Sirat-ul-jinan

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن

 سورۃ البقرہ آیت 27 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(27)  ترجمۂ کنز الایمان وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔  تفسیر صراط الجنان { اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ :وہ جو اللہ کا عہد توڑتے ہیں۔} اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آسمانی کتابوں میں حضور سید عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے متعلق فرمایا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں :              پہلا عہد وہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام اولادِ آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں ،اس کا بیان سورہ اعراف، آیت 172 میں ہے۔ دوسرا عہد انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین قائم کریں ، اس کا بیان سورہ احزاب آیت 7 میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں ، اس کا بیان سورہ آل عمران آیت 187 میں ہے۔ {مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖ:جس چیزکااللہ نے حکم دیا ۔} جن چیزوں کے ملانے کا حکم دیا گیا وہ یہ ہیں : (۱)رشتے داروں سے تعلقات جوڑنا،(۲)مسلمانوں کے ساتھ دوستی و محبت کرنا، (۳) تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ماننا، (۴)تمام کتابوں کی تصدیق کرنا  اورحق پر جمع ہونا۔ ان کو قطع کرنے کا معنیٰ ہے رشتے داروں سے تعلق توڑنا، انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ ماننا اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی تصدیق نہ کرنا۔(تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ:     ۲۷،  ۱/ ۲۶۶) 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 سورۃ البقرہ آیت 28 كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(28)  ترجمۂ کنز الایمان بھلا تم کیوں کر خدا کے منکر ہو گے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔  تفسیر صراط الجنان { كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ:  تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو۔}توحید و نبوت کے دلائل اور کفر و ایمان کی جزا و سزا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص وعام نعمتوں کا اور قدرت کی عجیب نشانیوں کا ذکر فرمایا اورکفر کی خرابی اور برائی کو کافروں کے دلوں میں بٹھانے کیلئے انہیں خطاب کیا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو حالانکہ تمہارا اپنا حال اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کاتقاضا کرتا ہے کیونکہ تم بدن میں روح ڈالے جانے سے پہلے تمام مراحل میں مردہ تھے یعنی کچھ نہ تھے یا بے جان جسم تھے پھر اس نے تم میں روح ڈال کر تمہیں زندگی دی پھر زندگی کی مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا ،اس سے یا توقبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لیے ہوگی یا قیامت کی، پھر تم حساب کتاب اور جزا کے لیے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے ۔اس آیت میں غور کریں تو ہم مسلمانوں کیلئے بھی نصیحت ہے کہ ہم بھی کچھ نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی عطا کی اور زندگی گزارنے کے لوازمات اور نعمتوں سے نوازا تو اس کی عطاؤں سے فائدہ اٹھا کر اس کی یاد سے غافل ہونا اور ناشکری اور غفلت کی زندگی گزارنا کسی طرح ہمارے شایانِ شان نہیں ہے۔ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 البقرہ آیت 29 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(29)  ترجمۂ کنز الایمان وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف اِسْتِوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اور وہ سب کچھ جانتا ہے ۔  تفسیر صراط الجنان {هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ:وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا۔} تمام انسانوں کو فرمایا گیا کہ زمین میں جو کچھ دریا، پہاڑ، کانیں ، کھیتی، سمندر وغیرہ ہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دینی و دنیاوی فائدہ کے لیے بنایا ہے۔ دینی فائدہ تو یہ ہے کہ زمین کے عجائبات دیکھ کرتمہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت و قدرت کی معرفت نصیب ہو اور دنیاوی فائدہ یہ کہ دنیا کی چیزوں کو کھاؤ پیواور اپنے کاموں میں لاؤ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت نہ ہو ۔تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح اللہ تعالیٰ کا انکار کرسکتے ہو؟ ایک اہم قاعدہ:           اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مُباح و حلال ہے۔(تفسیر روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۹، ۱ / ۲۹۱) {وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ:اوروہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔}  کائنات کی تخلیق اور اسے وجود میں لانا اللہ تعالیٰ کے کامل علم کی دلیل ہے کیونکہ ایسی حکمت سے بھری مخلوق کا پیدا کرنا ایک ایک شے کا علم رکھے بغیر ممکن اور متصور نہیں۔کافرمرنے کے بعد زندہ ہونے کوناممکن سمجھتے تھے، ان آیتوں میں کافروں کے اس عقیدے کے غلط و باطل ہونے پر ایک عظیم دلیل قائم کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قدرت و علم والا ہے اور جسم حیات کی صلاحیت بھی رکھتاہے تو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا کیسے ناممکن ہوسکتا ہے؟ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥سورۃ البقرہ آیت 30 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(30)  ترجمۂ کنز الایمان اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔  تفسیر صراط الجنان {وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ:اور جب تمہارے رب

