صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

عالمی حالات پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان

عالمی حالات ، پاکستانی سیاست دان اور نظریہ پاکستان   تحریر :خالد خان رند اس وقت دنیا پھر میں ایک نیا بلاگ بننے جارہا ہے جس کی قیادت چین کر رہا ہے،  اس بلاگ میں روس اور چین اہم ممالک ہیں اور اس کے علاوہ سعودی عرب، ایران ترکیه اور کئی اہم ممالک اس میں شامل ہونے جارہے ہیں، اس بلاگ سے امریکہ کی اجارہ داری اور ڈالر کی عالمی حیثیت کو شدید خطرہ لاحق ہیں، چین اور روس پہلے ہی ڈالر کی بجائے روبل اور چینی یوان میں کاروبار کر رہے ہیں، روس عالمی تجارت میں ڈالر نہیں لے رہا اور اپنا تیل یورپ کو روبل یا یوان میں بیچ رہا ہے ، یہ جو نیا بلاگ بن رہا ہے اس میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کی ایک خاص اہمیت ہے، اس کے علاوہ پاکستان کی عسکری قوت کی بھی ایک  خاص اہمیت ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ایک ایٹمی طاقت بھی ہے،   اگر اس سارے عالمی تناظر میں دیکھیں تو امریکہ کبھی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ پاکستان چینی بلاگ میں چلا جائے اور امریکہ سے دور ہو،  اور پاکستانی سیاست امریکہ کی تابع نہ ہو، یا یہاں ایسی حکومت ہو جو امریکہ مخالف ہو اور وہ امریکی ایجنڈے پر نہ چلے،  اس کے لئے امریکہ اس وقت پاکستان کی سیاست میں دخل اندازی کر رہا ہے، ہمارے کئی سیاسی قائدین اس کے پے رول پر ہیں،  یہ دیکھنے کے لئے کہ کون امریکہ پے رول پر ہیں یا امریکی مفادات اور ایجنڈے کے لئے کام کر رہے ہیں، ہمیں ان سیاسی جماعتوں کے منشور یا نعروں پر نہیں بلکہ ان کے عملی اقدامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے،   اس کے علاوہ یاد رہے کہ عالمی طاقتیں شروع دن سے ہی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت ہیں،  ہمارے پڑوسی انڈیا پر کبھی بھی اس طرح ایٹمی پروگرام کی وجہ سے دباؤ نہیں ڈالا گیا جس طرح سے پاکستان مسلسل عالمی دباؤ میں رہا ہے،  پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلیجنس اداروں کو سلام پیش کیا جانا چاہئے جنہوں نے اپنے سائنس دانوں کے ساتھ مل کر اس ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا، اور اسے باضابطہ پروگرام میں تبدیل کر کے پاکستان کو عالمی ایٹمی قوت تسلیم کروایا،   لیکن بات ختم نہیں ہوئی، اور عالمی خفیہ طاقتیں آج بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک اور ختم کروانے کے لئے مسلسل متحرک ہیں، اور وہ ایسے حالات بنانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ رہے،  کیوں کہ ایٹمی پاکستان اور ایک طاقتور فوج کا مالک پاکستان عالمی استعماری قوتوں کو پسند نہیں ہے،  اور اس پر اگر پاکستان باضابطہ طور پر چینی بلاگ میں شامل ہو جاتا ہے اور ڈالر سے بھی جان چھڑا لیتا ہے تو پاکستان اقتصادی ترقی کر سکتا ہے، کیوں کہ چین عالمی طور پر جنگوں پر بلکہ تجارتی تعلقات پر یقین رکھتا ہے،  اور اس نے اپنی تجارتی طاقت سے ساری دنیا کو جکڑ لیا ہے،  دوسری طرف چین اپنے ہمنوا ممالک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ہے،  اس وقت پاکستان کا جھکاؤ چین کی طرف ہے، اور چین کے پاکستان سے تعلقات بھی بہت پرانے ہیں،  سابق حکومت (پی ٹی آئی دور) میں پاکستان اور چین کے تعلقات کو نقصان پہنچا اور سی پیک جیسے پروگرام کو نقصان پہنچا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے چین کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور اس میں پاکستان کی عسکری قیادت کا دورہ چین اہمیت رکھتا ہے،  اس سارے پس منظر کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اس وقت پاکستان میں کیا سیاسی صورتحال ہے؟  اور سیاسی جماعتیں کس ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں،   ویسے تو پاکستان میں سب سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ امریکی مفادات کا زیادہ خیال رکھا ہے، بجائے پاکستان کے قومی مفادات کے،  اور اس وقت بھی صورت حال کچھ ایسی ہی ہے،   لیکن اس وقت عالمی حالات پہلے جیسے نہیں ہیں، عالمی حالات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اور اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں بھی کچھ اسی طرح کی تبدیلیاں نظر آتی ہیں،   امریکہ سازش کا بیانیہ بنا کر عوام کو ہمنوا بنانے والے عمران خان دراصل امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں،   اور یہ سب سمجھنے کے لئے کسی افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں ہے،  بلکہ ان کی حکومت کے دور میں ہونے والے سب اقدامات اور منظور ہونے والے بل اس بات کے گواہ ہیں، کہ وہ امریکی ایجنڈے پر کاربند رہے تھے یا کہ مخالف?  ان کے دور حکومت میں پاکستان کے چین سے درینہ تعلقات میں خرابی پیدا ہوئی ، سی پیک پر کام رک گیا، لیکن ایک جمہوری عمل سے ان کی حکومت ختم ہونے پر انہوں نے عوام کو بے وقوف بناتے ہوئے، جھوٹ پر مبنی امریکی سازش کا بیانیہ بنا کر سادہ لوح عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا،  اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے پر کام شروع کرتے ہوئے عوام کو اپنی ہی افواج کے خلاف ورغلانے کا کام شدت سے شروع کر دیا، فوج کی کردار کشی کرتے ہوئے عوام کو ان کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش شروع کر دی،   اور اب کرپشن کے کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو کچھ پی ٹی آئی نے کیا ہے،  اس سے واضع طور پر نظر آرہا ہے کہ یہ روایتی انداز کی اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ یہ عالمی طاقتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش ہے،   سرکاری املاک پر اور خاص کر عسکری قیادت اور عسکری املاک پر جتھوں کی صورت حملے شروع ہو گئے اور یہ وہ مقامات تھے جہاں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی اور را جیسے پاکستان دشمن پہلے حملوں کی کوشش کر چکی ہیں،  اور نظر یہ آتا ہے کہ یہ سب پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے پر عمل ہو رہا ہے،  اس طرح کی جتھہ بندی راتوں رات نہیں ہوتی،   اور بلکل اسی انداز کے مناظر اور حالات پر مبنی ہالی وڈ کی فلمیں بن چکی ہیں، پاکستان کے بارے ميں،  ان فلموں میں دیکھایا گیا کہ اس طرح کے حملوں کے بعد امریکہ پاکستان میں آپریشن کر کے پاکستان

