صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

فِتنةُ الہندوستان اور ہٹلر، یاہو اور مُودی موازنہ

میجر (ر) ساجد مسعود صادق اس سے قطع نظر کہ دہشت گردی کی جنگ حقیقی تھی یا مصنوعی پاکستان کے لیئے واقعتاً یہ حقیقی جنگ ہے جو ابھی ختم نہیں ہوئی۔  پہلے پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ملکر عالمی دہشت گرد اور انتہاء پسند تنظیموں کے ساتھ نبرد آزما رہا جس میں پاکستان نے ایک لاکھ قیمتی جانوں کے ساتھ ساتھ بہت بڑی معاشی قربانی بھی دی۔ اس وقت  پاکستان کی  دہشت گردی کے خلاف  جنگ اُن  تنظیموں کے ساتھ ہے جس کی پُشت پناہی دہشت گرد ریاست (بھارت) کررہا ہے۔  “ٹی ٹی پی” ہو یا  “بی ایل اے” ان دونوں تنظیموں کی پُشت پناہی کے پاکستان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ ان کی پُشت پناہی بھارت کررہا ہے۔ بھارت کی یہ پراکسیز تنظیمیں ہوں یا پھر  بھارتی طریقہ واردات یہ  موجودہ  دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جسے بجا طور پر “فتنة الہندوستان”  کا نام دیا گیا ہے۔ بھارتی مذہبی تعصب پرستی کی آگ میں اندھی قیادت  آج بھی سن 1971ء کی طرز پر پاکستان کے دو صوبوں میں “مُکتنی باہنی” طرز کی بغاوت کی خواہاں ہے۔ آپریشن بُنیان مرصوص کے بعد  ان بھارتی پراکسیز کا سر کُچلنے کا اب وقت آگیا ہے۔  دُنیا کی “سب سے بڑی سیکولر جمہوری ریاست”  کی دعویدار بھارتی ریاست  اور “ہندوتوا” اور “چانکیائی”  آئیڈیالوجی  پر عمل پیرا  “بی جے پی”  بھارتی حکومتی پارٹی کی سرپرستی میں بھارتی ریاست جنوبی ایشیاء کی  بلاشُبہ ایک  “دہشت گرد اسٹیٹ” ہے۔ آج  حکومتی سرپرستی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کے شر سے بھارت میں بسنے والی مُسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں اور جنوبی ایشیاء کا کوئی مُلک بھی  محفوظ نہیں۔ جنوب ایشیائی  خطے میں  گھناؤنے بھارتی عزائم کو بھارتی پارلیمنٹ  میں آویزاں نقشے کی مدد سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس نقشے کے مطابق پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے  تمام ممالک اور چین کے صوبے “تبت” کو بھی بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے سےظاہر ہوتا ہے کہ  یہ  پراجیکٹ  محض  بی جی پی کا ہی نہیں بلکہ بھارت کی دیگر پارٹیاں بھی اس کو تسلیم  بھی کرتی ہیں اور اس کی حمایت بھی کرتی ہیں۔ اسی پراجیکٹ کے لیئے بھارت ہمیشہ ہمسائیوں کے معاملات میں  دخل اندازی  سے لیکر وہاں دہشت گردی ،علیحدگی پسندعناصر  کی امداد اور کمزور ہمسایہ ممالک  کو  ہر وقت ڈرانے دھمکانے میں ہر وقت مصروف رہتا ہے۔ ہٹلر، نیتین یاہو اور نریندرا مُودی کی شخصیات اور سیاسی افکار  اور عزائم میں رتی بھر کا بھی فرق نہیں ہے۔ ہٹلر وہ نسل پرست شخص تھا جس نے ” آریائی نسل” کی بُنیاد پر نسل پرستی کی جنگ میں پوری دُنیا کو جھونک دیا جس میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے، اپاہج ہوئے اور پورے  یورپ کی معیشت تباہ ہوکر رہ گئی۔ ہٹلر کا آئیڈیا آریائی نسل کی ایک “جرمن ریس”  پر مُشتمل ریاست بنانا تھا جس کے لیئے اُس نے Lebensarum  یعنی “مزید جگہ کی ضرورت” پوری کرنے کے لیئے ملحقہ علاقوں پر قبضہ شروع کیا۔ ہوس میں بڑھتے بڑھتے  ہٹلر نے ناصرف پورے یورپ  پر قبضہ کرلیا بلکہ دُنیا کے ہر مُلک سے محاذ آرائی شروع کردی جو عالمی جنگ کا باعث بن گئی۔ ہٹلر کی طرح معصوم فلسطینیوں کا قاتل  “نیتن یاہو” بھی “گریٹر اسرائیل” کے پراجیکٹ کی خاطر تمام ملحقہ اسلامی ریاستوں کے ساتھ اس وقت حالت جنگ میں ہے جو یقیناً عالمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔  جس طرح نیتین یاہو کی قیادت میں  اسرائیل معصوم  اور نہتے فلسطینیوں پر ظُلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے یہی سب کُچھ مُودی کشمیر میں کررہا ہے۔ نریندرا مُودی بھی ہٹلر اور نیتین یاہو  کی طرح تعصب پرستی کی بُنیاد پر ایک ایسی ریاست بنانے کا خواہاں ہے جس میں جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک (پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، بھوٹان، نیپال) اور چینی صوبہ تبت بھی شامل ہوں گے۔ یہی وہ بھارتی آئیڈیا ہے جسے “اکھنڈ بھارت” یا “مہا بھارتا” کا نام دیا جاتا ہے۔ جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک میں بھارتی دخل اندازی کے  ناقابل تردید اور ٹھوس شواہد موجود ہیں۔  پاکستان واحد مُلک ہے جس نے گذشتہ اٹھہتر سال سے  اس  تعصب پرستی اور گھناؤنے عزائم کے آگے بند باندھ رکھا ہے۔ زیر بحث تینوں شخصیات میں مُشترک اقدار کے ساتھ ان تینوں کے ساتھ  مُفاد پرستی کی بُنیاد پر  عالمی برادری کا سلوک بھی یکساں ہے۔ ہٹلر کے گھناؤنے عزائم پر  Policy of Appeasement گواہ ہے اور نیتین یاہو کی بربریت پر نہ صرف عالمی دُنیا خاموش ہے بلکہ اسرائیل کو تو  مغربی عالمی طاقتوں کی سرپرستی  اور حفاظت بھی حاصل ہے۔    لیکن حالیہ چین امریکہ  ٹینشن میں بھارت ایک “لاولد” ریاست کی مانند ہے جس کی موجودہ  پالیسیوں کی وجہ سے   ٹُوٹ کر  ٹُکڑے  ٹُکڑے بھی ہوسکتے ہیں۔ بھارتی جنونی قیادت کی فہم سے یہ بات بالاتر ہے کہ سن  1971ء اور آج کے ایٹمی پاکستان کی طاقت میں بہت فرق ہے۔ عالمی طاقتیں بھی بھارت کو  تجارتی منڈی سمجھتے ہوئے خاموش اور اس چیز سے لاپرواہ ہیں کہ بھارتی  گھناؤنے عزائم  پوری دُنیا کی  تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔  دہشت گردی کی جنگ کے دوران جب پاکستان عالمی برادری کے ساتھ ملکر دہشت گردی کی عالمی جنگ میں مصروف تھا ایسے میں بھارتی حرکتوں پر  عالمی طاقتوں  (بالخصوص امریکہ) نے   آنکھیں بند کیئے رکھیں۔ موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک طرف تو بھارت نے   اپنے آئین کے آرٹیکل 370کو معطل کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی کوشش کی دوسرے نمبر پر کشمیر میں ہندو آبادکاری کرکے آبادی کا تناسب بھی تبدیل کیا اور ساتھ ہی ساتھ معصوم اور نہتے کشمیریوں پر ظُلم کے پہاڑ بھی توڑے۔  پہلگام  فالس فلیگ آپریشن کے بعد  طاقت کے نشے میں  بھارتی جنون کا یہ عالم تھا کہ  بھارت  پاکستان کوختم کرنے کے خواب دیکھنے لگا۔ بھارت کی اس خام خیالی کا محض چند گھنٹوں میں آپریشن بُنیان مرصوص  نے  بُھرکس نکال دیا۔    بلوچستان میں معصوم بچوں پر بربریت سے بھرپور بُزدلانہ  حملے، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی رٹ اور آپریشن سندور جاری ہے  کی بھارتی ضد بتا رہی ہے بھارت نے آپریشن بُنیان مرصوص سے بھی کُچھ سیکھا نہیں۔افواج پاکستان کو چاہیئے کہ وہ بھارتی پراکسیز کا سر کُچلنے کے لیئے  بلوچستان اور کے پی میں

