں اور ایران کی از را ایل کے خلاف سے ملک میں جاری عوامی انتشار تحریک دم توڑ جائے۔ کیونکہ اس کے بغیر امریکی از را ایلی حمایت یافتہ عوامی تحریک کو ختم کرنے کا کوئی اور راستہ نظر نہیں آرہا۔ چین وینزویلا میں امریکی دراندازی کے بعد ایرانی تیل کو گنوانے کا رسک نہیں لے سکتا۔  ایران پر امریکی حملہ اس لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کیونکہ وینزویلا میں دنیا دستیاب تیل کے 20 فیصد ذخایر ہیں۔ اس تیل کا 20 فیصد چین خریدتا ہے۔ یہاں ہر چین نے 550 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کی ہوئی ہے۔ اب اس تیل کی دستیابی مشکل ہو گئی ہے اس لیے چین نے جو ایران میں جاری 400 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کو میچور کرنے اور سی پیک کے حقیقی استعمال کا وقت آگیا ہے۔ چین ایران سے کھلم کھلا تیل خریدے گا اور سی پیک کے ذریعے لیکر جائے گا۔ اس جنگی دور میں سی پیک پاکستان کی مالی آمدن کا بڑا سورس بنے گا۔ اگر اس سارے انتشار اور جنگی فساد مچانے کا مرکزی اور بنیادی نقطہ چین کو مار کر عالمی قیادت کے منصب پر فائز ہونے کی خواہش کو ختم کرنا ہے۔ کیونکہ امریکہ کی 37 ٹریلین ڈالر کی مقروض ریاست اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ رہی ہے۔ اس عالمی قیادت کی کرسی کے تین امیدوار تھے جن میں ایک کی منشاء، خواب اور خواہش کے جنازے کو  ہم نے مئی 2025 میں راجستان کے صحراؤں، پنجاب کے کھیت کھلیانوں اور کشمیر کے پہاڑوں میں دفن کر دیا۔ سمندر برد ہونے سے اس لیے بچ گیا کہ وہ کراچی پر حملہ کرنے جرت نہیں کر سکا۔ یہ ہی چار جنگی محاذ ہوتے ہیں یہ چار جنگی مہارتیں ہیں جن میں پاکستان نے حقیقی معنوں میں چاروں خانے چت کر دیا ہے۔ باقی بچیں دو ایک ازرا ایل اور چین۔  ازرا ایل کی خواہش غیر فطری، کسی طرح بھی درست اور برحق نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس نہ اپنی زمین ہے نہ جغرافیائی وجود ہے نہ عالمی فوج ہے، نہ اپنی معیشت ہے اور نہ ہی اقوام عالم کی ضروریات اور تحفظ فراہم کرنے کا کوئی نظام ہے۔ قبضے کی زمین کرائے کے فوجی دھونس دھاندلی اور بلیک میلنگ کی سیاست اور خریدے ہو غدار کبھی کسی عالمی قیادت کی بنیاد فراہم نہیں کر سکتے۔ اس لیے چین فطری طور پر اس منصب کا سب سے بڑا اور حقیقی اہل ہے۔ چین کے پاس عالمی طور پر مسلمہ زمین موجود ہے ہزاروں سال پرانی تاریخ رکھنے والی محنتی قوم ہے۔  ملک میں ایک صدی سے زائد جاری مستحکم  سیاسی معاشی وفاقی نظام موجود ہے، صنعتی طور پر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہوتا ہے، عسکری قوت کو  مئی 2025 میں پاکستان نے دنیا بھر کے سامنے متعارف کرا دیا ہے اب کوئی ایسا پہلو باقی نہیں جو اس کی عالمی قیادت کی خواہش میں حائل ہو۔ مگر از را ایلی لوگوں کی ایک بچگانہ خواہش کو پورا کرنے کے لیے پوری دنیا کو جنگوں کے ایندھن میں دھکیلا جا رہا ہے۔ جیسے یہ ملک غیر فطری ہے اسی طرح اس کی خواہش بھی غیر فطری ہے اور یہ جنگیں بھی غیر فطری ہیں اور یقینا ایسی قوت جس کی بنیاد ہی فطرت کے قوانین کے خلاف تو اس کی  کبھی بھی ایسی مذموم خواہش پوری نہیں ہو سکتی اور آخر کار چین ہی امید ہے کہ اگلے تین سے چار سال میں دنیا کی عالمی قیادت یہ منصب پر فائض نظر ائے گا۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے سلطنت عثمانیہ کی باقیات میں سے جو 57 اسلامی ملکوں کی شکل میں منتشر  وجود نظر آرہا ہے وہ سب پاکستان کی قیادت میں متحد ہو کر اگلے عالمی معاشی اور سیاسی نظام میں بڑے کلیدی وجود کے ساتھ شامل ہوں گے۔ امید واثق ہے کہ اسلامی ممالک کی شیرازہ بندی دنیا میں اسلام کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کی شکل اختیار کرے گا۔ میرے لیے خاص طور پر اور ہر باشعور پاکستانی کیلئے عام پر سعادتِ کا مقام ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا کام اللہ تعالیٰ وطن عزیز سے لینے جا رہا ہے۔ اسی لیے اس غزہ ہند میں شریک لوگوں سے جنت کا پیشگی وعدہ کیا گیا ہے۔ ہے کوئی اس سچے کے سچے وعدے پر یقین کرنے والا۔ ❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤

Pakistan social media viral

پاکستان ایک خدائی راز ہے

 پاکستان کایہ قرض آذربائیجان کبھی نہیں بھولے گا دنیا آج پاکستان کے خلاف کیوں کھڑی ہے؟ اس لیے کے پاکستان نے ہمیشہ اپنے لیے نہیں… دوسروں کے لیے خون بہایا ہے۔ افغانستان میں روس کے خلاف لڑائی ہو یا عرب–اسرائیل جنگ… کشمیر کے لیے چار بار کھڑے ہونا ہو یا اقوامِ متحدہ میں خون پیش کرنا… پاکستان نے وہ کام کیے ہیں جو بڑے بڑے ممالک کے بس کی بات نہیں تھی۔ لیکن ایک کہانی ایسی ہے جسے دنیا نے ہمیشہ دبایا… اور آذربائیجان نے ہمیشہ یاد رکھا۔ یہ وہ کہانی ہے جب آذری مسلمان دنیا کی نظر میں تنہا تھے۔ آرمینیا نے ان کے علاقے نگورنو کاراباخ پر قبضہ کر لیا تھا۔ گھروں کو جلا دیا گیا، عورتوں کو دربدر کیا گیا، لاکھوں آذری بے گھر ہوئے… دنیا خاموش کھڑی رہی۔ طاقتور ممالک آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے۔ مگر ایک ملک تھا… جو بغیر فائدے کے، بغیر لالچ کے، صرف ایمان کی بنیاد پر آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ اور وہ ملک تھا — پاکستان۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے آرمینیا کو آج تک تسلیم نہیں کیا۔ دنیا نے چاہا کہ پاکستان دباؤ میں آئے، مگر پاکستان نے کہا: “ہم اس ظالم کو نہیں مانیں گے جو مسلمانوں کی زمین پر قبضہ کرے۔” یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے آذربائیجان کی قوم کے دلوں پر پاکستان کا نام لکھ دیا۔ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی نے کھل کر نہیں، مگر خاموشی سے آذربائیجان کو وہ تعاون دیا جو فیصلہ کن ثابت ہوا۔ ٹریننگ… انٹیلی جنس… محدود سپورٹ… یہ جنگ ایسے نہیں جیتی گئی جیسے دنیا سمجھتی ہے، بلکہ پسِ پردہ پاکستانی ذہن، پاکستانی تربیت اور پاکستانی تجربہ کارفرما تھا۔ آذربائیجان کے جرنیل کھلے عام کہتے ہیں: “ہم نے لڑنا پاکستانیوں سے سیکھا ہے۔” 2020 کی جنگ میں جب آذربائیجان نے فیصلہ کن فتح حاصل کی تو آذری نوجوان ٹینکوں پر پاکستانی جھنڈے لگا کر لڑ رہے تھے۔۔ سڑکوں پر “Pakistan Zindabad” کے نعرے لگ رہے تھے۔ صدر علیوف نے ٹی وی پر کہا: “پاکستان ہمارا سچا بھائی ہے… ہم یہ احسان کبھی نہیں بھولیں گے.” پاکستان نے ان کا ساتھ اس وقت دیا جب دنیا نے انہیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ یہ محبت کتابوں میں نہیں لکھی جاتی، یہ دل کے اندر جلتی ہے… نسلوں تک چلتی ہے۔ دشمن یہی وجہ برداشت نہیں کر پاتے— کہ پاکستان نے صرف اپنے لیے نہیں، امت مسلمہ کے لیے لڑا ہے۔ افغانستان میں روس ٹوٹا — پاکستان کی بدولت عرب–اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے طیارے گرے — پاکستانی پائلٹس کے ہاتھوں کشمیر کے لیے چار جنگیں لڑیں — اپنے خون سے اور آذربائیجان کو فتح دلائی — اپنی غیرت اور اپنی خاموش مدد سے۔ دنیا اس لیے پاکستان سے ڈرتی ہے… کیونکہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں… ایک کردار ہے، ایک اصول ہے، ایک مزاحمت ہے۔ اور آذربائیجان آج بھی دنیا کو بتاتا ہے: “پاکستان نے ہمارا ہاتھ اس وقت تھاما، جب دنیا نے منہ پھیر لیا تھا۔ یہ قرض ہم کبھی نہیں چکا سکتے۔” اللہ تعالی پاکستان کو ہمیشہ سر بلند رکھے ۔😍 مخلص پٹھان داستان_گو #DastanGou https://www.dastangou.xyz Join Channel  *DastanGou* https://whatsapp.com/channel/0029VaAlths7YSd0xR7w3w1k ____________________________

Pakistan social media viral

عالمی سطح پرنیا جنگی ہتھیار سوشل میڈیا جو عسکری جنگ سے زیادہ خطرناک ہے!

