صحافی کے قلم سے

صحافی کے قلم سے

جمہوریت یا عوام سے دھوکہ دہی

تحریر : طاہراشرف  میں نے جنرل ضیاءالحق صاحب کا دور دیکھا ملک میں خوشحالی تھی سالہاسال کھانے پینے والی اشیاء پیٹرول۔گیس۔بجلی وغیرہ وغیرہ ہمیشہ سب کی قیمتوں اپنی اپنی جگہ پر رہتی تھیں نہ کوئی ہو روز نئے نئے ٹیکس نہ کوئی اضافی محکمے نہ کو و آئی پی پروٹوکول نہ رشوت ستانی نہ کوئی جگا گیری نہ کوئی روڈ بلاک نہ چوری نہ ڈکیٹیاں نہ اغوا کار نہ زبر زنا نہ کو ریپ یہ وہ زمانہ تھا جب گھر کچے تھے لیکن عزتیں محفوظ تھیں بڑوں کا احترام تھا اور ایک کاروباری خاندان کی سیاست میں انٹری ہوئی پھر جمہوریت شروع ہوئی بے نظیر بھٹو صاحبہ کی انٹری ہوئی مہنگائی دن بدن بڑھنے لگی وی آئی پی پروٹوکول شروع ہوا آئی ایم ایف سے قرضہ سکیمیں شروع ہوئیں اور آ پی پی کا وجود بنایا گیا اس جمہوریت کے دعوے داروں نے اپنے ہی لوگوں کو آئی پی پی کمپنیاں بنوائی اور پھر انہی کے ساتھ معاہدے کیے گئے اور سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا اور پھر اچانک ساست دان بنے والوں نے محنت کر کے بے نظیر کی حکومت کا تختہ الٹا دیا اور نئی آئی پی پی کمپنیاں بنی اور نئے حکومتی ایگریمنٹ ہوئے اور اپنوں کو ہی نوازا گیا ہھر اُسی دور میں مختلف سکیمیں لانچ کی گئیں جن  میں ییلوکیب سکیم تھی لاکھوں گاڑیاں منگوائی گئیں اور شائد آدھی کے قریب لوگوں کو مختلف بینکوں کی طرف سے آسان اقساط پر دی گئیں وہ بھی شائد مختلف سیاست دانوں کے عزیزوں کو نوازی گئیں اور غریب اور ضرورت مند صرف فائلیں ہی بنواتے رہ گئے اور اُسی دور میں ایک نعرہ لگا تھا قرض اتارو ملک سنوارو اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تھوڑا تھوڑا کر اربوں روپے اکھٹے ہوئے شائد اُن پیسوں کا بھی کچھ اتا پتا نہیں کہ کیا بنا اور ہمارا،پاکستان اور قرضدار ہو گیا اور ہم جمہوریت کے نعرے لگاتے رہ گئے اسی طرح کچھ جمہوریت چلتی پھرتی رہی  اور پاکستان دن بدن قرض کی دلدل میں گھستا چلا گیا پھر کچھ عرصہ جنرل مشرف صاحب کا آیا اور وہ بھی ان جمہوریت کےدعوےداروں نے بندر بانٹ کی اور سیاسی پارٹیاں اور مظبوط ہوتی گئیں اور اُن کا سرمایہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا پیپلزپارٹی اور ن لیگ امیر سے امیر تر ہوتی گئیں پھر چینج آیا نیا نعرہ لگا اسلامی ریاست کا تحریک انصاف پاور میں ہوگئی اور ہم نے دیکھا رشوت ستانی کا عروج ہوا دفتروں میں سارے کام پیسوں سے ایک منٹ میں ہوتے دیکھے اور پھر سب جمہوریت ولے ایک اسٹیج پر اکھٹے ہوئے اور اپنا راستہ صاف کروایا اور پھر اب اس جمہوریت کے دعوے داروں نے مل کر پاکستانی عوام کو نئے خواب دیکھائے اور پھر ان نئے خوابوں میں مہنگائی کیا نیا دور شروع ہوا ہر گھنٹے بعد چیزوں کے ریٹ بھڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ہر روز مہنگائی کا نیا منصوبہ ہر روز نئے ریٹ نیا طریقہ کار جس سے عوام غریب سے غریب تر ہوتی جا رہی ہے اور سیاستدان امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں آخر اس جمہوریت کے اثرات اس عوام کو کس صدی میں ملیں گے جس سے یہ غریب عوام دو وقت  روٹی کما سکے اور کھا سکے کیونکہ یہ عوام ہمیشہ امید پر جیتی ہے اور اس امید پر ہی اپنا ایم این اے اور ایم بی اے چنتی ہے کہ خوشحالی آئے اور غریب آدمی دو وقت کی باعزت روٹی کما سکے اور کھا سکے اس جمہوریت کے دعویداروں کے مطابق ملک دیوالیہ ہو رہا ہے ملک کے پاس کچھ نہیں ہے اور پھر اگر ان کے شاہانہ اخراجات اور پروٹوکول دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہمارا ملک اس دنیا کا امیر ترین ملک ہے اور جب بات عوام کی ہو تو صرف بھوک ہی اس عوام کا مقدر ہے آخر کب تک اس عوام کے جیبوں اور عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈلے جائیں گے کب تک عوام بھوکی پیاسی ترستی رہے گی کب تک ستائیس کروڑ عوام اس جمہوریت کے دعویداروں کو پالتی رہے گی اور ان کے شاہانہ اخراجات کا برداشت کرتی رہے گی کب تک اس عوام کی حقوق اور تقدیر سے کھیلا جاتا رہے گا ہر محکمے میں رشوت ستانی عروج پر ہے ہر جائز کام کے لیے مہینوں دفتروں کے چکر لگانے پڑتے ہیں اور آخر کار ہوتا یہی ہے کہ کچھ دو کچھ لو نہیں تو بھول جاؤ کیا اس کو جمہوریت کہتے ہیں کیا اس کو عوامی حکومت کہتے ہیں کیا یہ پاکستان اس لیے بنا تھا اس بنیاد پر بنا تھا خداراکچھ رحم کریں اس ملک اور اس عوام پر جس عوام کو ہر بار ایک نئے نعرے سے نچوڑا جاتا ہے یہ میرا دیس ہے جہاں جینا بھی مشکل ہے اور مرنا بھی مشکل۔