صحافی کے قلم سے

آپریشن “بنیان مرصوص” اور بارڈر ملٹری پولیس میں بھرتیاں

احمد خان لغاری  کوہ سلمان سے پاک بھارت کی حالیہ مختصر مگر دلچسپ جنگ جو دو ملکوں کے علاوہ دو نظریات کی جنگ ہے۔ جیسا کہ نام سے واضح ہے آپریشن سندور کے مقابلے میں آپریشن” بنیان مرصوص ” تھا۔ جو الحمدللہ کامیاب ہوا پاکستانی عوام جشن منا رہی ہے کیونکہ پاک فوج نے اس بار جو کر دکھایا جس کا بھارت کو کیا دنیا کے طاقتور ممالک نے بھی نہیں سوچا ہوگا امریکہ فرانس، برطانیہ اور روس کی طاقتیں ہار گئی ہیں۔ اور پاکستان اپنے جذبہ ایمانی سے اور شوق شہادت کے جذبے سے یہ جنگ جیت گیا ہے۔ بھارت بھی جشن منا رہا ہے لیکن وہ جانتا ہے کہ وہ میدان میں چت پڑا تھا۔ اسرائیلی ڈرون گرائے گئے۔ فرانس کے رافیل طیارے گرائے گئے روس کے SUMKI-30کہاں پڑے ہیں.برطانوی VAVS LTD  کا کیا حشر ہوا۔اور ان کا ڈیفنس سسٹم 5400 کا کیا بنا بھارت کا بڑا بزنس ایونٹIPL ملتوی ہوا بھارت کو اپنے 36 ایئرپورٹس بند کرنا پڑے بھارتی معیشت کو 83 بلین ڈالر کا نقصان ہوا پاکستانی ایئر سپیس بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز خسارے میں ہے۔ ملٹری انسٹالیشن تباہ ہو گئیں،ہندوستان کے سو سے زیادہ ڈرون تباہ ہوئے۔ پاکستانی ہیکرز نے دفاعی حساس معلومات چوری کر کے ڈارک انٹرنیٹ پر برائے فروخت ڈال دیں۔بھارت اب مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا اور دنیا دیکھے گی بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن مناسب نہیں ہے۔ ہندوستانی میڈیا جھوٹ بول بول کر اب سچ بتانے پر مجبور ہو گیا ہے۔ پاکستان کے ادارے اور تمام سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کے باوجود متحد تھیں اور اپنی پاک فوج کی پشت پر تھی اچھا ہوا کہ جنگ بندی ہو چکی ہے۔ اور یہ جنگیں کسی بھی ملک اور خطے کے لیے کبھی بھی نیک شگون نہیں ہوتیں۔ لیکن قوم ریاست اورمسلح افواج کو اپنی جنگی صلاحیتیں بہتر سے بہتر بنانے کی کاوشیں جاری رکھنی چاہیے تاکہ کوئی ملک دور ہو یا نزدیک میلی آنکھ سے ہرگز نہ دیکھ سکے۔  قارئین کرام! حالیہ مختصر اور خوفناک جنگ جس سے بھارت دو چار ہوا اور پاکستان کا بھارت کے خلاف سائبر اٹیک تاریخ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جانے لگا ہے۔ جس سے بھارت کا جدید ترین دفاعی نظام تباہ ہو گیا ہے۔ اور سب سے غیر متوقع دھجکا پاکستان کی سائبر وار سے لگا ہے حالانکہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کو بھارت کا مد مقابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن پاکستان نے مواصلاتی لائنوں ایئر ٹریفک سسٹم اور بھارت کے ڈیجیٹل ڈیفنس کنٹرول کو بھی غیر موثر کر دیا ہے۔ اس کے انداز ے لگائے جا رہے ہیں اسی طرح ہماری قومی فورسز ہوں یا پھر علاقائی پولیس یا پھر ملٹری فورسز ان کو بھی اسی طرح ٹرینڈ کرنا پڑے گا اور فورسز تبھی اپنے اہداف حاصل کرتی ہیں جب کسی کی بھرتی کا غیر جانبدارانہ ہوگا تو امن و امان کی بحالی اور ملک دشمن عناصر کی سر کوبی بخوبی ہو سکے گی۔  قارئین کرام! حالیہ مختصر اور خوفناک جنگ جس سے بھارت دو چار ہوا اور پاکستان کا بھارت کے خلاف سائبر اٹیک تاریخ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جانے لگا ہے۔ جس سے بھارت کا جدید ترین دفاعی نظام تباہ ہو گیا ہے۔ اور سب سے غیر متوقع دھجکا پاکستان کی سائبر وار سے لگا ہے حالانکہ آئی ٹی کے شعبے میں پاکستان کو بھارت کا مد مقابل ہی نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن پاکستان نے مواصلاتی لائنوں ایئر ٹریفک سسٹم اور بھارت کے ڈیجیٹل ڈیفنس کنٹرول کو بھی غیر موثر کر دیا ہے۔ اس کے انداز ے لگائے جا رہے ہیں اسی طرح ہماری قومی فورسز ہوں یا پھر علاقائی پولیس یا پھر ملٹری فورسز ان کو بھی اسی طرح ٹرینڈ کرنا پڑے گا اور فورسز تبھی اپنے اہداف حاصل کرتی ہیں جب کسی کی بھرتی کا غیر جانبدارانہ ہوگا تو امن و امان کی بحالی اور ملک دشمن عناصر کی سر کوبی بخوبی ہو سکے گی۔  ہم اگر ڈیرہ غازی خان کے کوہ سلیمان میں امن و امان کی ذمہ دار فورسز کے حوالے سے بات کریں تو ماڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی فورسز ہر لحاظ سے اہم ہیں۔ بارڈر ملٹری پولیس کے اپنے تھانے ہیں اور فورس ہے جن کے ہیڈ کوارٹر ضلعی سطح پر موجود ہیں ہر دو فورسز کے کمانڈنٹ پولیٹیکل اسسٹنٹ ہوتے ہیں۔اور سینٹر کمانڈنٹ ہر ضلع یعنی ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے ڈپٹی کمشنر ہوتے ہیں۔ کمشنر نگران اعلی ہوتے ہیں کوہ سلیمان دونوں اضلاع کے مغربی طویل حصہ پر مشتمل ہے۔اور باہر سے آنے والے حملہ آور ان پہاڑوں کے راستے سے پنجاب میں داخل ہو رہے۔ انگریز دور میں 1904 میں ان فورسز کی ضرورت محسوس کی گئی تو ان کی بنیاد رکھی گئی وہ سلیمان کے تمام بلوچ قبائل پر مشتمل نوجوان ہنر مندوں کو اس میں بھرتی کیا گیا کیونکہ مقامی افراد اپنے علاقے اور ایک دوسرے قبیلے کو بخوبی جانتے تھے اس طرح جرائم کے قلع قمع کرنے میں بھی مدد ملتی تھی اور باہر سے آنے والے لوگوں کی پہچان ہو جاتی تھی ان فورسز کی قوت بڑھانے کے لیے مختلف پوسٹوں میں اضافہ کیا جاتا رہا لیکن مختلف اسامیوں میں اضافہ سردار فاروق احمد خان لغاری کے دور صدارت میں ہوا۔وہ حالات سے آگاہ تھے اور بارڈر ملٹری پولیس کی اہمیت سے آگاہی بھی رکھتے تھے لہذابوجوہ بھرتیوں کا عمل مکمل نہ ہو سکا سوائے ملازمین کے وفات یا جانے یا طبی بنیادوں پر ریٹائرڈ اہلکاروں کے بچوں کی-A 17 کے تحت بھرتیوں کا عمل جاری رہا تاہم باقاعدہ بھرتیاں نہ ہونے کی وجہ سے مختلف آسامیوں پر کام کرنے والے ریٹائرمنٹ اور اموات میں تھی جس کی وجہ سے تھانوں میں اہلکاروں کی واضح کمی اور کو سلیمان میں امن و امان کی صورتحال جس میں سمگلنگ اور ملک دشمن ہر سرگرمیاں بڑھ چکی تھیں۔حکومت پنجاب نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے اسامیاں مشتہر کرنے کا فیصلہ کیا اور تقرریوں کا پہلا مرحلہ مکمل کیا کمشنر ڈیرہ غازی خان اور دیگر ذمہ داران نے اس بار یہ فیصلہ کیا کہ نئی تقرریاں خالص میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی کوہ سلیمان میں بسنے والے بلوچ تمن کے کوٹے کے مطابق اہلیت

صحافی کے قلم سے

۔۔۔۔۔ ” آل یوتھ اور حالیہ فضائی معرکہ “

تحریر : سکندر بیک مرزا   یہ  کوئی ڈھکی چھپی بات  نہیں ہے کہ  پاکستان کو روز اول سے ہی  بے شمار  اندرونی اور بیرونی مسائل  کا سامنا رہتا ہے ان مسائل  کے ساتھ ساتھ  ایک  اور تکلیف دہ اور مستقل  بیماری اپنے  پڑوسی ملک بھارت کی صورت میں ہمیشہ  لاحق رہتی  ہے جسے   اس خطے میں بسنے والے 25 کروڑ  باشندوں کی  کوئی کامیابی   ہضم نہیں ہوتی   اپنے حجم  آبادی اور وسائل کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہونے کی وجہ سے بھارت اپنے  ہمسایہ ممالک کی خود مختاری اور آزادی کو پائمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا بلخصوص پاکستان کو انڈر پریشر رکھنے کی  خواہش ہر وقت اس کے سینے میں جا گزیں رہتی ہے  پاکستان کے شمال مغربی  سرحدی علاقوں اور افغانستان میں لٹیروں اور بلیک میلروں  کے بہت سے گروپس بحری قذاقوں کی طرح  سارا سال کاروائیاں کرتے رہتے ہیں جن میں ٹی ٹی پی بی ایل اے آئسس   فرقہ پرست اور لسانی  تنظیمیں شامل ہیں  جنہیں اپنا مذموم نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے  بھارت مالی وسائل مہیا کرتا ہے اس کے علاوہ را اور ان کے سٹریٹیجک پارٹنرز مل کر  معاشی اور سیاسی گرداب میں گھرے ہوئے  پاکستان  کی سالمیت کا شیرازہ بکھرنے  کی آرزو  دل میں لئے  ہر وقت مواقع کی تلاش میں  سرگرداں رہتے ہیں ہم نے خود بھی اپنی حماقتوں  اور عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے  ملک میں انیس سو اکہتر جیسے حالات پیدا کرنے کے لیے کوئی کسر باقی  نہیں چھوڑی جنگ سے پہلے عوام  حکومت اور  فوج  کے مخالف سمت کھڑے دکھائی دیتے  تھے  پاکستان کے ازلی  دشمن بھارت نے اسے سنہری موقع جان کر پاکستان کے قلب پر کاری ضربیں لگانے کا ناپاک منصوبہ بنایا   اپنے نمک خوار بلوچ باغیوں کے ذریعے جعفر ایکسپریس کو اغوا کروایا شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد سینکڑوں پنجابی مسافروں اور فوج کے جوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا پوری پاکستانی قوم شدید غصے  کی کیفیت میں تھی مگر   اپنی کمزوریوں اور گرے ایریاز کو پیش نظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی ادھر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی  نے پہلگام میں  26 سیاحوں کو موت کے گھاٹ اتار کر  پاکستان پر حملے کا جواز گھڑ لیا  مودی اپنے آپ کو شیوا جی اور سانبھا جی مہاراج کا معنوی جانشین سمجھتا ہے  بھارتی  ڈراموں  فلموں اور موسیقی  کی رسیا  قوم ہے  جنگ کو بھی کسی  فلم کی شوٹنگ کا حصہ  سمجھ رہے  تھے  مودی نے  مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینے کے لئے پہلے “چھاوا” نامی فلم ریلیز کروائی پھر   مغل شہنشاہ  اورنگ زیب عالمگیر  کے مزار پر حملے کروائے اس کے علاوہ  اپنے سٹریٹیجک پارٹنرز اور اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر بلوچستان اور آذاد کشمیر پر قبضے کا منصوبہ بنایا  امریکہ نے ٹرین پر حملے کا واقعہ رونما ہونے سے پہلے اپنے شہریوں کو ٹریول ایڈوائزری جاری کر رکھی تھی بھارتی حملوں سے پہلے  پاکستان میں جنگی درجہ حرارت صفر کے برابر  تھا مگر  بھارت کی طرف سے  مسلسل یک طرفہ حملوں نے پاکستانی قوم میں شدید غم وغصہ بھر دیا پوری قوم سیسہ پلائی ہوئیدیوار بن کر اپنی فوج کی پشت پر کھڑی ہو گئی پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بہادری اور شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کیں پاکستانی جنگی طیاروں نے اپنی فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے جنگ عظیم دوم  کے بعد سب سے  بڑی اور طویل دورانیے کی   فضائی جنگ لڑی  اس معرکے میں حملہ آور بھارت  رافیل سمیت پانچ  جدید ترین  جنگی طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھا  طویل عرصہ سے جنگ دیکھنے والی پاکستانی  قوم ڈرون حملوں کو فائر ورک سمجھ کر محظوظ ہوتی  رہی  ایک جنگ فضاوں اور محاذوں پر پاکستانی فوج  لڑ  رہی تھی جبکہ دوسری  جنگ پاکستانی یوتھ سوشل میڈیا پر لڑنے میں مصروف تھی دفاعی تجزیہ نگار اور جنگی حکمت عملی  کے ماہرین  جنگ کے دوران اپنے جوانوں کا مورال ہائی رکھنے اور ان کا لہو گرمانے کے لئے  پروپیگنڈا ٹیم کو باقاعدہ فوج کا اہم  جزو سمجھتے ہیں پاکستانی نوجوانوں نے اپنے سارے گلے شکوے اور ناراضگیاں ایک طرف رکھتے ہوئے بغیر وقت ضائع کئے سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال لیا دیکھتے ہی دیکھتے چند  لمحوں میں اپنی فوج  اور پاکستان کے بیانیے کو دنیا بھر میں پھیلا دیا مجھے امریکہ سے میرے بیٹے اور برطانیہ سے دوستوں نے بتایا ہے کہ ہفتے اور اتوار کو پوری دنیا کے سوشل میڈیا پر صرف پاکستانی بیانیہ چھایا ہوا تھا دنیا کا ہر شخص بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ پر سیخ پا تھا اور ان کی جارحانہ پالیسوں کی وجہ سے ان ممالک پر  لعن طعن کر رہا تھا اس کے برعکس بھارتی جھوٹ پر جھوٹ بولے جا  رہے تھے جس کا یقین خود بھارتیوں کو بھی نہیں تھا   بنیان المرصوص  معرکے  میں بے مثال  کامیابی حاصل کرنے پر پاکستان کی فوجی قیادت فضائیہ کے ہوا باز  بری بحری افواج کے سرفروش  اور سوشل میڈیا پر جنگ لڑنے والے جواں سال مجاہد   مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی جرت  استقامت اور بصیرت  کی  بدولت  اللہ کریم نے قوم کو حق و باطل کے اس  معرکے میں سرخرو کیا ماضی کی تاریخ کو مد نظر رکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ حالیہ جنگ کوئی  اخری معرکہ نہیں کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کور ایشو ہے  شملہ معائدہ زائدالمیعاد  time barred  ہونے کی وجہ سے منسوخ ہو چکا ہے یو این او کو اپنی قراردادوں سے گرد  جھاڑ کر ان پر عمل درآمد کروانے کے لئے اقدامات کرنے چاہیں   لاکھوں کشمیری نوجوان  آزادی کے لئے اپنے سروں کی فصلیں کٹوا چکے ہیں پاکستان کا وجود  کشمیر کے  بغیر ادھورا ہے اس کے  دریا ہماری لائف لائنز ہیں اس لئے بزدلوں کی طرح  زندگی جینے سے عزت کی موت مرنا  لاکھ درجہ بہتر ہے پاکستان کو  مضبوط اعصاب کے مالک جنگجو اور جری لیڈروں کی ضرورت ہے جو عوام میں مقبول ہونے کے ساتھ  شدید دباو میں بھی ڈیلیور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں  اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کو  باغیوں اور ان کے ہمدردوں  کے ناپاک  وجود سے پاک کر دیا جائے متوقع خطرات کے پیش نظر پاکستانی قیادت کو اپنی صفوں میں اتحاد اتفاق اور ہم آہنگی  پیدا