  عسکری ز-ہری چھپی ہوئی جنگ آمنے سامنے کی جنگ ہر قسم کے اوچھے ہتھ کنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ البتہ کسی قوم، ملک یا نظریے کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لیے شروع سے اب تک دو ہی طریقے رائج ہیں۔ ایک طریقہ وہ ہے جس میں طاقت و قوت کا مظاہرہ اور جسم و اسلحے کا استعمال کیا جاتا ہے۔طاقتور مظلوم پر قابض ہو جاتا ہے چاہے علاقہ ہو یا لوگ ہو۔ دونوں طرف سے خو-ن بہتا ہے اور لوگ زخمی ہوتے ہیں۔لیکن یہاں جسم قابو کئے جا سکتے ہیں دماغ نہیں۔الٹا اندرونی طور پر انتقا!م کیا مزید بھڑک اٹھتی ہے  یہ عسکری جنگ کہلاتی ہے۔ اور دوسرا طریقہ ہائبرڈ وار فئیر جنریشن وار ذرائع ابلاغ فکری اور نظریاتی جنگ کا ہے۔ یعنی ایسی جنگ جو ظاہری چھپے ہوئے جنگی ہتھیار آلاتِ حرب کے بجائے دیگر ذرائع سے لڑی جائے۔ جس میں کسی قوم کی ذہنیت و معاشرت، تہذیب و تمدن اور خیالات تبدیل کیے جاتے ہیں۔جس کی مثال لاتعداد مسلمان ممالک آپس میں خا!نہ جنگی سے شروع ہونے والی تبا!ہی۔پورے ملک کے ملک کھنڈرات میں ختم ہونے کے بعد۔آج تک تبا!ہی برس رہی ہے۔  اس جنگ میں جسم کے بجائے عقائد و نظریات پر حملہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے نظریاتی جنگ عسکری جنگ سے زیادہ خطرنا!ک ہے۔ کیونکہ جسم کا زخم جلد یا بدیر ٹھیک ہو جاتا ہیں جبکہ عقائد نظریات۔ پر ضرب دونوں جہانوں کا خسارہ ہے۔ ۔ہائبرڈ وار فئیر ففتھ جنریشن وار نظریاتی جنگ۔انتہائی خاموشی سے جدید ٹیکنولوجی جدید آلات۔سوشل میڈیا الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا اور دیگر۔ کے ساتھ دائمی اثرات مرتب کرتی ہے۔ عسکری جنگ کے ذریعے حاصل کی جانی والی فتح کو نظریاتی جنگ ہی استحکام اور دوام بخشتی ہے۔ دراصل یہ جنگ کفا! ر نے اسلام کو ختم کرنے کے لیے شروع کی ہے۔ اور اس کی ابتدا اسی وقت ہو گئی تھی جب شیطا! ن نے آدم علیہ السلام کے دل میں وسوسہ ڈالا اور آج یہی جنگ کفا! ر کا انتہائی مؤثر آلہ ہے۔ اور پوری دنیا میں اس کے معرکے جاری ہیں، جس میں کفا! ر کا پلڑا بھاری ہے۔ اور یہی ذرائع ابلاغ ہائی بریڈ وار فیئر پروپگنڈہ ففتھ جنریشن وار فیئر۔انتہائی خطرنا!ک ترین ہتھیار ہے۔اسی ہتھیار کے ذریعے سلطنت مغلیہ بھی ختم ہوئی۔اسی ہتھیار کے ذریعے سلطنت عثما! نیہ بھی ختم ہوئی۔مختصر یہ کہتا چلوں کہ اس وقت۔خط و کتابت کی کتابیں اور چند لوگ کھڑے کیے جاتے تھے جو۔اور اپنے مقاصد کے پروپیگنڈہ کی تبلیغ کرتے تھے۔لوگوں کے ذہن زہر آلود کر دیتے تھے۔جیسے آج کل کل بھائی بھائی کا دشمن ہو چکا ہے۔یہ افغا! نی ہے یہ پاکستانی ہے یہ ترکی ہے یہ عرب ہے یہ ایرانی ہے یہ فلاں ہے یہ فلاں ہے۔ سلطنت عثما!نیہ سلطنت مغلیہ اپنے دور اپنے وقت کے حساب سے بہت زیادہ طاقتور تھی مضبوط تھی۔براہ راست دشمن حملہ نہیں کر سکتے تھے دشمنوں نے اندر سے بغا! وتوں کو ہوا دی حوصلہ شکنی کی مورال گرایا ایک دوسرے کے دست و گریبان کرایا۔سب سے بڑے۔ہائبرڈ وار فئیر۔ہتھکنڈوں میں گروہ بندی فرقہ واریت لسانیت قوم پرستی ذاتی مفاد۔لالچ بے حیائی عورت کا استعمال۔مال دولت کی لالچ۔سب سے اہم عنصر تھے۔ پھر آپس کی جب تبا!ہی ہوئی تو دشمن باہر سے آکر مسلط ہوگیا۔  تازہ مثالیں اسی زمانے کی آپ کے میرے سامنے ہے عر-اق شا!م یمن لیبیا افغا!نستان میں کیسے ویلکم کرتے رہے روس کو پھر بعد میں امریکہ کو نام نہاد مسلمان۔ اسلام دشمن طاقتوں کا سب سے بڑا مشن یہی ہے کہ مسلمان ایک نہ ہوسکے آپس میں لڑتے رہے دفاعی فوجی طور پر تو کسی صورت بھی مضبوط نہ ہوسکے دشمنوں نے اسلام کو مٹا!نے کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کرنے کے لئے۔ دشمن نے بڑے بڑے ریسرچ سینٹر کھول رکھے ہیں اسلام پر عبور کرکے کیسے اسلامی مسائل میں ان کو الجھانا ہے کیسے فرقہ واریت میں مبتلا کرنا ہے۔پھر کسی ایک فرقے کے بندے کو ما!را جاتا ہے پھر دوسرے فرقے کے لوگوں میں نفرتیں کوٹ کوٹ کر بھر دی جاتی ہے۔پھر نفرتوں کا بازار گرم ہوتا ہے۔ اسی طرح لسانیات قوم پرستی میں بھی کسی ایک قبیلے قوم کے فرد کو ما! را جاتا ہے اور پھر نہ ختم ہونے والا نفرتوں کا سلسلہ شروع ہو چلتا ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں نے باقاعدہ مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے بڑے بڑے ادارے ریسرچ سنٹر کھول رکھے ہیں۔ پہلے کے زمانے میں ہمارے ہیں علاقوں میں۔لوگوں کو بھیجتے تھے جو کہ بہت زمانہ علاقے میں گھل مل جاتے تھے۔لوگوں کا اعتبار حاصل کرتے تھے پھر اندر ہی اندر اپنا کام کرتے تھے۔پھر خط و کتابت کا زمانہ آیا۔ لیکن آج کا جدید زمانہ ہے نہ ہی کہیں جانا پڑتا ہے اور نہ ہی کسی کو بھیجنا پڑتا ہے بس کسی بھی نام سے جعلی فیک اکاؤنٹ بنائے۔کسی پختون کے نام سے اور شروع ہوجائیں پنجابیوں کو گالیاں دینا اور پھر پنجابی کے نام سے فیک اکاونٹ بنا کے پختونوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔اسی طرح سندھی بلوچ۔افغا!نی ترکی سعودی عرب عجم پوری دنیا کے تمام مسلمانوں کی قومیت و کے حساب سے۔اور مزید الیکٹرونک میڈیا پر ان کے ایجنٹ جو کہ پیسے کی خاطر یا دیگر مراعات کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔وہ اپنا کام بڑی خاموشی سے غیر محسوس طریقے سے۔سرعام کر رہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ ذخائر معدنیات مسلمانوں کے پاس لیکن سب سے زیادہ مظلوم بھی مسلمان۔ مسلمانوں کی طاقت کو تقسیم در تقسیم کردیا گیا ہے۔ اب میں آپ کو پاکستان کی مثال دیتا ہوں پاکستان میں۔اس وقت جو بھی حالات چل رہے ہیں ہمارے اندرونی۔اس کی بنیادی وجہ دشمن باہر سے بیٹھ کر اندرونی لوگوں کو استعمال کر رہا ہے۔جس نے بہت بڑا جال بچھا دیا ہے۔ آج ہم ایک قوم بن جائے تو پاکستان ترقی کی انتہا کو پہنچنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی۔ ☆☆☆☆☆ دشمن کا یہ ہتھیار نوجوان نسل کو گمراہ کر رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ دشمن کی طرف سے جدید خفیہ ہائبریڈ وار فیئر الیکٹرونک وار فیئر اوپن سیکرٹ وار فیئر معاشی اقتصادی وار فیئر۔ دشمن صرف اور صرف انسانی دماغوں سے شروع ہوکر ملکی معیشت امن و امان اور بہت کچھ پر

Pakistan social media viral

پاکستان کے خلاف خاموش حملے اور ہمارا عوامی کردار!

