صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

بھارتی جنگی جنون اور عالمی طاقتوں کا مُتوقع رسپانس (حصہ اول ۔ امریکہ)

میجر (ر) ساجد مسعود صادق پہلگام واقعہ کے بعد  اگرچہ ہر محاذ پر پاکستان کو  بھارت پر اخلاقی برتری حاصل ہے لیکن بین الاقوامی سیاسیات کی اپنی ہی اخلاقیات ہیں جن میں مُلکی مُفاد سرفہرست رہتا ہے۔  پاکستان ارباب اختیار بالخصوص “ہندواتہ جنون” کا مقابلہ کرنے کے لیئے کچھ زمینی حقائق اور عالمی طاقتوں بالخصوص چین و امریکہ اور اسلامی دُنیا کے اہم ممالک کے رویے کو  پاک بھارت کشیدگی کے مواقع پر  ذہن نشین رکھنا ہوگا۔ جہاں تک امریکہ کی بات کی جائے تو  جنوب ایشیائی سیاست کا ماہر امریکی مُفکر اسٹیفن کوہن اپنی کتاب  Shooting The India-Pakistan Conundrum For a Century کے صفحہ  177پر لکھتا ہے کہ جنوبی ایشیاء  میں پاک بھارت تعقات پر امریکی  فارن پالیسی اور ترجیحات  جسے  De-hyphenation  (جس میں بھارت امریکہ کے لیئے پاکستان سے اہم ہے)  کا نام دیا گیا ہے یہ صدر ریگن کے دور میں شروع ہوئی، کلنٹن نے اسے پاک بھارت  ایٹمی دھماکوں کے مطابق ایڈجسٹ کیا، بُش جونئیر نے اسے نام دیا اور  صدر اوباما نے اس پر عمل کیا اور اوباما نے اپنے  دور میں  پاکستان اور بھارت کیساتھ جو رویہ رکھا اس کے مطابق پاکستان کو دُشمن اور بھارت کو “قدرتی اتحادی” کے طور پر ٹریٹ کیا گیا۔ پہلگام واقعہ  کو بُنیاد بناکر  مُودی سرکار میں   “ہندو جُنونی وار مونگرز گروپ” نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا ہے وہ کسی عقلی اور شعوری لحاظ سے ناصرف حیران کُن ہے بلکہ عالمی امن کے لیئے انتہائی خطرناک ہے اور اس جنون کو اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ محض بھارتی منصوبہ سازی ہے تو ایسا سمجھنا  مُودی کی پُشت  پناہ مغربی طاقتوں  بالخصوص امریکہ کے بارے میں  شاید ایک غلط تجزیہ ہوگا کیونکہ بھارت امریکہ کا جنوبی ایشیاء میں وہ مہرہ ہے جس  پر امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ کے دوران بڑی انویسٹمنٹ کی ہے اور بھارت سے امریکہ  کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے جس کی تفاصیل  سے معروف مُفکروں کی  کتابیں بھری پڑی ہیں۔ امریکی مُفکر ڈینئیل مرکی اپنی معروف  کتاب No Exit from Pakistan, America’s Tortured Relationship with Islamabad کے صفحہ 276 پر لکھتا ہے کہ پاکستان سے  امریکی مفادات کو خطرات سے بچنے  کے لیئے امریکہ معاشی، عسکری، ڈپلومیٹک پالیسیوں  اور بھارت کیساتھ ملکر پاکستان کے گرد ایک مضبوط  باڑ بنا دے جس سے پاکستان باہر نہ نکل سکے۔ اسی طرح وہ صفحہ 144پر لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی پر ایک دن “آرماجدون” ہوکر رہے گا۔ ایکس سی آئی افسر بروس رڈل (جس نے پوری افغان روس جنگ میں افغانستان میں کام کیا اور صدر اوباما کا مشیر) اپنی کتاب Deadly Embrace Pakistan, America, and the Future of the Global Jihad کے صفحہ 114پر لکھتا ہے کہ “امریکہ (امریکی افواج)  کو پاکستان کے خلاف یک طرفہ کاروائی کے لیئے تیار رہنا چاہیئے۔” بروس رڈل اپنی دوسری کتاب Avoiding Armageddon: America, India, and Pakistan to the Brink and Back کے صفحہ  100پر لکھتا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں تمام تر ناکامی کی ذمہ دار پاک فوج اور آئی ایس آئی ہیں اور صفحہ  178پر  وہ لکھتا ہے کہ “پاکستان بھارت اور امریکہ کے لیئے مُشترکہ پرابلم” ہے۔ ان  مذکورہ کتابوں کے علاوہ ایک بڑے امریکی تھنک ٹینک کی مشہور  ومعروف رپورٹ Independent Task Force Report No. 65 جس کو Strategy for Pakistan and Afghanistan” کا نام دیا گیا ہے میں امریکہ مُستقبل میں پاکستان کو کیسے ہینڈل کرے گا  بڑی تفصیل سے بیا ن کیا گیا ہے۔ امریکی مُفکروں کا بس نہیں چلتا کہ وہ پاکستان کو کس طرح دُنیا کے نقشے سے مٹائیں یا پاکستان کو کس طرح چین سے دور کریں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ماضی میں جس طرح پاکستان نے چین اور روس اتحاد میں امریکہ کے کہنے پر رخنہ ڈالا اب پاکستان ہرگز یہ نہیں کرنے والا۔ گرینڈ اسٹرٹیجی میں بین الاقوامی پارٹنرز سے جو توقعات ہوتی ہیں ان میں غلطی ہمیشہ جنگ میں ناکامی کا باعث بن جایا کرتی ہے پاکستان  اس تجربے سے ایک بار نہیں دوبار  1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں گُذر چُکا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اخلاقیات کی بجائے مُفاد ترجیح اول ہوتا ہے اور اسی مُفاد کی خاطر امریکہ پاکستان کو کئی بار دھوکہ دے چُکا ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ جب چین امریکہ “ٹریڈ وار” کے بعد ممکنہ فوجی ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں ایسے میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ بھارت اور پاکستان ان دونوں ممالک کے لیئے پراکسی اسٹیٹس کا رول کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان بھارت سے جنگ نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکی مُفادات یا بھارتی  طاقت کے زعم میں  مُبتلا بھارتی حکمرانوں کے جنونی گروپ کی پاکستان کو دبانے کی ازلی پالیسی کی وجہ سے بھارت سے پاکستان جو  جنگ لڑنی پڑ سکتی ہے۔ اور یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ ایک طرف بھارت خطے میں اپنی بدمعاشی منوانے کی ہرممکنہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی طرح اس بھارتی جنگی جنون سے مغربی دُنیا بالخصوص اسرائیل اور امریکہ فائد اٹھا کر اس خطے جنگ کی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔   امریکی مُفکر کبھی پاکستان کو باندھ کر مارنے، تو کبھی بھارت کیساتھ ملکر توڑنے کی بات کرتے ہیں  جیسے اسٹیفن کوہن نے آج سے بیس سال پہلے  پیش گوئی کی  کہ پاکستان  30 سالوں بعد دُنیا کے نقشے سے مِٹ جائے گا۔  امریکی ترجیحات اور مُفادپرستی کی فارن پالیسی اور پاک امریکہ تعلقات سب پاکستانی ارباب اختیار کے سامنے ہیں۔ چین کو سن 1962ء میں دلائی لامہ کے ذریعے بھارت میں کھینچنا اور روس کو افغانستان میں کھینچنا یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ اسی طرح صدر ایوب، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، جنرل مُشرف، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کے ساتھ امریکی ڈیلنگ بھی سب پاکستانی موجودہ حکمرانوں کے سامنے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے لیئے پاکستان کوئی ڈائریکٹ خطرہ نہ ہو لیکن اُس کی پالیسیوں اور اُس کے بغل بچے “اسرائیل”  اور چین کے خلاف “قدرتی اتحادی” بھارت کے لیئے یقینا پاکستان ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس لیئے پاکستان کو  بھارت سے ٹکراؤ کی صورت میں امریکہ سے کسی بھی قسم کی ڈپلومیٹک۔ عسکری یا اخلاقی حمایت کو دل سے مکمل

صحافی کے قلم سے

بھارتی جنگی جنون اور عالمی طاقتوں کا مُتوقع رسپانس (حصہ اول ۔ امریکہ)

