Pakistan social media viral

Pakistan social media viral

لارنس آف عریبیہ اور عمران خان

تحریر شاہد خان 1۔ انگریزوں نے 1915 اور 1916 میں ترکوں کے ہاتھ جنگ میں شکست کے بعد سازش کے ذریعے مسلمانوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔ یہ مہم لارنس آف عریبیہ کو ملی۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بن جانے کے بعد اور جنگ میں خوارج کی شکست کے بعد پاکستان کو سازش کے ذریعے ختم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ مہم عمران خان کو ملی۔ 2۔ لارنس آف عریبیہ کا خاندان برطانیہ میں تھا۔ وہ برٹش آرمی میں کرنل تھا۔ وہیں کا پڑھا ہوا اور انہی کا وفادار تھا۔ برطانیہ ہی اسکی پشت پناہی کرتا رہا۔ عمران خان کا خاندان برطانیہ میں مقیم ہے۔ وہیں کا پڑھا ہوا ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف برطانیہ اور امریکہ ہی عمران خان کے لیے متحرک ہیں۔ 3۔ لارنس آف عریبیہ نے عربوں کو آزادی کا نعرہ دیا تھا۔ انہیں ترک فوج کے خلاف ابھارا۔ اسی نعرے نے بعد میں خلاف توڑ دی۔ عربوں کو آمادہ کرنے کے لیے اس نے ان میں قوم پرستی کو ابھارا تھا۔ عمران خان نے اپنے پیروکاروں کو حقیقی آزادی کا نعرہ دیا۔ انہیں پاک فوج کے خلاف ابھارا۔ اب وہ مسلسل پاکستان کے ٹوٹنے یا کم از کم دیوالیہ ہوجانے کی پیشن گوئیاں کر رہا ہے۔ ملک میں قوم پرستی اس وقت عروج پر ہے اور تمام قوم پرست جماعتیں پی ٹی آئی کے ساتھ شانہ بشانہ ہیں۔ 4۔ ابتداء میں اسکی تحریک کو زیادہ پزیرائی نہیں ملی تو اس نے اچانک مذہب کا سہارا لے لیا اور بصرہ کی ایک مسجد میں اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بعد عرب تیزی سے اس کے گرد اکھٹے ہونا شروع ہوئے۔ اسکو مسیحا ماننے لگے حتی کہ اس کے پیچھے نمازیں بھی پڑھنی شروع کر دیں۔ عمران خان کو ابتداء میں پزیرائی نہیں ملی تو اس نے بھی مذہب کا سہارا لے لیا۔ 2011 میں اچانک اس نے ریاست مدینہ بنانے کا اعلان کر دیا اور اس کے ہاتھوں میں تسبیح نظر آنے لگی۔ جس کے بعد پاکستان کے جذباتی قوم اس کی جانب راغب ہونا شروع ہوگئی۔ بہت سوں نے اسکو مسیحا ماننا شروع کردیا۔ 5۔ عربوں کو مزید بےوقوف بنانے کے لیے اس نے عربوں جیسا لباس پہننا شروع کر دیا۔ عربوں نے کہا ترکوں کا تو لباس بھی تک ہم سے الگ ہے۔ لیکن یہ شخص ہم ہی میں سے ہے۔ عمران خان نے اپنی شلوار قمیض اور پشاوری چپل کی اپنی طاقتور سوشل میڈیا ٹیم کے ذریعے خوب تشہیر کروائی۔ پی ٹی آئی کارکن کہنے لگے کہ باقی لیڈر تو کوٹ پینٹ پہنتے ہیں لیکن یہ ہم ہی میں سے ہے۔ 6۔ لارنس آف عریبیہ نے جاسوسی کا ادارہ قائم کیا تھا۔ جس میں اس کے ساتھ کام کرنے والے عرب اپنی قوم میں ترکوں کے خلاف جھوٹ، نفرت اور غلط معلومات (ڈس انفارمیشن) پھیلاتے تھے۔ عمران خان نے بہت بڑا سوشل میڈیا نیٹورک قائم کیا۔ جو اپنی فوج کے خلاف عوام میں جھوٹ، نفرت اور غلط معلومات پھیلاتا ہے۔ 7۔ لارنس آف عریبیہ جاسوسی بھی کرتا رہا اور مسلمانوں کی حساس معلومات انگریزوں کو پہنچاتا رہا۔ جیسے بغداد سے برلن جانے والی انتہائی اہم ریلوے لائن کے بارے میں مکمل اور پل پل کی خبریں دیتا رہا بلکہ اس مقصد کے لیے اس نے وہاں آثار قدیمہ کی کھدائی کا بہانہ بھی کیا۔ عمران خان نے پاکستان کی حساس ترین معلومات انگریزوں کو دیں۔ سی پیک معاہدوں کی خفیہ تفصیلات امریکہ کو دیں۔ پاکستان کا سائفر کوڈ دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ سٹیٹ بینک تک آئی ایم ایف کو رسائی دی۔ 8۔ لارنس آف عریبیہ نے عرب نوجوانوں کو ساتھ رکھنے کے لیے خوبصورت لڑکیوں کا سہار لیا۔ ان میں خاص طور پر اسکی ایک یہودی ساتھی لڑکی بہت مشہور ہوئی جو بہت خوبصورت تھی۔ عمران خان نے ڈی چوک اور زمان پارک کو لڑکیوں سے آباد رکھا۔ عجیب بات ہے کہ پی ٹی آئی کے نوجوانوں میں اس وقت سب سے معتبر عمران خان کی پہلی بیوی جمائما مانی جاتی ہے جو کہ اصلاً یہودی ہے۔ 9۔ یہ سب کر کے بلاآخر وہ طاقت کے ان مراکز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا جہاں تک وہ چاہتا تھا۔ اس کو مکہ کے گورنر یعنی ھاشمیوں تک رسائی مل گئی۔ ان کو اپنے زور بیان سے متاثر کر کے بلاآخر بغاؤت کروانے میں کامیاب ہوگیا۔ عمران خان یہ سب کر کے فوج کی قیادت کو بھی متاثر کرنے میں کامیاب رہا۔ جنرل ظہیر السلام عباسی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید وغیرہ اس کے دام میں آگئے۔ گو کہ باوجوہ اس کے دام سے نکل آیا تھا لیکن تب بہت دیر ہوچکی تھی۔ عمران خان بھی ناکام بغاؤت کروانے میں کامیاب رہا تھا۔ 10۔ لارنس آف عریبیہ انتہائی ذہین اور بروقت درست فیصلے کرنے والا شخص تھا۔ عمران خان انتہائی احمق اور غلط ترین فیصلے کرنے والا انسان ہے۔ اور یہی وہ فرق ہے جس نے عمران خان کو ناکام کیا اور وہ شکنجے میں آگیا۔ عمران خان کی اکلوتی خوبی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو جھوٹ پر قائل کرسکتا ہے کسی شیطان کی طرح۔ لیکن اسکی حماقتیں اور غلط فیصلے اسکو لے ڈوبے! #OperationGoldsmith 