 کیا آپ جانتے ہیں ! پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی سب سے بڑی ایکٹو جنگی سرحد ہے جو کہ 3600 کلو میٹر ہے اور بدقسمتی سے پاکستان ہی دنیا کا واحد ملک ہے جو بیک وقت تین خوفناک جنگی ڈاکٹرائینز کی زد میں رہا ہے جس کے بارے میں بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں آئیے آج ذرا اس کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!! پہلے نمبر پر کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین (Cold Start doctrine) ہے جو انڈین جنگی حکمت عملی ہے جس کے لیے انڈیا کی کل فوج کی 7 کمانڈز میں سے چھ پاکستانی سرحد پر ڈپلوئیڈ ہو چکی ہیں یہ انڈیا کی تقریباً 80 فیصد سے زیادہ فوج بنتی ہے اور اس ڈاکٹرائین کے لیے انڈین فوج کی مشقیں ، فوجی نقل و حمل کے لیے سڑکوں ،پلوں اور ریلوں لائنوں کی تعمیر اور اسلحے کے بہت بڑے بڑے ڈپو نہایت تیز رفتاری سے بنائے جا رہے ہیں اس ڈاکٹرائن کے تحت صوبہ سندھ میں جہاں انڈیا کو جغرفیائی گہرائی حاصل ہے وہ تیزی سے داخل ہوکر سندھ کو پاکستان سے کاٹتے ہوئے بلوچستان گوادر کی طرف بڑھیں گی اور مقامی طور پر انکو سندھ میں جسقم اور بلوچستان میں بی ایل اے کی مدد حاصل ہوگی ۔۔۔۔۔ پاکستان کو اصل اور سب سے بڑا خطرہ اسی سے ہے اور پاک آرمی انڈین فوج کی اسی نقل و حرکت کو مانیٹر کرتے ہوئے اپنی جوابی حکمت عملی تیار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔ آپ نے سنا ہوگا پاکستان آرمی کی “عظم نو “مشقوں کے بارے میں جو پچھلے کچھ سال سے باقاعدگی سے جاری ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ انڈیا کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائین کا جواب تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت پاک آرمی جارحانہ دفاع کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔۔۔ گو کہ اس معاملے میں طاقت کا توازن بری طرح ہمارے خلاف ہے انڈیا کی کم از کم دس لاکھ فوج کے مقابلے میں ہماری صرف دو سے ڈھائی لاکھ فوج دستیاب ہے باقی امریکن” ایف پاک ” ڈاکٹرائین کی زد میں ہے ۔۔۔۔۔۔!! امریکن ایف پیک ڈاکٹرائن ( Amrican afpak doctrine) باراک اوباما ایڈمنسٹریشن کی جنگی حکمت عملی ہے پاکستان کے خلاف جس کے تحت افغان جنگ کو بتدریج پاکستان کے اندر لے کر جانا ہے اور پاکستان میں پاک آرمی کے خلاف گوریلا جنگ شروع کروانی ہے ۔۔۔ درحقیقت یہی وہ ڈاکٹرائن کے جس کے تحت اس وقت پاکستان کی کم از کم دو لاکھ فوج حالت جنگ میں ہے اور اب تک ہم کم از کم اپنے 20 ہزار فوجی گنوا چکے ہیں جو پاکستان کی انڈیا کے ساتھ لڑی جانی والی تینوں جنگوں میں شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے ۔۔۔۔ اس جنگ کے لیے امریکہ اور انڈیا کا آپس میں آپریشنل اتحاد ہے اور اسرائیل کی تیکنیکی مدد حاصل ہے ۔۔۔۔۔ اس کے لیے کرم اور ہنگو میں شیعہ سنی فسادات کروائے گئے اور وادی سوات میں نفاذ شریعت کے نام پر ایسے گروہ کو مسلط کیا گیا جنہوں نے وہاں عوام پر مظالم ڈھائے اور فساد برپا کیا جس کے لیے مجبوراً پہلی بار پاک فوج کو ان کے خلاف ان وادیوں میں داخل ہونا پڑا ۔۔۔۔۔ پاک فوج نے عملی طور پر ان کو پیچھے دھکیل دیا لیکن نظریاتی طور پر ابھی بھی ان کو بہت سے حلقوں کی بھرپور سپورٹ حاصل ہے جس کی وجہ سے عوام اپنی آرمی کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑی جیسا ہونا چاہئے اور اس کی وجہ تیسری جنگی ڈاکٹرائن ہے جس کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادی پاک آرمی پر حملہ آور ہیں اس کو فورتھ جنرزیشن وار کہا جاتا ہے !! فورتھ جنریشن وار (Fourth-generation warfare) ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جس کے تحت ملک کی افواج اور عوام میں مختلف طریقوں سے دوری پیدا کی جاتی ہے مرکزی حکومتوں کو کمزور کیا جاتا ہے صوبائیت کو ہوا دے جاتی ہے ، لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے ۔۔۔۔ اس کے ذریعے کسی ملک کا میڈیا خریدا جاتا ہے اور اس کے ذریعے ملک میں خلفشار ، انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے یوگوسلاویہ ، عراق اور لیبیا کا حشر کر دیا اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان اور سریا پر آزمایا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے انہیں اس میں کافی کامیابی حاصل ہو چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وار کے لیے بھی امریکہ ، انڈیا اور اسرائیل اتحادی ہیں باراک اوباما نے اپنے منہ سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں 50 ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے آج تک کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ کس مقصد کے لیے اور کن کو یہ رقوم ادا کی جائیں گی جبکہ انڈیا کا پاکستانی میڈیا پر اثرورسوخ دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کی ساری قوم اس امریکن فورتھ جنریشن وار کی زد میں ہے ۔۔۔!! یہ واحد جنگ ہوتی ہے جس کا جواب آرمی نہیں دے سکتی آرمی اس صلاحیت سے محروم ہوتی ہے ۔۔ چونکہ پاک آرمی کو امریکن ایف پاک ڈاکٹرائن کے مقابلے پر نہ عدالتوں کی مدد حاصل ہے نہ سول حکومتوں کی نہ ہی میڈیا کی اس لیے باوجود بے شمار قربانیاں دینے کے اس جنگ کو اب تک ختم نہیں کیا جا سکا ہے اور اس کو مکمل طور پر جیتا بھی نہیں جا سکتا جب تک پوری قوم مل کر اس امریکن فورتھ جنریشن وار کا جواب نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔ فورتھ جنریشن وار بنیادی طور پر ڈس انفارمیشن وار ہوتی ہے اور اس کا جواب سول حکومتیں اور میڈیا کے محب وطن عناصر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پاکستان میں لڑی جانے والی اس جنگ میں سول حکومتوں سے کوئی امید نہیں اس لیے عوام میں سے ہر شخص کو خود اس جنگ میں عملی طور پر حصہ لینا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔!! اس حملے کا سادہ جواب یہی ہے کہ عوام ۔۔۔ “ہر اس چیز کو رد کر دے جو پاکستان ، نظریہ پاکستان اور دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں پر حملہ آور ہو” ۔حسبي الله لا إله إلا هو