میجر (ر) ساجد مسعود صادق پہلگام واقعہ کے بعد  اگرچہ ہر محاذ پر پاکستان کو  بھارت پر اخلاقی برتری حاصل ہے لیکن بین الاقوامی سیاسیات کی اپنی ہی اخلاقیات ہیں جن میں مُلکی مُفاد سرفہرست رہتا ہے۔  پاکستان ارباب اختیار بالخصوص “ہندواتہ جنون” کا مقابلہ کرنے کے لیئے کچھ زمینی حقائق اور عالمی طاقتوں بالخصوص چین و امریکہ اور اسلامی دُنیا کے اہم ممالک کے رویے کو  پاک بھارت کشیدگی کے مواقع پر  ذہن نشین رکھنا ہوگا۔ جہاں تک امریکہ کی بات کی جائے تو  جنوب ایشیائی سیاست کا ماہر امریکی مُفکر اسٹیفن کوہن اپنی کتاب  Shooting The India-Pakistan Conundrum For a Century کے صفحہ  177پر لکھتا ہے کہ جنوبی ایشیاء  میں پاک بھارت تعقات پر امریکی  فارن پالیسی اور ترجیحات  جسے  De-hyphenation  (جس میں بھارت امریکہ کے لیئے پاکستان سے اہم ہے)  کا نام دیا گیا ہے یہ صدر ریگن کے دور میں شروع ہوئی، کلنٹن نے اسے پاک بھارت  ایٹمی دھماکوں کے مطابق ایڈجسٹ کیا، بُش جونئیر نے اسے نام دیا اور  صدر اوباما نے اس پر عمل کیا اور اوباما نے اپنے  دور میں  پاکستان اور بھارت کیساتھ جو رویہ رکھا اس کے مطابق پاکستان کو دُشمن اور بھارت کو “قدرتی اتحادی” کے طور پر ٹریٹ کیا گیا۔ پہلگام واقعہ  کو بُنیاد بناکر  مُودی سرکار میں   “ہندو جُنونی وار مونگرز گروپ” نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا ہے وہ کسی عقلی اور شعوری لحاظ سے ناصرف حیران کُن ہے بلکہ عالمی امن کے لیئے انتہائی خطرناک ہے اور اس جنون کو اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ محض بھارتی منصوبہ سازی ہے تو ایسا سمجھنا  مُودی کی پُشت  پناہ مغربی طاقتوں  بالخصوص امریکہ کے بارے میں  شاید ایک غلط تجزیہ ہوگا کیونکہ بھارت امریکہ کا جنوبی ایشیاء میں وہ مہرہ ہے جس  پر امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ کے دوران بڑی انویسٹمنٹ کی ہے اور بھارت سے امریکہ  کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے جس کی تفاصیل  سے معروف مُفکروں کی  کتابیں بھری پڑی ہیں۔ امریکی مُفکر ڈینئیل مرکی اپنی معروف  کتاب No Exit from Pakistan, America’s Tortured Relationship with Islamabad کے صفحہ 276 پر لکھتا ہے کہ پاکستان سے  امریکی مفادات کو خطرات سے بچنے  کے لیئے امریکہ معاشی، عسکری، ڈپلومیٹک پالیسیوں  اور بھارت کیساتھ ملکر پاکستان کے گرد ایک مضبوط  باڑ بنا دے جس سے پاکستان باہر نہ نکل سکے۔ اسی طرح وہ صفحہ 144پر لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی پر ایک دن “آرماجدون” ہوکر رہے گا۔ ایکس سی آئی افسر بروس رڈل (جس نے پوری افغان روس جنگ میں افغانستان میں کام کیا اور صدر اوباما کا مشیر) اپنی کتاب Deadly Embrace Pakistan, America, and the Future of the Global Jihad کے صفحہ 114پر لکھتا ہے کہ “امریکہ (امریکی افواج)  کو پاکستان کے خلاف یک طرفہ کاروائی کے لیئے تیار رہنا چاہیئے۔” بروس رڈل اپنی دوسری کتاب Avoiding Armageddon: America, India, and Pakistan to the Brink and Back کے صفحہ  100پر لکھتا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں تمام تر ناکامی کی ذمہ دار پاک فوج اور آئی ایس آئی ہیں اور صفحہ  178پر  وہ لکھتا ہے کہ “پاکستان بھارت اور امریکہ کے لیئے مُشترکہ پرابلم” ہے۔ ان  مذکورہ کتابوں کے علاوہ ایک بڑے امریکی تھنک ٹینک کی مشہور  ومعروف رپورٹ Independent Task Force Report No. 65 جس کو Strategy for Pakistan and Afghanistan” کا نام دیا گیا ہے میں امریکہ مُستقبل میں پاکستان کو کیسے ہینڈل کرے گا  بڑی تفصیل سے بیا ن کیا گیا ہے۔ امریکی مُفکروں کا بس نہیں چلتا کہ وہ پاکستان کو کس طرح دُنیا کے نقشے سے مٹائیں یا پاکستان کو کس طرح چین سے دور کریں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ماضی میں جس طرح پاکستان نے چین اور روس اتحاد میں امریکہ کے کہنے پر رخنہ ڈالا اب پاکستان ہرگز یہ نہیں کرنے والا۔ گرینڈ اسٹرٹیجی میں بین الاقوامی پارٹنرز سے جو توقعات ہوتی ہیں ان میں غلطی ہمیشہ جنگ میں ناکامی کا باعث بن جایا کرتی ہے پاکستان  اس تجربے سے ایک بار نہیں دوبار  1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں گُذر چُکا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اخلاقیات کی بجائے مُفاد ترجیح اول ہوتا ہے اور اسی مُفاد کی خاطر امریکہ پاکستان کو کئی بار دھوکہ دے چُکا ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ جب چین امریکہ “ٹریڈ وار” کے بعد ممکنہ فوجی ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں ایسے میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ بھارت اور پاکستان ان دونوں ممالک کے لیئے پراکسی اسٹیٹس کا رول کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان بھارت سے جنگ نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکی مُفادات یا بھارتی  طاقت کے زعم میں  مُبتلا بھارتی حکمرانوں کے جنونی گروپ کی پاکستان کو دبانے کی ازلی پالیسی کی وجہ سے بھارت سے پاکستان جو  جنگ لڑنی پڑ سکتی ہے۔ اور یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ ایک طرف بھارت خطے میں اپنی بدمعاشی منوانے کی ہرممکنہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی طرح اس بھارتی جنگی جنون سے مغربی دُنیا بالخصوص اسرائیل اور امریکہ فائد اٹھا کر اس خطے جنگ کی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔   امریکی مُفکر کبھی پاکستان کو باندھ کر مارنے، تو کبھی بھارت کیساتھ ملکر توڑنے کی بات کرتے ہیں  جیسے اسٹیفن کوہن نے آج سے بیس سال پہلے  پیش گوئی کی  کہ پاکستان  30 سالوں بعد دُنیا کے نقشے سے مِٹ جائے گا۔  امریکی ترجیحات اور مُفادپرستی کی فارن پالیسی اور پاک امریکہ تعلقات سب پاکستانی ارباب اختیار کے سامنے ہیں۔ چین کو سن 1962ء میں دلائی لامہ کے ذریعے بھارت میں کھینچنا اور روس کو افغانستان میں کھینچنا یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ اسی طرح صدر ایوب، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، جنرل مُشرف، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کے ساتھ امریکی ڈیلنگ بھی سب پاکستانی موجودہ حکمرانوں کے سامنے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے لیئے پاکستان کوئی ڈائریکٹ خطرہ نہ ہو لیکن اُس کی پالیسیوں اور اُس کے بغل بچے “اسرائیل”  اور چین کے خلاف “قدرتی اتحادی” بھارت کے لیئے یقینا پاکستان ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس لیئے پاکستان کو  بھارت سے ٹکراؤ کی صورت میں امریکہ سے کسی بھی قسم کی ڈپلومیٹک۔ عسکری یا اخلاقی حمایت کو دل سے مکمل

صحافی کے قلم سے

بھارتی جنگی جنون اور عالمی طاقتوں کا مُتوقع رسپانس (حصہ اول ۔ امریکہ)

میجر (ر) ساجد مسعود صادق پہلگام واقعہ کے بعد  اگرچہ ہر محاذ پر پاکستان کو  بھارت پر اخلاقی برتری حاصل ہے لیکن بین الاقوامی سیاسیات کی اپنی ہی اخلاقیات ہیں جن میں مُلکی مُفاد سرفہرست رہتا ہے۔  پاکستان ارباب اختیار بالخصوص “ہندواتہ جنون” کا مقابلہ کرنے کے لیئے کچھ زمینی حقائق اور عالمی طاقتوں بالخصوص چین و امریکہ اور اسلامی دُنیا کے اہم ممالک کے رویے کو  پاک بھارت کشیدگی کے مواقع پر  ذہن نشین رکھنا ہوگا۔ جہاں تک امریکہ کی بات کی جائے تو  جنوب ایشیائی سیاست کا ماہر امریکی مُفکر اسٹیفن کوہن اپنی کتاب  Shooting The India-Pakistan Conundrum For a Century کے صفحہ  177پر لکھتا ہے کہ جنوبی ایشیاء  میں پاک بھارت تعقات پر امریکی  فارن پالیسی اور ترجیحات  جسے  De-hyphenation  (جس میں بھارت امریکہ کے لیئے پاکستان سے اہم ہے)  کا نام دیا گیا ہے یہ صدر ریگن کے دور میں شروع ہوئی، کلنٹن نے اسے پاک بھارت  ایٹمی دھماکوں کے مطابق ایڈجسٹ کیا، بُش جونئیر نے اسے نام دیا اور  صدر اوباما نے اس پر عمل کیا اور اوباما نے اپنے  دور میں  پاکستان اور بھارت کیساتھ جو رویہ رکھا اس کے مطابق پاکستان کو دُشمن اور بھارت کو “قدرتی اتحادی” کے طور پر ٹریٹ کیا گیا۔ پہلگام واقعہ  کو بُنیاد بناکر  مُودی سرکار میں   “ہندو جُنونی وار مونگرز گروپ” نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا ہے وہ کسی عقلی اور شعوری لحاظ سے ناصرف حیران کُن ہے بلکہ عالمی امن کے لیئے انتہائی خطرناک ہے اور اس جنون کو اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ محض بھارتی منصوبہ سازی ہے تو ایسا سمجھنا  مُودی کی پُشت  پناہ مغربی طاقتوں  بالخصوص امریکہ کے بارے میں  شاید ایک غلط تجزیہ ہوگا کیونکہ بھارت امریکہ کا جنوبی ایشیاء میں وہ مہرہ ہے جس  پر امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ کے دوران بڑی انویسٹمنٹ کی ہے اور بھارت سے امریکہ  کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے جس کی تفاصیل  سے معروف مُفکروں کی  کتابیں بھری پڑی ہیں۔ امریکی مُفکر ڈینئیل مرکی اپنی معروف  کتاب No Exit from Pakistan, America’s Tortured Relationship with Islamabad کے صفحہ 276 پر لکھتا ہے کہ پاکستان سے  امریکی مفادات کو خطرات سے بچنے  کے لیئے امریکہ معاشی، عسکری، ڈپلومیٹک پالیسیوں  اور بھارت کیساتھ ملکر پاکستان کے گرد ایک مضبوط  باڑ بنا دے جس سے پاکستان باہر نہ نکل سکے۔ اسی طرح وہ صفحہ 144پر لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی پر ایک دن “آرماجدون” ہوکر رہے گا۔ ایکس سی آئی افسر بروس رڈل (جس نے پوری افغان روس جنگ میں افغانستان میں کام کیا اور صدر اوباما کا مشیر) اپنی کتاب Deadly Embrace Pakistan, America, and the Future of the Global Jihad کے صفحہ 114پر لکھتا ہے کہ “امریکہ (امریکی افواج)  کو پاکستان کے خلاف یک طرفہ کاروائی کے لیئے تیار رہنا چاہیئے۔” بروس رڈل اپنی دوسری کتاب Avoiding Armageddon: America, India, and Pakistan to the Brink and Back کے صفحہ  100پر لکھتا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں تمام تر ناکامی کی ذمہ دار پاک فوج اور آئی ایس آئی ہیں اور صفحہ  178پر  وہ لکھتا ہے کہ “پاکستان بھارت اور امریکہ کے لیئے مُشترکہ پرابلم” ہے۔ ان  مذکورہ کتابوں کے علاوہ ایک بڑے امریکی تھنک ٹینک کی مشہور  ومعروف رپورٹ Independent Task Force Report No. 65 جس کو Strategy for Pakistan and Afghanistan” کا نام دیا گیا ہے میں امریکہ مُستقبل میں پاکستان کو کیسے ہینڈل کرے گا  بڑی تفصیل سے بیا ن کیا گیا ہے۔ امریکی مُفکروں کا بس نہیں چلتا کہ وہ پاکستان کو کس طرح دُنیا کے نقشے سے مٹائیں یا پاکستان کو کس طرح چین سے دور کریں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ماضی میں جس طرح پاکستان نے چین اور روس اتحاد میں امریکہ کے کہنے پر رخنہ ڈالا اب پاکستان ہرگز یہ نہیں کرنے والا۔ گرینڈ اسٹرٹیجی میں بین الاقوامی پارٹنرز سے جو توقعات ہوتی ہیں ان میں غلطی ہمیشہ جنگ میں ناکامی کا باعث بن جایا کرتی ہے پاکستان  اس تجربے سے ایک بار نہیں دوبار  1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں گُذر چُکا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اخلاقیات کی بجائے مُفاد ترجیح اول ہوتا ہے اور اسی مُفاد کی خاطر امریکہ پاکستان کو کئی بار دھوکہ دے چُکا ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ جب چین امریکہ “ٹریڈ وار” کے بعد ممکنہ فوجی ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں ایسے میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ بھارت اور پاکستان ان دونوں ممالک کے لیئے پراکسی اسٹیٹس کا رول کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان بھارت سے جنگ نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکی مُفادات یا بھارتی  طاقت کے زعم میں  مُبتلا بھارتی حکمرانوں کے جنونی گروپ کی پاکستان کو دبانے کی ازلی پالیسی کی وجہ سے بھارت سے پاکستان جو  جنگ لڑنی پڑ سکتی ہے۔ اور یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ ایک طرف بھارت خطے میں اپنی بدمعاشی منوانے کی ہرممکنہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی طرح اس بھارتی جنگی جنون سے مغربی دُنیا بالخصوص اسرائیل اور امریکہ فائد اٹھا کر اس خطے جنگ کی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔   امریکی مُفکر کبھی پاکستان کو باندھ کر مارنے، تو کبھی بھارت کیساتھ ملکر توڑنے کی بات کرتے ہیں  جیسے اسٹیفن کوہن نے آج سے بیس سال پہلے  پیش گوئی کی  کہ پاکستان  30 سالوں بعد دُنیا کے نقشے سے مِٹ جائے گا۔  امریکی ترجیحات اور مُفادپرستی کی فارن پالیسی اور پاک امریکہ تعلقات سب پاکستانی ارباب اختیار کے سامنے ہیں۔ چین کو سن 1962ء میں دلائی لامہ کے ذریعے بھارت میں کھینچنا اور روس کو افغانستان میں کھینچنا یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ اسی طرح صدر ایوب، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، جنرل مُشرف، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کے ساتھ امریکی ڈیلنگ بھی سب پاکستانی موجودہ حکمرانوں کے سامنے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے لیئے پاکستان کوئی ڈائریکٹ خطرہ نہ ہو لیکن اُس کی پالیسیوں اور اُس کے بغل بچے “اسرائیل”  اور چین کے خلاف “قدرتی اتحادی” بھارت کے لیئے یقینا پاکستان ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس لیئے پاکستان کو  بھارت سے ٹکراؤ کی صورت میں امریکہ سے کسی بھی قسم کی ڈپلومیٹک۔ عسکری یا اخلاقی حمایت کو دل سے مکمل