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن

سورة البقرة آیت :24 فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ(24)  ترجمۂ کنز الایمان پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں تیار رکھی ہے کافروں کے لیے ۔  تفسیر صراط الجنان { وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ :اس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔}اس آیت میں آدمی سے کافر اور پتھر سے وہ بت مراد ہیں جنہیں کفار پوجتے ہیں اور ان کی محبت میں قرآنِ پاک اور رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاانکار کرتے ہیں۔ پتھروں کا جہنم میں جانا اُن پتھروں کی سزا نہیں بلکہ اُن کے پجاریوں کی سزا کے لئے ہوگا یعنی پجاریوں کو ان پتھروں کے ساتھ سزا دی جائے گی۔ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ:وہ کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ پیدا ہوچکی ہے کیونکہ یہاں ماضی کے الفاظ ہیں نیز ’’کافروں کیلئے‘‘ فرمانے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ مومنین اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جہنم میں ہمیشہ داخلے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ جہنم بطورِ خاص کافروں کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 سورۃ البقرہ آیت 25 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُۙ-وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌۗۙ-وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(25)  ترجمۂ کنز الایمان اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گاصورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لیے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔  تفسیر صراط الجنان {وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:اور ان لوگوں کوخوشخبری دو جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے عمل کئے ۔} اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ قرآن میں ترہیب یعنی ڈرانے کے ساتھ ترغیب بھی ذکر فرماتا ہے، اسی لیے کفار اور ان کے اعمال و عذاب کے ذکر کے بعد مومنین اور ان کے اعمال و ثواب کا ذکر فرمایا اور انہیں جنت کی بشارت دی۔ صالحات یعنی نیکیاں وہ عمل ہیں جو شرعاً اچھے ہوں ،ان میں فرائض و نوافل سب داخل ہیں۔ یہاں بھی ایمان اور عمل کو جدا جدا بیان کیا جس سے معلوم ہوا کہ عمل ایمان کا جزو نہیں ہیں۔(تفسیر مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۳۸) {وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا:اور انہیں ملتاجلتا پھل دیا گیا۔} جنت کے پھل رنگت میں آپس میں ملتے جلتے ہوں گے مگر ذائقے میں جدا جدا ہوں گے، اس لیے ایک دفعہ ملنے کے بعد جب دوبارہ پھل ملیں گے توجنتی کہیں گے کہ یہ پھل تو ہمیں پہلے بھی مل چکا ہے مگرجب وہ کھائیں گے تو اس سے نئی لذت پائیں گے اور ان کا لطف بہت زیادہ ہوجائے گا۔اس کا یہ بھی معنیٰ بیان کیا گیا ہے کہ انہیں دنیوی پھلوں سے ملتے جلتے پھل دئیے جائیں گے تاکہ وہ ان پھلوں سے مانوس رہیں لیکن جنتی پھل ذائقے میں دنیوی پھلوں سے بہت اعلیٰ ہوں گے۔ {اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ:پاکیزہ بیویاں۔}جنتی بیویاں خواہ حوریں ہوں یا اور سب کی سب تمام ناپاکیوں اور گندگیوں سے مبرا ہوں گی، نہ جسم پر میل ہوگا نہ کوئی اور گندگی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بدمزاجی اور بدخلقی سے بھی پاک ہوں گی۔(تفسیر مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۳۹) {وَ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ:وہ ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔} جنتی نہ کبھی فنا ہوں گے اورنہ جنت سے نکالے جائیں گے۔ لہٰذا جنت اور اہلِ جنت کے لیے فنا نہیں۔ * اپنی صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کریں  🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 سورۃ البقرہ آیت: 26 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ-یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ(26)  ترجمۂ کنز الایمان بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر تو وہ جو ایمان لائے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے رہے کافر وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں ۔  تفسیر صراط الجنان { اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖ:بیشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا۔} جب اللہ تعالیٰ نے ’’سورہ ٔبقرہ‘‘ (کے دوسرے رکوع ) میں منافقوں کی دو مثالیں بیان فرمائیں تو منافقوں نے یہ اعتراض کیاکہ اللہ  تعالیٰ کی شان اس سے بلند تر ہے کہ ایسی مثالیں بیان فرمائے اور بعض علماء نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے معبودوں کی کمزوری کو مکڑی کے جالوں وغیرہ کی مثالوں  سے بیان فرمایا تو کافروں نے اس پر اعتراض کیا ۔اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱ / ۳۶۱، طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۶، ۱ / ۲۱۳-۲۱۴،  ملتقطاً)                 چونکہ مثالوں کا بیان حکمت کے مطابق اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتاہے اورماہرینِ کلام کا یہ طریقہ ہے اس لیے مثال بیان کرنے پر اعتراض غلط ہے۔ { یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا:اللہ بہت سے لوگوں کواس کے ذریعے گمراہ کرتا ہے۔} ان الفاظ سے کافروں کو جواب دیا گیا کہ مثالیں بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا کیا مقصو دہے نیز مومنوں اور کافروں کے مقولے اس کی دلیل ہیں کہ قرآنی مثالوں کے ذریعے بہت سے لوگ گمراہ ہوتے ہیں جن کی عقلوں پر جہالت کا غلبہ ہوتاہے اور جن کی عادت صرف ضد، مقابلہ بازی، انکار اور مخالفت ہوتی ہے اور کلام کے بالکل معقول ، مناسب اور موقع محل کے