Pakistan social media viral

خواب ریزہ ریزہ سیراب آنکھوں میں

  عرفان ناروال کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والا ایک نوجوان تھا۔ ملکی حالت دن بدن بگڑتے جا رہے تھے – غربت، بے روزگاری اور معاشی تنگدستی نے اسے مجبور کر دیا کہ وہ بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالے۔ اس نے سنا تھا کہ یونان میں زندگی جدید، آسان اور کام کے مواقع بے شمار ہیں۔ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ وہاں جانے کے لئے ڈنکی لگائے گا، یعنی غیر قانونی طریقے سے یورپ جائے گا۔ اس سفر میں اس کے دو قریبی دوست، علی اور عثمان بھی شامل تھے، جو اسی طرح کی امیدوں کے ساتھ اس سفر پر روانہ ہوئے۔ عرفان، علی اور عثمان نے اپنی جمع پونجی اور خاندان سے کچھ پیسے ادھار لے کر کے ایک ایجنٹ کو دے دیے، جو انہیں غیر قانونی طریقے سے یونان پہنچانے کا وعدہ کر رہا تھا۔ انہوں نے ایجنٹ سے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی انہیں ایک بہتر زندگی کی طرف لے جائے گا۔ سب نے اپنے دوستوں اور خاندان سے جھوٹ بولا کہ وہ دبئی جا رہے ہیں۔ ان کا سفر انتہائی دشوار اور خطرناک تھا۔ وہ پہلے بلوچستان پہنچے، جہاں سے انہیں ایران کے سرحدی علاقے میں لے جایا گیا۔ ایران میں داخل ہوتے ہی ان کے سفر کی مشکلات نے زور پکڑ لیا۔ ایک رات، جب وہ ایرانی سرحد پار کر رہے تھے، ایرانی سیکورٹی فورسز نے ان کے گروپ پر حملہ کر دیا۔ گروپ کے بہت سے افراد زخمی ہو گئے، اور کچھ کو گرفتار کر لیا گیا۔ عرفان، علی اور عثمان نے بھاگنے کی کوشش کی۔ وہ ایک سنسان علاقے میں پہنچ گئے، جہاں رات کی تاریکی اور سردی نے ان کی مشکلات میں انتہائی اضافہ کر دیا۔ علی اور عثمان شدید زخمی تھے اور ان کے پاس نہ تو پانی تھا اور نہ ہی خوراک۔ عرفان نے اپنی بہترین کوشش کی کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کر سکے، مگر حالات کے سامنے وہ بے بس ہو گیا۔ علی کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی۔ اس کی چوٹیں شدید تھیں اور وہ شدید تکلیف میں تھا۔ کچھ ہی دیر میں، علی نے عرفان کے ہاتھوں میں اپنی آخری سانس لی۔ عرفان نے اپنے دوست کو کھو دیا اور وہ دل شکستہ ہو گیا۔ اس نے اپنے دل پر پتھر رکھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا، مگر عثمان کی حالت بھی بگڑنے لگی۔ عثمان نے عرفان کو کہا کہ وہ اپنی زندگی بچانے کی کوشش کرے اور اسے چھوڑ دے۔ مگر عرفان اپنے دوست کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ عثمان بھی کچھ ہی دیر بعد دم توڑ گیا۔ عرفان نے اپنے دونوں دوستوں کی لاشوں کو وہیں چھوڑ کر بڑی مشکل سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ دل میں شدید دکھ اور غم کے ساتھ، عرفان نے اپنے سفر کو جاری رکھا۔ رات کے سناٹے میں جب عرفان تنہا ہوتا، اسے اپنے دوستوں، ماں باپ اور بہن بھائیوں کے چہرے یاد آتے۔ اس کی ماں کی محبت، باپ کی نصیحتیں، اور بہن بھائیوں کی شرارتیں، سب کچھ اس کے دل و دماغ میں گھومتے رہتے۔ وہ رات کو آنکھیں بند کرتا تو اسے اپنی ماں کی وہ آواز سنائی دیتی جو اسے بچپن میں لوری سنایا کرتی تھی۔ اسے یاد آتا کہ کیسے اس کی ماں اسے اپنے بازوؤں میں بھر کر کہانیاں سناتی تھی اور اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی تھی۔ اس کا باپ، جو ہمیشہ اس کی تعلیم اور تربیت کے لیے محنت کرتا تھا، اپنے بیٹے کے مستقبل کے خواب دیکھتا تھا۔ اس کے بہن بھائی، جو اس کے ساتھ کھیلتے تھے اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہنس پڑتے تھے، سب کچھ اس کے ذہن میں گردش کرتا رہتا۔ عرفان کے دوستوں کی موت نے اس کے حوصلے کو توڑ دیا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ترکی پہنچا، جہاں ایجنٹ نے اسے اور دیگر مسافروں کو ایک چھوٹی کشتی میں بٹھا دیا۔ کشتی میں جگہ کی کمی اور پانی کے داخل ہونے کی وجہ سے مسافروں کی حالت بد سے بدتر ہو گئی۔ رات کی تاریکی میں کشتی ہچکولے کھاتے ہوئے یونان کی ساحلی حدود میں داخل ہوئی، مگر قسمت نے عرفان کا ساتھ نہیں دیا۔ یونان کے کوسٹ گارڈز کو مخبری ہو چکی تھی، انہوں نے نے کشتی کو روکا اور غیر قانونی مسافروں کو گرفتار کر لیا۔ عرفان اور اس کے ساتھیوں کو ایک کیمپ میں قید کر دیا گیا، جہاں انہیں انتہائی برے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں انہیں کھانا، پانی اور بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں۔ عرفان کی صحت دن بدن خراب ہوتی گئی۔ خوراک کی کمی، سخت سردی اور کیمپ کے ناقص حالات نے اسے بیمار کر دیا۔ ایک رات، جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا، عرفان بخار اور کمزوری کی حالت میں اپنی زندگی کی جنگ جیسے ہر رہا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے اسے بے بسی سے دیکھا، مگر کوئی بھی اس کی مدد کرنے کے قابل نہ تھا۔ عرفان نے اپنے خوابوں اور امیدوں کے ساتھ اس کیمپ میں اپنی آخری سانس لی۔ اس کی آخری سانسوں میں، اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی، “میرے بیٹے، تُو کہاں ہے؟” اس کی ماں کی وہی آواز، جو بچپن میں لوری سناتی تھی، آج اس کے دل کو چیرتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسے اپنی ماں کی آنکھوں کی وہ چمک یاد آئی، جو ہمیشہ اس کے گھر آنے کا انتظار کرتی تھی، اور اب وہ چمک ہمیشہ کے لیے بجھ چکی تھی۔ اس کے باپ کا چہرہ، جو ہمیشہ اس کی کامیابی کے خواب دیکھتا تھا، اس کے سامنے آیا۔ وہی باپ، جو دن رات محنت کرتا تھا تاکہ اس کا بیٹا ایک دن کامیاب انسان بنے، اور آج اس کی محنت کے خواب، آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے، بکھرتے ہوئے نظر آئے۔  اسے یاد آیا کہ کیسے وہ اپنے والد کے ساتھ گاؤں کے باغ میں جایا کرتا تھا، جہاں وہ دونوں درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر باتیں کرتے تھے۔ اس کے والد ہمیشہ اسے نصیحتیں کرتے تھے اور اس کے مستقبل کے خواب دیکھتے تھے۔ باغ کی ہر کلی اور ہر پھول کی خوشبو آج عرفان کے دل کو درد

Pakistan social media viral

تحریک انصاف کی ڈیجیٹل دہشتگردی اور ریاست!