صحافی کے قلم سے

بھارتی جنگی جنون اور عالمی طاقتوں کا مُتوقع رسپانس (حصہ اول ۔ امریکہ)

میجر (ر) ساجد مسعود صادق پہلگام واقعہ کے بعد  اگرچہ ہر محاذ پر پاکستان کو  بھارت پر اخلاقی برتری حاصل ہے لیکن بین الاقوامی سیاسیات کی اپنی ہی اخلاقیات ہیں جن میں مُلکی مُفاد سرفہرست رہتا ہے۔  پاکستان ارباب اختیار بالخصوص “ہندواتہ جنون” کا مقابلہ کرنے کے لیئے کچھ زمینی حقائق اور عالمی طاقتوں بالخصوص چین و امریکہ اور اسلامی دُنیا کے اہم ممالک کے رویے کو  پاک بھارت کشیدگی کے مواقع پر  ذہن نشین رکھنا ہوگا۔ جہاں تک امریکہ کی بات کی جائے تو  جنوب ایشیائی سیاست کا ماہر امریکی مُفکر اسٹیفن کوہن اپنی کتاب  Shooting The India-Pakistan Conundrum For a Century کے صفحہ  177پر لکھتا ہے کہ جنوبی ایشیاء  میں پاک بھارت تعقات پر امریکی  فارن پالیسی اور ترجیحات  جسے  De-hyphenation  (جس میں بھارت امریکہ کے لیئے پاکستان سے اہم ہے)  کا نام دیا گیا ہے یہ صدر ریگن کے دور میں شروع ہوئی، کلنٹن نے اسے پاک بھارت  ایٹمی دھماکوں کے مطابق ایڈجسٹ کیا، بُش جونئیر نے اسے نام دیا اور  صدر اوباما نے اس پر عمل کیا اور اوباما نے اپنے  دور میں  پاکستان اور بھارت کیساتھ جو رویہ رکھا اس کے مطابق پاکستان کو دُشمن اور بھارت کو “قدرتی اتحادی” کے طور پر ٹریٹ کیا گیا۔ پہلگام واقعہ  کو بُنیاد بناکر  مُودی سرکار میں   “ہندو جُنونی وار مونگرز گروپ” نے جس طرح آسمان سر پر اٹھایا ہے وہ کسی عقلی اور شعوری لحاظ سے ناصرف حیران کُن ہے بلکہ عالمی امن کے لیئے انتہائی خطرناک ہے اور اس جنون کو اگر یہ سمجھا جائے کہ یہ محض بھارتی منصوبہ سازی ہے تو ایسا سمجھنا  مُودی کی پُشت  پناہ مغربی طاقتوں  بالخصوص امریکہ کے بارے میں  شاید ایک غلط تجزیہ ہوگا کیونکہ بھارت امریکہ کا جنوبی ایشیاء میں وہ مہرہ ہے جس  پر امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ کے دوران بڑی انویسٹمنٹ کی ہے اور بھارت سے امریکہ  کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے جس کی تفاصیل  سے معروف مُفکروں کی  کتابیں بھری پڑی ہیں۔ امریکی مُفکر ڈینئیل مرکی اپنی معروف  کتاب No Exit from Pakistan, America’s Tortured Relationship with Islamabad کے صفحہ 276 پر لکھتا ہے کہ پاکستان سے  امریکی مفادات کو خطرات سے بچنے  کے لیئے امریکہ معاشی، عسکری، ڈپلومیٹک پالیسیوں  اور بھارت کیساتھ ملکر پاکستان کے گرد ایک مضبوط  باڑ بنا دے جس سے پاکستان باہر نہ نکل سکے۔ اسی طرح وہ صفحہ 144پر لکھتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی پر ایک دن “آرماجدون” ہوکر رہے گا۔ ایکس سی آئی افسر بروس رڈل (جس نے پوری افغان روس جنگ میں افغانستان میں کام کیا اور صدر اوباما کا مشیر) اپنی کتاب Deadly Embrace Pakistan, America, and the Future of the Global Jihad کے صفحہ 114پر لکھتا ہے کہ “امریکہ (امریکی افواج)  کو پاکستان کے خلاف یک طرفہ کاروائی کے لیئے تیار رہنا چاہیئے۔” بروس رڈل اپنی دوسری کتاب Avoiding Armageddon: America, India, and Pakistan to the Brink and Back کے صفحہ  100پر لکھتا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں تمام تر ناکامی کی ذمہ دار پاک فوج اور آئی ایس آئی ہیں اور صفحہ  178پر  وہ لکھتا ہے کہ “پاکستان بھارت اور امریکہ کے لیئے مُشترکہ پرابلم” ہے۔ ان  مذکورہ کتابوں کے علاوہ ایک بڑے امریکی تھنک ٹینک کی مشہور  ومعروف رپورٹ Independent Task Force Report No. 65 جس کو Strategy for Pakistan and Afghanistan” کا نام دیا گیا ہے میں امریکہ مُستقبل میں پاکستان کو کیسے ہینڈل کرے گا  بڑی تفصیل سے بیا ن کیا گیا ہے۔ امریکی مُفکروں کا بس نہیں چلتا کہ وہ پاکستان کو کس طرح دُنیا کے نقشے سے مٹائیں یا پاکستان کو کس طرح چین سے دور کریں کیونکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ ماضی میں جس طرح پاکستان نے چین اور روس اتحاد میں امریکہ کے کہنے پر رخنہ ڈالا اب پاکستان ہرگز یہ نہیں کرنے والا۔ گرینڈ اسٹرٹیجی میں بین الاقوامی پارٹنرز سے جو توقعات ہوتی ہیں ان میں غلطی ہمیشہ جنگ میں ناکامی کا باعث بن جایا کرتی ہے پاکستان  اس تجربے سے ایک بار نہیں دوبار  1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں گُذر چُکا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں اخلاقیات کی بجائے مُفاد ترجیح اول ہوتا ہے اور اسی مُفاد کی خاطر امریکہ پاکستان کو کئی بار دھوکہ دے چُکا ہے۔ یہ مناسب وقت ہے کہ جب چین امریکہ “ٹریڈ وار” کے بعد ممکنہ فوجی ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں ایسے میں یہ بات بھی ذہن نشین رہنا چاہیئے کہ بھارت اور پاکستان ان دونوں ممالک کے لیئے پراکسی اسٹیٹس کا رول کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان بھارت سے جنگ نہیں کرنا چاہتا لیکن امریکی مُفادات یا بھارتی  طاقت کے زعم میں  مُبتلا بھارتی حکمرانوں کے جنونی گروپ کی پاکستان کو دبانے کی ازلی پالیسی کی وجہ سے بھارت سے پاکستان جو  جنگ لڑنی پڑ سکتی ہے۔ اور یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ ایک طرف بھارت خطے میں اپنی بدمعاشی منوانے کی ہرممکنہ کوششوں میں مصروف ہے اور اسی طرح اس بھارتی جنگی جنون سے مغربی دُنیا بالخصوص اسرائیل اور امریکہ فائد اٹھا کر اس خطے جنگ کی آگ میں جھونک سکتے ہیں۔   امریکی مُفکر کبھی پاکستان کو باندھ کر مارنے، تو کبھی بھارت کیساتھ ملکر توڑنے کی بات کرتے ہیں  جیسے اسٹیفن کوہن نے آج سے بیس سال پہلے  پیش گوئی کی  کہ پاکستان  30 سالوں بعد دُنیا کے نقشے سے مِٹ جائے گا۔  امریکی ترجیحات اور مُفادپرستی کی فارن پالیسی اور پاک امریکہ تعلقات سب پاکستانی ارباب اختیار کے سامنے ہیں۔ چین کو سن 1962ء میں دلائی لامہ کے ذریعے بھارت میں کھینچنا اور روس کو افغانستان میں کھینچنا یہ سب تاریخ کا حصہ ہے۔ اسی طرح صدر ایوب، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق، جنرل مُشرف، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے ادوار میں پاکستان کے ساتھ امریکی ڈیلنگ بھی سب پاکستانی موجودہ حکمرانوں کے سامنے ہے۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کے لیئے پاکستان کوئی ڈائریکٹ خطرہ نہ ہو لیکن اُس کی پالیسیوں اور اُس کے بغل بچے “اسرائیل”  اور چین کے خلاف “قدرتی اتحادی” بھارت کے لیئے یقینا پاکستان ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس لیئے پاکستان کو  بھارت سے ٹکراؤ کی صورت میں امریکہ سے کسی بھی قسم کی ڈپلومیٹک۔ عسکری یا اخلاقی حمایت کو دل سے مکمل