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن آیتِ 22-23

سورۃ البقرہ آیت 22 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً۪-وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(22)  ترجمۂ کنز الایمان اورجس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو تو اللہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ ۔  تفسیر صراط الجنان {اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً:جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔}اس آیت اور اس سے اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کو بیان فرمایا ہے: (1)…مخلوق کو عدم سے وجود میں لانا۔ (2)…آسمان و زمین کو پیدا کرنا۔ (3)…آسمان و زمین سے مخلوق کے رزق کا مہیا کرنا۔  (4)…آسمان سے بارش اتارنااور زمین سے نباتات اُگانا۔             جب آدمی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک پل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے تو اُس مالک ِ حقیقی کو چھوڑ کر کسی اورکا عبادت گزاربننا کس قدر ناشکری ہے؟ یونہی ایسے کریم خدا کی یاد سے غفلت بھی کتنی بڑی ناشکری ہے۔ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 سورۃ البقرہ آیت 23 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(23)  ترجمۂ کنز الایمان اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔  تفسیر صراط الجنان { وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ:اور اگر تمہیں کچھ شک ہو ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت کا بیان ہوا اور یہاں سے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت اور قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی بے مثل کتاب ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جارہی ہے جو طالب ِصادق کو اطمینان بخشے اور منکروں کو عاجز کردے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں اور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل قرآن ہے لہٰذا اس رکوع میں ترتیب سے ان سب کو بیان کیا گیا ہے۔ {عَلٰى عَبْدِنَا: اپنے خاص بندے پر ۔}اس آیت میں خاص بندے سے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مراد ہیں۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۳۵) یہاں اس اندازِ تعبیر میں نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ محبوبیت کی طرف بھی اشارہ ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں : لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا خالق کا بندہ خَلق کا آقا کہوں تجھے {فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ:  تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ ۔}آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت میں قرآن کے بے مثل ہونے پر دو ٹوک الفاظ میں ایک کھلی دلیل دی جارہی ہے کہ اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرنے والوں کو چیلنج ہےکہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں بلکہ کسی انسان کی تصنیف سمجھتے ہو تو چونکہ تم بھی انسان ہو لہٰذا اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ جو فصاحت و بلاغت ،حسنِ ترتیب ، غیب کی خبریں دینے اور دیگر امور میں قرآن پاک کی مثل ہواور اگرایسی کوئی سورت بلکہ آیت تک نہ بنا سکو تو سمجھ لو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کا انکار کرنے والوں کا انجام دوزخ ہے جو بطورِ خاص کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ نوٹ: یہ چیلنج قیامت تک تمام انسانوں کیلئے ہے، آج بھی قرآن کو محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تصنیف کہنے والے کفار تو بہت ہیں مگر قرآن کی مثل ایک آیت بنانے والا آج تک کوئی سامنے نہیں آیا اور جس نے اس کا دعویٰ کیا ، اس کا پول خود ہی چند دنوں میں کھل گیا۔  اعجاز ِقرآن کی وجوہات: قرآن مجید وہ بے مثل کتا ب ہے کہ لوگ اپنے تمام تر کمالات کے باوجود قرآن پاک جیساکلام بنانے سے عاجز ہیں اورجن و انس مل کر بھی اس کی آیات جیسی ایک آیت بھی نہیں بنا سکتے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور مخلوق میں کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی مثل کلام بنا سکے اور یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج تک کوئی بھی قرآن مجید کے دئیے ہوئے چیلنج کا جواب نہیں دے سکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی دے سکے گا۔قرآن پاک کے بے مثل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جنہیں علماء و مفسرین نے اپنی کتابوں میں بہت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے ، ہم یہاں پر ان میں سے صرف تین وجوہات بیان کرتے ہیں۔ تفصیل کیلئے بڑی تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں۔ (1)…فصاحت و بلاغت: عرب کے لوگ فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے اور ان کی صفوں میں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو کہ بلاغت کے فن میں اعلیٰ ترین منصب رکھنے والے،عمدہ الفاظ بولنے والے،چھوٹے اور بڑے جملوں کو بڑی فصاحت سے تیار کرنے والے تھے اور تھوڑے کلام میں بہترین تصرف کرلیتے تھے، اپنی مراد کو بڑے عمدہ انداز میں بیان کرتے، کلام میں فصاحت و بلاغت کے تمام فنون کی رعایت کرتے اور ایسے ماہر تھے کہ فصاحت و بلاغت کے جس دروازے سے چاہتے داخل ہو جاتے تھے،الغرض دنیا میں ہر طرف ان کی فصاحت و بلاغت کا ڈنکا بجتا تھا اور لوگ فصاحت و بلاغت میں ان کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ ان اہل عرب کو فصاحت و بلاغت کے میدا ن میں اگر کسی نے عاجز کیا ہے تو وہ کلام قرآن مجید ہے ،اس مقدس کتاب کی فصاحت و بلاغت نے اہل عرب کی عقلوں کو حیران کردیا اور اپنی مثل لانے سے عاجز کردیا۔