Pakistan social media viral

قومی زبان کو ثانوی حیثیت کیوں؟

 کیا دنیا کے کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہے؟ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت قوم جاہل بنانے کی سازش افسوس کہ فرعون کو انگلش کی نہ سوجھی ہمیں مٹانے کے لئے کیسی کیسی سازشیں ہوتی ہیں اور کس کس طرح سے ہماری بربادی کے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور کون کون ان منصوبوں کو بروئے کار لانے کے لئے سرگرم ہے، ہمیں پتا چل جائے تو معلوم نہیں ہم کیا کر گزریں، کس کس کا گریبان ہمارے ہاتھوں میں ہو اور کس کس کی رنگیں عبا ہمارے ہاتھوں تار تار ہو جائے۔ پاکستان میں ذہانتوں کو کچلنے کا، ہماری نسلوں کو بنجر کر دینے کا اور ہمارے بچوں کو تباہ و برباد کرنے کا جو کھیل کھیلا جا رہا ہے پوری روئے ارض پر اور پوری تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔  ذرا غور کریں، لوگوں سے پوچھیں دنیا میں ادھر ادھر آنے جانے والوں سے معلوم کریں، دنیا بھر میں اپنے دوستوں سے رابطہ کریں اور پوچھیں میں ملکوں کا نام لیتا ہوں اور پھر آپ پتا کریں۔ 1۔انگلینڈ 2۔ روس  3۔چین 4۔ کینیڈا 5۔ سپین 6۔ ہالینڈ 7۔ فرانس 8۔ جرمنی 9۔ امریکا 10۔ بلغاریہ 11۔ لکسمبرگ 12۔ ڈنمارک 13۔ ناروے 14۔ اٹلی 15۔ مالٹا 16۔ کوریا 17۔ ویتنام 18۔جاپان ملائشیا  انڈونیشیا  کوریا  برازیل  مصر سعودی عرب  ایران  ترکی  یوگنڈا  مالی  ناروے  ان ملکوں میں رہنے والوں سے پوچھیں کہ جب آپ کا بچہ 4 یا 5 سال کا ہوتا ہے اور آپ اسے سکول بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو وہ کتنی زبانوں میں تعلیم حاصل کرنا شروع کرتا ہے؟ کیا ایسا ہی ہوتا ہے کہ ایک تو اپنی زبان اور ایک کسی عالمی طاقت کی زبان، تاکہ وہ ترقی کر سکے، آگے بڑھ سکے، اگر آپ کو جواب نہ ملے یا پتھر پڑیں تو انہیں بتائیں کہ دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جہاں یہ تماشا پچھلے 76 سال سے ہو رہا ہے، اور ساتھ یہ بھی بتائیں۔۔ میں بات دہرا بھی دوں اور واضح بھی کر دوں کہ پاکستانیوں کا آئی کیو بھی خطرناک حد تک گر چکا ہے اور انہیں سامنے کی بات سمجھانے کے لئے بھی بہت مغز ماری کرنی پڑتی ہے۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں پر ایک 4، 5 سال کے بچے کو دو زبانوں میں تعلیم دینے کا آغاز کیا جاتا ہے اور یہ عمل پوری دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ یا معقول ملک میں نہیں ہوتا۔ اس سے کیا ہوتا ہے، اگر آپ کو نہیں پتا تو میں بتاتا ہوں۔ ایک زبان دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہےاور دوسری زبان بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہے۔ دونوں زبانوں کا رسم الخط ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے اور دونوں میں کسی قسم کا کوئی ربط یا تعلق نہیں بچہ گھر میں ایک زبان سیکھتا ہے اس کو بولتا ہے اور جونہی وہ سکول میں پہنچتا ہے ایک دوسری زبان میں تعلیم حاصل کرنا شروع کر دیتا ہے، جس سے عملی طور پر علم حاصل کرنے کو وہ ایک مشکل اور پیچیدہ عمل سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ الفاظ حروف پر مشتمل ہوتے ہیں، اور ہر حرف کی ایک شکل ہوتی ہے، شروع کے سالوں میں جب بچے کو پڑھایا جاتا ہے تو وہ ہر لفظ کی ایک شکل ذہن میں بناتا ہے، جب دو زبانوں میں اس کو تعلیم دی جاتی ہے تو اس کے ذہن میں یہ شکل گڈ مڈ ہونا شروع ہو جاتی ہے نتیجتا”وہ لکھنے پڑھنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے کیا آپ نے کبھی اپنے بچوں کو الجھتے، سٹپٹاتے اور بیزاری سے کتابوں کو ادھر ادھر پھینکتے دیکھا ہے، اگر ایسا ہوا ہے تو اس کا سبب یہی دوغلا نظام تعلیم ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ ایک بچہ ایک زبان میں جب علم حاصل کرتا ہے تو اس کا ذہن یکسو ہوتا ہے، اب اس کا ذہن انتشار کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ دہرے بوجھ تلے دب جاتا ہے، نتیجہ وہی ہوتا ہے جو کہ ہے کہ پچیس کروڑ کا ملک اور اس میں ایک بھی عالمی معیار کا سائنس دان، انجینئر، ماہر معاشیات، ڈاکٹر، سکالر، یا ماہر تعلیم نہیں بن سکا۔ یہ ہمارے حکمرانوں کے اندر کا خوف ہے کہ ان سے ان کا راج سنگھاسن چھن نہ جائے، وہ طبقاتی تقسیم اور ایک طبقے کی دوسرے طبقے پر بالا دستی کو رکھنے کی جدو جہد میں مصروف ہیں، جب وہ کہتے ہیں کہ ہم دانش سکول اس لئے قائم کر رہے ہیں کہ غریب کا بچہ بھی اسی معیار کی تعلیم حاصل کرے جو کہ ایک امیر کا بچہ حاصل کر رہا ہے تو ان کے ذہن میں غریبوں کو تعلیم سے محروم کرنے اور ان کو کچل دینے کے سوا کوئی مقصد نہیں ہوتا، سیدھی سی بات ہے اگر وہ واقعی غریبوں کے بچوں اور امیروں کے بچوں کو ایک جیسی تعلیم دینا چاہتے ہیں تو پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں، پورے ملک میں ایک زبان میں تعلیم دی جائے جو اردو ہو، اگر چین اور روس جیسے بڑی آبادی اور وسیع رقبے والے ملک اپنے ہاں ایک زبان نافذ کر کے ترقی کی سیڑھیاں چڑھ سکتے ہیں تو پاکستان پر ایسا کیا عذاب ہے کہ اس میں ایک زبان نافذ نہیں ہو سکتی اور اس کے ساتھ ساتھ ایک غیر ملکی زبان کو مسلط کیا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو فرعون نے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا تھا وہی پاکستانی قوم کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ بھی بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کروا رہا تھا یہاں بھی یہی ہو رہا ہے صرف طریقہ جدا ہے مگر مقصد اور ہدف ایک ہی ہے، میں کسی دوسری تحریر میں یہ بھی بتاؤں گا کہ پاکستان میں لڑکوں کو کس طرح قتل کیا جا رہا ہے، مگر آج کی تحریر میں میں اسی بات پر اکتفا کروں گا کہ پاکستانی بچوں کی ذہانتوں کو کس طرح کچلا جا رہا ہے ان کو کس طرح ذہنی انتشار کا شکار کیا جا رہا ہے اور کس طرح ان کے جوہر کو برباد کیا جارہا ہے۔ آخری بات:  پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں زبان کو علم کا درجہ دے کر بچوں کو ہمیشہ

Pakistan social media viral

بلوچستان میں دہشتگردی سوشل میڈیا اور بھارت کا کردار!