صحافی کے قلم سے

۔۔۔۔۔ ” آل یوتھ اور حالیہ فضائی معرکہ “

تحریر : سکندر بیک مرزا   یہ  کوئی ڈھکی چھپی بات  نہیں ہے کہ  پاکستان کو روز اول سے ہی  بے شمار  اندرونی اور بیرونی مسائل  کا سامنا رہتا ہے ان مسائل  کے ساتھ ساتھ  ایک  اور تکلیف دہ اور مستقل  بیماری اپنے  پڑوسی ملک بھارت کی صورت میں ہمیشہ  لاحق رہتی  ہے جسے   اس خطے میں بسنے والے 25 کروڑ  باشندوں کی  کوئی کامیابی   ہضم نہیں ہوتی   اپنے حجم  آبادی اور وسائل کے اعتبار سے ایک بڑا ملک ہونے کی وجہ سے بھارت اپنے  ہمسایہ ممالک کی خود مختاری اور آزادی کو پائمال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا بلخصوص پاکستان کو انڈر پریشر رکھنے کی  خواہش ہر وقت اس کے سینے میں جا گزیں رہتی ہے  پاکستان کے شمال مغربی  سرحدی علاقوں اور افغانستان میں لٹیروں اور بلیک میلروں  کے بہت سے گروپس بحری قذاقوں کی طرح  سارا سال کاروائیاں کرتے رہتے ہیں جن میں ٹی ٹی پی بی ایل اے آئسس   فرقہ پرست اور لسانی  تنظیمیں شامل ہیں  جنہیں اپنا مذموم نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے  بھارت مالی وسائل مہیا کرتا ہے اس کے علاوہ را اور ان کے سٹریٹیجک پارٹنرز مل کر  معاشی اور سیاسی گرداب میں گھرے ہوئے  پاکستان  کی سالمیت کا شیرازہ بکھرنے  کی آرزو  دل میں لئے  ہر وقت مواقع کی تلاش میں  سرگرداں رہتے ہیں ہم نے خود بھی اپنی حماقتوں  اور عوام دشمن پالیسوں کی وجہ سے  ملک میں انیس سو اکہتر جیسے حالات پیدا کرنے کے لیے کوئی کسر باقی  نہیں چھوڑی جنگ سے پہلے عوام  حکومت اور  فوج  کے مخالف سمت کھڑے دکھائی دیتے  تھے  پاکستان کے ازلی  دشمن بھارت نے اسے سنہری موقع جان کر پاکستان کے قلب پر کاری ضربیں لگانے کا ناپاک منصوبہ بنایا   اپنے نمک خوار بلوچ باغیوں کے ذریعے جعفر ایکسپریس کو اغوا کروایا شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد سینکڑوں پنجابی مسافروں اور فوج کے جوانوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا پوری پاکستانی قوم شدید غصے  کی کیفیت میں تھی مگر   اپنی کمزوریوں اور گرے ایریاز کو پیش نظر رکھتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی ادھر بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی  نے پہلگام میں  26 سیاحوں کو موت کے گھاٹ اتار کر  پاکستان پر حملے کا جواز گھڑ لیا  مودی اپنے آپ کو شیوا جی اور سانبھا جی مہاراج کا معنوی جانشین سمجھتا ہے  بھارتی  ڈراموں  فلموں اور موسیقی  کی رسیا  قوم ہے  جنگ کو بھی کسی  فلم کی شوٹنگ کا حصہ  سمجھ رہے  تھے  مودی نے  مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان نفرت کو بڑھاوا دینے کے لئے پہلے “چھاوا” نامی فلم ریلیز کروائی پھر   مغل شہنشاہ  اورنگ زیب عالمگیر  کے مزار پر حملے کروائے اس کے علاوہ  اپنے سٹریٹیجک پارٹنرز اور اتحادیوں کو اعتماد میں لے کر بلوچستان اور آذاد کشمیر پر قبضے کا منصوبہ بنایا  امریکہ نے ٹرین پر حملے کا واقعہ رونما ہونے سے پہلے اپنے شہریوں کو ٹریول ایڈوائزری جاری کر رکھی تھی بھارتی حملوں سے پہلے  پاکستان میں جنگی درجہ حرارت صفر کے برابر  تھا مگر  بھارت کی طرف سے  مسلسل یک طرفہ حملوں نے پاکستانی قوم میں شدید غم وغصہ بھر دیا پوری قوم سیسہ پلائی ہوئیدیوار بن کر اپنی فوج کی پشت پر کھڑی ہو گئی پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بہادری اور شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کیں پاکستانی جنگی طیاروں نے اپنی فضائی حدود کی حفاظت کرتے ہوئے جنگ عظیم دوم  کے بعد سب سے  بڑی اور طویل دورانیے کی   فضائی جنگ لڑی  اس معرکے میں حملہ آور بھارت  رافیل سمیت پانچ  جدید ترین  جنگی طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھا  طویل عرصہ سے جنگ دیکھنے والی پاکستانی  قوم ڈرون حملوں کو فائر ورک سمجھ کر محظوظ ہوتی  رہی  ایک جنگ فضاوں اور محاذوں پر پاکستانی فوج  لڑ  رہی تھی جبکہ دوسری  جنگ پاکستانی یوتھ سوشل میڈیا پر لڑنے میں مصروف تھی دفاعی تجزیہ نگار اور جنگی حکمت عملی  کے ماہرین  جنگ کے دوران اپنے جوانوں کا مورال ہائی رکھنے اور ان کا لہو گرمانے کے لئے  پروپیگنڈا ٹیم کو باقاعدہ فوج کا اہم  جزو سمجھتے ہیں پاکستانی نوجوانوں نے اپنے سارے گلے شکوے اور ناراضگیاں ایک طرف رکھتے ہوئے بغیر وقت ضائع کئے سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال لیا دیکھتے ہی دیکھتے چند  لمحوں میں اپنی فوج  اور پاکستان کے بیانیے کو دنیا بھر میں پھیلا دیا مجھے امریکہ سے میرے بیٹے اور برطانیہ سے دوستوں نے بتایا ہے کہ ہفتے اور اتوار کو پوری دنیا کے سوشل میڈیا پر صرف پاکستانی بیانیہ چھایا ہوا تھا دنیا کا ہر شخص بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ پر سیخ پا تھا اور ان کی جارحانہ پالیسوں کی وجہ سے ان ممالک پر  لعن طعن کر رہا تھا اس کے برعکس بھارتی جھوٹ پر جھوٹ بولے جا  رہے تھے جس کا یقین خود بھارتیوں کو بھی نہیں تھا   بنیان المرصوص  معرکے  میں بے مثال  کامیابی حاصل کرنے پر پاکستان کی فوجی قیادت فضائیہ کے ہوا باز  بری بحری افواج کے سرفروش  اور سوشل میڈیا پر جنگ لڑنے والے جواں سال مجاہد   مبارک باد کے مستحق ہیں جن کی جرت  استقامت اور بصیرت  کی  بدولت  اللہ کریم نے قوم کو حق و باطل کے اس  معرکے میں سرخرو کیا ماضی کی تاریخ کو مد نظر رکھ کر یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ حالیہ جنگ کوئی  اخری معرکہ نہیں کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کور ایشو ہے  شملہ معائدہ زائدالمیعاد  time barred  ہونے کی وجہ سے منسوخ ہو چکا ہے یو این او کو اپنی قراردادوں سے گرد  جھاڑ کر ان پر عمل درآمد کروانے کے لئے اقدامات کرنے چاہیں   لاکھوں کشمیری نوجوان  آزادی کے لئے اپنے سروں کی فصلیں کٹوا چکے ہیں پاکستان کا وجود  کشمیر کے  بغیر ادھورا ہے اس کے  دریا ہماری لائف لائنز ہیں اس لئے بزدلوں کی طرح  زندگی جینے سے عزت کی موت مرنا  لاکھ درجہ بہتر ہے پاکستان کو  مضبوط اعصاب کے مالک جنگجو اور جری لیڈروں کی ضرورت ہے جو عوام میں مقبول ہونے کے ساتھ  شدید دباو میں بھی ڈیلیور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں  اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان کو  باغیوں اور ان کے ہمدردوں  کے ناپاک  وجود سے پاک کر دیا جائے متوقع خطرات کے پیش نظر پاکستانی قیادت کو اپنی صفوں میں اتحاد اتفاق اور ہم آہنگی  پیدا