 PTI’s Digital Terr_orism details حال ہی میں گرفتار ہونے والی عروبہ کومل سے ابتدائی تفتیش میں ہونے والے انکشافات کے مطابق مبینہ طور پر تحریک انصاف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی ایڈمن عروبہ کومل یونیورسٹیز اور کالجز کی 1300 خواتین ممبرز پر مشتمل پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم کا اہم حصہ ہیں۔  ہر ممبرکے پاس ایک مین اکاؤنٹ اور 40 سے 50  فیک اکاونٹس موجود ہیں۔ سوشل میڈیا ٹیم کی زمہ داری میں واٹس اپ گروپ سے بیانیہ اٹھانا اور اسے ٹک ٹاک۔ فیس بک اور ٹوئیٹر ایکس پر شئر کرنا ہے۔ تحریک انصاف کے کور کمیٹی ممبران او رہنماؤں کی سوشل میڈیا پوسٹ کو ری شئیر کرنا، کمینٹس کرنا ساتھ ہی مخالفین کو جواب یا گالیاں دینا شامل ہے۔  ماضی میں بھی مذکورہ سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے میڈیا ونگ کے زیر استعمال بے شمار جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پکڑے جا چکے ہیں۔  پی ٹی آئی میڈیا ونگ کی جانب سے ریٹائرڈ آرمی آفیسرز، گورنمنٹ آفیشلز، ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے نام پر بنائے گئے اکاؤنٹس جعلی ثابت ہوچکے ہیں۔  افواج پاکستان اور اس کی لیڈرشپ کی کردار کشی میں ملوث تمام اکاؤنٹس مذکورہ جماعت اور اس کے حامیوں کے نکلے۔جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنانا اور اس کے زریعے ڈس انفارمیشن، فیک نیوز اور پراپیگنڈا کی تشہیر پی ٹی آئی کا وطیرا بن چکا ہے۔ جھوٹ کو پھیلانے کیلئے سب سے زیادہ وسائل تحریک انصاف ہی خرچ کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کو سپورٹ کرنے والے درجنوں صحافیوں کو بھاری تنخواہوں اور سپانسرڈ ویزہ پر جبکہ ہزاروں نوجوانوں کو فنڈڈ  ویزہ اور جاب سکیورٹی کے ساتھ پاکستان سے مختلف ممالک میں بھیجا گیا۔ پی ٹی آئی کا پروپیگنڈہ پھیلانے کے لیے لوگوں کو باقاعدہ بھرتی کیا جاتا ہے اور ان کا کام ہی پروپیگنڈہ کو آگے بڑھانا ہے۔ یہی افراد بیرون ملک بیٹھ کر مذکورہ سیاسی جماعت کیلئے  ”تیرا کھانواں تیرے گیت گانواں“ کے مصداق دن رات کام میں لگے ہوئے ہیں۔  ابراج گروپ کے عارف نقوی کی جانب سے منتقل کی گئی ”مشکوک رقم“ کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ غیر ملکی فنڈز کی ایک بڑی رقم پی ٹی آئی کی میڈیا مہم کے لیے استعمال کی گئی۔ ایف آئی اے کے مطابق 6 لاکھ 25 ہزار ڈالر ووٹن لمیٹڈ کے ذریعے منتقل کیے گئے۔ یہ ووٹن سے براہ راست پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں موصول ہونے والے 21 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے علاوہ ہے۔  عمران خان کے قریبی دوست نے اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں 5 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی ممنوعہ رقم وصول کی اور بعد ازاں وہی رقم پی ٹی آئی اکاؤنٹ میں منتقل کی۔یہ وہ معاملات ہیں جو اب تک سامنے آئے ہیں اور بہت سے اکاؤنٹس ابھی تک پوشیدہ ہیں۔ پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پیسے کا بیش بہا استعمال کیا۔ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پی ٹی آئی نے ناصرف غیرملکی فنڈنگ حاصل کی بلکہ آڈٹ رپورٹس کے مطابق اقتدار میں آکر ملکی خزانے سے بھی اربوں روپے کا استعمال کیا۔ ہزاروں افراد کوسرکاری تنخواہوں پر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کمپین پر لگا دیا گیا تھا, جبکہ سیاسی پارٹی کے ایجنڈے پر چلنے والے صحافیوں کو راتوں رات کروڑ پتی کرکے مستقل وفاداربنایا گیا۔ صحافیوں کی لمبی فہرست ہے جو پی ٹی آئی کے باقاعدہ تنخواہ دار ہیں۔ کروڑوں روپے کے مالی فوائد حاصل کرنے والے یہی لوگ مذکورہ سیاسی جماعت کے اکسانے پر وطن عزیز میں ما!یوسی اور بدامنی پھیلانے کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ان کا ایک ہی اصول ہے کہ جھوٹ کو اتنا زیادہ بولو کہ لوگ اسے سچ سمجھنا شروع ہو جائیں۔  پی ٹی آئی تیزی سے ختم ہوتی اپنی مقبولیت کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اب سوشل میڈیا پر بھی صورت حال یکسر تبدیل ہو چکی ہے،تحریک انصاف کے تقریبا بارہ لاکھ سبسکرائبرز رکھنے والے آفیشل یوٹیوب چینل کے اعداد و شمار دیکھیں تو اب وہاں بامشکل تین سو سے پانچ سو  ویوزہی آتے ہیں۔ پی ٹی آئی دور میں وزیر اعظم ہاوس سے ماہانہ کروڑوں روپے لگا کر اپریٹ ہونے والے میڈیا سیل کے کرتا دھرتا نجی محافل میں اس بات کا اقرار کرتے نظر آتے کہ اربوں روپیہ جھونک کر بھی لوگوں کے دلوں سے فوج  کی محبت نہیں نکال سکے۔ پی ٹی آئی سوشل میڈیا ٹیم نجی محافل میں اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ہم اخلاقی گراونڈ کے بغیر صرف اپنی کرپشن کو بچانے کیلئے وسائل کا استعمال کر کے ریت کی دیوار قائم کیے ہوئے ہیں۔ وہ تجزیہ کار اور دانشور جنہیں قومی خزانے سے مستفید کیا جاتا تھا, وہ آج بھی اپنے وظیفے کو بحال رکھوانے کیلئے پی ٹی آئی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کیلئے پروپیگنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کا ایک ہی اصول ہے کہ جھوٹ کو اتنا زیادہ بولو کہ لوگ اسے سچ سمجھنا شروع ہو جائیں۔  پی ٹی آئی نے معصوم اذہان اور نوجوان طبقے کو ٹارگٹ کیا۔ کئی سال تک ایک مخصوص ماحول میں نشونما پانی والی نوجوان نسل کی اخلاقیات کو تباہ کر دیا گیا۔ خاص نصاب اور مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو فالو کرنے والی ایسی نسل تیار کی گئی کہ جنہوں نے خودنمائی  میں مبتلا ایک خودسر و خود غرض شخص کو ماورائی درجے پر فائز کر دیا۔ عمران خان کی مخالفت کرنے والے ہر شخص اور ادارے کے بارے میں بدتمیزی،گالی اور ایسی ایسی زبان استعمال کی،جس کو الفاظ میں بیان کرنا بھی ممکن نہیں۔ افواج پاکستان ملک وقوم کا عظیم سرمایہ ہیں۔ قوم کو ان پر فخر ہے۔ پاک فوج نے ہر مشکل گھڑی میں قوم کی مدداور خدمت کی ہے۔ مگر پی ٹی آئی اور ان کے حامی تجزیہ کاروں کی جانب سے پاک فوج کے خلاف نہ ختم ہونے والا منفی پروپیگنڈا جاری ہے، پاک فوج کے خلاف من گھڑت افواہیں اڑائی جارہی ہیں، غیر مصدقہ، ہتک آمیز اور اشتعال انگیز ریمارکس دیے جارہے ہیں۔ قوم کو گمر_اہ کرنا، ورغلانا اور ذاتی مفادات کیلئے ملک میں فسا! د برپا کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ تحریک نظریہ پاکستان 🇵🇰 ⭕⭕⭕⭕⭕⭕

Pakistan social media viral

انسانی دودھ کے بینک کا قیام شرعی نقطہ نظر

تحریر : مفتی محمد سہیل البازی کراچی میں حال ہی میں ایک انسانی دودھ کا بینک قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد ان بچوں کی مدد کرنا ہے جنہیں ان کی ماؤں کا دودھ میسر نہیں آتا۔ اگرچہ اس اقدام کا مقصد انسانی ہمدردی اور نیک نیتی پر مبنی ہے، مگر دینی اور شرعی نقطہ نظر سے اس طرح کے بینک قائم کرنا جائز نہیں ہے  رضاعت سے پیدا ہونے والی حرمت اسلامی فقہ کے مطابق، رضاعت سے حرمت پیدا ہوتی ہے، یعنی جو بچہ کسی عورت کا دودھ پیے وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا یا بیٹی بن جاتا ہے، اور اس کے ساتھ نکاح ممنوع ہو جاتا ہے۔ یہی حرمت اس عورت کے بچوں، پوتوں اور نواسوں تک بھی وسیع ہوتی ہے۔ مخلوط انسانی دودھ کے بینک میں مختلف خواتین کا دودھ اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر بچوں کو پلایا جاتا ہے۔ اس صورت میں یہ شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس بچے نے کس خاتون کا دودھ پیا ہے، اور اس سے بعد میں نکاح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انسانی دودھ کے بینک میں مختلف خواتین کا دودھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس بچے نے کس عورت کا دودھ پیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص ایسی عورت سے نکاح کر لے جس کی  ماں کا دودھ اس نے بچپن میں پیا ہو۔ یہ شرعی اعتبار سے حرام ہے اور بڑے گناہ کا باعث بنتا ہے۔  اسلامی شریعت نے احکام شرعیہ کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ دودھ کے بینک قائم کرنے سے نہ صرف رضاعت کی حرمت کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے بلکہ یہ دیگر شرعی ممانعتوں کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو بعد میں مشکلات اور گناہ کا باعث بن سکتے ہیں جدہ کے بین الاقوامی اسلامی فقہی مجمع اور دیگر بہت سے علماء نے انسانی دودھ کے بینک کے قیام کو ناجائز قرار دیا ہے۔ ایک حدیث میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایسی عورت کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جس کے بارے میں ایک عورت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا ہے، اگرچہ یہ دعویٰ مشکوک تھا۔ انسانی دودھ کے بینک قائم کرنے سے نہ صرف دینی بلکہ سماجی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ رضاعت کے مسائل کی پیچیدگی کی وجہ سے شریعت نے ان امور میں احتیاط کا حکم دیا ہے۔ ایسے اقدامات جو شرعی ممانعتوں کا دروازہ کھولتے ہیں ان سے گریز کرنا چاہیے تاکہ معاشرہ شرعی اصولوں کے مطابق چلتا رہے۔ انسانی دودھ کے بینک کا قیام، خواہ نیک نیتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہو، شرعی نقطہ نظر سے جائز نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف رضاعت کی حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ دیگر شرعی ممانعتوں کا دروازہ بھی کھلتا ہے۔ اس لیے ہمیں ان معاملات میں دینی اصولوں اور فقہی احکام کی پیروی کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے تاکہ معاشرہ شرعی قوانین کے مطابق چلتا رہے اور کسی قسم کے گناہ اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ف ⭐⭐⭐⭐⭐⭐ مندرجہ بالا تحریر ایک عالم دین نے تحریر کی ہے۔ لیکن اس سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا اور قران حدیث میں اس بارے کیا حکم ہے کچھ مختصر سا میں اضافہ کر رہا ہوں تاکہ عوام کو احساس ہو کہ یہ کتنا اہم مسئلہ ہے۔  یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے۔ اور اس سے معاشرے میں کیا خرابی پیدا ہوگی اس پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔  کتاب الرضاع  _مدت رضاعت میں تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے حرمت_  ضروری نوٹ ڈھائی سال کے اندر دودھ پلانے کو رضاعت کہتے ہیں۔ رضاعت سے حرمت نسب سے حرمت کی طرح ثابت ہوتی ہے۔  اس کی دلیل قرآن کریم کی دو آیات ہیں  “تمہاری مائیں جس نے تم کو دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہن جن سے نکاح حرام ہے۔”  (سورہ نساء، آیت 23)   “مائیں اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں جو مدت رضاعت پوری کرنا چاہیں۔”  (سورہ بقرہ، آیت 233) تشریح امام اعظم کے نزدیک رضاعت کی مدت ڈھائی سال ہے۔ اگر اس مدت میں عورت نے بچے کو تھوڑا سا بھی دودھ پلایا تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ پانچ گھونٹ پینا ضروری نہیں ہے ۔  حرمت کی دلیل       حدیث نبوی ﷺ “حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا رضاعی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، رضاعت حرام کرتی ہے ان کو جن کو نسب کرتا ہے۔”   (صحیح بخاری، کتاب الرضاع، باب ویحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب) فقہی اقوال تھوڑے سے مقصد دودھ سے حرمت ثابت ہونے کی دلیل:   حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم فرماتے تھے: “حرام ہوتا ہے تھوڑا اور زیادہ دودھ پینے سے۔”  (نسائی، کتاب الرضاع)  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “دو سال کے اندر ہو تو چاہے ایک مرتبہ چوسنا ہو وہ حرام کرتا ہے۔”  (موطا امام محمد، کتاب الرضاع)  میں مطلق لفظ استعمال ہوا ہے، اس لیے تھوڑا سا پلانے سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی ۔  امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانچ مرتبہ بچہ دودھ چوسے گا تب حرمت ثابت ہوگی، اس سے کم سے نہیں۔ حاصل کلام  اسلام میں رضاعت کو ایک اہم رشتہ سمجھا جاتا ہے جو ایک عورت اور اس کے دودھ پلانے والے بچے کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ نسب کے رشتے کے برابر ہے اور اس کے احکامات بھی اسی طرح نافذ ہوتے ہیں۔ رضاعت کی مدت کے دوران، رضاعی ماں اور باپ بچے کے لیے حلال نہیں ہوتے اور ان کا آپس میں نکاح کرنا حرام ہے۔ مدت رضاعت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک رضاعت کی مدت ڈھائی سال ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک عورت کسی بچے کو ڈھائی سال کے اندر دودھ پلاتی ہے تو وہ اس بچے اور اس کے رضاعی بہن بھائیوں کے لیے حرام