 را ایجنٹ اشوک چَتُرویدی،اصل شناخت ’’کوڈنام: آریہ-۱۳؍ب‘‘ ایران سے آپریٹ کررہا تھا کہ پاک ایران سرحد کے قریب دھر لیا گیا۔ بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ میں اُس کا تعارف ایک ’’فِلڈ کوآرڈی نیٹر‘‘ کے طور پر کیا جاتا ہے، مگر اصل میں وہ Senior Asset Handler (West Asia Desk) کی پوسٹ پر  تھا۔ ۔ چھتر ویدی نے تہران میں ’’کرافٹس آف سِیلک روٹ‘‘ کے نام سے ایک درآمدی کمپنی کھڑی کر رکھی تھی؛ زیوراتِ بلوچ، ایرانی قالین، اور جعلی زعفران اُس کے کاروبار کا ظاہری چہرہ تھے۔ درحقیقت یہی دفتر پاک‑ایران سرحد پر سرگرم دہشت گرد گروہوں  کا ’’سامانِ زیست‘‘ اور بی ایل اے کے چھاپہ ماروں کیلئے SAT‑Phone, NVG, M‑16 A4s جیسی فوجی لوازمات بھیجنے کا خفیہ گودام تھا۔ سنہ ۲۰۲۳ کے اواخر میں ’’ڈیجیٹل وارفیئر سیل، جنوبی بلاک، نئی دہلی‘‘ میں اشوک کو ایک غیرمعمولی ٹاسک سونپا گیا: بلوچ ڈیجیٹل اسپیس میں اینٹی پاکستان بیانیے کا سیلاب۔ پانچ سو سے زائد ’’ایکس‘‘ ، فیس بک، اور ٹیلیگرام اکاؤنٹس بنائے گئے؛ ہر اکاؤنٹ ایک الگ بلوچ نام، ایک الگ المیہ، ایک ہی مقصد: پاکستان دشمن پراپیگنڈا۔ دہلی کے ’’سیبر پارک کلکجى‘‘ میں واقع ٹرول فارم کے پچیس آپریٹرز روزانہ آٹھ ہزار پوسٹس اور پندرہ سو گرافکس اپ لوڈ کرتے۔ بہ ظاہر بلوچ لہجے میں لکھے گئے یہ پروفائل دراصل دہلی یونیورسٹی کے تاریخ کے طلبہ، چند اوورٹائم طلبہِ ملازمت، اور ریٹائرڈ آرمڈ فورسز کے سائبر شوقینوں کے ہاتھ میں تھے۔بیچ میں، اشوک نے بی وای سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) کے بعض ناراض ارکان تک رسائی حاصل کر لی۔ اُنہیں خفیہ ’’گیٹ وے فنڈ‘‘ سے چھوٹے چھوٹے کرپٹو والٹس موصول ہوتے جن کا تبادلہ ایرانی ’’تبادلہ بازار‘‘ کے ذریعے ہوتا۔ شرط صرف اتنی تھی: لانگ مارچ، دھرنے، یا ہیش ٹیگ ٹرینڈ میں ’’ FreeBalochistan‘‘ کے ساتھ ’’پاکستان آرمی آؤٹ‘‘ لکھا جائے۔ ۲۱ فروری ۲۰۲۵، رات دو بجے۔ پاک‑ایران سرحد کے قریب بند پیک اپ ٹرک نے کچے راستے پر بریک لگائی۔ سرحدی پوسٹ چاہ بہار‑پنجگور لنک ٹریل پر پاکستانی کاؤنٹر انٹیلیجنس یونٹ نے خفیہ اطلاع پر Thermals آن کر رکھی تھیں۔ ٹرک سے اُترنے والے تین افراد میں جو قد کاٹھ میں درمیانہ، ہلکی سیاہ عینک، اور زیتون رنگ جیکٹ پہنے تھا، اسے طے شدہ اشارہ ’’Red‑Nine‘‘ ملتے ہی چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ دست گیر خان، جنھیں مقامی لیڈ بروکر سمجھا جاتا تھا، نے پکڑے جانے کے بعد جملہ کہا: ’’صاحب! یہ سَر، ٹرانسلیٹر ہے…‘‘ لیکن Retina‑ID Scanner نے لمحوں میں جھوٹ کو بھگو کر رکھ دیا—فوٹو میچنگ میں اُبھرا نام: Ashok Chaturvedi s/o Mohan Lal Chaturvedi, DoB: 11‑07‑1974۔ بین الاقوامی وارنٹ تو نہ تھا، مگر انٹرپول کی ’’Ops‑Grey List‘‘ میں اس آئی ڈی کے تانے بانے متعدد سیبر حملوں سے جُڑے تھے۔ ابتدائی تفتیش کا خلاصہ یہ تھا: ڈیجیٹل سیل کی نوعیت : 532 جعلی اکاؤنٹس، جن میں 118 بلوچی، 263 انگلش، باقی فارسی/عربی میں تھے۔ روزانہ اوسطًا 9 ملین امپریشنز۔ لاجسٹک روٹ : بندر عباس سے چاہ بہار اور پھر پنجگور/سبی کے پہاڑی راستے۔ اسلحہ ایرانی منشیات کارٹلز کے ذریعے سفر کرتا۔ مالی معاونت : یو اے ای کی شیل کمپنی ’’Z‑Horizon FZE‘‘ → ایرانی کریپٹو OTC ڈیسک → مقامی حوالہ آپریٹرز۔ بی وائی سی روابط : دو مڈ لیول آرگنائزر: ’’DJ‑Nazar‘‘ اور ’’Dr‑Madiha Baloch‘‘۔ دونوں اب تحویل میں۔ اشوک نے Begin‑High‑Control انٹروگیشن کے ۷۲ گھنٹوں میں جزوی اعتراف کیا کہ اُس نے BLA کو کم از کم سات بار خودکش ویسٹس، بیس تھرڈ جنریشن نائٹ ویژن، اور ایک پورٹیبل ڈرون جَمَر فراہم کیا۔چتر ویدی کی ڈیپ‑ڈایو Forensic Images (۱۰؍ٹی بی) سے ایسے ’’ڈیڈ ڈراپس‘‘ دریافت ہوئے جن کے IP‑Logs اسلام آباد اور کراچی کے حساس مراکز تک پہنچے، جس سے واضح ہوا کہ بھارتی نیٹ ورک صرف بلوچستان ہی نہیں، پاکستان کے شہری مراکز میں بھی ’’بوٹس اینڈ پروکسیز‘‘ چھوڑ چکا ہے۔ کراچی میں ایک سوشل میڈیا ایجنسی کے دو ملازمین زیرحراست؛ اُن کی نوکری ’’برانڈ مینجمنٹ‘‘ تھی مگر وہ BLA کے لیے انفلوینسرز ہائر کرتے تھے۔ دہلی میں واقع ’’سیبر پارک‘‘ پر خفیہ چھاپے کے بعد وہاں کے ڈیٹا سینٹر نے اچانک ’’سرور مینٹیننس‘‘ کا بورڈ لٹکا دیا؛ ذرائع بتاتے ہیں کہ بھارتی سائبر یونٹ نے اپنے ہی سرورز ’’بلو پرنٹ ڈمپ‘‘ کئے تاکہ شواہد مٹائیں۔ تہران میں ایک کاروباری انجمن کے ذریعے دو سابق سفارت کار خاموشی سے بلائے گئے،ایرانی تفتیشی ادارے بھی اُن تک پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی حکام نے اشوک کی گرفتاری اب تک ظاہر نہیں کی؛ بظاہر دنیا کے لیے وہ ایک گم نام اسمگلر ہے۔ لیکن اندرونِ خانہ معاملات بھڑک رہے ہیں—اسی گرفتاری کے بعد سے بی ایل اے کے متعدد کمانڈر یکے بعد دیگرے بھاری ہتھیاروں کے بغیر پکڑے گئے؛ سوشل میڈیا پر ’’فیک لنگ‘‘ کرنے والے کئی ہینڈلز خاموش ہوگئے۔ جب چتر ویدی سے آخری بار پوچھا گیا کہ اُس نے یہ مہم کیوں چھیڑی تو اُس نے رک رک کر صرف اتنا کہا: ’’Narratives win wars; bullets only finish them.‘‘ مگر اب وہی Narrative اُس کے گرد قید ہے۔ سرحد کے اُس پار جہاں بلوچستان کی ٹوٹی سڑکیں نئی روشنیوں کی منتظر ہیں، اب یہ کہانی کانوں کان پھیل رہی ہے کہ ایک بڑا ’’شکار‘‘ محفوظ ہاتھوں میں ہے، اور اُس کے ’’پانچ سو سایے‘‘ ایک ایک کر کے بجھائے جا رہے ہیں۔ ☆★☆★☆★☆★☆  جعلی بلوچ ہینڈلز سوشل میڈیا ایجنٹس سائبر لیب ڈیٹا ڈاٹ کلدیپ ویشنو بلوچستان فیکٹس جی پی ٹی ڈرائیون ریپلائی بوٹ سیبر پارک ڈیجیٹل فرانزک آپریشن سردار فائلز ڈیپ فیک ڈیجیٹل لرننگ ورکشاپس سائبر شور راولپنڈیک   راچی گرفتاری کوئٹہ گرفتاری پنجگور گرفتاری تربت گرفتاری گوادر گرفتاری ٹویٹ شیڈیولر ہائیبرڈ دھرنا لائیو سپیس کوڈ بلیک سپیرو ہیومن انٹیلیجنس سگنل انٹیلیجنس وی ایم ویئر انسٹینس  فری بلوچستان اے آئی ڈرائیون پیٹرن کلیش کرپٹو سرکٹس ریکروٹرز ڈیجیٹل خیمے Fake Baloch Handles Social Media Agents Cyber Lab Data-Dot Kuldeep Vaishnav  Balochistan Facts  GPT-Driven Reply Bot Cyber Park Digital Forensics Operation Sardar Files Deep Fake Digital Learning Workshops Cyber Noise Rawalpindi Karachi Arrest Quetta Arrest Panjgur Arrest Turbat Arrest Gwadar Arrest Tweet Scheduler Hybrid Dharna Live Space Code Black Sparrow HUMINT (Human Intelligence) SIGINT (Signals Intelligence)V Mware Instance FreeBalochistan AI-Driven Pattern Clash Crypto Circuits  Recruiters Digital Tent جعلی اکاؤنٹس  سائبر کرائم  سوشل میڈیا جنگ بلوچستان  پاکستان بھارتڈ  یجیٹل سیکیورٹی  انٹیلیجنس  گرفتاریاں ٹیکنالوجی Fake Accounts Cybercrime  Social Media