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا حصہ

صحافی کے قلم سے

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں

بلا تحقیق فارورڈ اور بے مقصد پوسٹ کلچر سے نکلیں  8 مئی 2023  محمد طارق خان  موبائل فون کی ایجاد، ایس ایم ایس و سوشل میڈیا کی آمد اور ہر خاص و عام تک انٹرنیٹ کی رسائی کے بعد ایک عجیب و غریب رواج فروغ پا گیا ہے کہ لوگ بالعموم ہر سنی سنائی بات کو بلا تصدیق و تحقیق آگے بڑھا دیتے ہیں۔ اسے بدقسمتی کہیں کہ کتابیں پڑھنے اور تحقیق کرنے کا شوق اور حوصلہ ختم ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر جو الم غلم کانٹینٹ نظر آیا، اپنی علمیت جھاڑنے یا کم علمی کے باعث اس سے مرعوب ہونے کے سبب وہ کانٹینٹ سوشل میڈیا پر پوسٹ یا پھیلانا شروع کردیا جاتا ہے۔  آج ایسی دو پوسٹس نظر سے گزریں اور اتفاق کی بات ہے دونوں پوسٹس ہمارے ایک محترم جناب وقار علی بیگ صاحب کے توسط سے دیکھنے کو ملیں۔ پہلی پوسٹ میں ایک نام نہاد دانشوڑ فرماتے ہیں کہ اصل پاکستان تو بنگال تھا، موجودہ پاکستان کا تو تحریک پاکستان سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا، اس پاکستان کے رہنے والے (پنجابی سندھی،پٹھان اور بلوچ) تو انگریزوں کے آلہ کار تھے، اسی لئے ان علاقوں میں انگریز نے کوئی جمہوری ادارے بھی قائم نہیں کئے ۔۔۔ الاخ ۔۔۔ میں گزشتہ کافی عرصے سے سوشل میڈیا اور کچھ دوسرے فورمز پر یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر موجودہ پاکستان کے لوگوں کو تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان سے متفر اور دور کرنے اور مشرق سے ہجرت کرکے یہاں آنے والوں کے دلوں میں مقامی لوگوں سے نفرت اور بُعد پیدا کرنے کے لئے اس طرح کا پروپیگنڈہ تسلسل کی ساتھ کر رہے ہیں، جس کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں۔  اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک پاکستان میں اُن علاقوں کے لوگوں کی قربانیاں بے مثال ہیں و لازوال ہیں، جو تقسیم کے وقت پاکستان میں شامل ہی نہیں ہوئے، اور پھر ان میں سے ایک بڑی تعداد نے ہجرت کی صعوبتیں جھیلیں، بعض نے دو بار ہجرت کی اور قربانی دی، ایک اجنبی سرزمین کی جانب اللہ اور اسلام کی خاطر ہجرت کی، اسے اپنا مستقر اور گھر بنایا۔ اسی طرح بنگال کے لوگوں نے بھی پاکستان کے حصول کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، مسلم لیگ کی بنیاد 1906 میں بنگال میں رکھی گئی اور تحریک پاکستان کے عظیم رہنماؤں کی فہرست میں کئی بنگالی زعماء کا نام سرِفہرست ہے، مگر ایسا کہنا کہ پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے لوگوں کا تحریک آزادی میں کوئی حصہ ہی نہیں تھا، تاریخی حقائق کے منافی اور انتہائی خطرناک  بات ہے۔  