صحافی کے قلم سے

آپریشن سندُور بمقابلہ آپریشن بُنیان مُرصوص

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق ویسے تو پاک بھارت تمام جنگیں ہی ملٹری ہسٹری کے  ایک طالب علم کے لیئے اہم اور دلچسپ ہیں کیونکہ ان جنگوں میں پاکستان پچھلی آٹھ دہائیوں سے  پانچ گُنا  بڑے ایسے  دُشمن سے نبرد آزما ہے جو اُس مٹانے اور ختم کرنے کے لیئے ہروقت کُچھ نہ کُچھ کرتا رہتا ہے لیکن  “پہلگام فالس فلیگ بھارتی ڈرامے” کے بعد بھارتی رعونت پر مبنی “آپریشن سندُور” (جسے “آپریشن غرُور” کہا جائے تو بہتر ہوگا)  اور بجلی کی طرح کُوندتے ہو ئے پاکستانی  “آپریشن بُنیان مُرصوص”  (جس میں پاکستان نے محض چند گھنٹوں میں بھارت کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے تمام میدانوں میں پچھاڑ کر رکھ دیا) کو معاشیات، بین المذاہب،  بین الاقوامی سیاست،  ڈہلومیسی،  ملٹری ہسٹری، آپریشنل اور اسٹریٹیجیک لیول کے  پلانرز، وار انڈسٹری کے   ٹیکنالوجیکل  انجینئرز نہ صرف پڑھا کریں گے بلکہ اس سے کئی اہم اسباق نکالا کریں گے۔   بھارت پہلگام کے ڈرامے کے بعد پاکستان کو مٹانے کا خواب دیکھنے سے لیکر ڈرانے دھمکانے  اور پھر ننگی جارحیت پر اُتر آیا تھا  چند گھنٹوں کے آپریشن بُنیان مرصوص کے بعد مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور ہوگیا۔ بھارتی عددی برتری بھی پاکستانی اعلٰی  عسکری حکمت عملی کے سامنے بھارت کے کسی کام نہ آئی۔ دونوں آپریشنز کا جب عمومی تقابلہ جائزہ لیا جائے تو جو باتیں سامنے آتی ہیں اُن کو اگر ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ بھارت کا مکروفریب اور جھوٹا پراپیگنڈا اور اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیئے اپنے ہی معصوم شہریوں کو قتل کرکے پڑوسی مُلک پر دہشت گردی کا جواز بنا کر یلغار کرکے مسئلہ کشمیر کو گول کرنا اور سندھ طاس معاہدہ کینسل کرکے پاکستان پر آبی یلغار کا کنٹرل حاصل کرنا تھا اور  اسی مقصد کے پیچھے وہ  اپنے آپ کو جنوب ایشیائی خطے کی سُپر پاور ثابت کرنا تھا۔ لیکن بھارت کے ساتھ جو افواج پاکستان  اور اُن کی عسکری قیادت نے اُس کی تفصیل پر یوں تو کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے پاکستان نے ہر میدان میں بھارت کو چاروں شانے چت کردیا۔   واضح رہے کہ   آپریشن بُنیان  مرصوص سے پہلے ہی 5 بھارتی فائٹر جیٹ جن میں تین  جدید  رافیل طیارے اور  80 اسرائیلی ساختہ ڈرونز  شامل تھے بھارت پہلے ہی  تباہ کروا چکا تھا۔ ڈپلومیسی کے میدان میں بھارت  ایک جھوٹا، جارح،  اپنی معصوم شہریوں کی قاتل ایک دہشت گردی ریاست  اور اس کا میڈیا “فیک نیوز فیکٹری” کے طور پر دُنیا کے سامنے ننگے ہوچکے تھے۔ معیشت کی بات کی جائے تو انڈین اسٹاک مارکیٹ Nifty میں ایک بھونچال سا آگیا اور بھارت کو محض اڑتالیس گھنٹوں مین 6.9 ٹریلین بھارتی روپے اور 82 ارب امریکی ڈالرز  میں نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارت کی  Reliance Digital اور  HDFC Bank جیسی کمپنیوں کے شیئرز گرگئے اور اپنے نقصان پر دیگر بھارتی بنک بھی چیخ اُٹھے۔ بھارتی معاشی ترقی چند گھنٹوں میں زمین بوس ہوگئی اور مستقبل میں بھی اس کو سنبھلنے میں وقت لگے گا۔  اگر جنگی میدان کی بات کی جائے تو پاکستانی میزائلوں اور ائر فورس نے اُڑی، نگروٹا، بیاس، ادھم پور، پٹھان کوٹ، چندی گڑھ، سری نگر، سرسہ، سُورت گڑھ، اکھنور، (پورے پاک بھارت بارڈر اور لائن آف کنٹرول)  جیسے کئی اہم مقامات پر وہ تباہی مچائی کہ بھارت دیکھتا رہ گیا اور کچھ کر نہیں سکا۔ ملٹری انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹرز سمیت کئی ہوائی اڈے، کشمیر میں کئی بھارتی پوسٹیں، ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ کے ڈپو اور براہموس بھارتی میزائل ڈپو اور ائرڈیفنس سائٹس سب  کو آپریشن بنیان مرصوس نے ملیا میٹ کرکے رکھ دیا۔ اسی طرح آپریشن بنیان مرصوص میں  رافیل طیارے کی ایک بھارتی پائلٹ بھی پاکستان نے گرفتار کرلی۔ آپریشن بُنیان مرصوص میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانی  کارکردگی کا  اگر جائزہ لیا جائے تو پہلے نمبر پر یہ بات یاد رکھی جائے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان نے اس میدان میں جو کیا وہ ناقابل یقین اور بھارت کے ساتھ ساتھ باقی دُنیا کے وہم وگُمان میں بھی نہیں تھا۔ SCADA Software  (مینوفیکچر اور اکاپوریٹ انڈسٹری  کا معروف سافٹ ویئر)  کے مطابق پاکستان نے  10بھارتی Servers اور  1744 بھارتی گورنمنٹ کی ویب سائٹس کو اُڑا کر رکھ دیا۔ بھارت کا گیس اور تیل کا کمپیوٹر نظام  پاکستانی سائبر حملے کا شکار بنا، کئی ای میل ہیک کی گئیں، بی ایس ایف سمیت کئی دیگر فوجی اور نیمی فوجی اداروں کا ڈیٹا نہ صرف پاکستان لے اُڑا بلکہ اس کو شدید نقصان بھی پہنچایا۔ اسی طرح 3 کارپوریٹ سائٹس کے علاوہ 110سے زیادہ بھارتی میڈیا ہاوسز کا ڈیٹا بھی پاکستان سائبر فورس کے ہاتھ لگ گیا۔ اسی طرح بھارتی ریلوے، گرڈ اسٹیشنز، جی پی ایس،  تمام سیٹیلائٹ سگنلز کو پاکستان کے آئی ٹی ایکسپرٹ اور سائبر فورس نے  جام کرکے رکھ دیا۔  بھارت کا وہ غرور جس کے مطابق بھارت انفارمیش ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے آپ کو  بہت آگے سمجھتا تھا اسے بھی پاکستانی سائبر فورس نے خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ اگر صرف پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی کی برتری کی بات کی جائے تو کشمیر میں  سامبا، جموں، اُڑی، نوگوام، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، اوانٹی پورہ اور نگروٹا میں پاکستانی ڈرونز ایسے اُڑتے رہے۔اسی طرح پنجاب میں  راجھستان، پوکھران (بھارتی ایٹمی  میزائل سائٹ)، امرتسر، فیروز پور، فاضلیکہ، لال گڑھ، جاٹا، جیسلمیر، بارمر، بھوج، کوربٹ، لکھی نالہ، نورمانیا، حصار، ہریانہ اور  پورا دہلی میں پاکستانی ڈرونز ایسے اُڑتے رہے جیسے اپنے ہی علاقے میں ہوں اور ان میں سے ایک کا بھی ملبہ بھارتی میڈیا پیش نہ کرسکا۔ پاکستانی ڈرونز نے نہ صرف پورے بھارت بلکہ بھارتی فوج  میں  بالخصوص ایک ایسا خوف ہراس پیدا کیا کہ  عسکری قیادت سمیت پورے بھارت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔  اس کے مقابلے میں  پاکستان  بھارت کی طرف سے اُڑائے گئے  اسرائیلی  ڈرونز کے ملبے کا ڈھیر  پاکستانی میڈیا دکھاتا رہا اور اسی طرح  ان ڈرونز کے ساتھ پاکستانی عوام مختلف جگہوں پر کھیلتے، مذاق کرتے اور اپنے ذاتی اسلحہ سے انہیں شکار کرتے  نظر آئے۔ پاکستانی قوم میں ایک جذبہ تھا،  جوش تھا اور وہ مُتحد ہوکر اپنی افواج کے پیچھے کھڑی تھی جبکہ بھارتی قوم  پاکستانی ڈرونز سے سہمے  اپنی ہی حکومت اور فوج  کو کوس رہے تھے۔ 