Pakistan social media viral

ایرانی اقتصادی بدحالی میں پراکسی جنگوں کا اثر

تحریر : خزیمہ یاسین ایران کی اقتصادی بدحالی اور اس کی پراکسی جنگوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے، جو نہ صرف ایران کی داخلی سیاست پر اثر انداز ہو رہا ہے، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی ڈائنامکس کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی ریال دنیا کی سب سے کمزور کرنسی بن چکا ہے، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 42,000 ریال فی ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات ایران کی اقتصادی بدحالی، عالمی پابندیاں اور سیاسی عدم استحکام ہیں، جو کہ طویل عرصے سے ایران کی معیشت پر بوجھ ڈال رہی ہیں۔ ایران کی اقتصادی بدحالی، عالمی پابندیوں اور سیاسی عدم استحکام کے پسِ پردہ اصل سبب ایران کا مذہبی پراکسی جنگوں کی بنیاد ڈالنا ہے، اس پر بے پناہ مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے شام و لبنان میں حزب اللہ، فاطمیون بریگیڈ، لواء الفاطمیون، زینبیون بریگیڈ، آساٰب اہل الحق اور کتائب حزب اللہ سرگرم ہیں۔ یمن حوثیوں کے علاوہ کچھ دیگر گروہ بھی ایران کے اثر و رسوخ کے تحت سرگرم ہیں، لیکن حوثی زیادہ معروف تنظیم ہے۔ عراق میں ایران کی پراکسی کے تحت بدر تنظیم، آساٰب اہل الحق، کتائب حزب اللہ اور سرایا السلام سرگرم ہیں۔ جب کہ پاکستان میں زینبیون بریگیڈ اور سپاہِ محمد زیادہ مشہور ہیں۔ حالیہ شامی انقلاب کے بعد 30 ایسی شیعہ نظریات کی ایرانی پراکسی تنظیموں کی لسٹ جاری ہوئی ہے، جو مختلف سنی ممالک میں ایرانی مذہبی نظریات کے تحفظ کے لیے دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔ ایران کی طرف سے ان شیعہ دہشت گرد گروپوں کے لیے حمایت نے نہ صرف ایرانی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایران پر پابندیاں عائد ہونے کا بھی باعث ہے، جس سے ایران کے تیل اور گیس کی بنیادی اور مرکزی برآمدات شدید متاثر ہیں۔ یہ پابندیاں ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی محدود کرنے اور تجارتی تعلقات میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر ایرانی کرنسی اور معیشت پر پڑا ہے۔ نتیجۃً مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے سے ایرانی عوام کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ سال 2023 کی رپورٹ کے مطابق ایران کی انتہائی خراب معیشت کی وجہ سے غربت کی شرح 30.1 فیصد تھی، جس کا مطلب ہے کہ ایک تہائی ایرانی اپنی بنیادی ضروریات تک پوری نہیں کر پا رہے۔ حالیہ برسوں میں اس شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ دنیا کی کل آبادی کے تقریباً 1.12 فیصد کے اعتبار سے تقریباً 91.57 ملین آبادی والے ایران میں 26 ملین سے زائد ایرانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جب کہ متوسط طبقے کی شرح کی بات کریں تو یہ بھی کمزور پڑ چکا ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگ غربت کے قریب ہیں اور تقریباً 60 فیصد ایرانی اپنے معاشی حالات کی بنا پر یا تو نسبتاَ غربت کی حالت میں ہیں یا انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں تک امیروں کی بات ہے تو ایران میں امیروں کی شرح بہت کم ہے۔ زیادہ تر مالی وسائل اور دولت چند مخصوص افراد یا خاندانوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔ دوسری طرف شام میں ایرانی پراکسی جنگوں کا ایک نیا چیلنج تحریر الشام کی شکل میں سامنے آیا ہے، جس کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے ایرانی شیعی نظریات کو ایک نئے محاذ پر چیلنج کیا ہے۔ اس تناظر میں ایرانی مذہبی پیشوا آیت اللہ خامنئی نے اپنے حالیہ بیان میں شدید زخمی اور مایوس شدہ لہجے کے ساتھ شام پر دوباہ غاصبانہ قبضے کے لیے اپنی کمیونٹی کو مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ایرانی پراکسی سے جُڑے ہوئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مدمقبال اہل سنت کے خلاف کوئی معقول دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دشنام طرازی جیسے پرانے وطیرے پر اُترے دیکھے گئے ہیں۔ شام میں اہل سنت کی طرف سے تقریبا نصف صدی بعد شام پر اپنا کنٹرول واپس بحال ہونے کی وجہ سے ایران کے لیے اپنی پراکسی جنگوں کو سنبھالنا اور باہم متحد رہنا خاصا مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ تحریر الشام کی شان دار کامیابی نے ایرانی پراکسیوں کے لیے چھپنے کی جگہ ختم کر کے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جیسا کہ بجائے خود بشار الاسد روسی دربار میں پناہ کی التجا کر کے وہاں چھپ گیا ہے۔ تحریر الشام کی کامیابی کے بعد عراق کے اہل سنت بھی ایرانی پراکسی سے تنگ آ کر بجنگ آمد ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ایرانی پراکسی جنگوں میں مالی وسائل کا بے دریغ استعمال ایران کی معیشت کو مزید متاثر کر رہا ہے۔ اس سے ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی میں شیعی نظریات کا فروغ اور مختلف سنی ممالک میں بطور مداخلت اپنی حمایت دہشت گرد تنظیموں کو فوجی و مالی حمایت فراہم کرنا ہمیشہ سے اس کا مرکزی مقصد رہا ہے۔ شام، لبنان، پاکستان، عراق اور یمن میں ایرانی پراکسی تنظیموں کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اپنی شیعہ حمایت یافتہ تنظیموں کو مالی، فوجی اور تنظیمی مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم ان پراکسی جنگوں نے بجائے خود ایران کی معیشت پر بھی بھاری دباؤ بڑھا کر اس کی کمر جھکا دی ہے۔ جب کہ جب کہ ایران کی طرف “مرگ بر امریکا” اور فلسطین کی آزادی کے “القدس لنا” جیسے نعرے ہمیشہ صرف اپنے مذموم مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے، تاکہ سنی ممالک کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہ حکمت عملی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا مقصد مذہبی حمایت سے زیادہ خطے میں اپنے سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کی طرف سے ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں ایران کی معیشت اور اس کی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔ ان پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی ناجائز مداخلتوں کو جاری رکھا ہے، مگر یہ پابندیاں ایران کی حکمتِ عملی کو محدود کرنے میں کامیاب