صحافی کے قلم سے

امریکی، اسرائیلی اور بھارتی عزائم سیسہ پلائی دیوار پاک فوج اور آئی ایس آئی

 میجر ( ر ) ساجد مسعود صادق  ( حصہ اول ) خلاصۂ تحریر! اللّٰہ تعالٰی کی پاک ذات کا ارشاد ہے “میرے محبوب اگر تم ان کا دین بھی قبول کرلو پھر بھی یہ ایمان نہیں لانے والے”۔ مزید فرمایا کہ یہودو نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے” مزید فرمایا “حق آگیا اور باطل مِٹ گیا بے شک باطل نے مٹنا ہی تھا” مزید فرمایا “میرے محبوب مومنوں کو تمہارا نصحیت کرنا فائدہ دیتا ہے” مزید فرمایا کہ ان کے دلوں، آنکھوں، کانوں اور زبانوں پر مُہریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ گونگے اور بہرے ہیں” مزید فرمایا “یہ (حق بات کی طرف) نہیں پلٹیں گے”۔ سازشی تھیوریاں ایک حقیقت یا فسانہ؟ جو کچھ پاکستان میں ہورہا ھے جب سازش کے متعلق کوئی بات کی جائے تو کچھ لٹھ  بردار پاکستانی جو حیران کُن طور پر پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی اس کھیل کو حقیقت نہیں مانتے وہ امریکی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں اور ان کا سیدھا اور پہلا جُملہ (بالکل امریکیوں اور بھارتیوں کی طرح) یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی تو سازشی تھیوریوں پر یقین رکھتے ہیں۔ کاش کبھی ان کا گذر قرآن و حدیث سے بھی ہو جس میں یہود و ہنود کی سازشوں کے قصے اللّٰہ کی پاک ذات نے خود بیان کیئے ہیں۔  پاک پیغمبر ﷺ اور مومنوں کے خلاف تو ان کی سازشوں کے متعلق لکھ لکھ کر کتابوں کا ڈھیر لگایا جاسکتا ہے۔ ہم ان کو دین سے دُوری کا طعنہ نہیں دیتے بالکل دلائل سے یہ ثابت کریں گے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان گذشتہ ستر سالوں سے مسلسل سازشوں کا شکار ہے جس میں مغربی دنیا اور ان کے گماشتے بھارت، اسرائیل اور افغانستان ہر وقت ہر گھڑی اس کے خلاف  ایک نئی چال چلتے ہیں۔ یہ تحریر ان مخصوص لوگوں کے لیئے ہے جن کو ثبوت چاہیئں اور جن کو پاکستانی یا مسلمانوں کی بات کی بجائے ٹام، ڈِک، ہیری اور نتھو رام کی باتوں پر زیادہ یقین ہے۔ یہ تحریر ثبوتوں کے ساتھ ہے جو چاہے اس کو جھٹلانے کا چیلنج قبول کرے۔ اختلاف رائے مگر کس لیئے؟ ثبوت مانگنے کے ساتھ ساتھ یہ پڑھے لکھے جاہل لوگوں کا ہجوم کبھی مجھے زاہد حامد سے متاثر کہتا ھے تو کبھی میری تحریر کو آئی ایس پی آر بریف کہتا ہے۔ کئی میری تحریروں کو سمجھے بغیر ہی مجھے نون لیگ یا پھر پی ٹی آئی کا حمایتی سمجھتے ہیں۔ اور کئی مجھے جمہوریت دشمن سمجھتے ہیں۔ جمہوریت کے شیدائیوں کو تو بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے تم نے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی ساری مان لی ہیں نا اب یہ  مغربی جمہوریت آخری الہامی حکم ہے جس کے فروغ کے لیئے آپ اپنی زندگیاں برباد کررہے ہو۔  بین الاقوامی سیاسیات کا طالبعلم ہونے کے ناطےجب میں کچھ تحریر کرتے ہوئےمیں سوچتا ہوں کی یہ سارے میرے اپنے پیارے لوگ ہیں جیسے بھی ہیں، جسطرح بھی ہیں اور جس پارٹی سے بھی ہیں۔ اور جب میں مُلکی سیاست کی بات کرتا ہوں تو اس کا بین الاقوامی سیاست سے لنک بتاتے ہوئے یہ بات بھی واضح کرتا ہوں کہ کون کدھر غلط جارہا ہے ایسا کرتے ہوئے میرا کسی پارٹییا شخصیت  سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لہذا تمام پارٹیوں کے ورکرز میری تحریروں سے مطمئن رہیں بے شک اختلاف بھی رکھیں جو ان کا حق ہے۔ رہ گئی بات پہلی کیٹیگری کے لوگوں کی تو وہ لوگ نوٹ فرما لیں کہ جس طرح میرے اللّٰہ نے تمام انبیاء سے ان ہی کی زبانی یہ کہلوایا کہ “میں تم سے (حق) بات بتانے کا کوئی اجر نہیں مانگتا” ان پاک پیغمبروں کے پاک قدموں کی خاک کے صدقے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ میں نے تہیہ کیا ہوا ہےحق بتانے کی میں کبھی کوئی قیمت وصول نہیں کروں گا۔ میری تحریریں کشمیر کی بہنوں بیٹیوں اور بیٹوں کے صدقے، پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کے صدقے اور میرے بزرگوں کی ان قربانیوں کے صدقے جو انہوں نے اس وطن کو بنانے کے لیئے دیں بالکل “فری” ہیں۔ اور یہ بھی بتا دوں کہ نہ میں صحافی ہوں اور نہ لفافی۔ امریکی گھناؤنےعزائم اور ثبوت قارئین اکرام نوٹ کرلیں کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور مغربی دنیا کی سازشیں چار ٹارگٹ حاصل کرنے لگی ہوئی ہیں جن کے میں اس پیرا کہ بعد چند ناقابلِ تردید ثبوت بھی ناقدین کی تسلی کے لیئے پیش کروں گا۔ جن کی تفصیل جو میں بیان کرنے والا ہوں اسکو پاکستان کے بچے بچے کو جان لینی چاہیئے  •  دو قومی نظریے کو غلط ثابت کرکے پاکستان کو سیکولر رنگ میں ڈھال کر اس کی اسلامی پہچان ختم کرنا۔  •  کشمیر کا مسئلہ بھارت کی مرضی کے مطابق حل کرنا۔  •  پاکستان کی افواج اور آئی ایس آئی کو بدنام، کمزور کرکے اس کو سیاسی حکومت کے ماتحت کرنا۔  •  انتشار کی مصنوعی صورتِ حال پیدا کرکے کسی طرح بھی ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول حاصل کرنا۔ پہلا امریکی مصنف! اسٹیو کول! اسٹیو کول وہ امریکی صحافی ہے جس نے روس افغانستان جنگ کا سارا عرصہ افغانستان کا تھیٹر کور کیا صفحہ 353  پر لکھتا ہے کہ “کلنٹن کے دور میں امریکہ کا جنوبی ایشیاء میں ایجنڈا کا بھارت جنگ روکنا، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے پوری دنیا کو پیدا شدہ خطرات کا حل ڈھونڈنا، پاکسانی معاشرہ  میں دہشت گردی کو پروان چڑھنے سے روکنا، جمہوریت کا فروغ اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے متعلق تھا” وہ صفحہ 386 پر مزید لکھتا ہے کہ سن دوہزار اور دوہزار ایک میں مشرف کلنٹن ملاقات کا بھی یہی ایجنڈا تھا اور اس میں صرف ایک چیز کا اضافہ بھی کرتا ہے کہ پاکستان کی “اسلامی پہچان” “Islamic Identity” کا مسئلہ امریکہ کی شدید پریشانی کا باعث تھا۔ (“CIA’s Ghost Wars in Afghanistan”).  دوسرا امریکی مصنف! سٹیفن کوہن! اس بیمار ذہن امریکی  کو ہمارے بیمار ذہن پڑھے لکھے جنوبی ایشیاء کی سیاسیات کا ماہر مانتے ہیں۔ وہ صفحہ 305 سے 309 لکھتا ہے کہ بُش نے سن دو ہزار میں کیمپ ڈیوڈ میں پاکستان کے اندر تین ٹارگٹ حاصل کرنے کی پالیسی بنائی جن میں دہشت گردی کی جنگ میں اسے زبردستی پارٹنر بنانا، اس کے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول حاصل کرنا اور

صحافی کے قلم سے

امریکی، اسرائیلی اور بھارتی عزائم سیسہ پلائی دیوار پاک فوج اور آئی ایس آئی

 میجر ( ر ) ساجد مسعود صادق  ( حصہ اول ) خلاصۂ تحریر! اللّٰہ تعالٰی کی پاک ذات کا ارشاد ہے “میرے محبوب اگر تم ان کا دین بھی قبول کرلو پھر بھی یہ ایمان نہیں لانے والے”۔ مزید فرمایا کہ یہودو نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے” مزید فرمایا “حق آگیا اور باطل مِٹ گیا بے شک باطل نے مٹنا ہی تھا” مزید فرمایا “میرے محبوب مومنوں کو تمہارا نصحیت کرنا فائدہ دیتا ہے” مزید فرمایا کہ ان کے دلوں، آنکھوں، کانوں اور زبانوں پر مُہریں لگی ہوئی ہیں۔ یہ گونگے اور بہرے ہیں” مزید فرمایا “یہ (حق بات کی طرف) نہیں پلٹیں گے”۔ سازشی تھیوریاں ایک حقیقت یا فسانہ؟ جو کچھ پاکستان میں ہورہا ھے جب سازش کے متعلق کوئی بات کی جائے تو کچھ لٹھ  بردار پاکستانی جو حیران کُن طور پر پڑھے لکھے ہونے کے باوجود بھی اس کھیل کو حقیقت نہیں مانتے وہ امریکی زبان بولنا شروع کردیتے ہیں اور ان کا سیدھا اور پہلا جُملہ (بالکل امریکیوں اور بھارتیوں کی طرح) یہ ہوتا ہے کہ پاکستانی تو سازشی تھیوریوں پر یقین رکھتے ہیں۔ کاش کبھی ان کا گذر قرآن و حدیث سے بھی ہو جس میں یہود و ہنود کی سازشوں کے قصے اللّٰہ کی پاک ذات نے خود بیان کیئے ہیں۔  پاک پیغمبر ﷺ اور مومنوں کے خلاف تو ان کی سازشوں کے متعلق لکھ لکھ کر کتابوں کا ڈھیر لگایا جاسکتا ہے۔ ہم ان کو دین سے دُوری کا طعنہ نہیں دیتے بالکل دلائل سے یہ ثابت کریں گے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان گذشتہ ستر سالوں سے مسلسل سازشوں کا شکار ہے جس میں مغربی دنیا اور ان کے گماشتے بھارت، اسرائیل اور افغانستان ہر وقت ہر گھڑی اس کے خلاف  ایک نئی چال چلتے ہیں۔ یہ تحریر ان مخصوص لوگوں کے لیئے ہے جن کو ثبوت چاہیئں اور جن کو پاکستانی یا مسلمانوں کی بات کی بجائے ٹام، ڈِک، ہیری اور نتھو رام کی باتوں پر زیادہ یقین ہے۔ یہ تحریر ثبوتوں کے ساتھ ہے جو چاہے اس کو جھٹلانے کا چیلنج قبول کرے۔ اختلاف رائے مگر کس لیئے؟ ثبوت مانگنے کے ساتھ ساتھ یہ پڑھے لکھے جاہل لوگوں کا ہجوم کبھی مجھے زاہد حامد سے متاثر کہتا ھے تو کبھی میری تحریر کو آئی ایس پی آر بریف کہتا ہے۔ کئی میری تحریروں کو سمجھے بغیر ہی مجھے نون لیگ یا پھر پی ٹی آئی کا حمایتی سمجھتے ہیں۔ اور کئی مجھے جمہوریت دشمن سمجھتے ہیں۔ جمہوریت کے شیدائیوں کو تو بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے تم نے اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی ساری مان لی ہیں نا اب یہ  مغربی جمہوریت آخری الہامی حکم ہے جس کے فروغ کے لیئے آپ اپنی زندگیاں برباد کررہے ہو۔  بین الاقوامی سیاسیات کا طالبعلم ہونے کے ناطےجب میں کچھ تحریر کرتے ہوئےمیں سوچتا ہوں کی یہ سارے میرے اپنے پیارے لوگ ہیں جیسے بھی ہیں، جسطرح بھی ہیں اور جس پارٹی سے بھی ہیں۔ اور جب میں مُلکی سیاست کی بات کرتا ہوں تو اس کا بین الاقوامی سیاست سے لنک بتاتے ہوئے یہ بات بھی واضح کرتا ہوں کہ کون کدھر غلط جارہا ہے ایسا کرتے ہوئے میرا کسی پارٹییا شخصیت  سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لہذا تمام پارٹیوں کے ورکرز میری تحریروں سے مطمئن رہیں بے شک اختلاف بھی رکھیں جو ان کا حق ہے۔ رہ گئی بات پہلی کیٹیگری کے لوگوں کی تو وہ لوگ نوٹ فرما لیں کہ جس طرح میرے اللّٰہ نے تمام انبیاء سے ان ہی کی زبانی یہ کہلوایا کہ “میں تم سے (حق) بات بتانے کا کوئی اجر نہیں مانگتا” ان پاک پیغمبروں کے پاک قدموں کی خاک کے صدقے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ میں نے تہیہ کیا ہوا ہےحق بتانے کی میں کبھی کوئی قیمت وصول نہیں کروں گا۔ میری تحریریں کشمیر کی بہنوں بیٹیوں اور بیٹوں کے صدقے، پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کے صدقے اور میرے بزرگوں کی ان قربانیوں کے صدقے جو انہوں نے اس وطن کو بنانے کے لیئے دیں بالکل “فری” ہیں۔ اور یہ بھی بتا دوں کہ نہ میں صحافی ہوں اور نہ لفافی۔ امریکی گھناؤنےعزائم اور ثبوت قارئین اکرام نوٹ کرلیں کہ امریکہ، بھارت، اسرائیل اور مغربی دنیا کی سازشیں چار ٹارگٹ حاصل کرنے لگی ہوئی ہیں جن کے میں اس پیرا کہ بعد چند ناقابلِ تردید ثبوت بھی ناقدین کی تسلی کے لیئے پیش کروں گا۔ جن کی تفصیل جو میں بیان کرنے والا ہوں اسکو پاکستان کے بچے بچے کو جان لینی چاہیئے  •  دو قومی نظریے کو غلط ثابت کرکے پاکستان کو سیکولر رنگ میں ڈھال کر اس کی اسلامی پہچان ختم کرنا۔  •  کشمیر کا مسئلہ بھارت کی مرضی کے مطابق حل کرنا۔  •  پاکستان کی افواج اور آئی ایس آئی کو بدنام، کمزور کرکے اس کو سیاسی حکومت کے ماتحت کرنا۔  •  انتشار کی مصنوعی صورتِ حال پیدا کرکے کسی طرح بھی ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول حاصل کرنا۔ پہلا امریکی مصنف! اسٹیو کول! اسٹیو کول وہ امریکی صحافی ہے جس نے روس افغانستان جنگ کا سارا عرصہ افغانستان کا تھیٹر کور کیا صفحہ 353  پر لکھتا ہے کہ “کلنٹن کے دور میں امریکہ کا جنوبی ایشیاء میں ایجنڈا کا بھارت جنگ روکنا، پاکستان کے ایٹمی اثاثوں سے پوری دنیا کو پیدا شدہ خطرات کا حل ڈھونڈنا، پاکسانی معاشرہ  میں دہشت گردی کو پروان چڑھنے سے روکنا، جمہوریت کا فروغ اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے متعلق تھا” وہ صفحہ 386 پر مزید لکھتا ہے کہ سن دوہزار اور دوہزار ایک میں مشرف کلنٹن ملاقات کا بھی یہی ایجنڈا تھا اور اس میں صرف ایک چیز کا اضافہ بھی کرتا ہے کہ پاکستان کی “اسلامی پہچان” “Islamic Identity” کا مسئلہ امریکہ کی شدید پریشانی کا باعث تھا۔ (“CIA’s Ghost Wars in Afghanistan”).  دوسرا امریکی مصنف! سٹیفن کوہن! اس بیمار ذہن امریکی  کو ہمارے بیمار ذہن پڑھے لکھے جنوبی ایشیاء کی سیاسیات کا ماہر مانتے ہیں۔ وہ صفحہ 305 سے 309 لکھتا ہے کہ بُش نے سن دو ہزار میں کیمپ ڈیوڈ میں پاکستان کے اندر تین ٹارگٹ حاصل کرنے کی پالیسی بنائی جن میں دہشت گردی کی جنگ میں اسے زبردستی پارٹنر بنانا، اس کے ایٹمی اثاثوں پر کنٹرول حاصل کرنا اور