صحافی کے قلم سے

آپریشن سندُور بمقابلہ آپریشن بُنیان مُرصوص

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق ویسے تو پاک بھارت تمام جنگیں ہی ملٹری ہسٹری کے  ایک طالب علم کے لیئے اہم اور دلچسپ ہیں کیونکہ ان جنگوں میں پاکستان پچھلی آٹھ دہائیوں سے  پانچ گُنا  بڑے ایسے  دُشمن سے نبرد آزما ہے جو اُس مٹانے اور ختم کرنے کے لیئے ہروقت کُچھ نہ کُچھ کرتا رہتا ہے لیکن  “پہلگام فالس فلیگ بھارتی ڈرامے” کے بعد بھارتی رعونت پر مبنی “آپریشن سندُور” (جسے “آپریشن غرُور” کہا جائے تو بہتر ہوگا)  اور بجلی کی طرح کُوندتے ہو ئے پاکستانی  “آپریشن بُنیان مُرصوص”  (جس میں پاکستان نے محض چند گھنٹوں میں بھارت کے غرور کو خاک میں ملاتے ہوئے تمام میدانوں میں پچھاڑ کر رکھ دیا) کو معاشیات، بین المذاہب،  بین الاقوامی سیاست،  ڈہلومیسی،  ملٹری ہسٹری، آپریشنل اور اسٹریٹیجیک لیول کے  پلانرز، وار انڈسٹری کے   ٹیکنالوجیکل  انجینئرز نہ صرف پڑھا کریں گے بلکہ اس سے کئی اہم اسباق نکالا کریں گے۔   بھارت پہلگام کے ڈرامے کے بعد پاکستان کو مٹانے کا خواب دیکھنے سے لیکر ڈرانے دھمکانے  اور پھر ننگی جارحیت پر اُتر آیا تھا  چند گھنٹوں کے آپریشن بُنیان مرصوص کے بعد مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور ہوگیا۔ بھارتی عددی برتری بھی پاکستانی اعلٰی  عسکری حکمت عملی کے سامنے بھارت کے کسی کام نہ آئی۔ دونوں آپریشنز کا جب عمومی تقابلہ جائزہ لیا جائے تو جو باتیں سامنے آتی ہیں اُن کو اگر ترتیب کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلی چیز جو سامنے آتی ہے وہ بھارت کا مکروفریب اور جھوٹا پراپیگنڈا اور اپنے گھناؤنے مقاصد کے لیئے اپنے ہی معصوم شہریوں کو قتل کرکے پڑوسی مُلک پر دہشت گردی کا جواز بنا کر یلغار کرکے مسئلہ کشمیر کو گول کرنا اور سندھ طاس معاہدہ کینسل کرکے پاکستان پر آبی یلغار کا کنٹرل حاصل کرنا تھا اور  اسی مقصد کے پیچھے وہ  اپنے آپ کو جنوب ایشیائی خطے کی سُپر پاور ثابت کرنا تھا۔ لیکن بھارت کے ساتھ جو افواج پاکستان  اور اُن کی عسکری قیادت نے اُس کی تفصیل پر یوں تو کتابیں لکھی جاسکتی ہیں لیکن مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے پاکستان نے ہر میدان میں بھارت کو چاروں شانے چت کردیا۔   واضح رہے کہ   آپریشن بُنیان  مرصوص سے پہلے ہی 5 بھارتی فائٹر جیٹ جن میں تین  جدید  رافیل طیارے اور  80 اسرائیلی ساختہ ڈرونز  شامل تھے بھارت پہلے ہی  تباہ کروا چکا تھا۔ ڈپلومیسی کے میدان میں بھارت  ایک جھوٹا، جارح،  اپنی معصوم شہریوں کی قاتل ایک دہشت گردی ریاست  اور اس کا میڈیا “فیک نیوز فیکٹری” کے طور پر دُنیا کے سامنے ننگے ہوچکے تھے۔ معیشت کی بات کی جائے تو انڈین اسٹاک مارکیٹ Nifty میں ایک بھونچال سا آگیا اور بھارت کو محض اڑتالیس گھنٹوں مین 6.9 ٹریلین بھارتی روپے اور 82 ارب امریکی ڈالرز  میں نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارت کی  Reliance Digital اور  HDFC Bank جیسی کمپنیوں کے شیئرز گرگئے اور اپنے نقصان پر دیگر بھارتی بنک بھی چیخ اُٹھے۔ بھارتی معاشی ترقی چند گھنٹوں میں زمین بوس ہوگئی اور مستقبل میں بھی اس کو سنبھلنے میں وقت لگے گا۔  اگر جنگی میدان کی بات کی جائے تو پاکستانی میزائلوں اور ائر فورس نے اُڑی، نگروٹا، بیاس، ادھم پور، پٹھان کوٹ، چندی گڑھ، سری نگر، سرسہ، سُورت گڑھ، اکھنور، (پورے پاک بھارت بارڈر اور لائن آف کنٹرول)  جیسے کئی اہم مقامات پر وہ تباہی مچائی کہ بھارت دیکھتا رہ گیا اور کچھ کر نہیں سکا۔ ملٹری انٹیلیجنس ہیڈ کوارٹرز سمیت کئی ہوائی اڈے، کشمیر میں کئی بھارتی پوسٹیں، ہیڈکوارٹرز اور اسلحہ کے ڈپو اور براہموس بھارتی میزائل ڈپو اور ائرڈیفنس سائٹس سب  کو آپریشن بنیان مرصوس نے ملیا میٹ کرکے رکھ دیا۔ اسی طرح آپریشن بنیان مرصوص میں  رافیل طیارے کی ایک بھارتی پائلٹ بھی پاکستان نے گرفتار کرلی۔ آپریشن بُنیان مرصوص میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانی  کارکردگی کا  اگر جائزہ لیا جائے تو پہلے نمبر پر یہ بات یاد رکھی جائے کہ بھارت کے ساتھ پاکستان نے اس میدان میں جو کیا وہ ناقابل یقین اور بھارت کے ساتھ ساتھ باقی دُنیا کے وہم وگُمان میں بھی نہیں تھا۔ SCADA Software  (مینوفیکچر اور اکاپوریٹ انڈسٹری  کا معروف سافٹ ویئر)  کے مطابق پاکستان نے  10بھارتی Servers اور  1744 بھارتی گورنمنٹ کی ویب سائٹس کو اُڑا کر رکھ دیا۔ بھارت کا گیس اور تیل کا کمپیوٹر نظام  پاکستانی سائبر حملے کا شکار بنا، کئی ای میل ہیک کی گئیں، بی ایس ایف سمیت کئی دیگر فوجی اور نیمی فوجی اداروں کا ڈیٹا نہ صرف پاکستان لے اُڑا بلکہ اس کو شدید نقصان بھی پہنچایا۔ اسی طرح 3 کارپوریٹ سائٹس کے علاوہ 110سے زیادہ بھارتی میڈیا ہاوسز کا ڈیٹا بھی پاکستان سائبر فورس کے ہاتھ لگ گیا۔ اسی طرح بھارتی ریلوے، گرڈ اسٹیشنز، جی پی ایس،  تمام سیٹیلائٹ سگنلز کو پاکستان کے آئی ٹی ایکسپرٹ اور سائبر فورس نے  جام کرکے رکھ دیا۔  بھارت کا وہ غرور جس کے مطابق بھارت انفارمیش ٹیکنالوجی کے میدان میں اپنے آپ کو  بہت آگے سمجھتا تھا اسے بھی پاکستانی سائبر فورس نے خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ اگر صرف پاکستان کی ڈرون ٹیکنالوجی کی برتری کی بات کی جائے تو کشمیر میں  سامبا، جموں، اُڑی، نوگوام، پونچھ، راجوڑی، بارہ مولا، اوانٹی پورہ اور نگروٹا میں پاکستانی ڈرونز ایسے اُڑتے رہے۔اسی طرح پنجاب میں  راجھستان، پوکھران (بھارتی ایٹمی  میزائل سائٹ)، امرتسر، فیروز پور، فاضلیکہ، لال گڑھ، جاٹا، جیسلمیر، بارمر، بھوج، کوربٹ، لکھی نالہ، نورمانیا، حصار، ہریانہ اور  پورا دہلی میں پاکستانی ڈرونز ایسے اُڑتے رہے جیسے اپنے ہی علاقے میں ہوں اور ان میں سے ایک کا بھی ملبہ بھارتی میڈیا پیش نہ کرسکا۔ پاکستانی ڈرونز نے نہ صرف پورے بھارت بلکہ بھارتی فوج  میں  بالخصوص ایک ایسا خوف ہراس پیدا کیا کہ  عسکری قیادت سمیت پورے بھارت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔  اس کے مقابلے میں  پاکستان  بھارت کی طرف سے اُڑائے گئے  اسرائیلی  ڈرونز کے ملبے کا ڈھیر  پاکستانی میڈیا دکھاتا رہا اور اسی طرح  ان ڈرونز کے ساتھ پاکستانی عوام مختلف جگہوں پر کھیلتے، مذاق کرتے اور اپنے ذاتی اسلحہ سے انہیں شکار کرتے  نظر آئے۔ پاکستانی قوم میں ایک جذبہ تھا،  جوش تھا اور وہ مُتحد ہوکر اپنی افواج کے پیچھے کھڑی تھی جبکہ بھارتی قوم  پاکستانی ڈرونز سے سہمے  اپنی ہی حکومت اور فوج  کو کوس رہے تھے۔ 

