
ساجدمسؔعودصادق نظامی
سن 2025ء میں خیبرپختونخوا حکومت نے معدنیات کے متعلق ایک متنازعہ بل پاس کیا جس کے مطابق اس وقت صوبے میں 6 سے 8 ٹریلین امریکی ڈالرز کی معدنیات موجود ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان سالانہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں معدنیات کے ضمن میں 16.94 ارب امریکی ڈالر کی بے قاعدگیاں موجود ہیں جن میں 8 ارب ڈالر کا خسارہ بھی شامل ہے۔ صوبے کا نظام سنبھالنے کے بعد گورنر "فیصل کریم کُندی" نے ہفتے کے روز بتاریخ 17اکتوبر "کالج آف فزکس اینڈسرجنز آف پاکستان" کی کانووکیشن سے چیف گیسٹ کے طور پر خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا میں معدنیات کے متعلق ذکر کرتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کی کمپنیز کو دعوت دی کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ مُشترکہ طور پر اس پراجیکٹ پر کام کریں۔ یہ وہ تین حقائق ہیں جن کو جوڑ کراپوزیشن نے ایک نیا بیانیہ ترتیب دیا ہے جس کے مطابق "خیبرپختونخوا کی حکومت کو ہٹانے اور گورنرراج کے نفاذ کا مقصد" یہ معدنیات ہیں۔ معصوم عوام کو گُمراہ کرنے کے لیئے بڑے ماہرانہ انداز میں حقائق کو گُڈ مُڈکرکے تیار کیا گیا بیانیہ بظاہر بہت پرفیکٹ ہے۔
اس بیانیے کاپوسٹ ماٹم کرنا ضروری ہے تاکہ تمام پاکستانی بالعموم اورخیبرپختونخوا کے عوام بالخصوص کو حقائق کا اندازہ ہوسکے کہ اس کے پیچھے کیا مقاصد چُھپے ہوئے ہیں۔ اس پیانیے کا " تیاپانچہ" کرنے سے پہلے یہ یاد دہانی کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں کُچھ مُفاد پرست عناصرایسے ہیں جو پاکستان کو آگے بڑھنے سے ہمیشہ روکتے آئے ہیں ورنہ پاکستان میں معدنیات کے جو خزانے چُھپے ہیں ان کو اگر بروئے کار لایا ئے جائے تو پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی معاشی طاقت بن جائے۔ یہی وہ قوتیں ہیں جنہوں نے "کالاباغ ڈیم" جیسے پاکستان کی قسمت کو بدل دینے والے پراجیکٹ کو ناکام بنایا اور بلوچستان میں چُھپے قدرتی ذخائر پر بھی کام کرنے کے راستے میں ایک عرصہ سے رکاوٹ ڈالے ہوئے ہیں۔ یہ منفی ذہن کے مالک لوگ ایک توخودمُفاد پرست ہیں دوسرا یہ بیرونی قوتوں کے اشارے پر بھی ناچتے ہیں۔ پاکستان میں آج اگر تھوڑے عرصہ کے لیئے سیاسی استحکام ہوجائے تو پاکستان نہ صرف بجلی، گیس اور پٹرول کے معاملے میں خودکفیل ہوسکتا ہے بلکہ اپنے تمام معاشی مسائل پربھی قابو پاسکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ بلوچستان اور سندھ بھی زیرزمین معدنیات سے مالا مال ہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اتنے قیمتی قدرتی وسائل کی موجودگی کے چندفی صد کا بھی اگر فائدہ اُٹھایا جائے تو پاکستان نہ صرف گیس اورپٹرول کے ساتھ ساتھ دیگرمعدنیات کے معاملےمیں نہ صرف خود کفیل ہوسکتا ہے بلکہ اپنی تمام معاشی مشکلات پر قابو بھی پاسکتا ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ابھی اتنی مہارت نہیں کہ وہ ان زیرِزمین وسائل کا بھرپور فائدہ اُٹھا سکے۔ ان حقائق اور شواہد کی روشنی میں اگرگورنر خیبرپختونخوا نے صوبے میں موجود معدنیات کے متعلق کوئی منصوبہ بنایا ہے تواسے منفی رنگ دینے کی بجائے اس پر انہیں شاباش دینے کی ضرورت ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ دیکھا جائے اُن کے اس بیان یا منصوبے کی مخالفت کون کررہا ہے اور کیوں کررہا ہے؟ ان میں ایک بڑا گروہ تو جے یو آئی (ف) ہے جو مرکزی حکومت سے نالاں ہے کہ اُسے نئے انتظامی سیٹ اپ میں کوئی خاص عہدہ یا عہدے نہیں ملے جس کی وہ اُمید کررہی تھی۔ پاکستان میں موجود معدنیات پرکام کرنے کی مخالفت کرنے والوں میں دوسرا بڑا گروہ پاکستان دُشمن بیرونی قوتوں پرمُشتمل ہوسکتا ہے جوپاکستان کو کسی طور پر بھی معاشی طور پر مضبوط ہونا دیکھ نہیں سکتے۔ پاکستان کی قسمت بدل دینے والے کئی پروگراموں اور منصوبوں کی ماضی میں بھی دیگر پاکستان دُشمن ممالک (بالخصوص بھارت) کھل کر مخالفت کرتے آئے ہیں۔ اس ضمن میں کالا باغ ڈیم، سی پیک اور گوادر پورٹ جیسے منصوبوں کی مثالیں ہمارے سامنے موجودہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی موجودہ معاشی حالت اس قدر خراب ہے کہ اسے فوری طورپر اس دلدل سے نکال کر خودانحصاری کی پٹڑی پر ڈالنے کی ضرورت ہے اور زیرزمین معدنیات کی دولت اس ضمن میں ایک سنگِ مِیل ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے ان پاکستان دُشمن قوتوں کو یہ کب گوارہ ہے کہ پاکستان مضبوط ہو کر اُن سے آگے نکل جائے۔ تمام مُحبِ وطن پاکستانیوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان حقائق اور شواہد کی روشنی میں معدنیات کے کسی بھی پراجیکٹ کی مخالفت کرنا اور اس پراجیکٹ کے خلاف کسی بھی بیانیے کی حمایت کرنے سے وہ کیوں چُوکیں گے۔
اس نئے بیانیے کی خالق جماعت میں سب سے بڑا گروہ پی ٹی آئی کی سبکدوش یا معزول حکومت ہے کیونکہ یہ اسکے فرائض میں شامل تھا کہ ان معدنیات کے استعمال کو بروئے کار لاکر نہ صرف صوبے بلکہ پورے مُلک کی معیشت میں ایک کلیدی کرداراداکرتی مگر وہ ایسا کرنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ اس میں کرپشن میں بھی ملوث ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہی حکومت اور اس حکومت کی پارٹی ایک مُدت سے دہشت گردوں کے شیطانی گروہ کے خلاف کاروائی کرنے سے گریزاں تھی جس کاپاکستان کے مجموعی معاشی اورسیاسی استحکام پر انتہائی بُرا اثرپڑ رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا حکومت کے اس رویے کی وجہ سے دہشت گردوں کوصوبے میں قتل و غارت کرنے میں بھی آسانی تھی۔ مرکزی حکومت بار بار خیبرپختونخوا حکومت کو سمجھاتی رہی لیکن وہ باز نہیں آئی بلکہ اپنے فرائض سے نظریں چُراتی رہی۔ جہاں تک گورنر راج کی بات کی جائے تو پی ٹی آئی کے پورے مُلک میں پھیلائے گئے انتشار سے پاکستان کی سلامتی اور استحکام بُری طرح مجروح ہورہے تھے جس سے نجات مُلک و قوم کے مُفاد کے لیئے ناگزیر تھی۔
گورنر راج کے بعد اس وقت مرکزی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت ایک ہی پیج پر ہیں لہذا اب اس جھوٹے بیانیے کو خاطر میں لائے بغیر تین کام کرنے بڑے ضروری اور اہم ہیں۔ ان میں پہلا کام صوبے میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ صوبے میں بیرونی دہشت گردوں (فتنہ الخوارج) کے ساتھ ساتھ ان کے ہمدرد اندرونی سہولتکاروں کا خاتمہ بھی بہت ضروری ہے جس پر حکومت کو بلا دریغ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسرے نمبر پر خیبرپختونخوا کے نئے انتظامی سیٹ اپ کو صوبے میں مجموعی طور پر 13سالہ پی ٹی آئی حکومت نے بگاڑ ڈالا اُس پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم، صحت اور دیگر ضروریات زندگی جیسی عام بُنیادی سہولتوں سے محروم عوام کی داد رسی ہوسکے۔ اسی طرح صوبے میں موجود معدنیات کے پراجیکٹ پر ایک مکمل اور جامع منصوبہ بنانے کی اشد ضرورت ہے جس کے لیئے بیرونی ٹیکنیکل مدد اور سرمایہ کاری کو دعوت دیتا ہے تو اس میں کوئی عار نہیں۔ البتہ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ یہ منصوبہ اور ڈیل فُول پروف ہوں اور اس کے قواعدوضوابط بھی مُلکی مُفاد میں ہوں۔