صحافی کے قلم سے

نیو ٹریشن پروگرام۔ ناقص کارکردگی عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی

  احمد خان لغاری  وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے اپنے دورہ ڈیرہ غازیخان کے دوران پرائمری سکولوں کے ننھے طلبا اور گرلز پرائمری سکولوں کی ننھی طالبات کے لئیان کی جسمانی صحت کے حوالے سے نیوٹریشن پروگرام کا باقاعدہ آغازکیا۔ یہ پروگرام ڈیرہ غازیخان، راجن پور اور مظفر گڑھ کے اضلاع کیلئے مخصوص تھا۔ انہوں نے اپنے پروگرام کے اختتامی خطاب کے آغاز میں طلبا، طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نیوٹریشن پروگرام کے اجرا سے پہلے کسی سکول میں بچوں سے بات چیت کر رہی تھیں کہ اس سکول کی ایک ٹیچر جو ادارے کی پرنسپل تھیں اس نے بتایا کہ محترمہ وزیر اعلی صاحبہ یہ چھوٹے بچے صبح جب سکول آتے ہیں تو یہ ناشتہ کرکے نہیں آتے۔ تب انہوں نے اپنے آپ سے اور طلبا وطالبات سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بچوں کی صحت اور بہتر خواراک کیلئے ہر پرائمری گرلز اور بوائز سکول میں بچوں کو سکول میں آنے پر دودھ پیش کیا جائیگا اور پیکٹ دودھ ہر بچے اور بچی کو ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نیو ٹریشن کے اس پروگرام کا آغاز جنوبی پنجاب کے پسماندہ ڈویژن سے کر رہی ہیں۔ وزیر اعلی نے یہ وعدہ بھی لیا کہ دودھ کے پیکٹ بھی سکولوں میں جمع کیے جاتے رہیں گے تاکہ ان سے کوئی دوسرا پروگرام شروع کیا جاسکے گا۔ دودھ کے پیکٹ پر کسی کمپنی یا ادارے کا نام نہیں ہے البتہ وزیر اعلی کی طرف سے اس پروگرام کی تفصیل اور تصویر ہے تاکہ صوبہ پنجاب کی کارکردگی واضع ہوسکے۔ اس نیو ٹریشن پروگرام کے آغاز سے ہی بد انتظامی سامنے آئی، دودھ کے پیکٹ ایک جگہ سے دوسری جگہ لاہور سے راجن پور، ڈیرہ غازیخان اور مظفرگڑھ کے دور دراز علاقوں میں بروقت پہنچانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ جس برق رفتاری سے اس پرگرام کا آغاز ہوا تو اس رفتار سے دودھ کے پیکٹوں کی نقل و حمل مشکل امر تھا۔ اس بدنظمی کی وجہ سے ضلع ڈیرہ غازی خان کے محکمہ تعلیم کے سینئر افسر ناقص کارکردگی کے جرم کا شکار ہوگئے اور معطل کر دیے گئے۔ حالانکہ اس ساری بدانتظامیوں میں ڈسٹرکٹ اور ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر کے ساتھ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کی بھی ذمہ داری تھی لیکن بدقسمیت سے سب سے بڑے آفیسر محکمہ تعلیم ذمہ دار ٹہرے۔ راقم الحروف نے اس نیو ٹریشن پروگرام کی اہمیت اور افادیت کے ساتھ ساتھ اسکی بروقت نقل وحمل کا جائزہ لینے کیلئے لوگوں سے رابطہ کیا ملاقاتیں کیں اساتذہ کرام سے بھی چند سوالات کیے جس سے کھل کر اس پروگرام کے ابتک کے نتائج اخذ کیے جس سے یہ بات یقینی ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کی ذاتی دلچسپی کے اس پروگرام کی بلاشبہ پذیرائی تو ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ بچوں کی صحت اور تندرستی کے حوالے سے حکومت پنجاب کا یہ پروگرام زیادہ دیر نہیں چل سکے گا۔ اس پروگرام کی ناکامی کی کئی وجوہات ہونگی۔ جس بدانتظامی کی وجہ سے محکمہ تعلیم کے سینئر افسر شکار ہوئے یہی وجہ اب آگے تک پھیل چکی ہے۔ ضلع ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کا زیادہ تر علاقہ کوہ سلیمان پر مشتمل ہے، اور پہاڑوں کے دشوار گزار راستوں کی وجہ سے اساتذہ نہیں پہنچ پاتے، پرائمری سکولوں کے طلباوطالبات کی تعداد محض رجسٹر داخل خارج تک محدود ہے۔ ایسے علاقوں میں نقل و حمل نا ممکن ہے اگر ایسے سکولوں تک بچوں کی صحت و تندرتی کیلئے دودھ کے پیکٹ پہنچا دے جائیں تو وہ صرف گھروں میں ہی استعمال ہونگے اور ایسا ہورہا ہے۔ ما ہ ستمبر میں موسم گرما پورے جوبن پر ہے، اور درجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ تک ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں پیکٹ سکولوں میں پہنچ بھی رہے ہیں لیکن وہ گرم ہونے کی وجہ سے پینے کے قابل نہیں ہے۔ چند سکولوں میں نیک دل اساتذہ کرام دودھ کے پیکٹ ہمسایوں سے مانگی گئی بالٹیوں یں کھول کر برف بھی مانگتے ہیں اور اس میں کوئی شربت ڈال کر بچوں کو پلاتے ہیں اور اس لنگر سے اساتذہ کرام اور اردگرد کے ہمسائے جو بالٹیوں اور بر ف کی سہولت باہم پہنچاتے ہیں ان کو بھی شریک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ قبل ازیں جب یہ دودھ کے پیکٹ جو درجہ حرارت کی وجہ سے گرم تھے بچوں کو قے اور پیٹ کی بیماریاں شروع ہوگئیں تب یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ محکمہ تعلیم کے افسران کی پالیسی ہے کہ طلبا و طالبات کی تعداد بڑھاتے رہیں لہذا طلبا و طالبات تو دور دراز علاقوں میں نہیں پڑھ سکتے بلکہ مختلف نام رجسٹروں میں درج کر لیے جاتے ہیں۔ دودھ کے پیکٹ بھی اسی تعداد سے سکولوں کو ملتے ہیں تو غور فرمائیں وہ دودھ کے پیکٹ کہاں جاتے ہونگے۔ اساتذہ کرام اور طلبا اور معززین علاقہ جہاں یہ سہولت پہنچائی جاتی ہے وہ اسے انقلابی قدم سمجھتے ہیں لیکن ایسے سکول میں جو 2010اور 2022کے شدید سیلاب کی وجہ سے عمارتوں سے محروم ہیں، کمروں سے محروم ہیں اساتذہ نہیں ہیں، طلبا و طالبات نہیں ہیں مناسب ہوتا کہ بچوں کیلئے سکولوں کے کمروں کا بندوبست کیا جاتا تاکہ وہ چھاؤں میں بیٹھتے اور بارشوں سے بھی محفوظ رہتے۔ سکولوں کو مہیا کے جانے والے دودھ اور نقل و حمل بھی مسلم لیگی کمیٹی کے حوالے ہوتا تاکہ وہ اسے یقینی بناتے مگر حالت یہ ہے کہ مسلم لیگ کی ضلعی تنظیم ضلعی انتظامیہ سے ناخوش ہے اور جناب ڈپٹی کمشنر شہروں کے سکولوں کا وزٹ کرکے اپنے فرائض منصبی سے عہدہ برآ ہوتے رہتے ہیں۔ افسر شاہی سیاسی کارکنوں کو دودھ کے پیکٹ کی رقم کے حوالے سے آگاہی دینا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں اور ایم این اے ایم پی اے کو فارم 47کی پیداوار سمجھتے ہیں اور انہیں اہمیت نہیں دیتے۔ میرے خیال میں یہ پروگرام زیادہ دیر چل نہیں پائے گا کیونکہ ہزاروں سکولوں اور لاکھوں طلبا تک پہنچا نا ناممکن ہے۔اسی ناقص کارکردگی کی بنا پر محکمہ تعلیم مظفر گڑھ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا لیکن اس ساری مہم جو وزیر اعلی پنجاب نے شروع کی بھی عوامی نمائندے جنہیں فارم 47والے نمائندے کہتے ہیں ان کی خاموشی پر بھی اساتذہ اور طلبا و طالبات