صحافی کے قلم سے

آپریشن بُنیان مُرصوص: افواجِ پاکستان نے قوم کا سر فخر سے بُلند کردیا

  میجر (ر) ساجد مسعود صادق حدِ وسعتِ بصیرت “بُنیان مرصوص” پھیلی تھی۔ جی ایچ کیو کے اُن بند کمروں سے لیکر جہاں “آپریشن بُنیان مُرصوص” کی پلاننگ کی گئی، کشمیر کی وہ چوٹیاں جو  دیوارِ چین کی طرح  بُلند  ہیں اور جہاں “خاکی وردی میں خاک نشین مجاہدین اسلام و پاکستان” صدائے اور نوائے حق کے لیئے دُشمن پر پل پڑنے کے لیئے تیار تھے، ابا بیلوں کا غول (پاکستانی فائٹرز جیٹ) اپنے پنجوں میں کنکریاں (میزائل) لیئے پر تول رہے تھے، فتخ میزائل (اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن)  بھارت  پر بجلی بنکر گرنے والا تھا،  مجاہدین اسلام وپاکستان کے لیئے ہاتھ اُٹھائے اللّٰہ سے فتح و نصرت کی دعائیں مانگتی پاکستانی قوم یہ سب “بنیان مرصوص” تھی یعنی سیسہ پالئی دیوار۔   افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری  طاقت کے نشے میں عصر حاضر کے  بدمست ابرہا (مُودی جنونی) کو بار بار سمجھا رہے تھے کہ “ٹکراؤ چاہتے تو آجاؤ ہم تیار ہیں لیکن بہتر ہے تُم ہمیں نہ آزماؤ” وہ سمجھارہے تھے کہ ہماری امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھو، اُنہوں نے بار بار بتایا کہ تُمہاری جنونیت کا ہمارے پاس توڑ ہے لیکن ہم خون ناحق بہانا نہیں چاہتے لیکن بھارت نہ سمجھا اور آخر کار “فتح  ون میزائل”  کی زبان ہی اُسے سمجھ آئی۔ بھارت کو ناز تھا کہ اُس کی معیشت پاکستان کے مقابلے میں بہت مضبوط ہے، اسے فوجی  تعداد پر بھی گمنڈ تھا،  جدید اسرائیلی ہاروپ  ڈرونز اور  ناقابل شکست فرانسیسی رافیل طیارے اور روسی  ساختہ S-400 اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم   پر بھی اسے ناز تھا لیکن  کُفر و شرک کے ان علمبرداروں کو یہ بھول گیا کہ “معرکہ طالوت  و جالوت سے لیکر معرکہ بدر تک”  اور ابرہا کی خانہ کعبہ پر  یلغار سے لیکر قلعہ اسلام (پاکستان)  پر ہندوستان کے حملے تک معرکہ حق وباطل  برپا ہے جس میں اللّٰہ کی سُنت نہیں بدلتی۔ اللّٰہ اپنے اوپر کامل یقین رکھنے والوں اور بھروسہ کرنے والوں (مُتوکلین) کو مایوس نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ فتح یاب کرتا ہے خواہ وہ تعداد میں تھوڑے ہوں اور معاشی طور پر بھی کمزور ہوں اس سے اللّٰہ کی سُنت میں کوئی  تبدیلی نہیں آتی اور قانون قدرت یہ ہے کہ  “جو حق کا علم بُلند کرنے کے لیئے اُٹھے گا اللّٰہ کی نصرت اُس کے ساتھ ہوجائے گی، اللّٰہ ان مجاہدین کی سواریوں کی بھی قسم کھائے گا اور فرشتوں سے مدد فرمائے گا۔” (بحوالہ قرآن کریم)  معرکہ پاک و ہند ہمیشہ “حزب اللّٰہ اور حزب الشیاطین” کا معرکہ رہا ہے اسی لیئے 10 مئی کی صبح اللّٰہ کی مدد و نصرت افواج پاکستان کے ساتھ تھی اور فتح بھی یقینی  افواجِ پاکستان کی ہی  ہونی تھی۔   10مئی بروز ہفتہ سن 2025ء کو جُند اللّٰہ (افواج پاکستان) اللّٰہ کے حبیب ﷺ  اور اُن کے اصحاب رضی اللّٰہ عنہم اجمعین کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے نماز فجر کے فوراً  دُشمن کے لشکر میں جاگُھسے اور ان کی صفیں چشم زدن میں پلٹ کر رکھ دیں۔  مغرور بھارت پر قہر ٹوٹ پڑا۔ پاکستانی شاہین جب بھارتی گدھوں پر پل پڑے تو بھارتی بُزدلی کا یہ عالم تھا کہ  “نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن” یعنی نہ بھاگنے کا وقت تھا اور نہ چُھپنے کی جگہ۔ چند گھنٹوں میں پاکستان نے ناصرف اپنے معصوم شہید  اور زخمی شہریوں کا بدلہ لے لیا بلکہ بھارت کو وہ سبق سکھایا کہ وہ صدیوں یاد رکھے گا۔ اس مختصر معرکہ میں جہاں افواج پاکستان نے بھارت کی کئی ائربیسز کو تباہ کیا اوران کے  ملٹری ہیڈ کوراٹرز اور اگلے مورچوں کو ہوا میں اُڑایا وہیں بھارت پر سائبر حملہ کرکے 70 فی صد بھارت کو تاریکی میںنے ڈبو دیا۔ نائن الیون کے واقعہ اور دہشت گردی کی جنگ کے آغاز سے لیکر بھارت جس رعونت اور فرعونیت کا مظاہر کررہا تھا افواج پاکستان نے۔ وہ سارا غرور چند گھنٹوں میں خاک میں ملادیا۔    پاکستانیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ  دُنیا کی واحد ایٹمی اسلامی قوت پاکستان تمام عالم کُفر کے دلوں  کا ایسا کانٹا ہے جسے سب ملکر کر نکال پھینکنا چاہتے ہیں اور اسی  کام کے لیئے  مُودی جنونی ہندو اور بھارت جیسی دہشت گرد ریاست کو  عالم یہود وہنود نے چُنا۔ بھارت کی پُشت پناہی کون سے ممالک کررہے تھے اور اُن کے پاکستان کے متعلق ارادے کیا ہیں؟ واضح رہے کہ  پاکستان کے قائدین  نہ صرف انہیں خُوب جانتے  ہیں بلکہ ان سے نپٹنے کی حکمت عملی اور استعداد  بھی اللّٰہ کے فضل سے پاکستان کے پاس  موجود ہے جس کا مظاہرہ افواج پاکستان اور پوری قوم نے” آپریشن بُنیان مرصوص” میں کیا۔ وہی بین الاقوامی برادری جو کل شام کی بریفنگ تک پاکستان کی بات سُن کر نریندرا مُودی کو سمجھانے سے غافل تھی افواج پاکستان کے ہندوستان پر تابڑ توڑ حملوں اور ہندوستان کو افواج پاکستان کے ہاتھوں  بربادی  سے بچانے کے لیئے اچانک ہڑبڑا کر جاگ اُٹھی اور  امن کی بات کرنے لگ گئی۔ یہ معمول کی بات نہیں بلکہ معیوب اور قابل غور بات ہے جس کا مناسب لیول (قومی سطح) پر تجزیہ ہونا چاہیئے کہ آخر ایسے کیوں ہوا؟  سب سے پہلے جی سیون ممالک جاگے اور پھر یہ سلسلہ طویل ہوتا چلا گیا۔ پاکستانی قیادت کو  پاک بھارت جنگوں میں بین الاقوامی ثالثوں کے کردار کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔پاک بھارت جنگ کے دوران جہاں تمام مغربی طاقتیں  بالخصوص اسرائیل، برطانیہ  اور امریکہ بھارت کے ساتھ ہیں، اسی طرح روس بھی بھارت کو اسلحہ بیچ رہا ہے اور کئی اسلامی ممالک بھی بھارت سے جُڑے اپنی معاشی مفادات اور امریکی غلامی میں پاکستان کے خیر خواہ  نہیں۔  پاک بھارت جنگوں میں امریکی کردار کے بارے  تو مرحوم جنرل ضیاء الحق کہا کرتے تھے کہ “امریکی  بھارت کے معاملے میں فکلز Fickles یعنی  ناقابل بھروسہ ہیں” جس کا مظاہرہ ہم سن 1965-1971 کی جنگوں میں دیکھ چُکے ہیں۔ اس وقت اگر پاکستان کسی مُلک پر بھروسہ کرسکتا ہے تو وہ بڑی طاقتوں میں صرف چین اور درمیانے درجے کے ممالک میں ترکیہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کی عسکری قیادت کو بھی یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان نے  پہلی جنگ سے لیکر تمام جنگی میدانوں میں بھارت پر ہمیشہ  فتح حاصل

