جواب شکوہ (Jawab-e-Shikwa) علامہ اقبال کی شاہکار نظم مکمل تشریح و اسباق کے ساتھ
(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); تحقیق و ترتیب: عمر مختار رند جواب شکوہ (Jawab-e-Shikwa) علامہ اقبال کی شاہکار نظم مکمل تشریح و اسباق کے ساتھ تعارف (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({}); “جواب شکوہ” علامہ اقبال کی وہ لازوال نظم ہے جو ان کی مشہور نظم “شکوہ” کا تکملہ ہے۔ “شکوہ” 1911ء میں لکھی گئی جس میں اقبال نے مسلمانوں کی زبانی اللہ تعالیٰ سے شکوہ کیا تھا کہ باوجود وفاداری کے مسلمان زوال کا شکار کیوں ہیں؟ اس نظم نے علمی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اور کچھ لوگوں نے اقبال پر گستاخی کا الزام بھی لگایا ۔ چنانچہ 1913ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ عام میں اقبال نے “جواب شکوہ” پیش کی، جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان شکووں کا جواب دیا گیا ۔ یہ نظم اتنی مقبول ہوئی کہ ہر شعر پر داد دی گئی اور اشعار نیلام کیے گئے، جس سے جمع شدہ رقم بلقان فنڈ میں دی گئی ۔ آئیے، اب ہم “جواب شکوہ” کا مکمل متن پڑھتے ہیں اور ہر بند کی تشریح و اسباق پر غور کرتے ہیں۔ مکمل متن نظم “جواب شکوہ” بند نمبر 1 دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے خاک سے اٹھتی ہے، گردوں پہ گزر رکھتی ہے عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا آسماں چیر گیا نالۂ بے باک مرا بند نمبر 2 پیرِ گردوں نے کہا سن کے، کہیں ہے کوئی بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی چاند کہتا تھا، نہیں! اہلِ زمیں ہے کوئی کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا بند نمبر 3 تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا! تا سرِ عرش بھی انساں کی تگ و تاز ہے کیا! آگئی خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا! غافل آداب سے سکّانِ زمیں کیسے ہیں شوخ و گستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں! بند نمبر 4 اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے تھا جو مسجودِ ملائک، یہ وہی آدم ہے! عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو بند نمبر 5 آئی آواز، غم انگیز ہے افسانہ ترا اشکِ بے تاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا آسماں گیر ہوا نعرۂ مستانہ ترا کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا شکر شکوے کو کیا حُسنِ ادا سے تو نے ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے بند نمبر 6 ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں بند نمبر 7 ہاتھ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر ہیں اُمتی باعثِ رسوائیِ پیغمبرؐ ہیں بُت شکن اٹھ گئے، باقی جو رہے بُت گر ہیں تھا براہیم پدر اور پسر آزر ہیں بادہ آشام نئے، بادہ نیا، خُم بھی نئے حرمِ کعبہ نیا، بُت بھی نئے، تم بھی نئے بند نمبر 8 وہ بھی دن تھے کہ یہی مایۂ رعنائی تھا نازشِ موسمِ گُل لالۂ صحرائی تھا جو مسلمان تھا، اللہ کا سودائی تھا کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کر لو ملتِ احمدِ مرسلؐ کو مقامی کر لو! بند نمبر 9 کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے ہم سے کب پیار ہے! ہاں نیند تمہیں پیاری ہے طبعِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے تمہی کہہ دو، یہی آئینِ وفاداری ہے؟ قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں بند نمبر 10 جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو بجلیاں جس میں ہوں آسودہ، وہ خرمن تم ہو بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو ہو نکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے کیا نہ بیچو گے جو مل جائیں صنم پتھر کے بند نمبر 11 صفحۂ دہر سے باطل کو مٹایا کس نے؟ نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟ میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟ میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟ تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو! بند نمبر 12 کیا کہا! بہرِ مسلماں ہے فقط وعدۂ حور شکوہ بے جا بھی کرے کوئی تو لازم ہے شعور عدل ہے فاطرِ ہستی کا ازل سے دستور مسلم آئیں ہوا کافر تو ملے حور و قصور تم میں حوروں کا کوئی چاہنے والا ہی نہیں جلوۂ طور تو موجود ہے، موسیٰ ہی نہیں بند نمبر 13 منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک حرمِ پاک بھی، اللہ بھی، قرآن بھی ایک کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں بند نمبر 14 کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختارؐ؟ مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟ کس کی آنکھوں میں سمایا ہے شعارِ اغیار؟ ہوگئی کس کی نگہ طرزِ سلف سے بیزار؟ قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں کچھ بھی پیغامِ محمدؐ کا تمہیں پاس نہیں بند نمبر 15 جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمہارا، تو غریب امرا نشۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے زندہ ہے ملتِ بیضا غربا کے دم سے بند نمبر 16 واعظِ قوم کی وہ پختہ خیالی نہ رہی برق طبعی نہ رہی، شعلہ مقالی نہ رہی رہ گئی رسمِ اذاں، روحِ بلالی نہ رہی