صحافی کے قلم سے

غدّاری و وفا شعاری اور پاکستان کے معروضی حالات

میجر (ر) ساجد مسعود صادق   لندن میں ایون فیلڈ فلیٹس اور سرے محل، امریکہ، بیلجئیم اور آسٹریلیا میں فارم ہاؤسز، اور سعودی عرب اور دوبئی میں اپنے عسکری اور سیاسی قائدین کی جائیدادوں کی حقیقت جاننے کے لیئے MI15 برطانوی انٹیلجنس ایجنسی (جو آجکل MI6) کہلاتی ہے) کے ایک سینئیر انٹیلجنس افسر “پیٹررائٹ” کی سوانح عمری (Spy Catcher) بہترین کتاب ہے جس میں وہ بیان کرتا ہے کہ “یہ جنگ عظیم دوم کے فوراً بعد کی برطانیہ اور روس مین کشمکش کا واقعہ ہے کہ وہ (مصنف) اور اُس کا ایک ساتھی افسر ایک مُدت تک اپنی صفوں میں KGB (روسی خُفیہ ایجنسی) کے افسر کو تلاش کرتے رہے۔ ایک دفعہ انہیں یقین ہوگیا کہ MI15 کے ڈپٹی چیف یا چیف میں سے ایک روسی ایجنٹ ہے۔ معاملہ بڑا نازک تھا۔ انہوں نے ڈرتے ڈرتے چیف سے جب بات کی تو اُس نے کہا کہ مُجھے بھی ڈپٹی چیف پر شک ہے۔ لہذا دونوں نے ڈپٹی چیف کی سرویلنس شروع کردی کیونکہ MI 15 کے تمام خُٖفیہ منصوبے KGB کو مل جاتے تھے۔ ڈپٹی چیف کی غیر موجودگی میں اُس کے دفتر کی تلاشی تک انہوں نے لی لیکن انہیں کُچھ نہ ملا۔ اب انہیں یقین ہوگیا کہ چیف ہی روسی ایجنٹ ہے۔” لیکن اُس تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ چیف ریٹائر ہوگیا۔ وہ اُس کو تلاش کرتے کرتے ایک جزیرے پر پہنچے وہاں پر وہ اپنے فارم ہاؤس کے لان میں بیٹھا تھا۔ اُن دونوں کو دیکھتے ہی اُس نے مُسکراتے ہوئے کہا کہ تُم لوگوں نے بڑی دیر کردی اب چاہو تو مجھے گولی بھی ماردو کیونکہ میں اپنا کام اور زندگی بھی پورا کرچُکا ہوں۔  آئینِ پاکستان میں اگرچہ غداری کی سزا موت تو لکھ دی گئی لیکن یہ بات واضح نہیں کہ غدّار کی تعریف کیا؟ اور غدار کون ہے اس کا تعین کون کرے گا؟ اگرچہ پاکستان میں یہ کام خفیہ ادارے کرتے ہیں  لیکن ان کا فیصلہ حتمی کیونکر ہوا؟ جبکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح ہیں اور مزید کیا وہ غدّاری نہیں کرسکتے؟ اس لیئے کسی کو وفا شعاری اور غداری کا تمغہ دینے سے پہلے غداری اور وفا شعاری کی تعریف کرنی ضروری ہے تاکہ غداروں اور وفا شعاروں میں فرق جانا جا سکے۔ یہ تحریر غداری کی تعریف کو دین، پاکستانی سیاست اور بین الاقوامی سیاست کے زاویہ سے پرکھنے کی ایک کوشش ہے۔ کیونکہ پاکستان کی پچھترسالہ تاریخ میں غدار اور وفا شعار ایسے مکس ہوئے ہیں کہ عام آدمی یہ تمیز ہی نہیں کرسکتا کہ مُلک کا وفادار کون ہے اور غدار کون ہے۔ آئی ایس آئی اور فوج کے قرار دیئے گئے غدار اور وفاشعار ہر وقت پوزیشن تبدیل کرتے رہتے ہیں اس کی بہترین مثال مجاہدین روس کے خلاف جب لڑے تو ہیرو تھے اور امریکہ کے خلاف ہتھیار اُٹھانے پر وہ دہشت گرد قرار دیئے گئے۔ کل تک جن کو غدار اور وطن دُشمن کے خطابات سے نواز گیا آج وہی اسمبلیوں میں ہیں اور فوج انہیں سلام کرتی ہے۔  دین کے مطابق غداری کی تعریف کُچھ یوں ہے کہ سورة المجادلہ کی آیت نمبر 12 (واذ ناجیتُم الرسولَ۔۔۔۔) جس کا مفہوم (اے مومنو! جب تُم رسول اللّٰہ ﷺ سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اُس سے پہلے صدقہ دے لو) کی تشریح کے ضمن میں “بابِ علم” حضرت علی المرتضٰی رضی اللّٰہ عنہ نے ایک حدیث طیبہ روایت کی جس میں انہوں نے آپ ﷺ سے دس سوال عرض کیئے اور اُن میں سے پہلے سوال یہ تھا کہ وفا کیا ہے؟ جس کا جواب دیا گیا کہ “توحید اور توحید کی شہادت دینا”۔ دوسرا سوال تھا کہ فساد کیا ہے؟ جواب دیا گیا کہ “کُفر اور شرک۔” مزید یہ کہ جب تمام انسان “الست بربکم؟ ۔ کیا میں تمہارے رب نہیں؟” کے جواب میں قالو بلٰی، شہدنا ۔ کہنے لگے بے شک (تو) ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں۔” اس عہد کے بعد ایک نصیحیت بھی ہے جو اللّٰہ نے انسانوں کو جنت سے اُتارتے ہوئے کی وہ یہ کہ “جب میری طرف سے ہدایت آئے (جو پیغمبر لائیں گے) تو اُس پر عمل کرنا (سورة البقرہ)۔ گویا اللّٰہ سے وفا یا عقیدہ (نظریہ) توحید و رسالت سے وفا ہی اصل وفا ہے باقی فساد اور فراڈ ہے۔ جس کی دلیل یہ ہے کہ سورة البقرہ نے ہی کافروں اور توحید کے غداروں کے بارے میں کہا کہ “جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت پھیلاؤ تو کہتے ہیں ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں (مومنو) خبردار رہو یہی فسادی ہیں۔”    پاکستان میں آئی ایس آئی اور دیگر خُفیہ ادارے پاکستانی  سول یا فوجی عدالتوں سے کسی کو بھی غدار ڈکلیئر کروانے کا کام کرتے ہیں لیکن اس پر بہت بے چینی پائی جاتی ہے آج جو غدار ہوتا ہے وہ کل وہ مُلک کا وزیراعظم ہوتا ہے جس کی بہترین مثالیں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ہیں۔ آئینِ پاکستان  قوم کی مُتفقہ ایک ایسی دستاویز ہے جس سے انحراف مُلک سے غداری کی دلیل ہونی چاہیئے۔ اور اسی آئین کے تابع مُلک کے تمام ادارے ان اداروں کے سربرہان اور عوام الناس آتے ہیں۔ چونکہ پاکستان اس نظریہ پر قائم ہوا کہ “پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ﷺ” تو گویا حاکمیت اعلٰی اللّٰہ کی ہوئی اور قانون شریعت محمدی ﷺ ہوا۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ پچھتر سالوں میں ناتو پاکستان میں اسلام کو نافذ  کیا گیا ہے بلکہ اُلٹا اس آئین کو تمام اداروں کے سربراہان بشمول ڈکٹیٹرز پامال کرتے ہوئے ایک لمحہ کی دیر بھی نہیں کرتے۔ اسی آئین کو پامال کرکے جس میں لکھا گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی قانون اسلام کے مُنافی نہیں بنے گا تو ان افراد یا اداروں کے سربراہان کو پاکستانی غدار کہیں یا پھر پاکستان کے وفادار؟ اسلام کے نام پر حاصل کیئے گئے مُلک میں اسلام کا نفاذ نہ کرنا (جوکہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے) بھی اللّٰہ اور رسول اللّٰہ (عقیدہ توحید اور رسالت سے غداری ہے۔  بین الاقوامی سیاست کے زاویہ سے دیکھا جائے تو آج دُنیا میں مغرب جس کا لیڈر امریکہ ہے اُس کی حکمرانی ہے جس کو مغربی ورلڈ آرڈر یا امریکی