صحافی کے قلم سے

مولانا محمد خان لغاری کا سانحہ ارتحال

احمد خان لغاری ککوہ سلمان سے  موت سے کسی کو مفر نہیں لیکن اچانک موت جو کسی اپنے پیارے کی ہو اس پر شدید صدمہ خود کسی موت سے کم نہیں ہوتا۔ مولانا محمد خان لغاری کا سانحہ ارتحال ان میں سے ایک ہے۔ جواکیس رمضان المبارک اور بائیس مارچ رواں سال ہم سے جدا ہوئے۔ انہوں نے مفتی خان محمد لغاری جو باعمل عالم دین تفسیر، حدیث اور فقہ کے استاد تھے، کے گھر آنکھ کھولی اور والد گرامی نے تربیت فرمائی۔ بچپن میں ہی ہم دونوں بھائیوں نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں والد محترم نے دینی علوم کی بنیادی کتابیں پڑھانا شروع کیں۔ لیکن شومی قسمت والد کے سائے سے محروم ہوگئے۔ بعد ازاں یتیمی کے تھپڑوں کا مقابلہ کرتے رہے، مولانا محمد خان لغاری کی شخصیت پر والد مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کے انمٹ نقوش رہے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی طرف توجہ دی مگر یہ سب اپنے مسلک کی دینی و سیاسی جماعت میں شمولیت سے ہی ممکن تھا۔ جمعیت علما پاکستان ایک دینی و سیاسی جماعت نظام مصطفے کا نفاذ اور مقام مصطفے کے تحفظ کا علم لیکر میدان سیاست میں آچکی تھی۔ اسی جماعت سے متاثرانجمن طلبا اسلام کا قیامتھے۔ میں آیاتو یہ اس میں شامل ہوگئے اور بانی اراکین میں شامل تھے، تحریک کا ہراول دستہ میں ہونیکی وجہ سے کئی بار پس زنداں رہے، عدالتوں سے ضمانتیں ہوتیں تو دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا۔ اسی طلباتنظیم سے وابستہ نوجوانوں کی اگلی منزل جمعیت علما پاکستان تھی انہوں نے شمولیت اختیار کر کے جماعت کے منشور کے مطابق اپنا سفر شروع کیا، 1970 کے عام انتخابات میں بعد ازاں وہ جمعیت کے ساتھ رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ختم نبوت کی تحریک اور سول نافرمانی کی تحریک میں گرفتار ہوتے رہے اور چین سے نہ بیٹھے جب تک قومی اسمبلی سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ترامیم پاس نہ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ وہ اعلی قیادت مولانا انشاہ احمد نوارانی صدیقی اور مجاہدملت مولانا عبدالستار خان نیازی کا اعتماد حاصل کرلیا۔ ڈیرہ غازی خان میں سیاسی کارکن ہونے کا ثبوت دیا اور حق بات کہنے کی پاداش میں ڈیرہ غای خان جیل میں قید رہے۔ نظام مصطفےٰ کی تحریک میں اپنی جماعت کی طرف سے اپنا کردار ادا کیا، قیدو بند کی صبعو تیں برداشت کرتے رہے۔ جماعت کے صوبائی عہدیدار اور موثر کردار کی وجہ سے اور نوجوان ہونے کی وجہ سے جذباتی رویہ رکھتے تھے۔ 1977 کے مارشل لائکے دور میں بھی وہ پیچھے نہ ہٹے ایم آرڈی کے پلیٹ فارم پر بھی جماعت کی نمائندگی کی اورمحترمہ بی بی بینظیر بھٹو شہید کے سامنے خطابت کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا رہا اور ان کی نظر میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کی مقامی سیاست یا انتخابی عمل میں عملی جدو جہد کا حصہ رہے۔ ڈیرہ غازی خان میں ختم نبوت کے حوالے سے اس تنظیم کے روح رواں مولانا اللہ وسایا کے ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد بھی ان کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن غفاری کواپنے ساتھ رکھا۔ ایک تحریک کے نتیجے میں مولانا اللہ وسایا مرحوم اور برادر محترم پرپولیس نے بہت تشدد کیا دونوں ایک گلی میں زخمی پڑے تھے جنہیں وہاں سے ہسپتال لایا گیا اور پولیس کی نگرانی میں رہے۔ ڈیرہ غازی خان سے ایک بار پھر لاہور چلے گئے اور وہاں راوی روڈ پر ایک مسجد میں جمعہ پڑھانا شروع کردیا اور ساتھ ہی رہائش اختیار کرلی۔ قارئین کرام، وہ اپنی جماعت کے دوٹکڑے ہونے پر غمزدہ رہے، مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدلستار خان نیازی کے علیحدہ ہونے پر ان کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ دیگر گروپوں کو بھی بہت قریب سے دیکھا اور جماعت کے دوٹکڑے ہونے پر وہ ذمہ داران کو جانتے تھے اور بہت سے رازوں کا میں بطور بھائی امین ہوں۔ بعد ازاں جماعت متحد ہوگئی لیکن ان رہنماؤں اور کارکنوں کے جذبے ماند پڑ چکے تھے۔  برادرم محمد خان لغاری لندن روانہ ہوگئے اور وہیں دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام شروع کردیا اور آنا جانا لگا رہا برطانیہ رہنیکے بعد بھی انہوں نے اپنی مسجد کی توسیع اور تزئین کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا محمد خان لغاری ختم نبوت تحریک کے مرکزی سکریٹری جنرل بھی رہے، علما کونسل کے عہدیدار کے ساتھ انہیں متحدہ علما بورڈ پنجاب کے رکن تھے۔ انہیں مرکزی رویت حال کمیٹی کارکن بھی بنایا گیا۔ جمعیت علما پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری جنرل تھے لیکن جماعت غیر فعال ہوچکی تھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی کو ہی اپنا قائد سمجھا اور اپنے قائد کی وفات تک ان کے وفادار رہے، ڈیرہ غازی خان آمد پر وہ ہمیشہ ان کے ہی مہمان ہوتے تھے۔ انہوں نے دنیا بھر کا سفر کیا، برطانیہ کے علاوہ ایران، عراق، لیبیا کے علاوہ سپین، اٹلی یونا اور دیگر ممالک کے دورے کیے جماعت کے منشور اور دستور کے مطابق مقبول نعرہ نظام مصطفے کا نفاز اور مقام مصطفیکیتحفظ کی ناکامی سے بے حدمایوس تھے۔ انہوں نے بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی پربھر پور کردار اداکیا ضلعی سطح پر امن کمیٹیوں کی تشکیل اور بین المذاہب بھائی چارہ پر حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے ہمیشہ تعاون کیا۔ گذشتہ رمضان المبارک میں راوی روڈ پر اپنی رہائش گاہ پر ماہ صیام گذارہے تھے کہ ہلکا بخار ہوا اور پھر دوسرے دن طبیعت اچانک خراب ہوئی اور اکیس رمضان المبارک (22مارچ)کو دل کا دورہ ہوا ور ہسپتال پہنچنے تک اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انہیں چھوٹے بھائی کے پہلو میں دفن  کیا گیا۔ (انا للہ واناالیہ راجعون)  ان کے جسد خاکی کو ڈیرہ غازی خان لایا گیا۔ پسماندگان میں تین بیٹے اورایک  بیٹی اورتین بھائی سوگوار ان کے بیٹے لندن میں مقیم تھے جنہیں اطلاع دی گئی اور وہ دوسرے دن پہنچ گئے تو ڈیرہ غازی خان قصبہ گدائی کی مرکزی عید گاہ میں ان کا نماز جنازہ اداکیا گیا۔ ان کے دیرینہ ساتھی صوفی محمد بلال نے نماز جنازہ پڑھایا۔ صاجزادہ محفوظ مشہدی شدید علالت کے باوجود منڈی بہاؤ لدین سے تشریت لائے، دیگر شہروں سے بری تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی، ڈیرہ غازیخان کے ہر طبقہ کے لوگوں نے

صحافی کے قلم سے

مولانا محمد خان لغاری کا سانحہ ارتحال

احمد خان لغاری ککوہ سلمان سے  موت سے کسی کو مفر نہیں لیکن اچانک موت جو کسی اپنے پیارے کی ہو اس پر شدید صدمہ خود کسی موت سے کم نہیں ہوتا۔ مولانا محمد خان لغاری کا سانحہ ارتحال ان میں سے ایک ہے۔ جواکیس رمضان المبارک اور بائیس مارچ رواں سال ہم سے جدا ہوئے۔ انہوں نے مفتی خان محمد لغاری جو باعمل عالم دین تفسیر، حدیث اور فقہ کے استاد تھے، کے گھر آنکھ کھولی اور والد گرامی نے تربیت فرمائی۔ بچپن میں ہی ہم دونوں بھائیوں نے قرآن کی تعلیم حاصل کی، بعدازاں والد محترم نے دینی علوم کی بنیادی کتابیں پڑھانا شروع کیں۔ لیکن شومی قسمت والد کے سائے سے محروم ہوگئے۔ بعد ازاں یتیمی کے تھپڑوں کا مقابلہ کرتے رہے، مولانا محمد خان لغاری کی شخصیت پر والد مرحوم رحمۃ اللہ علیہ کے انمٹ نقوش رہے۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم کی طرف توجہ دی مگر یہ سب اپنے مسلک کی دینی و سیاسی جماعت میں شمولیت سے ہی ممکن تھا۔ جمعیت علما پاکستان ایک دینی و سیاسی جماعت نظام مصطفے کا نفاذ اور مقام مصطفے کے تحفظ کا علم لیکر میدان سیاست میں آچکی تھی۔ اسی جماعت سے متاثرانجمن طلبا اسلام کا قیامتھے۔ میں آیاتو یہ اس میں شامل ہوگئے اور بانی اراکین میں شامل تھے، تحریک کا ہراول دستہ میں ہونیکی وجہ سے کئی بار پس زنداں رہے، عدالتوں سے ضمانتیں ہوتیں تو دوسرے کیس میں گرفتار کر لیا جاتا۔ اسی طلباتنظیم سے وابستہ نوجوانوں کی اگلی منزل جمعیت علما پاکستان تھی انہوں نے شمولیت اختیار کر کے جماعت کے منشور کے مطابق اپنا سفر شروع کیا، 1970 کے عام انتخابات میں بعد ازاں وہ جمعیت کے ساتھ رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ختم نبوت کی تحریک اور سول نافرمانی کی تحریک میں گرفتار ہوتے رہے اور چین سے نہ بیٹھے جب تک قومی اسمبلی سے قادیانیوں کے خلاف آئین میں ترامیم پاس نہ ہوگئیں۔ رفتہ رفتہ وہ اعلی قیادت مولانا انشاہ احمد نوارانی صدیقی اور مجاہدملت مولانا عبدالستار خان نیازی کا اعتماد حاصل کرلیا۔ ڈیرہ غازی خان میں سیاسی کارکن ہونے کا ثبوت دیا اور حق بات کہنے کی پاداش میں ڈیرہ غای خان جیل میں قید رہے۔ نظام مصطفےٰ کی تحریک میں اپنی جماعت کی طرف سے اپنا کردار ادا کیا، قیدو بند کی صبعو تیں برداشت کرتے رہے۔ جماعت کے صوبائی عہدیدار اور موثر کردار کی وجہ سے اور نوجوان ہونے کی وجہ سے جذباتی رویہ رکھتے تھے۔ 1977 کے مارشل لائکے دور میں بھی وہ پیچھے نہ ہٹے ایم آرڈی کے پلیٹ فارم پر بھی جماعت کی نمائندگی کی اورمحترمہ بی بی بینظیر بھٹو شہید کے سامنے خطابت کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا رہا اور ان کی نظر میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کی مقامی سیاست یا انتخابی عمل میں عملی جدو جہد کا حصہ رہے۔ ڈیرہ غازی خان میں ختم نبوت کے حوالے سے اس تنظیم کے روح رواں مولانا اللہ وسایا کے ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد بھی ان کے صاحبزادے مولانا عبدالرحمن غفاری کواپنے ساتھ رکھا۔ ایک تحریک کے نتیجے میں مولانا اللہ وسایا مرحوم اور برادر محترم پرپولیس نے بہت تشدد کیا دونوں ایک گلی میں زخمی پڑے تھے جنہیں وہاں سے ہسپتال لایا گیا اور پولیس کی نگرانی میں رہے۔ ڈیرہ غازی خان سے ایک بار پھر لاہور چلے گئے اور وہاں راوی روڈ پر ایک مسجد میں جمعہ پڑھانا شروع کردیا اور ساتھ ہی رہائش اختیار کرلی۔ قارئین کرام، وہ اپنی جماعت کے دوٹکڑے ہونے پر غمزدہ رہے، مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا عبدلستار خان نیازی کے علیحدہ ہونے پر ان کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ دیگر گروپوں کو بھی بہت قریب سے دیکھا اور جماعت کے دوٹکڑے ہونے پر وہ ذمہ داران کو جانتے تھے اور بہت سے رازوں کا میں بطور بھائی امین ہوں۔ بعد ازاں جماعت متحد ہوگئی لیکن ان رہنماؤں اور کارکنوں کے جذبے ماند پڑ چکے تھے۔  برادرم محمد خان لغاری لندن روانہ ہوگئے اور وہیں دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام شروع کردیا اور آنا جانا لگا رہا برطانیہ رہنیکے بعد بھی انہوں نے اپنی مسجد کی توسیع اور تزئین کا سلسلہ جاری رکھا۔ مولانا محمد خان لغاری ختم نبوت تحریک کے مرکزی سکریٹری جنرل بھی رہے، علما کونسل کے عہدیدار کے ساتھ انہیں متحدہ علما بورڈ پنجاب کے رکن تھے۔ انہیں مرکزی رویت حال کمیٹی کارکن بھی بنایا گیا۔ جمعیت علما پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری جنرل تھے لیکن جماعت غیر فعال ہوچکی تھی۔ مولانا شاہ احمد نورانی کو ہی اپنا قائد سمجھا اور اپنے قائد کی وفات تک ان کے وفادار رہے، ڈیرہ غازی خان آمد پر وہ ہمیشہ ان کے ہی مہمان ہوتے تھے۔ انہوں نے دنیا بھر کا سفر کیا، برطانیہ کے علاوہ ایران، عراق، لیبیا کے علاوہ سپین، اٹلی یونا اور دیگر ممالک کے دورے کیے جماعت کے منشور اور دستور کے مطابق مقبول نعرہ نظام مصطفے کا نفاز اور مقام مصطفیکیتحفظ کی ناکامی سے بے حدمایوس تھے۔ انہوں نے بین المذاہب اور بین المسالک ہم آہنگی پربھر پور کردار اداکیا ضلعی سطح پر امن کمیٹیوں کی تشکیل اور بین المذاہب بھائی چارہ پر حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے ہمیشہ تعاون کیا۔ گذشتہ رمضان المبارک میں راوی روڈ پر اپنی رہائش گاہ پر ماہ صیام گذارہے تھے کہ ہلکا بخار ہوا اور پھر دوسرے دن طبیعت اچانک خراب ہوئی اور اکیس رمضان المبارک (22مارچ)کو دل کا دورہ ہوا ور ہسپتال پہنچنے تک اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انہیں چھوٹے بھائی کے پہلو میں دفن  کیا گیا۔ (انا للہ واناالیہ راجعون)  ان کے جسد خاکی کو ڈیرہ غازی خان لایا گیا۔ پسماندگان میں تین بیٹے اورایک  بیٹی اورتین بھائی سوگوار ان کے بیٹے لندن میں مقیم تھے جنہیں اطلاع دی گئی اور وہ دوسرے دن پہنچ گئے تو ڈیرہ غازی خان قصبہ گدائی کی مرکزی عید گاہ میں ان کا نماز جنازہ اداکیا گیا۔ ان کے دیرینہ ساتھی صوفی محمد بلال نے نماز جنازہ پڑھایا۔ صاجزادہ محفوظ مشہدی شدید علالت کے باوجود منڈی بہاؤ لدین سے تشریت لائے، دیگر شہروں سے بری تعدادمیں لوگوں نے شرکت کی، ڈیرہ غازیخان کے ہر طبقہ کے لوگوں نے