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن آیتِ 22-23

سورۃ البقرہ آیت 22 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً۪-وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(22)  ترجمۂ کنز الایمان اورجس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو تو اللہ کے لئے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ ۔  تفسیر صراط الجنان {اَلَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً:جس نے تمہارے لئے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا۔}اس آیت اور اس سے اوپر والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ان نعمتوں کو بیان فرمایا ہے: (1)…مخلوق کو عدم سے وجود میں لانا۔ (2)…آسمان و زمین کو پیدا کرنا۔ (3)…آسمان و زمین سے مخلوق کے رزق کا مہیا کرنا۔  (4)…آسمان سے بارش اتارنااور زمین سے نباتات اُگانا۔             جب آدمی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک پل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہے تو اُس مالک ِ حقیقی کو چھوڑ کر کسی اورکا عبادت گزاربننا کس قدر ناشکری ہے؟ یونہی ایسے کریم خدا کی یاد سے غفلت بھی کتنی بڑی ناشکری ہے۔ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 سورۃ البقرہ آیت 23 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(23)  ترجمۂ کنز الایمان اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو۔  تفسیر صراط الجنان { وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ:اور اگر تمہیں کچھ شک ہو ۔} اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت کا بیان ہوا اور یہاں سے حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت اور قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی بے مثل کتاب ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جارہی ہے جو طالب ِصادق کو اطمینان بخشے اور منکروں کو عاجز کردے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں اور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل قرآن ہے لہٰذا اس رکوع میں ترتیب سے ان سب کو بیان کیا گیا ہے۔ {عَلٰى عَبْدِنَا: اپنے خاص بندے پر ۔}اس آیت میں خاص بندے سے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مراد ہیں۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۳، ص۳۵) یہاں اس اندازِ تعبیر میں نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شانِ محبوبیت کی طرف بھی اشارہ ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں : لیکن رضا نے ختمِ سخن اس پہ کر دیا خالق کا بندہ خَلق کا آقا کہوں تجھے {فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ:  تو تم اس جیسی ایک سورت بنالاؤ ۔}آیت کے اس حصے اور اس کے بعد والی آیت میں قرآن کے بے مثل ہونے پر دو ٹوک الفاظ میں ایک کھلی دلیل دی جارہی ہے کہ اپنی فصاحت و بلاغت پر ناز کرنے والوں کو چیلنج ہےکہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں بلکہ کسی انسان کی تصنیف سمجھتے ہو تو چونکہ تم بھی انسان ہو لہٰذا اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ جو فصاحت و بلاغت ،حسنِ ترتیب ، غیب کی خبریں دینے اور دیگر امور میں قرآن پاک کی مثل ہواور اگرایسی کوئی سورت بلکہ آیت تک نہ بنا سکو تو سمجھ لو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کا انکار کرنے والوں کا انجام دوزخ ہے جو بطورِ خاص کافروں کیلئے تیار کی گئی ہے۔ نوٹ: یہ چیلنج قیامت تک تمام انسانوں کیلئے ہے، آج بھی قرآن کو محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تصنیف کہنے والے کفار تو بہت ہیں مگر قرآن کی مثل ایک آیت بنانے والا آج تک کوئی سامنے نہیں آیا اور جس نے اس کا دعویٰ کیا ، اس کا پول خود ہی چند دنوں میں کھل گیا۔  اعجاز ِقرآن کی وجوہات: قرآن مجید وہ بے مثل کتا ب ہے کہ لوگ اپنے تمام تر کمالات کے باوجود قرآن پاک جیساکلام بنانے سے عاجز ہیں اورجن و انس مل کر بھی اس کی آیات جیسی ایک آیت بھی نہیں بنا سکتے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور مخلوق میں کسی کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی مثل کلام بنا سکے اور یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج تک کوئی بھی قرآن مجید کے دئیے ہوئے چیلنج کا جواب نہیں دے سکا اور نہ ہی قیامت تک کوئی دے سکے گا۔قرآن پاک کے بے مثل ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں جنہیں علماء و مفسرین نے اپنی کتابوں میں بہت شرح و بسط کے ساتھ بیان فرمایا ہے ، ہم یہاں پر ان میں سے صرف تین وجوہات بیان کرتے ہیں۔ تفصیل کیلئے بڑی تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں۔ (1)…فصاحت و بلاغت: عرب کے لوگ فصاحت و بلاغت کے میدان کے شہسوار تھے اور ان کی صفوں میں بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو کہ بلاغت کے فن میں اعلیٰ ترین منصب رکھنے والے،عمدہ الفاظ بولنے والے،چھوٹے اور بڑے جملوں کو بڑی فصاحت سے تیار کرنے والے تھے اور تھوڑے کلام میں بہترین تصرف کرلیتے تھے، اپنی مراد کو بڑے عمدہ انداز میں بیان کرتے، کلام میں فصاحت و بلاغت کے تمام فنون کی رعایت کرتے اور ایسے ماہر تھے کہ فصاحت و بلاغت کے جس دروازے سے چاہتے داخل ہو جاتے تھے،الغرض دنیا میں ہر طرف ان کی فصاحت و بلاغت کا ڈنکا بجتا تھا اور لوگ فصاحت و بلاغت میں ان کا مقابلہ کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔ ان اہل عرب کو فصاحت و بلاغت کے میدا ن میں اگر کسی نے عاجز کیا ہے تو وہ کلام قرآن مجید ہے ،اس مقدس کتاب کی فصاحت و بلاغت نے اہل عرب کی عقلوں کو حیران کردیا اور اپنی مثل لانے سے عاجز کردیا۔