Pakistan social media viral

ایرانی اقتصادی بدحالی میں پراکسی جنگوں کا اثر

تحریر : خزیمہ یاسین ایران کی اقتصادی بدحالی اور اس کی پراکسی جنگوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے، جو نہ صرف ایران کی داخلی سیاست پر اثر انداز ہو رہا ہے، بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی سیاسی ڈائنامکس کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی ریال دنیا کی سب سے کمزور کرنسی بن چکا ہے، جو امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 42,000 ریال فی ڈالر کی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات ایران کی اقتصادی بدحالی، عالمی پابندیاں اور سیاسی عدم استحکام ہیں، جو کہ طویل عرصے سے ایران کی معیشت پر بوجھ ڈال رہی ہیں۔ ایران کی اقتصادی بدحالی، عالمی پابندیوں اور سیاسی عدم استحکام کے پسِ پردہ اصل سبب ایران کا مذہبی پراکسی جنگوں کی بنیاد ڈالنا ہے، اس پر بے پناہ مالی وسائل خرچ ہو رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے شام و لبنان میں حزب اللہ، فاطمیون بریگیڈ، لواء الفاطمیون، زینبیون بریگیڈ، آساٰب اہل الحق اور کتائب حزب اللہ سرگرم ہیں۔ یمن حوثیوں کے علاوہ کچھ دیگر گروہ بھی ایران کے اثر و رسوخ کے تحت سرگرم ہیں، لیکن حوثی زیادہ معروف تنظیم ہے۔ عراق میں ایران کی پراکسی کے تحت بدر تنظیم، آساٰب اہل الحق، کتائب حزب اللہ اور سرایا السلام سرگرم ہیں۔ جب کہ پاکستان میں زینبیون بریگیڈ اور سپاہِ محمد زیادہ مشہور ہیں۔ حالیہ شامی انقلاب کے بعد 30 ایسی شیعہ نظریات کی ایرانی پراکسی تنظیموں کی لسٹ جاری ہوئی ہے، جو مختلف سنی ممالک میں ایرانی مذہبی نظریات کے تحفظ کے لیے دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتی ہیں۔ ایران کی طرف سے ان شیعہ دہشت گرد گروپوں کے لیے حمایت نے نہ صرف ایرانی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے، بلکہ عالمی سطح پر ایران پر پابندیاں عائد ہونے کا بھی باعث ہے، جس سے ایران کے تیل اور گیس کی بنیادی اور مرکزی برآمدات شدید متاثر ہیں۔ یہ پابندیاں ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی محدود کرنے اور تجارتی تعلقات میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر ایرانی کرنسی اور معیشت پر پڑا ہے۔ نتیجۃً مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافے سے ایرانی عوام کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ سال 2023 کی رپورٹ کے مطابق ایران کی انتہائی خراب معیشت کی وجہ سے غربت کی شرح 30.1 فیصد تھی، جس کا مطلب ہے کہ ایک تہائی ایرانی اپنی بنیادی ضروریات تک پوری نہیں کر پا رہے۔ حالیہ برسوں میں اس شرح میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ دنیا کی کل آبادی کے تقریباً 1.12 فیصد کے اعتبار سے تقریباً 91.57 ملین آبادی والے ایران میں 26 ملین سے زائد ایرانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جب کہ متوسط طبقے کی شرح کی بات کریں تو یہ بھی کمزور پڑ چکا ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگ غربت کے قریب ہیں اور تقریباً 60 فیصد ایرانی اپنے معاشی حالات کی بنا پر یا تو نسبتاَ غربت کی حالت میں ہیں یا انتہائی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جہاں تک امیروں کی بات ہے تو ایران میں امیروں کی شرح بہت کم ہے۔ زیادہ تر مالی وسائل اور دولت چند مخصوص افراد یا خاندانوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں۔ دوسری طرف شام میں ایرانی پراکسی جنگوں کا ایک نیا چیلنج تحریر الشام کی شکل میں سامنے آیا ہے، جس کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے ایرانی شیعی نظریات کو ایک نئے محاذ پر چیلنج کیا ہے۔ اس تناظر میں ایرانی مذہبی پیشوا آیت اللہ خامنئی نے اپنے حالیہ بیان میں شدید زخمی اور مایوس شدہ لہجے کے ساتھ شام پر دوباہ غاصبانہ قبضے کے لیے اپنی کمیونٹی کو مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ایرانی پراکسی سے جُڑے ہوئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مدمقبال اہل سنت کے خلاف کوئی معقول دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دشنام طرازی جیسے پرانے وطیرے پر اُترے دیکھے گئے ہیں۔ شام میں اہل سنت کی طرف سے تقریبا نصف صدی بعد شام پر اپنا کنٹرول واپس بحال ہونے کی وجہ سے ایران کے لیے اپنی پراکسی جنگوں کو سنبھالنا اور باہم متحد رہنا خاصا مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ تحریر الشام کی شان دار کامیابی نے ایرانی پراکسیوں کے لیے چھپنے کی جگہ ختم کر کے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جیسا کہ بجائے خود بشار الاسد روسی دربار میں پناہ کی التجا کر کے وہاں چھپ گیا ہے۔ تحریر الشام کی کامیابی کے بعد عراق کے اہل سنت بھی ایرانی پراکسی سے تنگ آ کر بجنگ آمد ہو چکے ہیں۔ اسی طرح ایرانی پراکسی جنگوں میں مالی وسائل کا بے دریغ استعمال ایران کی معیشت کو مزید متاثر کر رہا ہے۔ اس سے ایران کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا سامنا ہے۔ ایران کی خارجہ پالیسی میں شیعی نظریات کا فروغ اور مختلف سنی ممالک میں بطور مداخلت اپنی حمایت دہشت گرد تنظیموں کو فوجی و مالی حمایت فراہم کرنا ہمیشہ سے اس کا مرکزی مقصد رہا ہے۔ شام، لبنان، پاکستان، عراق اور یمن میں ایرانی پراکسی تنظیموں کی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے اپنی شیعہ حمایت یافتہ تنظیموں کو مالی، فوجی اور تنظیمی مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم ان پراکسی جنگوں نے بجائے خود ایران کی معیشت پر بھی بھاری دباؤ بڑھا کر اس کی کمر جھکا دی ہے۔ جب کہ جب کہ ایران کی طرف “مرگ بر امریکا” اور فلسطین کی آزادی کے “القدس لنا” جیسے نعرے ہمیشہ صرف اپنے مذموم مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے، تاکہ سنی ممالک کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ یہ حکمت عملی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ایران کا مقصد مذہبی حمایت سے زیادہ خطے میں اپنے سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ کو مستحکم کرنا ہے۔ دوسری طرف امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کی طرف سے ایران پر لگائی جانے والی اقتصادی پابندیاں ایران کی معیشت اور اس کی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات ڈال رہی ہیں۔ ان پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی ناجائز مداخلتوں کو جاری رکھا ہے، مگر یہ پابندیاں ایران کی حکمتِ عملی کو محدود کرنے میں کامیاب

Pakistan social media viral

جُمہوریت، جُمہور اور بچّہ جُمہورہ

وارننگ! یہ ایک محض  مزاحیہ پوسٹ ہے لہذا میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیا پر بیٹھی  گرم دُم والی تمبہوڑیوں کی طرح مخالفین کو کاٹنے کے لیئے تیار، اپنے لیڈرِ کامل کے اندھے معتقد، اس کے ہر گناہ کو حکمت اور  کرامت سے تعبیر کرکے اس کی ہر حرکت کا دفاع کرنے والے تمام ورکرز کو یہ وارننگ دے رہا ہوں کہ انہوں نے اپنے دلوں میں مخالفین کے لیئے جو لیاری کے گٹر سے بھی گندی گالیاں اور نالہ لئی کے پانی سے بھی بدبُو دار جو ٹائیٹل بسا رکھے ہیں ان کا میرے اوپر اطلاق کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا ہے کہ میں کسی کا نہ حمایتی ہوں اور نہ دشمن اور اگر کسی نے کوئی ایسی ویسی حرکت کی تو اس کا میں اپنے قلم سے وہ حال کروں گا جو زیادہ بیویوں والا شوہر انکی اجتماعی پھینٹی کے بعد  اکیلی کے ہتھے چڑھ جانےوالی کا کرتا ہے۔  ایک سیاسی ورکر سے معذرت! پچھلے دنوں ایسے ہی ہوا تھا کہ ایک پارٹی کا ورکر صرف اپنے لیڈر کا نام پڑھ کر ہی بھڑک اُٹھا اور مجھے اس نے بہت کچھ کہا جواب میں نے بھی کسر نہیں چھوڑی جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ اگر اس کی نظر سے میری یہ تحریر گذرے تو میں اس سے ہاتھ جوڑ کر اپنے کہے کی معافی مانگتا ہوں مگر اس سے پہلے جو اس نے مجھے کہا میں اس کو معاف کرتا ہوں۔ اس نے مجھے جو کہا اس سے مجھے ہر گز گلہ نہیں وہ میرا بھائی ہے میں نے اس کے ساتھ  جو زیادتی کی تھی اُس پر میں نادم ہوں۔ جُمہوریت ہے کیا؟ یہ فرنگی کا طرز حکومت ہے۔ یہ فرنگی ہے کون؟ جی ہاں یہ وہی ہے جس نے ہمارے آج کے وڈیروں کے وڈیروں کو ہمارے وڈیروں (بزرگوں) کے ساتھ غداری کرنے کے بدلے زمینیں دیں اور “سر” کے خطابات سے نوازا۔ اور اب چونکہ ہماری نسل سیانی ہوگئی ہے تو وہ ہمیں “سر” کی بجائے جو کوئی ایسی بے غیرتی کرے جو اس کو خوشی سے جھومنے پر مجبور کردے تو وہ اُس کو اب “نوبل پرائز” کے انعام سے نوازتا ہے۔ اب اگر میں نے ملالہ یوسفزئی کا نام لیا تو لوگ مجھے مولوی اور تنگ نظر ہونے کا طعنہ دیں گے اور اگر میں نے ڈاکٹر عبدالسلام کا نام لیا تو کچھ لوگ مجھے “ڈاکٹر عبدالقدیر پرولیفیریٹر دی گریٹ” کے حمایتی کا خطاب دیں گے۔ میں یہ بھی نہیں بتاؤں گا کہ ڈاکٹر قدیر (کسی دور کا مُحسنِ پاکستان) کو کیوں ٹھوکا گیا اور ملالہ یوسفزئی کو اس کے باپ نے انگریزی کیسے سکھائی کیونکہ میں نے خود تو نہیں ٹُھکنا نا! کیونکہ اس میں بڑے بڑے طاقتور پاکستانی شامل ہیں۔ اور نہ ہی میں ان حقوق نسواں کی ساری ماسیوں کی تنظیموں کو اپنے پیچھے لگوا سکتا ہوں  جو ملالہ کی جنگ تو لڑتی ہیں مگر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں اپنے مُنہہ میں گھنگنیاں ڈال لیتی ہیں۔ بات دور چلی گئی تھی واپس آتا ہوں۔ جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس میں حکمران اپنی مرضی کا حکمران چُنتے ہیں۔ واقعی؟ کبھی کبھی وہ ایسا لیڈر بھی چُن لیتے ہیں جس کو پنجابی میں کہتے ہیں کہ “جیسا منہہ ویسی چپیڑ” ایسا لیڈر جو اپنی بیوی کو خود ہی پار کرتا ہے پھر اُس کی تصویر اپنے اور پارٹی لیڈروں کے گلے میں ڈال کر مظلوم بن کر مُلک کا صدر تک بن جاتا ہے۔ بعد میں کچھ لیڈر ایک مخصوص چشمے سے غُسل کرکے نئی تصویر کو فریم کروا کے گلے ڈال کر عوام میں پاک ہوکر دوبارہ آجاتے ہیں۔ جُمہور کون ہیں؟ میں پاکستان کی بات نہیں کررہا بلکہ دنیا کے سب سے طاقتور، قابل عزت، ہمارے نوجوانوں کے خوابوں کے مرکز، ہمارے حکمرانوں کے قبلہ کعبہ جُمہوری مُلک امریکہ کی بات کررہا ہوں۔ اس فرنگی طرزِ حکومت میں جُمہور ان کو کہتے ہیں جو ایک دوسرے کو اپنے قائد کی خاطر گالیاں دیتے، مخالف لیڈروں کی تصویروں کے سر کاٹ کر  ننگے دھڑ لگاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو کوئی زیادہ دل جلا کُتے کا بھی دھڑ لگا دیتا ہے۔ میری اس بات کی تصدیق “چاچی گوگل” کی زنبیل میں پڑی ہیلری کنٹن ( وہی جس کا خاوند قابل احترام امریکہ کا صدر مُونیکا کے ساتھ پکڑا گیا تھا) کی اور ٹرمپ (موجودہ امریکی صدر) کی ننگی تصاویر دیکھ کر کی جاسکتی ہے۔ جمہور کا جمِ غفیر! جُمہور بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ان میں ایک کو تو بچہ جُمہورہ کہتے ہیں جس کی تفصیل بعد میں بیان کروں گا۔ پہلے دوسری کیٹیگری کے جُمہور کی بات کرلوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے بچوں کو نہ تو تعلیم میسر ہوتی ہے، نہ ہی پینے کا صاف پانی اور نہ ہی دیگر بنیادی سہولیات۔ پھر بھی میں ان کو سلام کرتا ہوں کیونکہ ان میں بعض جذباتی جمہورے تو لیڈر کی زیارت کے اتنے مشتاق ہوتے ہیں کہ رکشے میں ہی جنم لے لیتے ہیں۔ خدا جانے لیڈر ان کو اپنی محبت کی کونسی گیدڑ سنگھی سونگھاتے ہیں کہ یہ بِن پیئے ہی ہر وقت مست رہتے اور اپنے لیڈر کی خاطر جان تک قربان کردیتے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں دیکھتے کہ ان لیڈروں کے بچے کدھر، ان کا کاروبار کدھر اور ان کی وفا داری کدھر؟ یہ تو بس ہر وقت لانگ مارچ، روڈ مارچ، دھرنے کے لیئے تیار ہوتے ہیں۔ دھرنے سے یاد آیا یہاں ایک اسلامی جماعت کا سربراہ ہوتا تھا جو اب عدم کو پدھار گیا ہے۔ جی ہاں وہی جس نے آدھے پاکستان کے بچے روس افغانستان جنگ میں شہید کروا کے جنت بھیجے اور خود اس کے بچے اس وقت امریکہ میں اعلٰی تعلیم پارہے تھے۔ اور آج جو آدھے شہادت سے بچ گئے ہیں وہ ہمارے لیئے مسئلہ بنے ہوئے ہیں انہوں نے ہی تقریبا ایک لاکھ پاکستانیوں کو بھی دہشت گردی کی جنگ میں شہید کرکے جنت بھیجا۔ بچہ جمہورہ اور بچی جمہوری بچہ جمہورہ وہ پاکستانی دیہاتی کلچر کا کریکٹر ہے جس سے میراثی ( ٹیم لیڈر) شادی بیاہ میں چِھتر مار مار کر کچھ سوال کرتا ہے۔ پاکستان میں اس میراثی کلچر کے فروغ کے بانی آفتاب اقبال کے شو میں