صحافی کے قلم سے

دو قومی نظریے کااحیاء و اہمیت اور آرمی چیف کی تقاریر

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق قائد اعظم کے  بعد جس طرح دو قومی  نظریے اور ریاست پاکستان کے قیام کا  مقصد کُھلے لفظوں میں جنرل سیؔد عاصم مُنیر  بیان کررہے ہیں یہ ناصرف بھارتی قیادت  بلکہ   کئی اسلام دُشمن قوتوں اور ممالک کو جھنجوڑنے اور خوفزدہ کرنے  کے لیئے بھی کافی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ  آرمی چیف ناصرف اس نظریے کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں بلکہ پاکستان کے  قیام کو کلمہ طیبہ کی بنیادوں پر “مملکت خُداداد” کے طور پر بیان کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی قیام کے وقت  مُسلمان  آباد ی 87.5 فی صد تھی گویا  دوقومی نظریہ  پاکستان میں بسنے والوں میں اتحاد  ومحبت اور باہمی ہم آہنگی کے لیئے ایک مضبوط ترین “Binding Force”  یا ایسا گلیو ہے جس کی وجہ سے مُسلمان  ہونے کے ناطے  تمام  پاکستانی ناصرف ایک مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ   کوئی  بھی  پاکستانی  نہ تو  اس سے انکار کرسکتا ہے اور نہ ہی اس نظریے اور  قیام  پاکستان کے مقصد  کی مخالفت کرسکتا ہے۔  واضح رہے کہ  سیکولر جمہوریت اور جدید ریاستی نظام کا علمبردار  “ویسٹرن  ورلڈ آرڈر ”  مذہب کے نام پر  کسی ریاست کے قیام کی  نہ تو اجازت   دیتا ہے  اور نہ ہی اُسے برداشت کرتا ہے بلکہ مغربی اقوام تمام دیگر مذاہب کو  ناصرف مٹانے کے پراجیکٹ میں امریکی جھنڈے تلے جمع اور  عیسائیت  کی بالادستی پر  یقین رکھتی ہیں۔ ٹونی اسمتھ اپنی  کتاب A Pact With The Devil: Washington’s Bid For World Supremacyکےصفحات 6-16 پر لکھتا ہے کہ 10  مئی سن 2006ء میں امریکی انڈر سیکرٹری Karen Hughes نے امریکی کونسل آن فارن ریلشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  دُنیا بھر میں لاگو کرنے کے لیئے امریکی پلان کے تین مقاصد  میں “تمام دُنیا میں برابری، آزادی، انصاف کی فراہمی؛   اسلامی انتہاء پسند مُسلمانوں جن کے مذہب کی بُنیاد ظلم اور نفرت پر مبنی ہے کواقوام عالم  سے الگ کرنا؛ اور بین الاقوامی سطح پر مُشترکہ اخلاقی اقدار، مُفادات اور مغربی ثقافت کا فروغ”  شامل ہیں۔ کرس ہائیوسس اپنی کتاب American Fascists: The Christian Right and the War on America کے صفحات 8-12 پر لکھتا ہے کہ مغربی تہذیب کا تعلق بائبل سے ہے جو اس تہذیب کے لیئے ایک اخلاقی رہنما کتابچہ ہے، امریکی ہونے کا مطلب بائبل پر یقین رکھنے والا ہونا ہے، امریکی خدائی ایجنڈے کے محافظ ہیں اور اُن کے تمام مخالف مذاہب کے لوگ شیطان کے ایجنٹ ہیں۔” بھارتی مصنف فیصل دیوجی اپنی کتاب Muslim Zion: Pakistan as a Political Idea کے صفحات 22-23پر لکھتا ہے کہ “پاکستان بھی اسرائیل جیسی ہی مذہب کے نام پر بننے والی ریاست ہے اور پاکستان پورے کشمیر، بھارتی پنجاب، گجرات اور آندھرا پردیش پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔”  پہلے 18اپریل کو اوورسیز پاکستانیوں اور پھر 26 تاریخ کو151ویں  پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقعہ پر جس طرح  آرمی چیف جنرل سیؔد عاصم مُنیر نے قومی نظریہ اور اُس کی اہمیت اور تاریخ پاکستان کو  اپنی تقاریر کا موضوع بنایا ہے اس سے اُن کے ناصرف “دوقومی نظریے” پر غیر مُتزلزل یقین کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کا پتا بھی چلتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کل جیسے پاکستان کی تخلیق کی بُنیاد بنا  آج   اگر اس نظریے کو پاکستانی قوم حقیقی معنوں میں سمجھے   تو یہ پاکستانیوں میں مضبوط رشتے اور  اتحاد  کے علاوہ پاکستان کے  دفاع کا ضامن بھی ہوسکتا ہے۔ اس نظریہ سے  مُتشدد اور انتہاء پسند ہندو قیادت کو اتنی چڑ اور نفرت ہے کہ سن 1971ء کی جنگ کے بعد جب بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا تو بھارتی وزیراعظم “اندرا گاندھی” نے بڑے فخر سے کہا  “ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ہے۔” گویا اس نظریے کو شکست دینا تقسیم ہندوستان سے لیکر آجتک ہندو قیادت کا ایک خواب ہے جس کی خاطر وہ پاکستان کے ساتھ چار بھرپور جنگیں لڑنے کے علاوہ ہر وقت ایک غیر  اعلانیہ حالتِ جنگ میں رہتے ہیں تاکہ کسی طرح سے اس نظریے کو شکست دی جاسکے۔   امریکی Dominionists  ہوں یا پھر Neo Conservatives اور  Christian Zionist اسی طرح بھارتی آر ایس ایس ہویا شیو سینا یا پھر یہودی جنونی یہ سب مذہب کو اپنی عوام کو مُتحد کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں لیکن اُن اور  پاکستان کے مُسلمانوں اور قیادت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پاکستانی  قوم دیگر اقوام پر قرآن کریم کے عین مطابق “لا اکراہ دین” یعنی دین میں زبردستی نہیں”  کے  اصول پر کاربند رہتے ہوئے اپنے مذہبی افکار کو زبردستی لاگو نہیں کرنا چاہتے جس کی بہترین دلیل اور اوضح ثبوت  پاکستان میں بسنے والے  دیگر مذاہب پر چلنے والے لوگوں کا پاکستان میں اطمینان اور حکومتی حفاظت میں پُرسکون زندگی بسر کرنا ہے۔ جنرل عاصم مُنیر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ وطن کیسے حاصل کیا گیا ہے،  اس کی خاطر موجودہ پاکستانی  نسل کے آباؤاجداد نے کتنی قربانیاں دی ہیں جو کہ آج بھی جاری ہیں۔ اسی لیئے جنرل عاصم کا یہ کہنا کہ “ہمارے آباؤاجداد نے جو وطن قربانیاں دیکر بنایا ہم اُس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں” کی وجہ سے بھارتی افواج کے ہی ریٹائرڈ جرنیل مُودی کو پاکستان سے ٹکرانے سے باز رہنے کے مشورے  دیتے  نظر آتے ہیں۔ یہ  پیشہ ور  ریٹائرڈ سینیئر بھارتی فوجی ناصرف پاکستانی ٹیکنالوجی اور جنگی تیاریوں  سے بخوبی آگاہ ہیں  بلکہ موجودہ آرمی قیادت  کی سوچ اور اپروچ سے بھی وہ  مکمل واقفیت رکھتے  ہیں۔ عصرِ حاضر میں کسی بھی قوم کی ترقی اور  معاشی مضبوطی کے لیئے  بُنیادی شرائط میں قوم کی صفوں میں اتحاد، امن، مطلوبہ قدرتی  وسائل، لائق اور قابل  انفرادی قوت، مضبوط ومربوط اور مسلسل قومی پالیسیوں  اور دُرست سمت میں  ایک تسلسل کے ساتھ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔  جنرل سیؔد عاصم ناصرف پاکستانی بری فوج کے کمانڈر ہیں بلکہ حافظ قرآن بھی ہیں اس لیئے وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان میں قیام امن کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیئے ناصرف موجودہ حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں بلکہ اس محاذ پر وہ بعض اوقات حکومتی مشینری سے بھی چند