صحافی کے قلم سے

تبدیلی کی مُتقاضی پاکستانی خارجہ و داخلہ پالیسیاں

میجر (ر) ساجد مسعود صادق بین الاقوامی معروضی حالات کے مطابق پاکستانی خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی کی شدید ضرورت ہے کیونکہ پاکستانی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں یکسر ناکام ہو چُکی ہیں جس کا اندازہ پاکستان کے دیگر ممالک کیساتھ تعلقات اور پاکستانی کے اندرونی حالات سے لگایا جاسکتا ہے۔ آج دُنیا ایک بار پھر قیام پاکستان  کے وقت جیسے حالا ت سے گُذر رہی ہے جس میں مغربی (امریکہ، یورپی ممالک اور  چند اسلامی ممالک بشمول پاکستان) اور مشرقی بلاک (روس اور اُس کے دیگر اتحادی) ایک دوسرے سے نبرد آزما تھے ماضی میں  تقریبا تیس سال  جیسے امریکہ اور روس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔ جس کا اختتام افغان ۔  روس جنگ میں روسی پسپائی اور روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر ہوا۔ آج کل ایک بار پھر روس+ چین  اور امریکہ+ اتحادی اُسی طرز کی کشمکش میں مُبتلا ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں پاک بھارت اس اتحاد میں پہلے بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور آج بھی پوری دُنیا کی نظریں انہی دونوں ممالک پر مرکوز ہیں کیونکہ آج  اس ساری بین الاقوامی کشمکش کا مرکز جنوبی ایشیاء ہے۔ آج  مغربی طرز کے عالمی نظام جس کی بُنیاد سن 1648 ویسٹ فیلیاء میں رکھی گئی، جسے کے خدوخال 1815 میں واضح کیئے گئے اور بالآخر سن  1948 میں یو این او اور اُس کے ذیلی ادارے (ورلڈ بنک، آئی ایم ایف، بین الاقوامی عدالت وغیرہ) بناکر اسے مضبوط بنایا گیا جس کو فوراً ہی کمیونسٹUSSR  نے چیلنج کردیا۔  پاکستان کو آج  بیرونی دُنیا جس نظر سے  دیکھتی ہے اُس کا تجزیہ کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر  سینٹر فار گلوبل سٹڈی ممبئی کے سینئر پالیسی کے معروف  تجزیہ کار، تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں پر تین کتابوں کے مصنف اور مشہور بھارتی رائٹر  آرپت راجین کے  نزدیک پاکستانی نیوکلیئر پروگرام  اسلامی ممالک کی مشترکہ پراپرٹی  (اسلامک بم)  سمجھا جاتا ہے جس کا امریکی فارن پالیسی بنانے والوں کو  ہنٹنگٹن کے تھیسز  Clash of Civilisations کے مطابق  ہونے والے ٹکراؤ میں مغرب کے خلاف استعمال ہونے کا خوف و خدشہ  ہے۔ اسی طرح پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں امریکی صدر اوباما  کے دور میں بھی “دہشت گردی کا مرکز” اور “دہشت گردی کا کینسر” قرار دیا جاتا رہا ہے۔ پاک بھارت دُشنی میں ایک ہی بُنیادی اور مرکزی مسئلہ ہے جس کی خاطر دونوں ممالک  ماضی میں چار جنگیں (1948,1965,1971 اور 1999)  میں لڑ چُکے ہیں۔ پاکستانی فارن پالیسی ہمیشہ بیرونی دُنیا کی طرف کشمیر پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں رہی ہے لیکن دیگر ممالک تو دور کی بات اپنے بہت قریبی  دوست مُلک “سعودی عرب”  کی حمایت حاصل کرنے میں بھی یکسر  ناکام رہی۔ اسی طرح بھارت پاکستان کے مغرب میں نہایت چابکدستی اور مہارت سے افغانستان میں بیٹھا پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور انتشار پھیلانے میںں میں مصرف ہے۔  پاکستان جس مُلک کے گُذشتہ چالیس سال سے چالیس لاکھ سے بھی زیادہ  پناہ گزینوں کا بوجھ بھی برداشت کررہا ہے   اُس کا اعتماد اور دوستی  حاصل کرنے میں بھی ناکام ہے۔ اسی طرح جس امریکہ کا پاکستان ہمیشہ اتحادی رہا ہے آج وہ پاکستان سے زیادہ بھارت کا حمایتی ہئ  یہ چند  ٹیسٹ کیسز ہیں جن سے پاکستانی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو دیکھا، پرکھا اور پڑھا جاسکتا ہے۔  کشمیر کے مسئلے میں بھارت پاکستان کو پچھاڑ چُکا ہے، افغانستان کے ساتھ اُس کے تعلقات پاکستان کی نسبت بہت بہتر ہیں اور یہی چانکیائی سیاست ہے۔ اسی طرح  پاکستان کی خارجہ پالیسی  اپنی مجبوریوں یا پاکستانی حکمرانوں اور اشرافیہ  کے مغربی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے  ہمیشہ مغرب نواز رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھی مغربی طاقتوں کا گہرا اثر نفوذ ہے جس کا آجکل بھارت بھرپور فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں افغانی پناہ گزینوں کی پاکستان مین ایک کثیر تعداد میں موجودگی  بھارت کی پاکستان کو ہینڈل کرنے کے لیئے مددگار ثابت ہورہی ہے۔ اگرچہ پاکستانی حکمران مغربی طاقتوں کیساتھ ملکر مغربی طرز کے عالمی نظام کو قائم رکھنے میں ہر ممکنہ تعاون کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ مغربی پالیسیوں سے نالاں بھی رہے ہیں جس کا بہترین اظہارسابق پاکستانی صدر اور چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل پرویز مُشرف (مرحوم) نے  اپنی کتاب In the Line Of Fire-2007  دہشت گردی کی جنگ میں شمولیت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے  یوں  کیا کہ وہ پاکستان کی کمزور معیشت اور  پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کو امریکہ سے بچانا چاہتا تھا ورنہ امریکہ حملہ بھارت کیساتھ ملکر اسے  تباہ کردیتا اور اس جنگ میں شمولیت کے صلے میں  پاکستان کو  مسئلہ کشمیر پر  بھارت کے خلاف امریکی سپورٹ  کی اُمید تھی۔  مغربی اتحادی پاکستان کو  کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ امریکی خارجہ پالیسی کے مشیروں پر مُشتمل  ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ  Strategy for Pakistan and Afghanistan : Independent Task Force Report No. 65  – 2010 کے مطابق پاکستان آرمی کا نیوکلیئر ہتھیاروں پر کنٹرول  جب  پاکستان میں انتشار اور عدمِ استحکام  پیدا ہو  خدشہ ہے انتہائی خطرناک ہے۔   اسی رپورٹ میں ایک  اسٹریٹیجی (Carrots and Sticks)  کا ذکر ہے  یعنی  امداد کیساتھ ساتھ پاکستان کو امریکی ایجنڈے کے خلاف چلنے کی صورت میں بوقت ضرورت سزا بھی دینا تجویز کیا گیا تھا۔میری بکلے اور رابرٹ سنگھ  کی طرح اپنی کتاب  The Bush Doctrine and the War on Terrorism میں یہ دعوٰی  کیا  گیا ہے کہ امریکہ خارجہ پالیسی کا بُنیادی مقصد تھا کہ  طاقتور مسلم ممالک کو بیکار  اور ناکارہ کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان اور اس کے  نیوکلیئر پروگرام کو   مرحلہ وار ٹارگٹ کیا جائے ۔ اسٹیفن پی کوہن انٹول لیوین (جو امریکی فارن پالیسی  ایجنڈا  کا ناقد  ) کے حوالے سے  لکھتا ہے کہ  امریکہ پاکستان میں معاشی پریشر سے زبردستی رجیم چینج کرے، یا ممکنہ سول وار کی صورت میں فوج کیساتھ گُھس جائے یا پھر بھارت کیساتھ جنگ کی صورت میں بھارت کی مدد کرے۔ اسٹیفن پی کوہن امریکی فارن پالیسی سازوں کو مشورہ دیتا ہے کہ اس سے پہلے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست بنکرامریکہ کے لیئے ایک بڑی پرابلم  بنے اسے امریکہ ہمیشہ کے لیئے فکس کردے۔آج  پاکستانی داخلہ اور خارجہ پالیسیاں  انتشار