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن آیت 17 تا 21

 سورۃ البقرہ آیت 17_18 مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ-فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(17)صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ(18)  ترجمۂ کنز الایمان ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا ۔بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں۔  تفسیر صراط الجنان { مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا: ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی۔}یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے کچھ ہدایت دی یا اُس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اسے ضائع کردیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ،ان کا انجام حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کردیا اور وہ بھی جو مومن ہونے کے بعد مرتد ہوگئے اور وہ بھی جنہیں فطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی ہیں۔ جب حق کو سننے ، ماننے، کہنے اور دیکھنے سے محروم ہوگئے تو کان، زبان، آنکھ سب بیکار ہیں۔ 🔶🔴🟠🟡🟢🔵🟣⚫🟣🔵🟢🟡🟠🔴🔶 سورۃ البقرہ آیت 20-19 اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(19)یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(20)  ترجمۂ کنز الایمان یا جیسے آسمان سے اترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے ۔بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لے جائے گی جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔  تفسیر صراط الجنان {اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ:یا جیسے آسمان سے بارش۔} ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری مثال بیان کی گئی ہے اور یہ ان منافقین کا حال ہے جو دل سے اسلام قبول کرنے اور نہ کرنے میں متردد رہتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جس طرح اندھیری رات اور بادل و بارش کی تاریکیوں میں مسافر متحیر ہوتا ہے، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں اور یہی مقام اپنے اور بیگانے ،مخلص اور منافق کے پہچان کا ہوتا ہے۔منافقوں کی اسی طرح کی حالت سورۂ نور آیت نمبر48اور49میں بھی بیان کی گئی ہے۔ {عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ : اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔}شے اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ چاہے اور جو مشیت یعنی چاہنے کے تحت آسکے۔ ہر ممکن چیز شے میں داخل ہے اور ہر شے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اورجو ممکن نہیں بلکہ واجب یامحال ہے اس سے اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور قدرت کا تعلق ہی نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات واجب ہیں اس لیے قدرت کے تحت داخل نہیں مثلاً یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ  تعالیٰ چاہے تو اپنا علم ختم کرکے بے علم ہوجائے یا معاذاللہ جھوٹ بولے۔ یاد رہے کہ ان چیزوں کا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحت نہ آنا اس کی قدرت میں نقص و کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ ان چیزوں کا نقص ہے کہ ان میں یہ صلاحیت نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے متعلق ہوسکیں۔ 🔶🔴🟠🟡🟢🔵🟣⚫🟣🔵🟢🟡🟠🔴🔶 سورۃ البقرہ آیت 21 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ  یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(21)  ترجمۂ کنز الایمان اے لوگو اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے ۔  تفسیر صراط الجنان { یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ:اے لوگو! ۔} سورۂ بقرہ کے شروع میں بتایا گیا کہ یہ کتاب متقین کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی، پھر متقین کے اوصاف ذکر فرمائے ، اس کے بعد اس سے منحرف ہونے والے فرقوں کا اور ان کے احوال کا ذکر فرمایا تاکہ سعادت مند انسان ہدایت و تقویٰ کی طرف راغب ہو اور نافرمانی و بغاوت سے بچے، اب تقویٰ حاصل کرنے کا طریقہ بتایا جارہا ہے اور وہ طریقہ عبادت اور اطاعتِ الٰہی ہے۔ ’’ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ‘‘ کے ذریعے تمام انسانوں سے خطاب ہے اور اس بات کااشارہ ہے کہ انسانی شرافت اسی میں ہے کہ آدمی تقویٰ حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ کا بندہ بنے ۔ عبادت کی تعریف: عبادت اُس انتہائی تعظیم کا نام ہے جو بندہ اپنی عبدیت یعنی بندہ ہونے اور معبودکی اُلوہیت یعنی معبود ہونے کے اعتقاد اور اعتراف کے ساتھ بجالائے۔یہاں عبادت توحید اور اس کے علاوہ اپنی تمام قسموں کو شامل ہے۔کافروں کو عبادت کا حکم اس معنیٰ میں ہے کہ وہ سب سے بنیادی عبادت یعنی ایمان لائیں اور اس کے بعد دیگر اعمال بجالائیں۔ {لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ: تاکہ تمہیں پرہیزگاری ملے۔} اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے جبکہ اللہ  تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔ 🔶🔴🟠🟡🟢🔵🟣⚫🟣🔵🟢🟡🟠🔴🔶