صحافی کے قلم سے

دو قومی نظریے کااحیاء و اہمیت اور آرمی چیف کی تقاریر

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق قائد اعظم کے  بعد جس طرح دو قومی  نظریے اور ریاست پاکستان کے قیام کا  مقصد کُھلے لفظوں میں جنرل سیؔد عاصم مُنیر  بیان کررہے ہیں یہ ناصرف بھارتی قیادت  بلکہ   کئی اسلام دُشمن قوتوں اور ممالک کو جھنجوڑنے اور خوفزدہ کرنے  کے لیئے بھی کافی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ  آرمی چیف ناصرف اس نظریے کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں بلکہ پاکستان کے  قیام کو کلمہ طیبہ کی بنیادوں پر “مملکت خُداداد” کے طور پر بیان کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی قیام کے وقت  مُسلمان  آباد ی 87.5 فی صد تھی گویا  دوقومی نظریہ  پاکستان میں بسنے والوں میں اتحاد  ومحبت اور باہمی ہم آہنگی کے لیئے ایک مضبوط ترین “Binding Force”  یا ایسا گلیو ہے جس کی وجہ سے مُسلمان  ہونے کے ناطے  تمام  پاکستانی ناصرف ایک مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ   کوئی  بھی  پاکستانی  نہ تو  اس سے انکار کرسکتا ہے اور نہ ہی اس نظریے اور  قیام  پاکستان کے مقصد  کی مخالفت کرسکتا ہے۔  واضح رہے کہ  سیکولر جمہوریت اور جدید ریاستی نظام کا علمبردار  “ویسٹرن  ورلڈ آرڈر ”  مذہب کے نام پر  کسی ریاست کے قیام کی  نہ تو اجازت   دیتا ہے  اور نہ ہی اُسے برداشت کرتا ہے بلکہ مغربی اقوام تمام دیگر مذاہب کو  ناصرف مٹانے کے پراجیکٹ میں امریکی جھنڈے تلے جمع اور  عیسائیت  کی بالادستی پر  یقین رکھتی ہیں۔ ٹونی اسمتھ اپنی  کتاب A Pact With The Devil: Washington’s Bid For World Supremacyکےصفحات 6-16 پر لکھتا ہے کہ 10  مئی سن 2006ء میں امریکی انڈر سیکرٹری Karen Hughes نے امریکی کونسل آن فارن ریلشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  دُنیا بھر میں لاگو کرنے کے لیئے امریکی پلان کے تین مقاصد  میں “تمام دُنیا میں برابری، آزادی، انصاف کی فراہمی؛   اسلامی انتہاء پسند مُسلمانوں جن کے مذہب کی بُنیاد ظلم اور نفرت پر مبنی ہے کواقوام عالم  سے الگ کرنا؛ اور بین الاقوامی سطح پر مُشترکہ اخلاقی اقدار، مُفادات اور مغربی ثقافت کا فروغ”  شامل ہیں۔ کرس ہائیوسس اپنی کتاب American Fascists: The Christian Right and the War on America کے صفحات 8-12 پر لکھتا ہے کہ مغربی تہذیب کا تعلق بائبل سے ہے جو اس تہذیب کے لیئے ایک اخلاقی رہنما کتابچہ ہے، امریکی ہونے کا مطلب بائبل پر یقین رکھنے والا ہونا ہے، امریکی خدائی ایجنڈے کے محافظ ہیں اور اُن کے تمام مخالف مذاہب کے لوگ شیطان کے ایجنٹ ہیں۔” بھارتی مصنف فیصل دیوجی اپنی کتاب Muslim Zion: Pakistan as a Political Idea کے صفحات 22-23پر لکھتا ہے کہ “پاکستان بھی اسرائیل جیسی ہی مذہب کے نام پر بننے والی ریاست ہے اور پاکستان پورے کشمیر، بھارتی پنجاب، گجرات اور آندھرا پردیش پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔”  پہلے 18اپریل کو اوورسیز پاکستانیوں اور پھر 26 تاریخ کو151ویں  پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقعہ پر جس طرح  آرمی چیف جنرل سیؔد عاصم مُنیر نے قومی نظریہ اور اُس کی اہمیت اور تاریخ پاکستان کو  اپنی تقاریر کا موضوع بنایا ہے اس سے اُن کے ناصرف “دوقومی نظریے” پر غیر مُتزلزل یقین کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کا پتا بھی چلتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کل جیسے پاکستان کی تخلیق کی بُنیاد بنا  آج   اگر اس نظریے کو پاکستانی قوم حقیقی معنوں میں سمجھے   تو یہ پاکستانیوں میں مضبوط رشتے اور  اتحاد  کے علاوہ پاکستان کے  دفاع کا ضامن بھی ہوسکتا ہے۔ اس نظریہ سے  مُتشدد اور انتہاء پسند ہندو قیادت کو اتنی چڑ اور نفرت ہے کہ سن 1971ء کی جنگ کے بعد جب بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا تو بھارتی وزیراعظم “اندرا گاندھی” نے بڑے فخر سے کہا  “ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ہے۔” گویا اس نظریے کو شکست دینا تقسیم ہندوستان سے لیکر آجتک ہندو قیادت کا ایک خواب ہے جس کی خاطر وہ پاکستان کے ساتھ چار بھرپور جنگیں لڑنے کے علاوہ ہر وقت ایک غیر  اعلانیہ حالتِ جنگ میں رہتے ہیں تاکہ کسی طرح سے اس نظریے کو شکست دی جاسکے۔   امریکی Dominionists  ہوں یا پھر Neo Conservatives اور  Christian Zionist اسی طرح بھارتی آر ایس ایس ہویا شیو سینا یا پھر یہودی جنونی یہ سب مذہب کو اپنی عوام کو مُتحد کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں لیکن اُن اور  پاکستان کے مُسلمانوں اور قیادت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پاکستانی  قوم دیگر اقوام پر قرآن کریم کے عین مطابق “لا اکراہ دین” یعنی دین میں زبردستی نہیں”  کے  اصول پر کاربند رہتے ہوئے اپنے مذہبی افکار کو زبردستی لاگو نہیں کرنا چاہتے جس کی بہترین دلیل اور اوضح ثبوت  پاکستان میں بسنے والے  دیگر مذاہب پر چلنے والے لوگوں کا پاکستان میں اطمینان اور حکومتی حفاظت میں پُرسکون زندگی بسر کرنا ہے۔ جنرل عاصم مُنیر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ وطن کیسے حاصل کیا گیا ہے،  اس کی خاطر موجودہ پاکستانی  نسل کے آباؤاجداد نے کتنی قربانیاں دی ہیں جو کہ آج بھی جاری ہیں۔ اسی لیئے جنرل عاصم کا یہ کہنا کہ “ہمارے آباؤاجداد نے جو وطن قربانیاں دیکر بنایا ہم اُس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں” کی وجہ سے بھارتی افواج کے ہی ریٹائرڈ جرنیل مُودی کو پاکستان سے ٹکرانے سے باز رہنے کے مشورے  دیتے  نظر آتے ہیں۔ یہ  پیشہ ور  ریٹائرڈ سینیئر بھارتی فوجی ناصرف پاکستانی ٹیکنالوجی اور جنگی تیاریوں  سے بخوبی آگاہ ہیں  بلکہ موجودہ آرمی قیادت  کی سوچ اور اپروچ سے بھی وہ  مکمل واقفیت رکھتے  ہیں۔ عصرِ حاضر میں کسی بھی قوم کی ترقی اور  معاشی مضبوطی کے لیئے  بُنیادی شرائط میں قوم کی صفوں میں اتحاد، امن، مطلوبہ قدرتی  وسائل، لائق اور قابل  انفرادی قوت، مضبوط ومربوط اور مسلسل قومی پالیسیوں  اور دُرست سمت میں  ایک تسلسل کے ساتھ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔  جنرل سیؔد عاصم ناصرف پاکستانی بری فوج کے کمانڈر ہیں بلکہ حافظ قرآن بھی ہیں اس لیئے وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان میں قیام امن کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیئے ناصرف موجودہ حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں بلکہ اس محاذ پر وہ بعض اوقات حکومتی مشینری سے بھی چند