Pakistan social media viral

انسانی دودھ کے بینک کا قیام شرعی نقطہ نظر

تحریر : مفتی محمد سہیل البازی کراچی میں حال ہی میں ایک انسانی دودھ کا بینک قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد ان بچوں کی مدد کرنا ہے جنہیں ان کی ماؤں کا دودھ میسر نہیں آتا۔ اگرچہ اس اقدام کا مقصد انسانی ہمدردی اور نیک نیتی پر مبنی ہے، مگر دینی اور شرعی نقطہ نظر سے اس طرح کے بینک قائم کرنا جائز نہیں ہے  رضاعت سے پیدا ہونے والی حرمت اسلامی فقہ کے مطابق، رضاعت سے حرمت پیدا ہوتی ہے، یعنی جو بچہ کسی عورت کا دودھ پیے وہ اس عورت کا رضاعی بیٹا یا بیٹی بن جاتا ہے، اور اس کے ساتھ نکاح ممنوع ہو جاتا ہے۔ یہی حرمت اس عورت کے بچوں، پوتوں اور نواسوں تک بھی وسیع ہوتی ہے۔ مخلوط انسانی دودھ کے بینک میں مختلف خواتین کا دودھ اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر بچوں کو پلایا جاتا ہے۔ اس صورت میں یہ شناخت کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس بچے نے کس خاتون کا دودھ پیا ہے، اور اس سے بعد میں نکاح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ انسانی دودھ کے بینک میں مختلف خواتین کا دودھ مخلوط ہونے کی وجہ سے یہ معلوم کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کس بچے نے کس عورت کا دودھ پیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص ایسی عورت سے نکاح کر لے جس کی  ماں کا دودھ اس نے بچپن میں پیا ہو۔ یہ شرعی اعتبار سے حرام ہے اور بڑے گناہ کا باعث بنتا ہے۔  اسلامی شریعت نے احکام شرعیہ کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ دودھ کے بینک قائم کرنے سے نہ صرف رضاعت کی حرمت کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے بلکہ یہ دیگر شرعی ممانعتوں کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ایسے اقدامات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو بعد میں مشکلات اور گناہ کا باعث بن سکتے ہیں جدہ کے بین الاقوامی اسلامی فقہی مجمع اور دیگر بہت سے علماء نے انسانی دودھ کے بینک کے قیام کو ناجائز قرار دیا ہے۔ ایک حدیث میں عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ایسی عورت کو چھوڑ دینے کا حکم دیا جس کے بارے میں ایک عورت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دونوں کو دودھ پلایا ہے، اگرچہ یہ دعویٰ مشکوک تھا۔ انسانی دودھ کے بینک قائم کرنے سے نہ صرف دینی بلکہ سماجی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ رضاعت کے مسائل کی پیچیدگی کی وجہ سے شریعت نے ان امور میں احتیاط کا حکم دیا ہے۔ ایسے اقدامات جو شرعی ممانعتوں کا دروازہ کھولتے ہیں ان سے گریز کرنا چاہیے تاکہ معاشرہ شرعی اصولوں کے مطابق چلتا رہے۔ انسانی دودھ کے بینک کا قیام، خواہ نیک نیتی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہو، شرعی نقطہ نظر سے جائز نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف رضاعت کی حرمت کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ دیگر شرعی ممانعتوں کا دروازہ بھی کھلتا ہے۔ اس لیے ہمیں ان معاملات میں دینی اصولوں اور فقہی احکام کی پیروی کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہیے تاکہ معاشرہ شرعی قوانین کے مطابق چلتا رہے اور کسی قسم کے گناہ اور مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ف ⭐⭐⭐⭐⭐⭐ مندرجہ بالا تحریر ایک عالم دین نے تحریر کی ہے۔ لیکن اس سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا اور قران حدیث میں اس بارے کیا حکم ہے کچھ مختصر سا میں اضافہ کر رہا ہوں تاکہ عوام کو احساس ہو کہ یہ کتنا اہم مسئلہ ہے۔  یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک خالص دینی معاملہ ہے۔ اور اس سے معاشرے میں کیا خرابی پیدا ہوگی اس پر کچھ روشنی ڈالتے ہیں ۔  کتاب الرضاع  _مدت رضاعت میں تھوڑا یا زیادہ دودھ پلانے سے حرمت_  ضروری نوٹ ڈھائی سال کے اندر دودھ پلانے کو رضاعت کہتے ہیں۔ رضاعت سے حرمت نسب سے حرمت کی طرح ثابت ہوتی ہے۔  اس کی دلیل قرآن کریم کی دو آیات ہیں  “تمہاری مائیں جس نے تم کو دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہن جن سے نکاح حرام ہے۔”  (سورہ نساء، آیت 23)   “مائیں اپنی اولاد کو دو سال مکمل دودھ پلائیں جو مدت رضاعت پوری کرنا چاہیں۔”  (سورہ بقرہ، آیت 233) تشریح امام اعظم کے نزدیک رضاعت کی مدت ڈھائی سال ہے۔ اگر اس مدت میں عورت نے بچے کو تھوڑا سا بھی دودھ پلایا تو حرمت ثابت ہو جائے گی۔ پانچ گھونٹ پینا ضروری نہیں ہے ۔  حرمت کی دلیل       حدیث نبوی ﷺ “حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا رضاعی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا: نہیں، رضاعت حرام کرتی ہے ان کو جن کو نسب کرتا ہے۔”   (صحیح بخاری، کتاب الرضاع، باب ویحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب) فقہی اقوال تھوڑے سے مقصد دودھ سے حرمت ثابت ہونے کی دلیل:   حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم فرماتے تھے: “حرام ہوتا ہے تھوڑا اور زیادہ دودھ پینے سے۔”  (نسائی، کتاب الرضاع)  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: “دو سال کے اندر ہو تو چاہے ایک مرتبہ چوسنا ہو وہ حرام کرتا ہے۔”  (موطا امام محمد، کتاب الرضاع)  میں مطلق لفظ استعمال ہوا ہے، اس لیے تھوڑا سا پلانے سے بھی حرمت ثابت ہو جائے گی ۔  امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پانچ مرتبہ بچہ دودھ چوسے گا تب حرمت ثابت ہوگی، اس سے کم سے نہیں۔ حاصل کلام  اسلام میں رضاعت کو ایک اہم رشتہ سمجھا جاتا ہے جو ایک عورت اور اس کے دودھ پلانے والے بچے کے درمیان پیدا ہوتا ہے۔ یہ رشتہ نسب کے رشتے کے برابر ہے اور اس کے احکامات بھی اسی طرح نافذ ہوتے ہیں۔ رضاعت کی مدت کے دوران، رضاعی ماں اور باپ بچے کے لیے حلال نہیں ہوتے اور ان کا آپس میں نکاح کرنا حرام ہے۔ مدت رضاعت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک رضاعت کی مدت ڈھائی سال ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک عورت کسی بچے کو ڈھائی سال کے اندر دودھ پلاتی ہے تو وہ اس بچے اور اس کے رضاعی بہن بھائیوں کے لیے حرام