صحافی کے قلم سے

امریکی انڈر سیکرٹری جان بیس کے دورہ پاکستان کے ممکنہ مُحرکات

میجر (ر) ساجد مسعود صادق امریکی حکومت پاکستان  کی  موجودہ سیاسی حکومت اور عسکری قیادت کے ساتھ اپنے تعلقات  بڑے اچھے اور قریبی بتانے کے  ساتھ ساتھ جیل میں بند اپوزیش لیڈر کی رہائی کے متعلق وقتاً فوقتاً پاکستان پر  بیان بازی کر ڈپلومیٹک پریشر  بھی بر قرار رکھنا چاہتے ہیں۔  “ریجنل سکیورٹی، “ریجنل سٹیبلٹی”  اور “اکنامک ریجنلزم” کے امریکی بیانیوں کے پیچھے دراصل بھارت کو “جنوبی ایشیاء کا چوہدری” ماننااور چین اور روس سے قریبی تعلقات سے اجتناب  جیسے مُحرکات ہیں اور یہی  جنوب ایشیائی خطے میں امریکی فارن پالیسی کے  سب سے بڑے اہداف ہیں۔  امریکی انڈر سکرٹری “جان بیس” کی پٹاری میں اس دفعہ ایک نئی ہی  کہانی ہے جس کے مطابق  امریکہ میں پانچ  مختلف اداروں اورایک شخصیت کے خلاف ایک انکوائری ہورہی ہے جن پر یہ الزام ہے کہ  انہوں نے  پاکستان کو “بیلسٹک میزائل اور کنٹرولڈ میزائل ایکوپمنٹ” غیر قانونی طور پر بیچا ہے۔ اسی طرح گذشتہ ہفتے امریکی حکومت کے  ترجمان “میتھیو ملر” نے چین کے ایک ادارے “بیجنگ ریسرچ انسٹیٹیوٹ فار آٹومیشن” کے متعلق بیان دیا تھا کہ  اُس ادارے نے پاکستان کو “شاہین۔3  اور ابابیل” میزائلوں کی ٹیسٹنگ کے لیئے  غیر قانونی طور پر “راکٹ موٹرز”  مہیا کی ہیں۔ گذشتہ تئیس سال سے پاکستان اور پاک فوج کے خلاف ایک تسلسل سے پراپیگنڈا کیا جا رہا اور اس پراپیگنڈا کو امریکی اور مغربی طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ یہ محض پراپیگنڈا ہی نہیں بلکہ کبھی آئی ایم ایف قرضوں تو کبھیFATF کے ذریعے پاکستان پر امریکہ ایک تسلسل سے معاشی پریشر بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یہ سارے حقائق جنوب ایشیائی خطے میں امریکی فارن پالیسی کو بیان کرنے کے لیئے کافی ہیں جو اس بات کی طرف بھی شارہ کرتے ہیں کہ امریکی ماہرین کے  “ریجنل سکیورٹی، “ریجنل سٹیبلٹی”  اور “اکنامک ریجنلزم”  کے پیچھے اس خطے میں خطے کے ممالک کی مدد سے ایک نیٹ ورک بنا کر روس اور چین کا یہاں بڑھتا ہوا اثر روکنے کی امریکی کوشش ہے۔ اور پاکستان کی امریکی مُفکرین اور ماہرین کے نزدیک اہمیت کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی ہی جارہی ہے جس کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں  پاک چین مُشترکہ پراجیکٹ سی  پیک اور گوار پورٹ  انتہائی اہم ہیں۔ امریکی انڈر سیکرٹری  فار پولیٹیکل افیئرز جان بیس کے اس دورے کی  بظاہر  جو وجوہات بیان کی گئی ہیں اس میں اگرچہ افغانستان کو بین الاقوامی دھارے میں ڈالنا اور اور پورے ریجن میں امن امان  کا قیام ہیں جو حقیقی ایجنڈے کی بجائے کور سٹوری ہے۔ امریکہ جس طرح دہشت گردی کی جنگ کے آغاز سے لیکر چین کا  جن خطوں  میں اثرونفوذ کو روکنے کے بُخار میں مُبتلا ہے  اُن میں جنوبی ایشیاء سر فہرست ہے۔ امریکی فارن پالیسی کا  یہ المیہ ہے کہ امریکی ہمیشہ “لائنس” بناکر اور لائنس میں شامل ممالک کو اپنے مُفاد کے لیئے مخالفین کے خلاف استعمال کرتے آئے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں پاکستان کے مُفاد میں یہ  تھا کہ پاکستان امریکہ سے تعاون کرے لیکن جس طرح افغان روس جنگ کے بعد اور دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کیساتھ سلوک کیا ہے اس کے مطالعہ کی روشنی میں پاک امریکہ تعلقات کو بڑے اچھے طریقے سے ری ویو کرنے اور  پاک امریکہ تعلقات کو از سر نو طے کرنےکے لیئے  ایک شاندار کُسوٹی دی ہے اور  اسی کسوٹی (امریکی طوطہ چشمی  اور مفاد پرستی)  یعنی مُلکی مُفادات کو دوسرے ممالک کے ساتھ  قائم کرنے میں   مقدم رکھنا ہوگا۔ امریکہ کاایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہی بھارت جس پر امریکہ نے دہشت گردی کی جنگ میں  ایک بہت بڑی انویسٹمنٹ کی ہے اُس نے امریکی توقعات کے  مطابق چین کے خلاف امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور نہ ہی امریکی افغان قوم کے بارے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کل   افغانی امریکی مُفادات کا تحفظ کریں گے۔ پاک امریکہ تعلقات کے ماہرین کے پاک امریکہ تعلقات پر  تمام تجزیات، تبصروں اور تحقیقات کو محض ایک فقرے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ “امریکہ پاکستان کی طرف تب ہی جھکتا ہے جب اُسے ضرورت ہوتی ہے۔” اور تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ “جب امریکہ کا کسی بھی مُلک سے کام نکل جاتا ہے وہ اُسے تن تنہاء چھوڑنے میں ایک لمحے کی دیر بھی نہیں کرتا۔”  اس ضمن میں سن 1965، 1971 ،اور  1991 کی پاک بھارت جنگوں اور افغان روس جنگ کی مثالیں پیش کی جاسکتیں ہیں جن میں امریکہ پاکستان سے دغا بازی کرچُکا ہے۔ دہشت گردی کی طویل جنگ میں جس طرح امریکہ نے پینتر ابدل کر  پاکستان کو  دُشمن  سمجھا اور بھارت  کو گلے لگایا  یہ دو نام نہاد دوست ممالک کی دوستی کے تمام تر دعوؤں کی نفی کے  مُترادف ہے۔ اسی طرح  دہشت گردی کی جنگ کے دوران پاکستان کی تمام   قربانیوں کو نظر انداز کرکے امریکہ، افغانی کٹھ پُتلی حکومت اور بھارت نے جس طرح پاکستان اور پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈا کیا دھمکیاں دیں دو نام نہاد  دوست  ممالک کے درمیان ایسی جارحانہ ڈپلومیسی کی مثال بین الاقوامی تعلقات کی  تاریخ کی کسی کتاب میں نہیں ملتی۔  اگرچہ امریکہ اور بھارت افغانستان میں کسی حد تک  پاکستان کا اثر کم کرنے اور پاک افغان دیرینہ تعلقات میں ڈیںنٹ ڈالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں لیکن امریکی اب بھی ڈرتے ہیں اور یہ امر انہیں خوف سے سونے نہیں دیتا کہ اگر پاکستان نے چین کے ساتھ ملکر  امریکہ کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ماضی میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ملکر روس کے ساتھ  افغانستان میں  کیا تھا تو امریکہ کا اس خطے میں بستر گول ہوسکتا ہے۔  پاکستانی ارباب اختیار کو اچانک آئی ایم ایف کا پاکستان کو 7 ارب امریکی ڈالر کا  “بیل آوٹ پیکیج”، پاکستان کی تعریفیں، اور ٹاپ درجے کی قیادت کا دورہ  جس میں آرمی چیف، وزیر خزانہ اور دیگر وزراء سے مُلاقات سب بلا وجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے  اہم امریکی مُفادات اور امریکہ جو کام پاکستان سے لینا چاہتا ہے اُس پر غور فکر کرنا چاہیئے۔ جان بیس کے پاکستان سے پہلے قطر، ترکی اور بھارت کے  دوروں کو مد نظر رکھ اور پاک امریکہ تعلقات کی ساری تاریخ کو سامنے رکھ  کر پاکستانی قیادت کو