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن

 سورۃ البقرہ آیت 14 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ° وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(14)  ترجمۂ کنز الایمان اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں ۔  تفسیر صراط الجنان {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اور جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں۔}منافقین کا مسلمانوں کو بے وقوف کہنااور کفار سےاظہارِ یکجہتی کرنااپنی نجی محفلوں میں تھا جبکہ مسلمانوں سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم مخلص مومن ہیں ،اسی طرح آج کل کے گمراہ لوگ مسلمانوں سے اپنے فاسدخیالات کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے۔ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیاررہا جائے: یاد رہے کہ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ وہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں سے دھوکا نہ کھائیں۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  لَا  یَاْلُوْنَكُمْ  خَبَالًاؕ-وَدُّوْا  مَا  عَنِتُّمْۚ- قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ-قَدْ  بَیَّنَّا  لَكُمُ  الْاٰیٰتِ  اِنْ  كُنْتُمْ  تَعْقِلُوْنَ(۱۱۸)هٰۤاَنْتُمْ  اُولَآءِ  تُحِبُّوْنَهُمْ  وَ  لَا  یُحِبُّوْنَكُمْ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِالْكِتٰبِ  كُلِّهٖۚ- وَ  اِذَا  لَقُوْكُمْ  قَالُوْۤا  اٰمَنَّا  ﳒ  وَ  اِذَا  خَلَوْا  عَضُّوْا  عَلَیْكُمُ  الْاَنَامِلَ  مِنَ  الْغَیْظِؕ-قُلْ  مُوْتُوْا  بِغَیْظِكُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  عَلِیْمٌۢ  بِذَاتِ  الصُّدُوْرِ(۱۱۹)اِنْ  تَمْسَسْكُمْ  حَسَنَةٌ  تَسُؤْهُمْ٘-وَ  اِنْ  تُصِبْكُمْ  سَیِّئَةٌ  یَّفْرَحُوْا  بِهَاؕ-وَ  اِنْ  تَصْبِرُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  لَا  یَضُرُّكُمْ  كَیْدُهُمْ  شَیْــٴًـاؕ- اِنَّ  اللّٰهَ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ‘‘ (اٰل عمران: ۱۱۸-۱۲۰) ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو!غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ بیشک (ان کا)بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ خبردار: یہ تم ہی ہو جو انہیں چاہتے ہو اور وہ تمہیں پسند نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں ہم ایمان لاچکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے کے مارے تم پر انگلیاں چباتے ہیں۔ اے حبیب! تم فرما دو ،اپنے غصے میں مرجاؤ۔ بیشک اللہ دلوں کی بات کو خوب جانتا ہے۔اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک اللّٰہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ ان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور کروکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم، المقدمۃ، باب النہی عن الروایۃ۔۔۔ الخ، ص۹،  الحدیث: ۷(۷)) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ  ورسول سے زیادہ کوئی ہماری بھلائی چاہنے والا نہیں ، (اور اللہ  و رسول)جَلَّ وَعَلَا وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جس بات کی طرف بلائیں یقینا ہمارے دونوں جہان کا اس میں بھلاہے، اور جس بات سے منع فرمائیں بلا شبہ سراسر ضرروبلاہے۔ مسلمان صورت میں ظاہرہوکر جواِن کے حکم کے خلاف کی طرف بلائے یقین جان لو کہ یہ ڈاکو ہے،اس کی تاویلوں پر ہر گز کان نہ رکھو، رہزن جو جماعت سے باہر نکال کر کسی کو لے جانا چاہتا ہے ضرور چکنی چکنی باتیں کرے گا اور جب یہ دھوکے میں آیا اور ساتھ ہولیا تو گردن مارے گا، مال لوٹے گا، شامت اس بکری کی کہ اپنے راعی(یعنی چرانے والے) کا ارشاد نہ سنے اور بھیڑیا جو کسی بھیڑ کی اون پہن کر آیا اس کے ساتھ ہولے، ارے! مصطفیٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمہیں منع فرماتے ہیں وہ تمہاری جان سے بڑھ کر تمہارے خیر خواہ ہیں :’’حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ‘‘ تمہارا مشقت میں پڑنا ان کے قلبِ اقدس پر گراں ہے: ’’عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ‘‘ واللہ وہ تم پر اس سے زیادہ مہربان ہیں جیسے نہایت چہیتی ماں اکلوتے بیٹے پر: ’’بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘۔ ارے! ان کی سنو، ان کا دامن تھام لو، ان کے قدموں سے لپٹ جاؤ۔(فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۰۵) {وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ:اور جب اپنے شیطانوں کے پاس تنہائی میں جاتے ہیں۔}یہاں شیاطین سے کفار کے وہ سردار مراد ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ منافق جب اُن سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا محض استہزاء کے طور پر ہے اور ہم ان سے اس لیے ملتے ہیں تا کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح جِنّات میں شیاطین ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں۔ {اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ: ہم توصرف ہنسی مذاق کرتے ہیں۔} منافقین صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سامنے ان کی تعریفیں کرتے اور بعد میں ان کا مذاق اڑاتے تھے، اسی بات کو بیان کرنے کیلئے یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی ۔ صحابہ کرام اور علماء دین کا مذاق اڑانے کا حکم: اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور  پیشوایانِ دین کامذاق اڑانامنافقوں کا کام ہے۔ آج کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی مجلسوں اور مخصوص لوگوں میں ’’علماء و صلحاء‘‘ اور’’ دینداروں ‘‘ کا مذاق اُڑاتے اوران پر پھبتیاں کستے ہیں اور جب ان کے سامنے آتے ہیں تو منافقت سے بھرپور ہوکر خوشامداور چاپلوسی کرتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ،یونہی ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں مذہب اور مذہبی نام سے نفرت ہے اور مذہبی حلیہ اور وضع قطع دیکھ کر ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔ یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دین کا مذاق اڑانا کفر ہے،یونہی صحابہ