Pakistan social media viral

ڈیجیٹل بھکاری اور بھکارنیں

   پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ اپنے حق سے بڑھ کر آپ جو بھی مانگتے ہیں دوسرا خوشی سے دے دے تو اس کا احسان ہے۔ اور ترس کھا کر یا آپ کے ترلوں منتوں سے تنگ آ کر جان چھڑانے کو دیدے تو بھیک کہلاتی ہے۔  ایسی بھیک لینے والا بھکاری کہلاتا ہے۔ اور ضروری نہیں یہ بھیک کرنسی نوٹ کی شکل میں ہو۔ یہ کسی رعایت کی شکل میں ہو سکتی ہے۔ سفارش کی شکل میں بھی۔ اور اپنا کوئی نقصان معاف کر دینے کی شکل میں بھی۔  عام زندگی میں بھی ایس بھکاری اور بھکارنیں آپ کو گلی کوچوں کے علاوہ ہر رش والی جگہ ڈرامے بازی کر کے معمولی چیزیں جیسے پنسل، کاپی، کھلونا، غبارے لے کر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔  یاد رکھیں یہ عام محنتی لوگوں سے الگ ہوتے ہیں لیکن اکثر ہم پہچان نہیں پاتے۔ اصلی خود دار محنت کرنے والا غیرت مند ہوتا ہے۔ اس کا پیٹ بھوکا ہوتا ہے، مگر آنکھوں میں شرم ہوتی ہے۔ اس کو اس کے مال سے زیادہ قیمت دیں تو اول لینے سے انکار کرتا ہے۔ لے لے تو اس کی کوشش ہوتی ہے اس کے بدلے آپ کو کوئی مزید چیز دیدے اس ایکسٹرا پیسے کے بدلے۔  جبکہ ڈرامے باز بھکاریوں کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان سے ماچس خرید لو تو اول تو بازار میں دس روپے ملنے والی چیز کے پچاس یا سو روپے بتائیں گے۔ اگر قیمت معمولی ہوگی تو انکی زیادہ تر کوشش ہوگی کہ آپ انکی شکل دیکھ کر ترس کھا کر ویسے ہی پیسے دیدیں۔ اور ان سے چیز نہ لیں۔ اگر آپ پیسے پکڑائیں اور پھر چیز کا تقاضا کریں تو اکثر انکا منہ ڈھلک جاتا ہے۔ کیونکہ چیز تو محض مانگنے کا بہانہ ہوتا ہے۔ یہ جو آواز لگا رہے ہوتے ہیں اس میں بھی چیز کی خوبیاں کم اور اپنی مجبوریاں زیادہ بتا رہے ہوتے ہیں  ان میں سے اکثر کی سیل پچ یہ ہوتی ہے۔ باجی، بھائی ، انکل ۔ ۔ یہ چیز لے لیں۔ ۔ میں صبح سے بھوکا ہوں ۔ ۔ کچھ نہیں کھایا میں نے ۔ ۔ صبح سے ایک بھی پنسل نہیں بکی ۔ ۔ میرے ابو بیمار ہیں ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ سچ جھوٹ کو ایک سائیڈ پر رکھ کر تھوڑی دیر غور کریں تو آپ کو صاف نظر آئیگا کہ چیز بیچنا ایک دھوکا ہے ۔ ۔اصل میں اپنی مجبوریاں بتا کر بھیک مانگنا اصل مقصد ہے۔ ۔ آخری نشانی یہی ہے کہ آپ دس روپے کی پنسل کے بدلے ان کو پانچ سو کا نوٹ بھی دیدیں تو یہ کوشش کریں گے کہ پنسل بھی انہی کے پاس رہے۔ ۔  بالکل ایسے ہی بھکاری اور بھکارنیں اب ڈیجیٹل دنیا میں بھی موجود ہیں۔ جن کا مقصد چیز بیچنا نہیں ہوتا بلکہ اپنی مجبوریوں اور محرومیوں کی داستانیں سنا کر لوگوں کی ہمدردیوں کو کیش کروانا ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر کو کاروبار کا تو چھوڑیں مارکیٹ ہی کا پتہ نہیں ہوتا۔ گاہک سے کیسے ڈیل کرنا ہے۔ چیز بہتر کیسی ہوتی ہے؟ کوالٹی اور معیار کیا ہوتا ہے؟ ڈلیوری کیسے بہتر کی جا سکتی ہے؟ دکانداری کے تقاضے کیا ہوتے ہیں؟ اخلاقیات کیا چیز ہے؟ ۔ ۔ یہ سب تو دور کی چیزیں ہیں۔  اس لیے انکی سیل پچ بھی بالکل انہی بھکاریوں جیسی ہوتی ہے جیسی اوپر بیان کی گئی ہے۔  یہ چیز خرید لیں، میرے گھر راشن بھی نہیں ہے۔  یہ کام میں شروع کر رہی ہوں، مگر میرا موبائل پرانا ہے۔  میں نے اکٹھا مال اٹھا لیا ہے مگر میرے پاس اتنے پیسے دینے کے لیے نہیں ہیں۔ مدد کر دیں ۔ ۔چیزیں خرید لیں۔ ۔  آج میرے بچے کو بخار آ گیا ، سارا دن ضائع ہو گیا ، میں لسٹ نہیں لگا سکی ۔ ۔ بس گھر اور کام ساتھ چلانا بہت مشکل ہے ایک عورت کے لیے ۔ ۔ مگر مجبوری ہے۔  آپ کہیں گے یہ تو سیل پچ نہیں ہے ۔ ۔ یہ تو عام سی باتیں ہیں۔ ۔ میں کہوں گا ۔ ۔آپ بہت بھولے ہیں۔ ۔ بالکل ویسے بھولے ۔۔ جو بازار میں معذور دیکھ کر دس بیس روپے اسکی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔ بعد میں شام کو وہ “معذور” پانچ دس ہزار کی دیہاڑی سمیٹ کر اٹھ کر کدکڑے لگاتا اپنے گھر چلا جاتا ہے۔ ۔  چلیں میں یہ نہیں کہتا کہ ان ڈیجیٹل بھکاری بھکارنوں کے گھریلو مسائل نہیں ہونگے۔ ۔ کچھ واقعی مجبور ہونگی ۔ ۔ لیکن ایسی مجبوریوں کو کوئی غیرت مند دکاندار اپنی دکان پر لگانے کی حرکت کبھی نہیں کرتا۔ ۔  لاہور میں شاہ عالمی بازار ہے۔ سینکڑوں چھوٹی چھوٹی دکانیں اور ان میں بیٹھے دکاندار ۔ ۔ ہر ایک کی الگ کہانی ۔ ۔ لیکن انکی دکانوں پر لگے سائن بورڈ کیا کہتے ہیں ؟  ۔ زرا پڑھیں ۔ ۔  ۔ ہر مال بہترین ۔ گارنٹی کے ساتھ ۔ ۔  ۔ چائنہ سے درامد ۔ کوالٹی اور قیمت میں بہترین۔ ۔ جرمنی سے امپورٹڈ جنریٹر ۔ دس سال گارنٹی ۔  ۔ سب سے سستا، ہر مال سو روپے ۔  بازار سے با رعایت ، پچیس سال پرانی دکان ۔  دیکھا آپ نے ۔ ۔ سب کاروباری ہیں ۔ ۔ سب مال بیچ رہے ہیں۔ سب اپنے مال کی بات کر رہے ہیں۔ ۔  لیکن اگر شاہ عالمی مارکیٹ کے یہ دکاندار ڈیجیٹل بھکاریوں جیسے ہوتے ۔ ۔ تو ان کی دکانوں کے بورڈ کچھ یوں ہوتے:  ۔ میرے دونوں گردے خراب ہیں، میرا مال خرید لیں۔  ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھوکے ہیں ۔ ۔  ۔ میری بیوی مر گئی ہے، گھر میں کھانا پکانے والا کوئی نہیں۔  ۔ میرے گھر کی چھت ٹپک رہی ہے۔ ٹھیکیدار دھوکے باز نکلا۔ خریداری کر کے میری مدد کریں۔ ۔ میری گاڑی چوری ہو گئی، نقصان بھرنے کے لیے مجھ سے جنریٹر خرید لیں۔  ۔ میری دکان میں آگ لگ گئی تھی، سارا مال جل گیا ۔ ۔ مہربانی کریں قیمت زیادہ دیں۔  مجھے یقین ہے ان میں سے ایک بھی بورڈ آپ کو شاہ عالمی مارکیٹ تو کیا ، دنیا میں کہیں بھی نظر نہیں آئیگا ۔ ۔ سوائے بھکاریوں کے ہاتھ میں ۔ ۔    اب آپ