صحافی کے قلم سے

جنرل فیض حمید کورٹ مارشل کیس پر سیاسی ملمع سازی

  میجر  (ر)  ساجد مسعود صادق پاکستان آرمی کے  ادارے “آئی ایس پی آر” کے مطابق ریٹائرڈ  لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا آغاز ہوچُکا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس معاملے میں پاکستانی میڈیا احتیاط سے کام لیتا کیونکہ جنرل فیض حمید  پاک فوج کے ایک عام جنرل نہیں بلکہ  وہ ایک  انفنٹری ڈویژن کے کمانڈر، ایڈجوٹینٹ جنرل، ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس کےعہدے کے  ساتھ ساتھ  ڈی جی آئی ایس آئی اور کور کمانڈر جیسے اہم  اور حساس عہدوں پر  کام کرچُکے ہیں  اور  اُن کے سینے میں ناصرف  اپنے   انتہائی اہم  قومی راز  بلکہ دُشمن کے بارے میں بھی بہت معلومات کا ایک ذخیرہ  ہے جس کا تقاضا ہے کہ  اس پروفائل اور رینک کے  افسر کے کیس کے متعلق سیاسی تخمینوں،  تبصروں اور تجزیوں سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ پھر  بیشتر پاکستانیوں کو  تو یہ علم ہی نہیں کہ   “فیلڈ جنرل کورٹ مارشل” کیا ہوتا ہے تاہم ہر بات پر  حقائق کو توڑ موڑ کر پاکستانی عوام کو گُمراہ کرنے والے  نام نہاد مُبصروں، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں ، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کا ایک گروہ   حقائق کے علم کے بغیر اس کیس  پر سیاسی ملمع سازی  کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ جنرل فیض حمید کیس اس لیئے بھی اہم ہے کہ جب  پاکستان میں موجود  بین الاقوامی  ایجنڈے پر کام کرنے والے پاکستان کے اندر  بیرونی قوتوں کے معاون عناصر افواج پاکستان کے خلاف ایک بھرپور مہم چلارہے ہیں۔ یہ وہی قوتیں اور عناصر  ہیں جو پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام  اور کمزور کرنا چاہتی ہیں اورسوشل میڈیا میں بیرونی قوتوں کے ساتھ ملکر  انہی عناصر  نے موجودہ آرمی چیف کی تقرری کو متنازعہ بنا کر اپنی مرضی کا آرمی چیف لگوانے کی کوشش کی تاکہ وہ اُن کے سیاسی ایجنڈے کے مطابق چل سکے۔ عین اس مہم کے درمیان پاک فوج کے  اہم   اور اعلٰی ترین عہدوں پر کام کرنے والے شخص کے خلاف احتسابی کاروائی پاک فوج کے احتسابی نظام اور  موجودہ عسکری قیادت کے اعصاب  کی مضبوطی  کی دلیل ہے۔ یہ بات ہر پاکستانی کو ذہن نشین کرنی چاہیئے کہ  یہ کیس پاک فوج نے  ایک تو سُپریم کورٹ کے کہنے پر جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری  سے اسٹارٹ کیا  لیکن اس انکوائری کے دوران اُن کی  ملٹری لاء کی سنگین خلاف ورزیوں کی وجہ سے بات اُن کے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل تک پہنچی۔ اگرچہ  بیرونی قوتوں اور اُنکے پاکستان کے اندر ہرکارے (ڈیجیٹل دہشتگرد ) یہ بیانیہ بنانے میں مصروف ہیں کہ یہ کیس دراصل ایک مخصوص پارٹی کے لیڈر کو “فریم” کرنے کے لیئے  بنایا گیا جو حقائق کو گُڈ مُڈ کرکے  تیار کیئے گئے  ایک سفید جھوٹ کے سوا کُچھ بھی نہیں ہے۔ جس کی نفی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا پروسیجرز کردے گا جو بذات خود اتنا واضح اور کلیئر ہے کہ ایک تو کسی بے گُناہ کو  اس پروسیجر کے مطابق سزا دی ہی نہیں جاسکتی اور اس پر مزید کسی بھی فرد کے خلاف ملٹری لاء کے مطابق کاروائی کو پاکستان آرمی کی  انہی کاموں کے لیئے مخصوص برانچ جسے “ججز اینڈ ایدوکیٹ جنرل” کہا جاتا ہے ہر کیس کا آخر تک تمام قانونی پہلوؤں کے مطابق جائزہ لیتے اور اُسے مانیٹر کرتے ہیں۔ اس مخصوص برانچ میں تعینات فوجی افسران لاء کے کوالیفائیڈ لوگ ہوتے ہیں یعنی ملٹری لاء کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں اور برانچ کا کام ہی یہی ہے کہ کسی بھی نامزد  بے قصور مُلزم کو سزا نہ ہوسکے اور نہ ہی مُجرم سزا سے بچ سکے۔ اس کے علاوہ کسی بھی نامزد ملزم کو  یہ سہولت بھی مُیسر ہوتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سول سے بھی چوٹی کا وکیل ہائر کرکے اپنا دفاع کرسکتا ہے۔ گویا کسی بے گناہ کو  فوجی قانون کے مطابق سزا دینا ناممکن ہے۔ فیض حمید کیس میں ایک نکتہ یہ بھی ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ  کوئی بھی ایسا شخص جس نے ملٹری کے اندر سروس کی ہو وہ دو سال تک کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتا جبکہ مذکورہ جنرل کے خلاف  معروف  اسکینڈل “ٹاپ سٹی کیس” کی انکوئری کے دوران پاک فوج کے ہاتھ ایسے ٹھوس شواہد لگے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ  ملٹری لاء  کے خلاف وہ ایک مخصوص پارٹی کے ساتھ ملکر نا صرف اس پارٹی کو سیاسی فائدہ پہنچانے اور  اسی سیاسی  پارٹی کی قیادت کے ساتھ ملکر پاک فوج کی ساکھ  کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین جُرم کا بھی ارتکاب کررہے تھے۔ گویا اُن کا  یہ عمل پاک فوج کے خلاف   بیرونی بیانیے “پاک فوج سیاست کنٹرول کرتی ہے اور سیاست میں مداخلت کرتی ہے”  جس کے ذریعے پاک فوج پر انگلیاں اُٹھیں کوتقویت دینے کے مُترادف  بھی ٹھہرتا ہے اور پاکستانی عوام کی نظروں میں پاک فوج کے  کردار  کو بھی مشکوک بنا دیتاہے۔ اور مختلف بیرونی بیانیوں اور پاک فوج اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے پیچھے یہی تو ایجنڈا ہے کہ پاکستانی عوام پاک فوج سے بددل ہوں اور پاکستان میں انتشار پھیلے۔ ایک معروف  پاکستانی صحافی  اور  پیمرا کے ایک سابق انچارج نے ایک معروف نجی  ٹی وی  چینل پر اس کیس کے متعلق یہ انکشاف بھی کیا کہ مذکورہ جنرل کے گھر میں اُن کے لیپ ٹاپ اور موبائل سے انتہائی حساس اور کلاسیفائیڈ ڈیٹا بھی ملا ہے جس کو کوئی بھی سرکاری ملازم اپنی رہاش گاہ پر نہیں رکھ سکتا۔  اُسی پروگرام میں مذکورہ تجزیہ نگار  نے یہ بھی  بتایا کہ اس ڈیٹا میں یقیناً سیاستدانوں، ججز اور دیگر اداروں کے اہم عہدیداروں اور کارکردگی کے بارے بھی حساس معلومات تھیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سارا ڈیٹا کئی لوگوں کو بلیک میل کرنے اور ایک مخصوص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیئے استعمال کیا جاتا تھا یا کیا جانا تھا۔ اس طرح یہ بات پاکستانی ملٹری لاء تو ایک طرف یہ سراسر بلیک میلنگ اور عمومی اخلاقیات سے بھی گری ہوئی حرکت کے مُترادف ہے۔ یہ بات پاکستانی ملٹری لاء کے مطابق طے ہے کہ ریٹائرمنٹ تو دور کی بات وردی میں ہوتے ہوئے بھی افواج پاکستان کسی قسم کی سرکاری معلومات اپنی رہاش گاہ پر نہیں رکھ سکتا۔اس کے علاوہ  مذکورہ