پنجاب، سندھ، پختونخوا اور  بلوچستان آخری وقت تک انگریز استبداد کے خلاف سخت مزاحمت کرتے رہے، دہلی سے بنگال اور اُتر سے دکن تک جب پورا ہندوستان انگریز کے آگے سرنگوں ہو چکا تھا، اس وقت پنجاب، سندھ، پختونخوا اور بلوچستان کے سرفروش انگریز سامراج کے خلاف برسرپیکار اور میدان کارزار میں شجاعت و عزیمت کی نئی داستانیں رقم کر رہے تھے، اِن قلیل اور عسکری لحاظ سے کمتر مجاہدینِ آزادی نے انگریز فوج کو طویل عرصے تک تگنی کا ناچ نچایا اور ناکوں چنے چبوائے، اور یہ علاقے بقیہ ہندوستان کی نسبت سب سے آخر میں مقبوضہ ہوئے، بلکہ پختونخوا اور بلوچستان کبھی بھی مکمل طور پر انگریز کے زیر قبضہ نہیں رہے اور غیر ملکی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف یہاں کے مقامی قبائل اور عوام کی مسلح مزاحمت آخر وقت تک مختلف صورتوں میں جاری رہی۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز ان علاقوں میں اُس طرح کا انفراسٹرکچر اور نظام قائم نہیں کر سکا، جیسا ہندوستان کے دیگر علاقوں میں طویل عرصہ تک بلا مزاحمت راج کے نتیجے میں بنانے میں کامیاب ہوا، یہاں تو وہ ایک دن ریل پٹری بچھاتا تو دوسرے دن مقامی لوگ اور مزاحمت کار اسے اکھاڑ پھینکتے۔  اس کے باوجود جب تحریک قیام پاکستان کا مرحلہ آیا تو ان صوبوں کے مقامی لوگوں نے قیام پاکستان کی جمہوری جدوجہد میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ تحریک پاکستان کے بڑے بڑے کردار اسی خطے سے تھے، قائد اعظم موجودہ سندھ سے تھے، علامہ اقبال پنجاب سے تھے، چوہدری رحمت علی، چوہدری خلیق الزماں وغیرہم کا تعلق بھی پنجاب سے تھا۔ 1940 کی جس قرارداد کو آپ اور ہم آج قرارداد پاکستان کے نام سے جانتے اور پاکستان کی بنیاد مانتے ہیں وہ دراصل قرارداد لاہور تھی جو کہ پنجاب کا دارالحکومت تھا اور ہے۔   1946 کے انتخابات کے نتیجے میں مسلمان اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں پہنچے، سندھ اسمبلی نے پاکستان کی قرار داد منظور کی، پختونخوا نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور بلوچستان کے وہ علاقے بھی جو تقسیم کے وقت خود مختار تھے، بعد ازاں اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہوئے، وگرنہ آپ 1947 کا پاکستان کا نقشہ اٹھا کر دیکھیں تو تقسیم کے وقت مغربی پاکستان کا رقبہ موجودہ پاکستان کا دو تہائی بھی نہ تھا، اکثر علاقائی ریاستیں جیسا کہ سوات، بہاولپور، رانی پور اور قلات وغیرہ نے قیام پاکستان کے بعد پاکستان شمولیت اختیار کرکے موجودہ مغربی پاکستان کی تکمیل کی۔   تحریک اسلامی کے بانی سید ابوالاعلی مودودی گو بذات خود ریاست حیدرآباد دکن سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اپنی علمی دعوت  کا آغاز پہلے پہل دِل٘ی سے کیا اور پھر جماعت اسلامی کے نام سے عالمگیر اسلامی تحریک کی داغ بیل پنجاب ہی کے علاقے پٹھان کوٹ میں ڈالی گئی، جہاں وہ تحریک پاکستان کے عظیم پنجابی رہنما فلسفی اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال کی دعوت پر تشریف لائے تھے، اقبال ہی کی تحریک و تعاون سے پٹھان کوٹ مرکز کا قیام عمل میں آیا تھا اور قیام پاکستان کے بعد سید مودودی نے اقبال کے شہر مدفن لاہور پنجاب ہی کو اپنا مرکز بنایا۔ تحریک پاکستان میں بنگال کا کردار اور قربانیاں یقینا اہم ہیں، اور ہمیں اس میں کوئی کلام نہیں کہ وہ اصل پاکستان تھا، مگر موجودہ پاکستان کو یا یہاں کے رہنے والوں کو نیچا دکھانے یا قیام پاکستان کی تحریک سے لا تعلق کرنے سے جو نقصان ہوگا وہ سطحی سوچ کے یہ لبرل دانشوڑ یا تو سمجھ ہی نہیں سکتے یا جان بوجھ کر پاکستان کے خلاف اس گھناؤنی سازش کا حصہ

Scroll to Top