Pakistan social media viral

سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ملک دشمن پروپیگنڈہ

 تمام محب وطنوں سے اہم اپیل ہے کہ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے دشمنوں نے ہماری فوج کے خلاف تاریخ ساز زہریلی منفی پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ جوکہ جمہوریت اور سیاست کی آڑ میں ہے۔ جس کیلئے آپ کو اور ہم سب کو ملکر ہماری سوشل میڈیا میں دی جانے والی دُرست معلومات کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں جس کے بعد آپ ہماری معیشت پر خوش گوار اثرات مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے اور غربت میں پسی عوام کو ریلیف ملے گا آپ نے ہماری ویب سائٹ کی پوسٹ زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا پر شئیرنگ کریں تاکہ درست معلومات عوام تک پہنچ پائیں ۔ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیں کہ ہماری افواج دنیا کی ٹاپ ٹین افواج میں شامل ہے۔ اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ دشمن کے ہر کارے اور زر خرید ایجنٹ ہماری افواج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے۔ تاکہ پاکستان مستحکم نہ ہو سکے اور عوام اور فوج کے درمیان نفرت پیدا کی جا سکے۔ جیسا کہ اسلام دشمن پہلے لیبیا وغیرہ میں کروا کر وہاں خانہ جنگی کروا چکے ہیں ۔ لیکن ان شاء اللہ پاکستان میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔    معلومات مندرجہ ذیل ہیں  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی افواج کے بارے میں جھوٹے پروپیگنڈے اور الزامات کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر تفصیلات کے ساتھ اہم نکات یہ ہیں: 1. متوازن نظریہ پیش کرنا : محب وطن پاکستانی قومی سلامتی کے لیے پاکستانی افواج کی کوششوں اور قربانیوں کے بارے میں زیادہ درست اور متوازن نظریہ پیش کر سکتے ہیں۔ 2. جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ  حقائق پر مبنی معلومات کا اشتراک کرکے، پاکستانی جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور افواج کے مثبت کردار کو اجاگر کر سکتے ہیں، ممکنہ طور پر قومی حوصلے اور مسلح افواج پر اعتماد کو بڑھا سکتے ہیں۔ 3. قومی حوصلے کو بڑھانا  ایک تعمیری اور باخبر مکالمے کو فروغ دے کر، پاکستانی ملک کا مزید مستحکم اور مثبت امیج بنانے، قومی حوصلے اور مسلح افواج پر اعتماد کو بڑھانے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ 4. بین الاقوامی تعاون پاکستان کا زیادہ مثبت امیج سرمایہ کاری کو راغب کرسکتا ہے، بین الاقوامی تعاون کو بڑھا سکتا ہے، اور اقتصادی ترقی کو تقویت دے سکتا ہے۔ 5. قومی سلامتی کی حفاظت جھوٹے بیانیے کا مقابلہ کرکے، پاکستانی محب وطن ایسی غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر قومی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ملک کی سلامتی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ 6. رائے عامہ کی تشکیل محب وطن پاکستانی زیادہ درست اور متوازن نقطہ نظر کو فروغ دیتے ہوئے عوامی رائے کو تشکیل دے سکتے ہیں اور پاکستانی افواج کے بارے میں بیانیے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 7. مسلح افواج کی حمایت جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرکے، پاکستانی مسلح افواج کے لیے اپنی حمایت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور ان کی قربانیوں اور کوششوں کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ 8. تنقیدی سوچ کو فروغ دینا تنقیدی سوچ اور میڈیا کی خواندگی کی حوصلہ افزائی کرکے، پاکستانی غلط معلومات اور پروپیگنڈے کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ 9.ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کے استعمال کی حوصلہ افزائی محب وطن پاکستانی ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کے استعمال کو فروغ دے سکتے ہیں اور دوسروں کو حقائق پر مبنی گفتگو اور اشتراک میں مشغول ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ 10. قومی اتحاد کو مضبوط کرنا  جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرکے اور متوازن نظریہ کو فروغ دینے سے، پاکستانی قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے محاذ پر دشمن کے خلاف اس جنگ میں اپنی ریاست اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔ مذہبی فرقہ واریت یا، جمہوری عصبیت سے نکل کر پاکستان کے لئے سوچیں اور اپنی افواج اور ریاست کا ساتھ دیں ۔ پاکستان کے سب اندرونی اور بیرونی دشمن ایک ہو کر حملہ آور ہیں ۔ 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 Pakistan Army Social media propaganda Countering disinformation National security Patriotism Public opinion Critical thinking Media literacy National unity پاکستانی افواج سوشل میڈیا پروپیگنڈہ غلط معلومات کا مقابلہ قومی سلامتی حب الوطنی عوامی رائے تنقیدی سوچ میڈیا کی خواندگی قومی اتحاد متوازن نظریہ جھوٹے الزامات قومی حوصلہ بین الاقوامی تعاون رائے عامہ کی تشکیل مسلح افواج کی حمایت ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کا استعمال 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

Pakistan social media viral

سوشل میڈیا پر پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ملک دشمن پروپیگنڈہ

 تمام محب وطنوں سے اہم اپیل ہے کہ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے دشمنوں نے ہماری فوج کے خلاف تاریخ ساز زہریلی منفی پروپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے۔ جوکہ جمہوریت اور سیاست کی آڑ میں ہے۔ جس کیلئے آپ کو اور ہم سب کو ملکر ہماری سوشل میڈیا میں دی جانے والی دُرست معلومات کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں جس کے بعد آپ ہماری معیشت پر خوش گوار اثرات مرتب ہونا شروع ہو جائیں گے اور غربت میں پسی عوام کو ریلیف ملے گا آپ نے ہماری ویب سائٹ کی پوسٹ زیادہ سے زیادہ سوشل میڈیا پر شئیرنگ کریں تاکہ درست معلومات عوام تک پہنچ پائیں ۔ یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ یاد رکھیں کہ ہماری افواج دنیا کی ٹاپ ٹین افواج میں شامل ہے۔ اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت بھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ دشمن کے ہر کارے اور زر خرید ایجنٹ ہماری افواج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہے۔ تاکہ پاکستان مستحکم نہ ہو سکے اور عوام اور فوج کے درمیان نفرت پیدا کی جا سکے۔ جیسا کہ اسلام دشمن پہلے لیبیا وغیرہ میں کروا کر وہاں خانہ جنگی کروا چکے ہیں ۔ لیکن ان شاء اللہ پاکستان میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔    معلومات مندرجہ ذیل ہیں  سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پاکستانی افواج کے بارے میں جھوٹے پروپیگنڈے اور الزامات کا مقابلہ کرنے کی اہمیت پر تفصیلات کے ساتھ اہم نکات یہ ہیں: 1. متوازن نظریہ پیش کرنا : محب وطن پاکستانی قومی سلامتی کے لیے پاکستانی افواج کی کوششوں اور قربانیوں کے بارے میں زیادہ درست اور متوازن نظریہ پیش کر سکتے ہیں۔ 2. جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ  حقائق پر مبنی معلومات کا اشتراک کرکے، پاکستانی جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور افواج کے مثبت کردار کو اجاگر کر سکتے ہیں، ممکنہ طور پر قومی حوصلے اور مسلح افواج پر اعتماد کو بڑھا سکتے ہیں۔ 3. قومی حوصلے کو بڑھانا  ایک تعمیری اور باخبر مکالمے کو فروغ دے کر، پاکستانی ملک کا مزید مستحکم اور مثبت امیج بنانے، قومی حوصلے اور مسلح افواج پر اعتماد کو بڑھانے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ 4. بین الاقوامی تعاون پاکستان کا زیادہ مثبت امیج سرمایہ کاری کو راغب کرسکتا ہے، بین الاقوامی تعاون کو بڑھا سکتا ہے، اور اقتصادی ترقی کو تقویت دے سکتا ہے۔ 5. قومی سلامتی کی حفاظت جھوٹے بیانیے کا مقابلہ کرکے، پاکستانی محب وطن ایسی غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں جو ممکنہ طور پر قومی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور ملک کی سلامتی کو محفوظ بنا سکتی ہے۔ 6. رائے عامہ کی تشکیل محب وطن پاکستانی زیادہ درست اور متوازن نقطہ نظر کو فروغ دیتے ہوئے عوامی رائے کو تشکیل دے سکتے ہیں اور پاکستانی افواج کے بارے میں بیانیے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ 7. مسلح افواج کی حمایت جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرکے، پاکستانی مسلح افواج کے لیے اپنی حمایت کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اور ان کی قربانیوں اور کوششوں کو تسلیم کر سکتے ہیں۔ 8. تنقیدی سوچ کو فروغ دینا تنقیدی سوچ اور میڈیا کی خواندگی کی حوصلہ افزائی کرکے، پاکستانی غلط معلومات اور پروپیگنڈے کی شناخت اور ان کا مقابلہ کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔ 9.ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کے استعمال کی حوصلہ افزائی محب وطن پاکستانی ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کے استعمال کو فروغ دے سکتے ہیں اور دوسروں کو حقائق پر مبنی گفتگو اور اشتراک میں مشغول ہونے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ 10. قومی اتحاد کو مضبوط کرنا  جھوٹے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرکے اور متوازن نظریہ کو فروغ دینے سے، پاکستانی قومی اتحاد کو مضبوط بنانے اور پاکستان کے مثبت امیج کو فروغ دینے میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے محاذ پر دشمن کے خلاف اس جنگ میں اپنی ریاست اور افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں ۔ مذہبی فرقہ واریت یا، جمہوری عصبیت سے نکل کر پاکستان کے لئے سوچیں اور اپنی افواج اور ریاست کا ساتھ دیں ۔ پاکستان کے سب اندرونی اور بیرونی دشمن ایک ہو کر حملہ آور ہیں ۔ 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰 Pakistan Army Social media propaganda Countering disinformation National security Patriotism Public opinion Critical thinking Media literacy National unity پاکستانی افواج سوشل میڈیا پروپیگنڈہ غلط معلومات کا مقابلہ قومی سلامتی حب الوطنی عوامی رائے تنقیدی سوچ میڈیا کی خواندگی قومی اتحاد متوازن نظریہ جھوٹے الزامات قومی حوصلہ بین الاقوامی تعاون رائے عامہ کی تشکیل مسلح افواج کی حمایت ذمہ دارانہ سوشل میڈیا کا استعمال 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰

Pakistan social media viral

آج میں آپ کو صرف یہ مضمون دے رہا ہوں، برائے مہربانی اپنی عزت کریں۔

————————————————— چند روز قبل امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے ایشیا پیسیفک ریجن کے سابق چیئرمین راس فانگ نے فلسطینی اسرائیل تنازع کے موضوع پر چینی نیٹیزنز پر یہودیوں کے ساتھ ہمدردی نہ رکھنے کا الزام لگایا تھا جس نے سب کی بحث کو ہوا دی تھی۔ یہ دیکھنے کے بعد ایک نیٹیزن نے کلاسیکی کا حوالہ دیا اور ایک ہی سانس میں ایک طویل مضمون لکھ کر اس یہودی امریکی ریپبلکن رکن کو تاریخ کا سبق دیا۔ پھر، اس ریپبلکن نے اپنا تبصرہ خود ہی حذف کردیا۔ ★ چینی نیٹیزنز کی لڑائی کی طاقت کتنی مضبوط ہے؟ ہیلو مسٹر فینگ، جب میں نے نیٹیزن کو آپ کا جواب دیکھا تو میں بہت حیران اور غصے میں تھا۔ آپ کے اس بیان کے بارے میں کہ “اگر پوری دنیا دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کی مدد کرتی تو 60 لاکھ یہودی نہ مارے جاتے”، میں اس بات کی تردید کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کے لیے فلسطینیوں کے قتل عام کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ یہ بیان غلط ہے۔  کم از کم دوسری جنگ عظیم کے دوران، شنگھائی، چین، جو حملے کا شکار تھا، نے 50,000 سے زیادہ یہودیوں کو غیر مشروط طور پر قبول کیا۔ لیکن ان کی ادائیگی کا طریقہ جاپانیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنا اور شمال مشرقی چین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش کرنا تھا۔  یہ مشہور “پفر پلان” ہے۔  خوش قسمتی سے، منصوبہ آخر میں ناکام ہو گیا، اور ان کی انتہائی اچھی “کسان اور سانپ” کی کہانی چین میں کام نہیں کر سکی۔ اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ صرف دو ہفتے قبل اسرائیلی سفارت خانے کے عملے نے شنگھائی کی سڑکوں پر کیمرے کے سامنے کھلے عام دعویٰ کیا تھا کہ وہ فرانسیسی رعایت میں ہیں۔ بلاشبہ، جب بات چین اور یہودیوں کی ابتدا کی ہو تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے سونگ خاندان کے طور پر۔  یہودی ایک آوارہ قوم کے طور پر چین میں داخل ہوئے اور اس سرزمین پر بڑھتے بڑھتے بڑھتے گئے۔ قدیم چین کے امیر ترین خاندان کے طور پر، سونگ خاندان نے یہاں کافی منافع حاصل کیا۔ تاہم، اس عرصے کے دوران جب جنوبی سونگ خاندان تباہ ہو گیا تھا اور اس کی رعایا جنوب سے فرار ہو گئی تھی، پُ نامی ایک یہودی تاجر نے نجی فوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے جنوبی سونگ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کیا اور لاشوں کو اپنے ہتھیار ڈالنے کی علامت کے طور پر یوآن فوج کو بھیجا۔ کئی دہائیوں بعد، ژو یوان ژانگ نے یوآن خاندان کا تختہ الٹ کر منگ خاندان قائم کیا۔  ہان لوگوں نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا، لیکن یہودیوں سے حساب کتاب نہیں کیا۔ افیون کی جنگ بھی تھی۔  پیسہ کمانے کے لیے یہودی سوداگر ساسون خاندان نے چین کو افیون فروخت کی جس سے چینیوں کو شدید صدمہ پہنچا۔  آپ ایک طویل عرصے سے ایشیا میں مقیم ہیں اور اس سے ناواقف نہیں ہونا چاہیے۔ چینیوں نے کبھی بھی یہودیوں کے لیے چیزوں کو مشکل نہیں بنایا، کیونکہ چین نے تین ہزار سال پہلے ہی اخلاقی تعلیم کو قبول کرنا شروع کیا تھا۔ شانگ کی کتاب قدیم ترین موجودہ چینی کلاسک ہے، جو 10ویں صدی قبل مسیح میں، ٹھیک 3000 سال پہلے لکھی گئی تھی۔  اس وقت، آپ کو نام نہاد وعدہ شدہ زمین سے نکال کر اپنی آوارہ گردی کی زندگی شروع کرنی چاہیے تھی۔ اگر آپ اپنے ماضی سے واقف ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مصری آپ کو اپنے ساتھ لے گئے لیکن آپ نے کئی بار مصریوں کو دھوکہ دیا اور آخر کار فرعون کے ہاتھوں ذبح کر کے نکال دیا گیا۔ قدیم روم آپ کو اندر لے گیا اور یہاں تک کہ یہودیوں کے لیے گروہوں میں رہنے کے لیے ایک یہودی صوبہ قائم کیا، لیکن آپ نے بادشاہ ٹریجن کی مشرق کی طرف مہم کا فائدہ اٹھایا اور ملک کا دفاع بغاوت شروع کرنے کے لیے خالی تھا۔ چند محافظوں کو شکست دینے کے بعد، آپ نے درحقیقت عام شہریوں کو دیوانہ وار ذبح کیا، یہاں تک کہ کپڑے بنانے، ان کا گوشت کھانے، اور ان کی لاشوں کو جنگلی درندوں کو کھلانے کے لیے متاثرین کی کھال بھی اتار دی۔ قبرص، سلامیس اور لیبیا میں یہودیوں نے کل 220,000 شہریوں کا قتل عام کیا۔ یہودی شہریوں کے سامنے بہت ظالم تھے، لیکن غیر متوقع طور پر ٹریجن نے صرف دو لشکر واپس کیے اور یہودیوں کو ان کی اصلی شکل میں واپس کر دیا۔ ناراض رومی لشکروں نے بحیرہ روم کے مشرقی ساحل کے ساتھ میسوپوٹیمیا سے مصر تک تمام راستے قتل کر دیے اور اس علاقے میں رہنے والے یہودیوں کو تقریباً ختم کر دیا گیا۔ بعد ازاں یہودیوں نے دوبارہ بغاوت کی اور عیسائیوں کے خلاف چھریاں چلائیں اور مسیح پر ایمان رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی۔    لیکن بدقسمتی سے، ان کی ملاقات روم کے سب سے زیادہ عقلمند بادشاہوں میں سے ایک، ہیڈرین سے ہوئی، جس نے یہودیوں کے قتل عام کے لیے 120,000 لوگوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے ٹریجان کے زمانے کا سبق سیکھا، یہودی صوبے کو ختم کیا، یہودی لوگوں کو منتشر کیا، اور اس کے بعد سے یہودیوں نے باضابطہ طور پر دنیا میں جلاوطنی کی زندگی کا آغاز کیا۔ اور ٹائٹس، جس نے بعد میں یروشلم کا قتل عام کیا، صرف سابقہ دوسری ہیکل کی مغربی دیوار کو چھوڑ دیا۔  تب سے آپ کے لوگ یہاں روز روتے رہتے ہیں۔ ہزاروں سالوں سے یہودیوں نے ان گنت قتل و غارت گری اور بے دخلی برداشت کی اور ان گنت قوموں نے آپ سے ہمدردی کی لیکن آپ نے ان کا بدلہ ان گنت غداریوں سے ادا کیا۔ اس کے باوجود، آپ نے ہمیشہ تکبر سے یقین کیا ہے کہ آپ ایک اعلیٰ قوم ہیں اور خدا کے چنے ہوئے لوگ ہیں جو دوسروں سے برتر ہیں۔ آپ کبھی بھی ماضی کے اسباق پر غور نہیں کرتے اور ان کا خلاصہ نہیں کرتے، اور آپ کی ثقافت قدرتی طور پر تباہ کن، بدصورت، مخصوص اور دوسری قوموں کے خلاف ہے۔ تاہم یہ سب چین