صحافی کے قلم سے

دو قومی نظریے کااحیاء و اہمیت اور آرمی چیف کی تقاریر

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق قائد اعظم کے  بعد جس طرح دو قومی  نظریے اور ریاست پاکستان کے قیام کا  مقصد کُھلے لفظوں میں جنرل سیؔد عاصم مُنیر  بیان کررہے ہیں یہ ناصرف بھارتی قیادت  بلکہ   کئی اسلام دُشمن قوتوں اور ممالک کو جھنجوڑنے اور خوفزدہ کرنے  کے لیئے بھی کافی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ  آرمی چیف ناصرف اس نظریے کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں بلکہ پاکستان کے  قیام کو کلمہ طیبہ کی بنیادوں پر “مملکت خُداداد” کے طور پر بیان کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی قیام کے وقت  مُسلمان  آباد ی 87.5 فی صد تھی گویا  دوقومی نظریہ  پاکستان میں بسنے والوں میں اتحاد  ومحبت اور باہمی ہم آہنگی کے لیئے ایک مضبوط ترین “Binding Force”  یا ایسا گلیو ہے جس کی وجہ سے مُسلمان  ہونے کے ناطے  تمام  پاکستانی ناصرف ایک مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ   کوئی  بھی  پاکستانی  نہ تو  اس سے انکار کرسکتا ہے اور نہ ہی اس نظریے اور  قیام  پاکستان کے مقصد  کی مخالفت کرسکتا ہے۔  واضح رہے کہ  سیکولر جمہوریت اور جدید ریاستی نظام کا علمبردار  “ویسٹرن  ورلڈ آرڈر ”  مذہب کے نام پر  کسی ریاست کے قیام کی  نہ تو اجازت   دیتا ہے  اور نہ ہی اُسے برداشت کرتا ہے بلکہ مغربی اقوام تمام دیگر مذاہب کو  ناصرف مٹانے کے پراجیکٹ میں امریکی جھنڈے تلے جمع اور  عیسائیت  کی بالادستی پر  یقین رکھتی ہیں۔ ٹونی اسمتھ اپنی  کتاب A Pact With The Devil: Washington’s Bid For World Supremacyکےصفحات 6-16 پر لکھتا ہے کہ 10  مئی سن 2006ء میں امریکی انڈر سیکرٹری Karen Hughes نے امریکی کونسل آن فارن ریلشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  دُنیا بھر میں لاگو کرنے کے لیئے امریکی پلان کے تین مقاصد  میں “تمام دُنیا میں برابری، آزادی، انصاف کی فراہمی؛   اسلامی انتہاء پسند مُسلمانوں جن کے مذہب کی بُنیاد ظلم اور نفرت پر مبنی ہے کواقوام عالم  سے الگ کرنا؛ اور بین الاقوامی سطح پر مُشترکہ اخلاقی اقدار، مُفادات اور مغربی ثقافت کا فروغ”  شامل ہیں۔ کرس ہائیوسس اپنی کتاب American Fascists: The Christian Right and the War on America کے صفحات 8-12 پر لکھتا ہے کہ مغربی تہذیب کا تعلق بائبل سے ہے جو اس تہذیب کے لیئے ایک اخلاقی رہنما کتابچہ ہے، امریکی ہونے کا مطلب بائبل پر یقین رکھنے والا ہونا ہے، امریکی خدائی ایجنڈے کے محافظ ہیں اور اُن کے تمام مخالف مذاہب کے لوگ شیطان کے ایجنٹ ہیں۔” بھارتی مصنف فیصل دیوجی اپنی کتاب Muslim Zion: Pakistan as a Political Idea کے صفحات 22-23پر لکھتا ہے کہ “پاکستان بھی اسرائیل جیسی ہی مذہب کے نام پر بننے والی ریاست ہے اور پاکستان پورے کشمیر، بھارتی پنجاب، گجرات اور آندھرا پردیش پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔”  پہلے 18اپریل کو اوورسیز پاکستانیوں اور پھر 26 تاریخ کو151ویں  پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقعہ پر جس طرح  آرمی چیف جنرل سیؔد عاصم مُنیر نے قومی نظریہ اور اُس کی اہمیت اور تاریخ پاکستان کو  اپنی تقاریر کا موضوع بنایا ہے اس سے اُن کے ناصرف “دوقومی نظریے” پر غیر مُتزلزل یقین کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کا پتا بھی چلتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کل جیسے پاکستان کی تخلیق کی بُنیاد بنا  آج   اگر اس نظریے کو پاکستانی قوم حقیقی معنوں میں سمجھے   تو یہ پاکستانیوں میں مضبوط رشتے اور  اتحاد  کے علاوہ پاکستان کے  دفاع کا ضامن بھی ہوسکتا ہے۔ اس نظریہ سے  مُتشدد اور انتہاء پسند ہندو قیادت کو اتنی چڑ اور نفرت ہے کہ سن 1971ء کی جنگ کے بعد جب بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا تو بھارتی وزیراعظم “اندرا گاندھی” نے بڑے فخر سے کہا  “ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ہے۔” گویا اس نظریے کو شکست دینا تقسیم ہندوستان سے لیکر آجتک ہندو قیادت کا ایک خواب ہے جس کی خاطر وہ پاکستان کے ساتھ چار بھرپور جنگیں لڑنے کے علاوہ ہر وقت ایک غیر  اعلانیہ حالتِ جنگ میں رہتے ہیں تاکہ کسی طرح سے اس نظریے کو شکست دی جاسکے۔   امریکی Dominionists  ہوں یا پھر Neo Conservatives اور  Christian Zionist اسی طرح بھارتی آر ایس ایس ہویا شیو سینا یا پھر یہودی جنونی یہ سب مذہب کو اپنی عوام کو مُتحد کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں لیکن اُن اور  پاکستان کے مُسلمانوں اور قیادت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پاکستانی  قوم دیگر اقوام پر قرآن کریم کے عین مطابق “لا اکراہ دین” یعنی دین میں زبردستی نہیں”  کے  اصول پر کاربند رہتے ہوئے اپنے مذہبی افکار کو زبردستی لاگو نہیں کرنا چاہتے جس کی بہترین دلیل اور اوضح ثبوت  پاکستان میں بسنے والے  دیگر مذاہب پر چلنے والے لوگوں کا پاکستان میں اطمینان اور حکومتی حفاظت میں پُرسکون زندگی بسر کرنا ہے۔ جنرل عاصم مُنیر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ وطن کیسے حاصل کیا گیا ہے،  اس کی خاطر موجودہ پاکستانی  نسل کے آباؤاجداد نے کتنی قربانیاں دی ہیں جو کہ آج بھی جاری ہیں۔ اسی لیئے جنرل عاصم کا یہ کہنا کہ “ہمارے آباؤاجداد نے جو وطن قربانیاں دیکر بنایا ہم اُس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں” کی وجہ سے بھارتی افواج کے ہی ریٹائرڈ جرنیل مُودی کو پاکستان سے ٹکرانے سے باز رہنے کے مشورے  دیتے  نظر آتے ہیں۔ یہ  پیشہ ور  ریٹائرڈ سینیئر بھارتی فوجی ناصرف پاکستانی ٹیکنالوجی اور جنگی تیاریوں  سے بخوبی آگاہ ہیں  بلکہ موجودہ آرمی قیادت  کی سوچ اور اپروچ سے بھی وہ  مکمل واقفیت رکھتے  ہیں۔ عصرِ حاضر میں کسی بھی قوم کی ترقی اور  معاشی مضبوطی کے لیئے  بُنیادی شرائط میں قوم کی صفوں میں اتحاد، امن، مطلوبہ قدرتی  وسائل، لائق اور قابل  انفرادی قوت، مضبوط ومربوط اور مسلسل قومی پالیسیوں  اور دُرست سمت میں  ایک تسلسل کے ساتھ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔  جنرل سیؔد عاصم ناصرف پاکستانی بری فوج کے کمانڈر ہیں بلکہ حافظ قرآن بھی ہیں اس لیئے وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان میں قیام امن کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیئے ناصرف موجودہ حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں بلکہ اس محاذ پر وہ بعض اوقات حکومتی مشینری سے بھی چند

صحافی کے قلم سے

دو قومی نظریے کااحیاء و اہمیت اور آرمی چیف کی تقاریر

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق قائد اعظم کے  بعد جس طرح دو قومی  نظریے اور ریاست پاکستان کے قیام کا  مقصد کُھلے لفظوں میں جنرل سیؔد عاصم مُنیر  بیان کررہے ہیں یہ ناصرف بھارتی قیادت  بلکہ   کئی اسلام دُشمن قوتوں اور ممالک کو جھنجوڑنے اور خوفزدہ کرنے  کے لیئے بھی کافی ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ  آرمی چیف ناصرف اس نظریے کو دوبارہ زندہ کررہے ہیں بلکہ پاکستان کے  قیام کو کلمہ طیبہ کی بنیادوں پر “مملکت خُداداد” کے طور پر بیان کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان کی قیام کے وقت  مُسلمان  آباد ی 87.5 فی صد تھی گویا  دوقومی نظریہ  پاکستان میں بسنے والوں میں اتحاد  ومحبت اور باہمی ہم آہنگی کے لیئے ایک مضبوط ترین “Binding Force”  یا ایسا گلیو ہے جس کی وجہ سے مُسلمان  ہونے کے ناطے  تمام  پاکستانی ناصرف ایک مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں بلکہ   کوئی  بھی  پاکستانی  نہ تو  اس سے انکار کرسکتا ہے اور نہ ہی اس نظریے اور  قیام  پاکستان کے مقصد  کی مخالفت کرسکتا ہے۔  واضح رہے کہ  سیکولر جمہوریت اور جدید ریاستی نظام کا علمبردار  “ویسٹرن  ورلڈ آرڈر ”  مذہب کے نام پر  کسی ریاست کے قیام کی  نہ تو اجازت   دیتا ہے  اور نہ ہی اُسے برداشت کرتا ہے بلکہ مغربی اقوام تمام دیگر مذاہب کو  ناصرف مٹانے کے پراجیکٹ میں امریکی جھنڈے تلے جمع اور  عیسائیت  کی بالادستی پر  یقین رکھتی ہیں۔ ٹونی اسمتھ اپنی  کتاب A Pact With The Devil: Washington’s Bid For World Supremacyکےصفحات 6-16 پر لکھتا ہے کہ 10  مئی سن 2006ء میں امریکی انڈر سیکرٹری Karen Hughes نے امریکی کونسل آن فارن ریلشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  دُنیا بھر میں لاگو کرنے کے لیئے امریکی پلان کے تین مقاصد  میں “تمام دُنیا میں برابری، آزادی، انصاف کی فراہمی؛   اسلامی انتہاء پسند مُسلمانوں جن کے مذہب کی بُنیاد ظلم اور نفرت پر مبنی ہے کواقوام عالم  سے الگ کرنا؛ اور بین الاقوامی سطح پر مُشترکہ اخلاقی اقدار، مُفادات اور مغربی ثقافت کا فروغ”  شامل ہیں۔ کرس ہائیوسس اپنی کتاب American Fascists: The Christian Right and the War on America کے صفحات 8-12 پر لکھتا ہے کہ مغربی تہذیب کا تعلق بائبل سے ہے جو اس تہذیب کے لیئے ایک اخلاقی رہنما کتابچہ ہے، امریکی ہونے کا مطلب بائبل پر یقین رکھنے والا ہونا ہے، امریکی خدائی ایجنڈے کے محافظ ہیں اور اُن کے تمام مخالف مذاہب کے لوگ شیطان کے ایجنٹ ہیں۔” بھارتی مصنف فیصل دیوجی اپنی کتاب Muslim Zion: Pakistan as a Political Idea کے صفحات 22-23پر لکھتا ہے کہ “پاکستان بھی اسرائیل جیسی ہی مذہب کے نام پر بننے والی ریاست ہے اور پاکستان پورے کشمیر، بھارتی پنجاب، گجرات اور آندھرا پردیش پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔”  پہلے 18اپریل کو اوورسیز پاکستانیوں اور پھر 26 تاریخ کو151ویں  پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے موقعہ پر جس طرح  آرمی چیف جنرل سیؔد عاصم مُنیر نے قومی نظریہ اور اُس کی اہمیت اور تاریخ پاکستان کو  اپنی تقاریر کا موضوع بنایا ہے اس سے اُن کے ناصرف “دوقومی نظریے” پر غیر مُتزلزل یقین کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس بات کا پتا بھی چلتا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ دو قومی نظریہ کل جیسے پاکستان کی تخلیق کی بُنیاد بنا  آج   اگر اس نظریے کو پاکستانی قوم حقیقی معنوں میں سمجھے   تو یہ پاکستانیوں میں مضبوط رشتے اور  اتحاد  کے علاوہ پاکستان کے  دفاع کا ضامن بھی ہوسکتا ہے۔ اس نظریہ سے  مُتشدد اور انتہاء پسند ہندو قیادت کو اتنی چڑ اور نفرت ہے کہ سن 1971ء کی جنگ کے بعد جب بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا تو بھارتی وزیراعظم “اندرا گاندھی” نے بڑے فخر سے کہا  “ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں ڈبودیا ہے۔” گویا اس نظریے کو شکست دینا تقسیم ہندوستان سے لیکر آجتک ہندو قیادت کا ایک خواب ہے جس کی خاطر وہ پاکستان کے ساتھ چار بھرپور جنگیں لڑنے کے علاوہ ہر وقت ایک غیر  اعلانیہ حالتِ جنگ میں رہتے ہیں تاکہ کسی طرح سے اس نظریے کو شکست دی جاسکے۔   امریکی Dominionists  ہوں یا پھر Neo Conservatives اور  Christian Zionist اسی طرح بھارتی آر ایس ایس ہویا شیو سینا یا پھر یہودی جنونی یہ سب مذہب کو اپنی عوام کو مُتحد کرنے کے لیئے استعمال کرتے ہیں لیکن اُن اور  پاکستان کے مُسلمانوں اور قیادت میں بنیادی فرق یہ ہے کہ پاکستانی  قوم دیگر اقوام پر قرآن کریم کے عین مطابق “لا اکراہ دین” یعنی دین میں زبردستی نہیں”  کے  اصول پر کاربند رہتے ہوئے اپنے مذہبی افکار کو زبردستی لاگو نہیں کرنا چاہتے جس کی بہترین دلیل اور اوضح ثبوت  پاکستان میں بسنے والے  دیگر مذاہب پر چلنے والے لوگوں کا پاکستان میں اطمینان اور حکومتی حفاظت میں پُرسکون زندگی بسر کرنا ہے۔ جنرل عاصم مُنیر اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ وطن کیسے حاصل کیا گیا ہے،  اس کی خاطر موجودہ پاکستانی  نسل کے آباؤاجداد نے کتنی قربانیاں دی ہیں جو کہ آج بھی جاری ہیں۔ اسی لیئے جنرل عاصم کا یہ کہنا کہ “ہمارے آباؤاجداد نے جو وطن قربانیاں دیکر بنایا ہم اُس کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں” کی وجہ سے بھارتی افواج کے ہی ریٹائرڈ جرنیل مُودی کو پاکستان سے ٹکرانے سے باز رہنے کے مشورے  دیتے  نظر آتے ہیں۔ یہ  پیشہ ور  ریٹائرڈ سینیئر بھارتی فوجی ناصرف پاکستانی ٹیکنالوجی اور جنگی تیاریوں  سے بخوبی آگاہ ہیں  بلکہ موجودہ آرمی قیادت  کی سوچ اور اپروچ سے بھی وہ  مکمل واقفیت رکھتے  ہیں۔ عصرِ حاضر میں کسی بھی قوم کی ترقی اور  معاشی مضبوطی کے لیئے  بُنیادی شرائط میں قوم کی صفوں میں اتحاد، امن، مطلوبہ قدرتی  وسائل، لائق اور قابل  انفرادی قوت، مضبوط ومربوط اور مسلسل قومی پالیسیوں  اور دُرست سمت میں  ایک تسلسل کے ساتھ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔  جنرل سیؔد عاصم ناصرف پاکستانی بری فوج کے کمانڈر ہیں بلکہ حافظ قرآن بھی ہیں اس لیئے وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے ایک قدم آگے بڑھ کر پاکستان میں قیام امن کے ساتھ ساتھ پاکستانی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیئے ناصرف موجودہ حکومت کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں بلکہ اس محاذ پر وہ بعض اوقات حکومتی مشینری سے بھی چند