Pakistan social media viral

اللہ تعالیٰ اور رسولؐ سے جنگ

اللہ تعالیٰ ﷻ اور اسکے رسول ﷺ سے لڑنے سے تم کیا مراد لیتے ہو؟ کہ کیا واقعی اللہ تعالیٰ ﷻ اور اسکا رسول ﷺ کسی میدان اکھاڑے وغیرہ میں اتر کر کسی کا دوبدو مقابلہ کریں گے اور جو مقابل ہوگا اعلانیہ وہی اللہ تعالیٰ ﷻ اور اسکے رسول ﷺ سے دشمنی مراد ہوگا❓ نہیں ہرگز نہیں بلکہ❗ ہر وہ شخص گروہ جماعت سوچ نظریہ پارٹی فرقہ فریق وغیرہ اس سے مراد ہے اور یہی نظریہ شیطان ہے یہی جندالشیطان ہے جو اللہ تعالیٰ ﷻ اور اسکے رسول ﷺ کے فرمان احکامات عزت و احترام و ناموس و ادب و دین اسلام و مسلم امت اور اسکے ایمان اتحاد تنظیم کیخلاف اعلانیہ اور خفیہ طور پر ہر کسی طور پر برسرپیکار ہے وہ وہ اللہ تعالیٰ ﷻ اور اسکے رسول ﷺ کا دشمن ہے❗ اور جو کھلی بغاوت منظم خونریزی منظم فسادات کرتے ہیں زمین پر اور ان جندالشیطان یعنی شیطان کا لشکر اسکے مقابل جندالرحمان یعنی اللہ تعالیٰ ﷻ کا لشکر ہوگا جیسے افواجِ پاکستان ہے اور اسکے مقابل فتنہ الخوارج اور انکے حمایتی سہولتکار وغیرہ تو ان لوگوں کے متعلق ہی قرآن کا یہ سخت حکم ہے کہ انکو قتل کردیا جائے انکے ایک طرف کی ٹانگ اور دوسری طرف کا بازو کاٹ دیا جائے انہیں ملک بدر کردیا جائے انہیں سولی چڑھا دیا جائے اور یہ تو اس دنیا میں انکی رسوائی ہے آخرت میں ذلت آمیز شدید عذاب سے مزید ہمشہ ہمیشہ ذلیل کئے جائیں گے❗ لہٰذا اپنی اپنی پارٹی سیاستدان کسی نیم ملا کسی جاہل فاسق فاجر کے کہنے میں جھوٹ پروپیگنڈے میں آکر یہ مت سمجھ بیٹھے کوئی کہ ہم کونسا اللہ تعالیٰ ﷻ اور اسکے رسول ﷺ سے براہِ راست دشمنی کررہے ہیں❓ جو ہمیں غدار یا اسلام دشمن یا جہاد دشمن اور دشمن کی فوج اور واجب مرمت سمجھا جارہا ہے جی ہم تو فوج اور جنرلز اور فوجیوں شہیدوں غازیوں پر اسلئے بھونکتے ہیں الزام گالیاں اور گھٹیا حرکات کرتے ہیں کیونکہ اسلام سے ناواقفیت جہالت اور مسلسل سوشل میڈیا پر جھوٹ پراپیگنڈوں کو سن سن دیکھ دیکھ کر ہمیں گمان ہوگیا ہے کہ یہ بھی غلط ہوسکتے ہیں اور یہ بھی تو انسان ہی ہیں جی یہ میرے ٹیکس سے چلتے ہیں جی یہ کوئی ہمارے خدا نہیں ہیں اور یہ ہم سے پوچھ کر اور ہر چیز بتا کر کریں ورنہ ہم سمجھیں گے کہ یہ غلط اور ہم درست ہیں وغیرہ تو سنو❗ اولاً یہ دشمن کی زبان ہے دوئم یہ غداری ہے❗ ٹیکس صرف تم نہیں دیتے پوری دنیا دیتی ہے اور بدلے میں جو لوگ انکی حفاظت کیلئے جانیں نچھاور کرتے ہیں انہیں محسن کہہ کر تمام قوموں کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے یاد کیا جاتا ہے خدا سب کا ایک ہی ہے وہی سب کچھ ہے اب کون کیا ایمان رکھتا ہے یہ اسکا اور خدا کا معاملہ ہے اور ہاں یہ بھی انسان ہی ہیں ان سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں لیکن بطورہ ادارہ فوج کی کردارکشی کرنا غداری ہے اور بغیر قوی دلیل ثبوتوں اور گواہیوں کے کسی جنرل کو غدار کہنا بھی جہالت غداری فساد فی الارض ہے اور سب سے اونچے اونچے عہدوں پر فائز یہ غازی جنرلز جنہوں نے کم از کم 35, 35 سال سروس کی ہے وہ کسی صورت آپکے مذاق جھوٹ پراپیگنڈوں کیلئے نہیں جنہوں نے سویت یونین توڑا جنہوں نے امریکہ نیٹو کی دوڑیں لگوائیں جنہوں نے بھارت کو کئی بار شکستیں دیں جنہوں نے پوری دنیا کے مظلوم ممالک کا کھلے چھپے ساتھ دیا اور دے رہا ہے جن کی صلاحیتوں کی بدولت افواجِ پاکستان دنیا کی نمبر 1 فوج اور آئی ایس آئی نمبر 1 انٹیلیجنس ایجنسی ہے باوجود کم ترین دفاعی بجٹ کے تم انہیں گالی ہرگز ہرگز ہرگز نہیں دے سکتے اگر وجہ پوچھتے ہو❓ تو خود کو اپنے باپ دادا کو بیٹوں کو ان فوجی جوانوں غازیوں شہیدوں اور ان کے گھر والوں کی جگہ حقیقی طور پر رکھ کر خوب سوچو اور خیال کرو کہ تم باقی سب کیلئے بچے یتیم کرا رہے ہو بیویاں بیوہ اور ماں باپ کو بے سہارا چھوڑ رہے ہو جبکہ بدلے میں کچھ ناعاقبت اندیش بدبخت لوگ تم پر بھونکتے ہیں تو خودبخود جوابات ملنا شروع ہو جائیں گے❗ سوشل میڈیا سے ماخوذ 

Scroll to Top