Pakistan social media viral

آج میں آپ کو صرف یہ مضمون دے رہا ہوں، برائے مہربانی اپنی عزت کریں۔

————————————————— چند روز قبل امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے ایشیا پیسیفک ریجن کے سابق چیئرمین راس فانگ نے فلسطینی اسرائیل تنازع کے موضوع پر چینی نیٹیزنز پر یہودیوں کے ساتھ ہمدردی نہ رکھنے کا الزام لگایا تھا جس نے سب کی بحث کو ہوا دی تھی۔ یہ دیکھنے کے بعد ایک نیٹیزن نے کلاسیکی کا حوالہ دیا اور ایک ہی سانس میں ایک طویل مضمون لکھ کر اس یہودی امریکی ریپبلکن رکن کو تاریخ کا سبق دیا۔ پھر، اس ریپبلکن نے اپنا تبصرہ خود ہی حذف کردیا۔ ★ چینی نیٹیزنز کی لڑائی کی طاقت کتنی مضبوط ہے؟ ہیلو مسٹر فینگ، جب میں نے نیٹیزن کو آپ کا جواب دیکھا تو میں بہت حیران اور غصے میں تھا۔ آپ کے اس بیان کے بارے میں کہ “اگر پوری دنیا دوسری جنگ عظیم میں یہودیوں کی مدد کرتی تو 60 لاکھ یہودی نہ مارے جاتے”، میں اس بات کی تردید کرنا چاہتا ہوں کہ یہ آپ کے لیے فلسطینیوں کے قتل عام کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ یہ بیان غلط ہے۔  کم از کم دوسری جنگ عظیم کے دوران، شنگھائی، چین، جو حملے کا شکار تھا، نے 50,000 سے زیادہ یہودیوں کو غیر مشروط طور پر قبول کیا۔ لیکن ان کی ادائیگی کا طریقہ جاپانیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنا اور شمال مشرقی چین میں یہودی ریاست قائم کرنے کی کوشش کرنا تھا۔  یہ مشہور “پفر پلان” ہے۔  خوش قسمتی سے، منصوبہ آخر میں ناکام ہو گیا، اور ان کی انتہائی اچھی “کسان اور سانپ” کی کہانی چین میں کام نہیں کر سکی۔ اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ صرف دو ہفتے قبل اسرائیلی سفارت خانے کے عملے نے شنگھائی کی سڑکوں پر کیمرے کے سامنے کھلے عام دعویٰ کیا تھا کہ وہ فرانسیسی رعایت میں ہیں۔ بلاشبہ، جب بات چین اور یہودیوں کی ابتدا کی ہو تو اس سے کہیں زیادہ ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال پہلے سونگ خاندان کے طور پر۔  یہودی ایک آوارہ قوم کے طور پر چین میں داخل ہوئے اور اس سرزمین پر بڑھتے بڑھتے بڑھتے گئے۔ قدیم چین کے امیر ترین خاندان کے طور پر، سونگ خاندان نے یہاں کافی منافع حاصل کیا۔ تاہم، اس عرصے کے دوران جب جنوبی سونگ خاندان تباہ ہو گیا تھا اور اس کی رعایا جنوب سے فرار ہو گئی تھی، پُ نامی ایک یہودی تاجر نے نجی فوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے جنوبی سونگ کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کیا اور لاشوں کو اپنے ہتھیار ڈالنے کی علامت کے طور پر یوآن فوج کو بھیجا۔ کئی دہائیوں بعد، ژو یوان ژانگ نے یوآن خاندان کا تختہ الٹ کر منگ خاندان قائم کیا۔  ہان لوگوں نے دوبارہ اقتدار حاصل کیا، لیکن یہودیوں سے حساب کتاب نہیں کیا۔ افیون کی جنگ بھی تھی۔  پیسہ کمانے کے لیے یہودی سوداگر ساسون خاندان نے چین کو افیون فروخت کی جس سے چینیوں کو شدید صدمہ پہنچا۔  آپ ایک طویل عرصے سے ایشیا میں مقیم ہیں اور اس سے ناواقف نہیں ہونا چاہیے۔ چینیوں نے کبھی بھی یہودیوں کے لیے چیزوں کو مشکل نہیں بنایا، کیونکہ چین نے تین ہزار سال پہلے ہی اخلاقی تعلیم کو قبول کرنا شروع کیا تھا۔ شانگ کی کتاب قدیم ترین موجودہ چینی کلاسک ہے، جو 10ویں صدی قبل مسیح میں، ٹھیک 3000 سال پہلے لکھی گئی تھی۔  اس وقت، آپ کو نام نہاد وعدہ شدہ زمین سے نکال کر اپنی آوارہ گردی کی زندگی شروع کرنی چاہیے تھی۔ اگر آپ اپنے ماضی سے واقف ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ مصری آپ کو اپنے ساتھ لے گئے لیکن آپ نے کئی بار مصریوں کو دھوکہ دیا اور آخر کار فرعون کے ہاتھوں ذبح کر کے نکال دیا گیا۔ قدیم روم آپ کو اندر لے گیا اور یہاں تک کہ یہودیوں کے لیے گروہوں میں رہنے کے لیے ایک یہودی صوبہ قائم کیا، لیکن آپ نے بادشاہ ٹریجن کی مشرق کی طرف مہم کا فائدہ اٹھایا اور ملک کا دفاع بغاوت شروع کرنے کے لیے خالی تھا۔ چند محافظوں کو شکست دینے کے بعد، آپ نے درحقیقت عام شہریوں کو دیوانہ وار ذبح کیا، یہاں تک کہ کپڑے بنانے، ان کا گوشت کھانے، اور ان کی لاشوں کو جنگلی درندوں کو کھلانے کے لیے متاثرین کی کھال بھی اتار دی۔ قبرص، سلامیس اور لیبیا میں یہودیوں نے کل 220,000 شہریوں کا قتل عام کیا۔ یہودی شہریوں کے سامنے بہت ظالم تھے، لیکن غیر متوقع طور پر ٹریجن نے صرف دو لشکر واپس کیے اور یہودیوں کو ان کی اصلی شکل میں واپس کر دیا۔ ناراض رومی لشکروں نے بحیرہ روم کے مشرقی ساحل کے ساتھ میسوپوٹیمیا سے مصر تک تمام راستے قتل کر دیے اور اس علاقے میں رہنے والے یہودیوں کو تقریباً ختم کر دیا گیا۔ بعد ازاں یہودیوں نے دوبارہ بغاوت کی اور عیسائیوں کے خلاف چھریاں چلائیں اور مسیح پر ایمان رکھنے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی۔    لیکن بدقسمتی سے، ان کی ملاقات روم کے سب سے زیادہ عقلمند بادشاہوں میں سے ایک، ہیڈرین سے ہوئی، جس نے یہودیوں کے قتل عام کے لیے 120,000 لوگوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے ٹریجان کے زمانے کا سبق سیکھا، یہودی صوبے کو ختم کیا، یہودی لوگوں کو منتشر کیا، اور اس کے بعد سے یہودیوں نے باضابطہ طور پر دنیا میں جلاوطنی کی زندگی کا آغاز کیا۔ اور ٹائٹس، جس نے بعد میں یروشلم کا قتل عام کیا، صرف سابقہ دوسری ہیکل کی مغربی دیوار کو چھوڑ دیا۔  تب سے آپ کے لوگ یہاں روز روتے رہتے ہیں۔ ہزاروں سالوں سے یہودیوں نے ان گنت قتل و غارت گری اور بے دخلی برداشت کی اور ان گنت قوموں نے آپ سے ہمدردی کی لیکن آپ نے ان کا بدلہ ان گنت غداریوں سے ادا کیا۔ اس کے باوجود، آپ نے ہمیشہ تکبر سے یقین کیا ہے کہ آپ ایک اعلیٰ قوم ہیں اور خدا کے چنے ہوئے لوگ ہیں جو دوسروں سے برتر ہیں۔ آپ کبھی بھی ماضی کے اسباق پر غور نہیں کرتے اور ان کا خلاصہ نہیں کرتے، اور آپ کی ثقافت قدرتی طور پر تباہ کن، بدصورت، مخصوص اور دوسری قوموں کے خلاف ہے۔ تاہم یہ سب چین

Scroll to Top