صحافی کے قلم سے

شہنشاہ اورنگ زیب بمقابلہ فلمی چھاوا

 تحریر : سکندربیگ مرزا    گذشتہ دنوں  انڈیا میں چھاوا نامی ایک  فلم ریلیز ہوئی جس  کے بعد بھارت کے مختلف شہرو ں میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے صوبہ مہاراشٹر کے شہر ناگ پور میں کرفیو کا نفاذ کرنا پڑا اس فلم کی کہانی ایک  مراٹھی ناول نگار  شیواجی ساونت کے ناول سے ماخوذ ہے جس کے ہدایت کار لکشمن تیکر ہیں یہ  فلم مرہٹہ ایمپائر کے دوسرے  حکمران سانبھا جی مہاراج کی زندگی پر فلمائی گئی ہے ان کے پتا شیواجی مہاراج نے مغربی ہندوستان میں اپنی جاگیر کو توسیع دے کر بہت سے جنگی قلعے تعمیر کر لئے اور   مرہٹہ ایمپائر کی بنیاد رکھ دی    شیوا جی  نے  مغلوں سے  مذہبی اور ثقافتی عصبیت  کو  بنیاد بنا کر انتہا پسند  ہندو جنگجووں کی فوج تیار کر لی تھی  درجنوں مرتبہ  عظیم مغل  سلطنت کی رٹ کو چیلنج کیا  مغل فوج کے جری جرنیل افضل خان کو شہید کیا اورنگ زیب کے ماموں  شائستہ خان کو شکست کا مزہ چکھایا  بہت سے مغل  علاقوں کو بزور قوت  اپنی ایمپائر میں شامل کر لیا مرہٹوں  کی بڑھتی ہوئی طاقت کو  دیکھتے ہوئے شہنشاہ اورنگ زیب نے مرہٹوں کے سردار سانبھا جی مہاراج کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا 1689 میں مغل فوج کے آپریشنل کمانڈر راجہ جے سنگھ نے تابڑ توڑ حملے کر کے سانبھا جی مہاراج  کی طاقت کا شیرازہ بکھیر دیا  اسے گرفتار کرنے کے بعد قلعے میں منتقل کر دیا گیا جہاں فلم کے مطابق  شہنشاہ  اورنگ زیب کے حکم پر سانبھا جی مہاراج کو قتل کرنے سے پہلے   شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے زبردستی اسلام قبول کرنے پر اصرار کیا جاتا ہے انکار پر اس کے ناخن کھینچے جاتے ہیں زخموں پر نمک پاشی کی جاتی ہے  یہ مناظر دیکھ کر خواتین  فلم بین سنیما حال میں  چیخ و پکار شروع کر دیتی  ہیں  فلم میں سانھبا جی مہاراج کا کردار وکی کوشل نے ادا کیا ہے شو کے خاتمے کے بعد ہندو فلم بینوں نے  مشتعل ہو کر  سڑکوں پر توڑ پھوڑ  شروع کر دی  شہر میں مسلمانوں  کی املاک کو  شدید نقصان  پہنچایا  اور ہندوستان کے عظیم  شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے مقبرے پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی  شدید نعرہ بازی کے دوران  غلامی کی نشانیوں کو مسمار کرنے کا عزم ظاہر کیا بلوائی اورنگ آباد کے نزدیک  مدفون بادشاہ  اورنگ زیب عالمگیر کے مقبرے کو  مہاراشٹر سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے رہے   حالانکہ  ان واقعات کا حقیقت سے دور کا  واسطہ بھی نہیں ہے مراٹھی زبان  میں *چھاوا *کا مطلب شیر ہے فلم میں  سانھبا جی کو چھاوا کے روپ میں  دکھایا گیا ہے  جب کہ شہنشاہ کو فلم میں ظالم گھمنڈی   نفرت سے بھرا ہوا شخص اور  لگڑ بگڑوں کی فوج کا شاطر سربراہ دکھایا گیا  ہے یوں ایک فرضی کہانی کے ذریعے  ہندو مسلم نفرت کو مزید بڑھاوا دینے کی  مذموم کوشش کی گئی ہے ہندوستان میں آر ایس ایس اور    بجرنگ دل کے انتہا پسند  کارکنان  بھارت میں مسلمانوں کے وجود کو دل سے  تسلیم نہیں  کرنے  وہ ہمیشہ  اسرائیلیوں کی طرح تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد مسلمانوں کے لئے بھارت  کی زمین کو گرم کرتے رہتے ہیں بد قسمتی سے بھارت میں  عظیم مغل شہنشاہ اورنگ زیب  عالمگیر کو ہندووں کے ساتھ نفرت کا   سب سے بڑا سمبل   بنا کر پیش کیا جاتا ہے ان کے  طرز حکمرانی پر  بہت سے بے  سرو پا الزامات لگائے جاتے ہیں  ایک الزام  یہ بھی لگایا جا تا ہے کہ وہ ہندو دھرم کے  مخالف تھے انہوں نے اپنے عہد حکومت میں  بے شمار مندروں کو مسمار کروایا اپنے مخالفین کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا موسیقی پر پابندی عائد کی نشے کے کاروبار اور افیون کے استمعال کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے غیر  مسلم شہریوں پر جزیہ لاگو کیا سکھ لیڈر تیغ بہادر کا  سر تن سے جدا کروایا جب کہ اسلام قبول کرنے والوں  کو جاگیروں اور مراعات سے نواز ۔۔۔ یوں تاریخ کو  مسخ کر کے انڈیا  میں نئے سرے سے تاریخ  لکھی جا رہی ہے  تین سو بیس سال گزرنے کے باوجود ہندووں نے  اپنے  ایک  نیک سیرت عوام دوست  اور انصاف پسند  بادشاہ کو  نفرت کے نشانے پر رکھا ہوا ہے بادشاہ کے حالات زندگی پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں      اورنگ زیب عالمگیر  3  نو مبر   1618  کو مالوا گجرات میں  پیدا ہوئے ان کا انتقال 3 مارچ  1707 کو 88 برس کی عمر میں ہوا  ان کی والدہ ملکہ ہند ممتاز محل تھیں جس کی یاد میں شاہجہان نے آگرہ میں  تاج محل تعمیر کروایا  اورنگ زیب کے تین  بھائی اور بھی  تھے جن میں دارا شکوہ شاہ شجاع اور شہزادہ مراد شامل تھے  دارا شکوہ اپنی  بے پناہ  قائدانہ صلاحیتوں اور معاملہ فہمی   کی وجہ سے شاہجہان کی آنکھ کا تارا تھا اس لئے  بادشاہ نے اسے  ولی عہد کے عہدے پر  نامزد کر رکھا  تھا  وہ دارلحکومت میں رہ کر  حکومتی  امور میں بادشاہ کی معاونت  سر انجام دیتا  تھا  جبکہ اورنگ زیب  شہزادہ شجاع  اور مراد  گجرات دکن اور بنگال وغیرہ  میں صوبے داری کی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے  بادشاہ کی علالت کی خبر عام ہونے ہی چاروں شہزادوں کے دل  میں ہندوستان کا بادشاہ بننے کی خواہش  انگڑائیاں لینے لگی شاید بادشاہ نہ بننے کی صورت میں انہیں  مارے جانے کا ڈر بھی ہوتا تھا  چاروں بھائیوں کے درمیان تخت  کے حصول کے لئے  رسہ کشی شروع ہوگئی اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور شاہجہان کی مخالفت کے باوجود اورنگ زیب عالمگیر کو اس معرکے میں فتح نصیب ہوئی شجاع اور مراد جنگ میں مارے گئے  اس نے  بادشاہ کو معزول کر کے قلعے میں نظر بند کر دیا دارا شکوہ کو گرفتار  کر لیا گیا  چیتھڑوں کے لباس  میں ہاتھی پر بٹھا کر دلی کی سڑکوں پر گھمایا گیا بعد ازاں اس کا  سر قلم کر کے معزول شہنشاہ شاہجہان کو تحفے میں پیش کیا  پاور گیم کے رولز اور قوانین بھی انوکھے ہوتے ہیں اس کھیل میں کوئی کسی کا بھائی باپ یا بیٹا نہیں ہوتا صرف ایک زندہ رہتا  ہے باقی مارے جاتے ہیں   اگر دارا شکوہ کی جگہ اورنگ زیب ہوتا  تو اس