صحافی کے قلم سے

ختم نبوت کانفرنس کی آڑ میں سیاسی ایجنڈے کی تکمیل

   احمد خان لغاری 7 ستمبر سن 1974کو سن1973کے آئین میں پاکستانی پارلیمنٹ نے ایک مُتفقہ قرارداد میں تبدیلی کرکے قادیانیوں کو کافر قرار دے کر اس  فتنے کا ہمیشہ کے لیئے کم از کم  پیپرز کی حد تک اور قانونی لحاظ سے خاتمہ کردیا۔ یہ طویل اور صبر آزماء  جنگ تھی جس میں پاکستان کی تمام مذہبی  و سیاسی جماعتوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور  7 ستمبر  سن 1974 کو بالآخر پاکستان کے آئین میں یہ بات ثبت کردی گئی کہ “قادیانی کافر ہیں” اسی طرح ان  پر دیگر کئی پابندیاں بھی لگا دی گئیں جن میں مسجد نہ بنانے کی اجازت، اپنے آپ کو مُسلم نہ کہنے کی ممانعت اور قادیانی افکار کی  تبلیغ پر پابندی جیسے دیگر کئی اقدامات شامل ہیں۔  عقیدہ ختم نبوتﷺ مسلمانوں کے ایمان کا وہ حصہ  ہے جس کا انکار کرکے  کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا۔   7 ستمبر  سن 1974 کے بعد سےاب ہر سال  یہ دن خصوصی طور پر ختم نبوت  ﷺ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن   پاکستان کے طول و عرض میں  بڑے بڑے  مذہبی اجتماعات ہوتے ہیں جن  میں علماء، خطباء اور مشائخ شامل ہوتے ہیں اور آپ ﷺ کا ذکر خیر ہوتا ہے اور قادیانیت کی نفی کی جاتی ہے۔ یہ دن واقعی ہی ایک یادگار دن  ہے اور پاکستان کی ایک اسلامی مُلک ہونے کے ناطے بہت بڑی کامیابی ہے۔  اس  دفعہ 7 ستمبر  کو جمیعیت علمائے پاکستان  (مولانا فضل الرحمٰن گروپ) نے مینار پاکستان پر اسی سلسلہ میں ایک اجتماع کیا جس میں ایک حیران کُن  اور عجیب بات یہ تھی کہ اس دفعہ اس اجتماع میں بریلوی مسلک، اہل سُنت والجماعت اور اہل تشیع کے  ماسوائے چند  علماء کے دوسروں نے شرکت ہی نہیں کی تاہم  اس اجتماع میں اہل حدیث کے اور دیوبندی مسلک کے تمام اکابرین اور بڑے بڑے علماء مولانا فضل الرحمٰن کے شانہ بشانہ کھڑے نظر آئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں بے شمار باتیں کیں جن میں ختم نبوت ﷺ کا ذکرِ خیر توتھا ہی لیکن انہوں نے اسی پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے بہت ساری سیاسی باتیں بھی کیں اور ڈھکے چُھپے اور کُھلے الفاظ میں بھی بہت سارے  پیغامات کئی پارٹیوں، اداروں اور شخصیات کو پہنچائے۔ اس سے پہلے مولانا صاحب کی تقریر کا پوسٹ مارٹم کیا جائے ایک بات نوٹ کرلی جائے اس سارے اجتماع میں دیوبند مسلک کے مدارس سے طلباء کی گاڑیاں بھرکر لائی گئیں۔ مولانا صاحب نے ختم نبوت کے موضوع کے علاوہ نام لیئے بغیر  پی ٹی آئی کو  یہ  پیغام  دینے کی کوشش کی کہ وہ جہاں تک “تک اُن کے بُنیادی کاحقوق کا مطالبہ ہے اُس میں تو وہ ان کا ساتھ دیں گے لیکن اُس کی ایک شرط ہے کہ اگر یہ حقوق آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے پُر امن طریقے سے مانگیں جائیں ۔” مولانا نے  ایک ماہر خطیب کی طرح پی  ٹی آئی کے لیئے   بڑا واضح پیغام  تھا کہ  جے یو آئی (ف) اُن  کے ساتھ چلنے کے لیئے تیار ہے  اور پی ٹی آئی کے جلسے، ریلیوں اور احتجاج میں بھی  جے یو آئی (ف)  کے لوگ شامل ہوں گے گویا یہ موجودہ حکومت کے خلاف چلنے کا ایک عندیہ بھی تھا۔  یہاں ایک قابل ذکر بات یہ نوٹ کرنے والی ہے کہ یہی مولانا صاحب بانی پی ٹی آئی کو تسلسل کے ساتھ  ایک “یہودی ایجنٹ” بھی قرار دیتے رہے ہیں۔ یہاں  دوسری اہم بات یہ  نوٹ کرنے والی ہے  کہ مولانا صاحب فطری طور پر نون لیگ کے  سدا حمایتی اور اتحادی رہے ہیں اور پی ٹی آئی حکومت کا سن 2021 میں تختہ اُلٹنے کے لیئے جے یو آئی (ف) نے ایک ہراول دستے کا کردار ادا کیا اور بعد میں نون لیگ کی حکومت میں اپنے بیٹے  کی  وفاقی وزارت سمیت جے یو آئی (ف)  کے لیئے   دیگر اہم وزارتوں کے علاوہ کئی اہم عہدے بھی حاصل  کیئے۔ مولانا صاحب نے بیک وقت پی ٹی آئی کی گذشتہ حکومت (سن 2018-20121) اور پی ڈی ایم موجودہ حکومت کو بھی یہ کہہ کر لتاڑ دیا کہ  “سن 2018 اور 2024 کے الیکشن کے نتائج دھاندلی کی پیداوار ہیں۔” گویا ایک ہی جُملے (تیر)  سے انہوں نے دو شکار کر ڈالے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ “بلوچستان، خیبرپختونخوا میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے  اور حکومت اگر امن نہیں دے سکتی  تو ٹیکس کس بات کا لیتی ہے۔” اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ  “اپنے حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو بتانا چاہتا ہوں یہ ہے پاکستان کی سوچ ، مینار پاکستان پر انسانوں کے سمندر کی رائے کے آگے جھکنا ہوگا۔”  اس آخری فقرے پر غور کیا جائے تو منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ پی ڈی ایم جس کا وہ خود حصہ ہیں اُسی کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بیک وقت پیغام دے رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کو ختم ہونا چاہیئے اور عوامی رائے جو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے اُس کے مطابق عوام کے نمائیندےمنتخب ہونے چاہیئں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت میں مولانا صاحب کو اُن کی مرضی کے مطابق حصہ نہیں ملا جس کی وجہ سے وہ سب سے نالاں ہیں۔ اگرچہ مولانا نے اشارہ ختم نبوت  ﷺ اجتماع میں شامل جماعتوں کو عوامی نمائیندہ  کہا لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ آجتک تمام اسلامی جماعتیں ملکر بھی پورے مُلک میں ہمیشہ چند سیٹوں سے الیکشن جیت نہیں سکتیں۔ یہ بات سوچنے کی ہے کہ اگر مولانا صاحب جس طرح اسٹیبلشمنٹ کو جھکانے کی بات کرتے ہیں تو ایسا کون چاہتا ہے؟ کیا یہ وہی  بیرونی ایجنڈا نہیں یا بیرونی ایجنڈے کے ساتھ لائنمنٹ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا نہیں؟ کیا یہی فتنہ خوارج  کی کے پی کے  اور بلوچستان  میں کاروائیوں کا ایجنڈا نہیں؟ کیا یہی پاک فوج کے خلاف امریکی، مغربی، بھارتی اور افغانی  بین پراپیگنڈا نہیں؟  کیا یہی کام سوشل میڈیا پر ڈیجیٹل دہشت گرد نہیں کررہے؟  مولانا صاحب کے اس انتہاء پسندانہ اور منافقانہ رویے کی وجہ پر جب غور کیا جائے تو اُن کی پوری سیاست ذاتی مُفاد کے گرد گھومتی ہے جس کے  حصول کے لیئے وہ کسی جماعت سے کسی وقت بھی اتحاد کرسکتے ہیں۔ الیکشن نتائج کو

صحافی کے قلم سے

علمی تراشے بلال افتخار خان کے قلم سے۔

  دوبارہ تعمیر کے لئے توڑنا پڑتا ہے۔۔۔ ٹوٹنے والا اس عمل سے بھاگتا چاہتا ہے۔۔۔ وہ پیٹرن جو اُس نے اپنا رکھے ہوتے ہیں ۔۔۔نفس انہی میں تحفظ کی کیفیت پاتا ہے۔۔۔زمان و مکان کی قید اُسے رسی چھوڑنے نہیں دیتی۔۔۔ جبکہ بچانے والے کا فیصلہ  ہے کہ رسی چھوڑے گا تو ہی بچے گا۔۔۔ اسی کشمکش میں زندگی گزر جاتی ہے۔۔ اور امتحان کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔۔۔ تمام پوٹینشل کے باوجود وہ امتحان میں فیل ہو جاتا ہے ،صرف اس لئے کے رسی  نہیں چھوڑی جاتی۔۔۔ اب اگر مالک کی رحمت شامل حال ہو تو حالات ایسے بن جاتے ہیں کے رسی چھوڑنی پڑتی ہے۔۔۔ لیکن اس نقطے تک پہنچنے کے لئے اُن اُن  صعوبتیون سے گزرنا پڑتا ہے جو نفس کے کس بل نکال دیتی ہیں۔۔۔ لیکن کئی بار رسی تو جل جاتی ہے لیکن بل خاکستر ہو کر ہی نکلتا ہے۔۔۔ پس اگر خاکستر ہو کر بھی بل نکل جائے تو رحمت ہے کیونکہ امتحان ختم ہونے سے پہلے کامیابی کی راہ مل گئی ورنہ امتحان میں بندہ تو رسی سے چمٹا ہی رہتا ہے۔۔۔ ہر لمحے اذیت سہتا ہے۔۔۔ حق جان کر بھی رسی کو نجات سمجھتا ہے۔۔۔ لمحے لمحے مرتا ہے لیکن ایک ہی بار مرنے سے ڈرتا ہے۔۔۔  عروج بھی حقیقت ہے اور ذوال بھی حقیقت ہے۔۔۔ کئی عروج دراصل ذوال ہوتے ہیں اور کئی ذوال  حقیقت میں عروج ۔۔یا کامیابی کی نوید ۔۔پس معرفت کا اصول اول ہے  خود کو اُس کے ہاتھون میں چھوڑ دو جو خالق و مالک ہے  محدود و لامحدود کا۔۔۔۔ پھر یا تو تم تھام لئے جاو گے۔۔۔ یا توڑ کر دوبارہ تعمیر ہوگے اور تھام لئے جاو گے۔۔۔ یا خود کی انا کے ہاتھوں ذبع ہو جاو گے اور قصور تمہارا ہو گا ۔۔ عشق کا بھی میعار ہوتا ہے پرونہ ہر دم جلنے کو تیار ہوتا ہے نفس بے قابو تو عیار ہوتا ہے کامیاب وہ جسے منزل سے پیار ہوتا ہے (محمد بلال افتخار) تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئنہ ہے وہ آئنہ  کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئنہ ساز میں (علامہ محمد اقبال) 🔷🔶🔴🔵🔴🔶🔷 ہمارے ولن ہمارے اندر کی سرکشی کا علامتی اظہار ہوتے ہیں جب سماج کے عمومی دھارے کا رُخ شر سے خیر کی طرف مڑنے لگے  گا تو ولن بھی اپنی موت آپ مر جاۓ گا قوم طاغوت پرستی کاشکار ہو تو وقت کے فرعونوں کے ظلم پر شکوہ کرنے سے پہلے اپنا احتساب ناگزیر ہے جیسے جیسے سماج میں خیر بڑھے گی تو شر کی قوتیں جو ولن بن کر راج کرتی ہیں دم توڑ جاٸیں گی افسوس اُس بےہنگم ہجوم پر جو سماج کا جزوِ لاینفک ہوتے ہوۓ بھی یکسو اور یکجہت ہو کر قوم نہ بن سکا اور اپنی کوتاہیاں دوسروں کے سر منڈھتا رہے ⭕🔵🔴🔶🔷⭕ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا: علم عمل کے ساتھ جڑا ہوا ہے،پس جو علم حاصل کرلیتا ہے وہ عمل کرتا ہے، اور علم عمل کو آواز دیتا ہے، اگر وہ اس کی آواز پر لبیک کہے تو ٹھیک ورنہ علم وہاں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ 🔷🔶🔴🔵⭕🔵🔴🔶🔷 جس نے رب کے لئے جھکنا سیکھ لیا وہی علم والا ہےکیونکہ علم والے کی پہچان عاجزی ہے اور جایل کی تکبر ہے۔۔۔۔منبہ والائیت امیر المومنین جناب علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ 🔴🔵🔶🔷🔷🔶🔵🔴

Scroll to Top