صحافی کے قلم سے

پہلگام فالیس فلیگ آپریشن: اکھنڈ بھارت یا بھارت کے مزید ٹُکڑے

 میجر (ر) ساجد مسعود صادق   بھارت 28 ریاستوں، 8 یونینز اور تقریباً 1.4 بلین کی  آبادی  میں 32 کروڑ اچھوتوں پر مُشتمل  ایک ایسی مملکت ہے جن کو بھارتی جنونی انسان ہی نہیں سمجھتے۔  بھارت  پر  جن چند جُنونی ہندوؤں نے قبضہ کررکھا ہے جن کا سرغنہ  آر ایس ایس اور شیو سینا جیسی دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والا نریندرا مُودی  اور اُس کے ہمخیال کُچھ ساتھی ہیں۔  اس وقت  بھارت کی 14ریاستوں میں 21 بڑی اور 53 چھوٹی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں  ماؤ علیحدگی کی تحریک سب سے خطرناک ہے۔ اسی تحریک جیسی مزید تحریکیں  نا گا لینڈ ،میز ورام، منی پورہ،  آسام، مغربی بنگال، بہار، اُتر پردیش میں  جاری ہیں۔ بھارتی  مُدبر اور معتدل تجزیہ نگاروں کے مطابق ہندو جنونی حکومت اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت میں علیحدگی کی تحریکوں میں مزید تیزی آتی جارہی ہے جس کی وجہ سے ان جنونیوں  کا دیگر اقوام اور مذاہب کو زبردستی دبانا، بُنیادی حقوق سے محروم رکھنا،” بندے ماترم اور اکھنڈ بھارت” کا پراجیکٹ  ہر قیمت پر آگے بڑھانا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مُودی اور اُس کے قریبی ساتھی موجودہ بھارت کو اکھنڈ بھارت بنانا چاہتے ہیں یا اس کے مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں؟ بھارت کی آج جو صورتحال ہے اُسے ایک معمولی سے دھکے کی ضرورت ہے لیکن حیران کُن طور پر یہ جنونی بیک وقت چین اور پاکستان سے ٹکراؤ کے دن رات خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ہندو جنونیوں کے علاوہ تمام اقوام اور مذاہب اس نتیجے پر پہنچ چُکے ہیں کہ بھارت دُنیا کی سب سے بڑی سیکولر جمہوریت نہیں بلکہ دیگر اقوام اور مذاہب کی  “دُنیا کی سب سے بڑی قتل گاہ”  بن چُکی ہے۔ سکھ ہوں یا مُسلمان یا پھر عیسائی ان ہندو جنونیوں کی حکومتی سرپرستی میں دہشت گردی کا نشانہ ناصرف تمام مذاہب کے  پیروکار بنے ہیں بلکہ اُن پر مُودی جنونی حکومت نے ہمیشہ عرصہ حیات تنگ کیئے رکھا ہے۔ بھارت کے اندرونی حالات کا یہ عالم ہے کہ  صرف بھارتی صوبے صوبے آسام میں اس وقت دہشت گردوں کی 34 تنظمیں موجود ہیں۔ سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ  نے اپنے دور حکومت میں یہ اعتراف کیا کہ” پونے دوسو کے قریب” بھارتی اضلاع  پر ان ہندو جنونیوں کا کنٹرول ہے۔ دیگر مذاہب کے افراد کا قتل عام، اُن کی عبادت گاہوں کی بے حُرمتی اور اُن کا گرانا اور انہیں  سرکاری سرپرستی میں زبردستی ہندو بنانا اس جنونی حکومت اور اس کے  پیروکاروں کا وطیرہ ہے۔ بابری مسجد  کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور ماضی میں خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے قتل اور اُن کے گوردوارے کی بے حُرمتی اور منہدم کرنے جیسے واقعات بھارتی سیاہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ ماضی میں بنگلہ دیش اور سری لنکا میں دخل اندازی، نیپال اور بھوٹان کو دھمکیاں اور پاکستان سے  متعدد جنگیں سب ہندو جنون کے شاخسانے ہیں۔ بھارت میں علیحدگی کی تحریکوں پر  پاکستانی اخبار نوائے وقت میں  چھپنے والے صحافی “اعجاز پتافی” کے  ایک مضمون کے مطابق  “ناگا لینڈ کی تنظیموں نے نہ صرف بھارت میں دہشت گردی کے کیمپ لگا رکھے ہیں بلکہ ان کیمپوں میں یہ اپنے نوجوانوں کو روزانہ ٹریننگ بھی دیتے ہیں اور ان کے پاس جنگی پیمانے پر ہتھیار، توپ ،ٹینک اور چھوٹے میزائلوں سمیت  درجنوں ہتھیاروں کے علاوہ ان تنظیموں کی اپنی فوج پولیس، آئین ، قانون ، عدالتیں ، کرنسی ، جھنڈے اور سرکاری دفاتر  ہیں۔ بھارتی حکومت نے ان تنظیموں کے خلاف کئی بار فوجی آپریشن بھی شروع کیے لیکن بھارتی افواج  کے  کئی دستے ان ریاستوں میں گم ہو گئے جن کاآج تک پتہ نہیں چلا۔” روز پاکستان میں گریٹر بلوچستان بناکر اور ڈیورنڈ لائن کو جواز بناکر آدھا کے پی افغانستان میں شامل کرکے سونے والے ان ہندو جنونیوں کو کیا اس بات کا احساس ہے کہ پاکستان نے اگر بھارت میں جاری علیحدگی پسند تحریکیوں کی مدد کی تو بھارت کا کیا حشر ہوگا؟ کیا ان جنونیوں نے کبھی سوچا کہ بھارتی فوج میں شامل لاکھوں سکھوں اور دیگر اقوام جن کے خلاف ہندو جنونیوں نے ظلم کا بازار گرم کررکھا ہے انہوں نے بغاوت کی تو بھارت کا کیا حشر ہوگا؟ یا پھر   بھارت میں بسنے والے لگ بھگ پینتیس چالیس کروڑ مسلمانوں نے بغاوت کردی تو بھارت کا کیا بنے گا؟  مُودی  جنونی سرکار  اس سوچ اور صلاحیت سے محروم ہے کہ مغر بی طاقتیں  اسے چین سے ٹکراؤ کے خلاف ایک شیلڈ کے طور پر استعمال کررہی ہیں لیکن جب سن 1962ء جس بھارت پر بُرا وقت آیا تو یہ مغربی طاقتیں اُس کی کسی قسم کی مدد نہ کریں گی۔ اور اگر شمال سے چین، مغرب سے پاکستان اور جنوب سے بنگالی فوج نے پیش قدمی کی تو اس وقت اندر سے جوالہ مُکھی کی طرح پھٹنے کو تیار  بھارتی ریاست کے  اکھنڈ بھارت  کے خواب کا کیا حشر ہوگا؟ بھارت اور بھارتی منصوبہ ساز یہ یاد رکھیں پاکستان کے جن دو صوبوں میں روز آگ لگاکر پاکستان کےٹوٹنے  کا وہ روز خواب دیکھتے ہیں وہ کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا بلکہ اس سراب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بھارت اپنے ٹکڑے ضرور کروا لے گا۔ پاکستان  اور افواج پاکستان ابھی تک تو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرتے ہوئے دہشت گردوں سے نپٹ رہی ہے لیکن انہی دشہت گردوں کا رُخ جب بھارت کی طرٖف ہوا یا پاکستان یا افواج پاکستان نے ان کی معمولی سی بھی مدد کی یا ان کو  “ہلہ شیری”  دی تو  اُس بھارت کے لیئے  جس سات لاکھ کی فوج لگا کر بھی چند ہزار کشمیریوں کو کنٹرول نہیں کرسکتا ان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔  بھارتی جنگی جنونیوں کو کم از کم اپنے ہی جنرل چشتی اور پناگ جیسے ریٹائرڈ جرنیلوں کے تبصرے غور سے سُننے کی ضرورت ہے۔ یہی تجربہ کار مُحب وطن بھارتی جرنیل ان جنونیوں کو روز سمجھا رہے ہیں کہ بھارت کسی زعم میں نہ رہے بلکہ پاکستان ٹیکنالوجی اور تربیت کیساتھ ساتھ اسمارٹ پلاننگ میں بھارت سے بہت آگے کھڑا ہے۔ اپنے ایک آرٹیکل میں بھارتی فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ نے مودی سرکار کو مشورہ دیا کہ “پہلگام حملے کے بعد جنگ میں

Scroll to Top