صحافی کے قلم سے

زمیں کا حسن پودے ہیں

    زمیں کا حسن پودے ہیں   تحریر  سکندر بیگ مرزا  کہا جاتا ہے کہ انسان کی  موت حقیقت میں  اس وقت واقع ہوتی ہے جب اسے کوئی آخری شخص آخری مرتبہ کہیں بیٹھ کر یاد کرتا ہے  میرے ننھیالی گاوں موضع خورد ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے میرے عزیز  نوجوان  مرزا اکمل بیگ نے اپنے والد مرزا  اسلم بیگ مرحوم کی یادوں کو  تازہ رکھنے اور خلق خدا کے لئے ان کے جذبہ خیر سگالی کو آگے بڑھانے کے  لئے مرزا اسلم بیگ  فاونڈیشن قائم کر رکھی ہے جس کے زیر انتظام یوسی چوٹالہ کے ایریا میں دیگر فلاحی کاموں کے علاوہ  ہر سال  ہزاروں کی تعداد میں پھلدار اور سایہ دار پیڑ  اگائے جاتے ہیں اس مرتبہ بھی موسم بہار کا آغاز ہوتے ہی فاونڈیشن کے اراکین نے  دس ہزار سے زائد   پودے گھروں میں تقسیم  کرنے  کے علاوہ   سکولوں کالجوں ہسپتالوں  قبرستانوں اور مختلف پبلک مقامات پر  لگائے ہیں   مرزا اسلم بیگ مرحوم  سابقہ فوجی تھے ان کا تعلق 37 پنجاب رجمنٹ سے تھا انہوں نے 1965اور 1971کی پاک بھارت جنگوں میں حصہ لیا وہ بنیادی طور پر ایک سپورٹس مین تھے ان کا شمار یونٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا تھا  تیراکی کشتی رانی اور باکسنگ میں  وہ ارمی  کے کلر ہولڈر  تھے یونٹ کو ان کی کارکردگی  پر ناز تھا وہ بھی  آخری دم تک اپنی یونٹ سے گہری  محبت کا دم بھرتے رہے وہ انتہائی مخلص   ملنسار اور شاخسار  آدمی تھے  اپنی محنت دیانت لگن اور خوبصورت ڈیل ڈول اور جاذب نظر شخصیت کے باوصف  ملازمت کے آخری دس سالوں  تک  مسجد الحرام مکہ شریف میں سیکورٹی افیسر کی خدمات پر مامور  رہے جہاں ان کا رجحان  مکمل طور پر مذہب کی طرف ہو گیا  فاونڈیشن کے چیرمین مرزا اکمل بیگ نے ملک میں  شجر کاری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے عوام  آگاہی پروگرام انتہائی منصوبہ بندی  اور موثر انداز سے مکمل کیا  اور  اپنا ہدف کامیابی سے  حاصل کیا  ضلع کے ڈپٹی کمشنر میثم علی آغا  اے سی جہلم کے علاوہ   مختلف ضلعی  افسران اور معززین علا قہ  کو اس کار خیر  میں شامل کیا  نوابزا دی راحیلہ مہدی  سینیئر صحافی اور سیاست دان محمود مرزا جہلمی  مرزا نثار بیگ  (ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر  جہلم  ) پروفیسر زاہد حسین ساہی   پرنسپل گورنمنٹ کالج جی ٹی روڈ جہلم  مرزا ظفر محمود  سابقہ کونسلر موضع خورد   مرزا سلیمان بیگ آف چنگس  ماسٹر عبدالحمید جرال   ماسٹر  مرزا محمد  خلیل مرزا آصف بیگ بابا شیر راجہ احسن رضا سنگھوئی  ملک محفوظ صدر تنظیم نوجواناں  مرزا قدر داد نمبردار  اور  دیگر معززین   نے  اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر فاونڈیشن کے اراکین کی حوصلہ افزائی کی قدرتی آفات اور  بڑھتی ہوئی صنعتی ترقی نے  ماحولیاتی آلودگی  اور فضا میں موجود  زہریلی گیسوں کی مقدار میں خطرناک حد تک اضافہ کر دیا ہے جس  نے انسانی زندگی کی بقا  کے لئے بڑے بڑے  خطرات پیدا کر دئیے ہیں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ  اگر صورتحال بدستور خراب ہوتی رہی تو مستقبل میں دم  کھینچنا  بھی دشوار ہو جائے گا  ان تیزی سے بڑھتے ہوئے حقیقی خطرات  کا مقابلہ صرف سر سبز پودوں اور سر سبز وشاداب کھیت کھلیانوں  کی مدد سے ہی ممکن  ہے انہی خطرات کے پیش نظر رسول اللہ ص نے درختوں کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا   اور  درخت اگانے کو  صدقہ جاریہ قرار دیا  رسالت ماب ص نے  جنگوں  کے دوران بھی اپنے کمانڈروں کو سر سبز و شاداب   کھیتوں  کھلیانو ں  اور ہرے بھرے درختوں کو کاٹنے سے منع فرمایا زمین پر انسان کے سب سے بڑے غمخوا ر اور مخلص دوست درخت ہی ہوتے ہیں ان  کے بغیر کراہ ارض پر زندگی کا تصور کرنا بھی محال ہے یہ جانداروں کو پھل فروٹ  اور سایہ دینے کے علاوہ  ہوا میں موجود  کاربن ڈائی آکسائڈ گیس جذب کرتے ہیں اور زمین پر زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے  بڑی مقدار میں آکسیجن خارج کرتے ہیں پاکستان جیسے گرم مرطوب  ملکوں میں بڑھتے ہوئے  درجہ حرارت کو معمول پر رکھنے کے لئے پودوں کی افزائش انتہائی ضروری ہے  اپنے شہریوں  کو سیلابوں اور زمینی  کٹاو سے محفوظ رکھنے  کے لئے درختوں کا کلیدی رول ہوتا ہے  ایندھن کے علاوہ عمارتی لکڑی اور فرنیچر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اشجار  سب سے بڑا ذریعہ  ہیں ان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر  سرکار کو جنگی بنیادوں پر  (War footings basis) شجر کاری کی مہمات میں اضافہ کرنا چاہیے  اس طرح   فضائی اور ماحولیاتی آلودگی کو کم کر کے سانس اور پھیپھڑوں کی روز افزوں  بیماریوں پر  قابو پایا جا سکتا ہے  علاوہ ازیں درختوں کے ان گنت فوائد ہیں یہ مختصر کالم جس کا متحمل نہیں ہو سکتا بد قسمتی سے   پاکستان میں جہالت اور پسماندگی کے باعث درخت اگانے کی بجائے درختوں کو  کاٹنے کا رجحان زیادہ ہے یہاں وسائل کو بروے کار لانے کی بجاے بے قدرتی وسائل کو بے دریغ ضائع کیا جاتا ہے حالانکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہیے  بے شمار  سرکاری اراضی اور شاہراہوں کے اطراف میں میلوں کے حساب سے رقبے بنجر پڑے  ہیں جنہیں درخت اگا کر  بے روزگاری کو بھی کم کیا جا سکتا ہے ہرے بھرے درختوں کا شمار بھی  لائیوسٹاک  میں ہوتا ہے  گو  کہ یہ  نقل و حرکت نہیں کر سکتے البتہ ان   کے بیج آندھیوں اور تیز ہواوں کی مدد سے  دور دراز ایریاز میں منتقل ہوتے رہتے ہیں پودوں کو سب سے زیادہ خطرہ بھیڑ بکریوں اور جانوروں کے علاوہ خود  شقی القلب انسانوں سے ہوتا  ہے جو تیز دھار کلہاڑیاں ہاتھوں میں لئے جنگلوں میں گھس جاتے ہیں میں نے دیکھا ہے  رکھ پبی کھاریاں میں کشمیر سے آئے ہوئے بکروال اور خانہ بدوش پٹھان پھلتے پھولتے  درختوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں   انہوں نے بھیڑ بکریوں کے بڑے بڑے ریوڑ پال رکھے ہیں جو ہر سال نئے اور پرانے اگنے والے  پودوں کو نیست و نابود کر دیتے ہیں پیڑوں کی بربادی میں مافیا کے ساتھ  ساتھ محکمہ جنگلات کے ملازمین بھی  ملوث ہوتے ہیں  سرکار کی طرف سے  ہر سال   شجر کاری مہم شروع کرنے  کے باوجود عدم نگہداشت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے  پودے  مرجھا کر

Scroll to Top