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن

 سورۃ البقرہ آیت 14 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ° وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(14)  ترجمۂ کنز الایمان اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں ۔  تفسیر صراط الجنان {وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اور جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں۔}منافقین کا مسلمانوں کو بے وقوف کہنااور کفار سےاظہارِ یکجہتی کرنااپنی نجی محفلوں میں تھا جبکہ مسلمانوں سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم مخلص مومن ہیں ،اسی طرح آج کل کے گمراہ لوگ مسلمانوں سے اپنے فاسدخیالات کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے۔ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیاررہا جائے: یاد رہے کہ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ وہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں سے دھوکا نہ کھائیں۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  لَا  یَاْلُوْنَكُمْ  خَبَالًاؕ-وَدُّوْا  مَا  عَنِتُّمْۚ- قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ-قَدْ  بَیَّنَّا  لَكُمُ  الْاٰیٰتِ  اِنْ  كُنْتُمْ  تَعْقِلُوْنَ(۱۱۸)هٰۤاَنْتُمْ  اُولَآءِ  تُحِبُّوْنَهُمْ  وَ  لَا  یُحِبُّوْنَكُمْ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِالْكِتٰبِ  كُلِّهٖۚ- وَ  اِذَا  لَقُوْكُمْ  قَالُوْۤا  اٰمَنَّا  ﳒ  وَ  اِذَا  خَلَوْا  عَضُّوْا  عَلَیْكُمُ  الْاَنَامِلَ  مِنَ  الْغَیْظِؕ-قُلْ  مُوْتُوْا  بِغَیْظِكُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  عَلِیْمٌۢ  بِذَاتِ  الصُّدُوْرِ(۱۱۹)اِنْ  تَمْسَسْكُمْ  حَسَنَةٌ  تَسُؤْهُمْ٘-وَ  اِنْ  تُصِبْكُمْ  سَیِّئَةٌ  یَّفْرَحُوْا  بِهَاؕ-وَ  اِنْ  تَصْبِرُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  لَا  یَضُرُّكُمْ  كَیْدُهُمْ  شَیْــٴًـاؕ- اِنَّ  اللّٰهَ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ‘‘ (اٰل عمران: ۱۱۸-۱۲۰) ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو!غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ بیشک (ان کا)بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ خبردار: یہ تم ہی ہو جو انہیں چاہتے ہو اور وہ تمہیں پسند نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں ہم ایمان لاچکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے کے مارے تم پر انگلیاں چباتے ہیں۔ اے حبیب! تم فرما دو ،اپنے غصے میں مرجاؤ۔ بیشک اللہ دلوں کی بات کو خوب جانتا ہے۔اگر تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ بیشک اللّٰہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ ان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور کروکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم، المقدمۃ، باب النہی عن الروایۃ۔۔۔ الخ، ص۹،  الحدیث: ۷(۷)) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ  ورسول سے زیادہ کوئی ہماری بھلائی چاہنے والا نہیں ، (اور اللہ  و رسول)جَلَّ وَعَلَا وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جس بات کی طرف بلائیں یقینا ہمارے دونوں جہان کا اس میں بھلاہے، اور جس بات سے منع فرمائیں بلا شبہ سراسر ضرروبلاہے۔ مسلمان صورت میں ظاہرہوکر جواِن کے حکم کے خلاف کی طرف بلائے یقین جان لو کہ یہ ڈاکو ہے،اس کی تاویلوں پر ہر گز کان نہ رکھو، رہزن جو جماعت سے باہر نکال کر کسی کو لے جانا چاہتا ہے ضرور چکنی چکنی باتیں کرے گا اور جب یہ دھوکے میں آیا اور ساتھ ہولیا تو گردن مارے گا، مال لوٹے گا، شامت اس بکری کی کہ اپنے راعی(یعنی چرانے والے) کا ارشاد نہ سنے اور بھیڑیا جو کسی بھیڑ کی اون پہن کر آیا اس کے ساتھ ہولے، ارے! مصطفیٰ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمہیں منع فرماتے ہیں وہ تمہاری جان سے بڑھ کر تمہارے خیر خواہ ہیں :’’حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ‘‘ تمہارا مشقت میں پڑنا ان کے قلبِ اقدس پر گراں ہے: ’’عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ‘‘ واللہ وہ تم پر اس سے زیادہ مہربان ہیں جیسے نہایت چہیتی ماں اکلوتے بیٹے پر: ’’بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘۔ ارے! ان کی سنو، ان کا دامن تھام لو، ان کے قدموں سے لپٹ جاؤ۔(فتاوی رضویہ، ۱۵ / ۱۰۵) {وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ:اور جب اپنے شیطانوں کے پاس تنہائی میں جاتے ہیں۔}یہاں شیاطین سے کفار کے وہ سردار مراد ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ منافق جب اُن سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا محض استہزاء کے طور پر ہے اور ہم ان سے اس لیے ملتے ہیں تا کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح جِنّات میں شیاطین ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں۔ {اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ: ہم توصرف ہنسی مذاق کرتے ہیں۔} منافقین صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے سامنے ان کی تعریفیں کرتے اور بعد میں ان کا مذاق اڑاتے تھے، اسی بات کو بیان کرنے کیلئے یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی ۔ صحابہ کرام اور علماء دین کا مذاق اڑانے کا حکم: اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اور  پیشوایانِ دین کامذاق اڑانامنافقوں کا کام ہے۔ آج کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی مجلسوں اور مخصوص لوگوں میں ’’علماء و صلحاء‘‘ اور’’ دینداروں ‘‘ کا مذاق اُڑاتے اوران پر پھبتیاں کستے ہیں اور جب ان کے سامنے آتے ہیں تو منافقت سے بھرپور ہوکر خوشامداور چاپلوسی کرتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ،یونہی ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں مذہب اور مذہبی نام سے نفرت ہے اور مذہبی حلیہ اور وضع قطع دیکھ کر ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔ یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دین کا مذاق اڑانا کفر ہے،یونہی صحابہ

Sirat-ul-jinan

صراط الجنان فی تفسیر القرآن آیت 11/12/13

سورۃ البقرہ۔ آیت 11-12 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ° وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(11)اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰـكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(12)  ترجمۂ کنز الایمان اورجو اُن سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں۔سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں۔  تفسیر صراط الجنان {لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ:زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت میں ارشاد فرمایا کہ جب ایمان والوں کی طرف سے ان منافقوں کو کہا جائے کہ باطن میں کفر رکھ کر اور صحیح ایمان لانے میں پس و پیش کر کے زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ تم ہمیں ا س طرح نہ کہو کیونکہ ہمارا مقصد تو صرف اصلاح کرناہے ۔ اے ایمان والو! تم جان لو کہ اپنی اُسی روش پر قائم رہنے کی وجہ سے یہی لوگ فساد پھیلانے والے ہیں مگر انہیں اس بات کاشعور نہیں کیونکہ ان میں وہ حس باقی نہیں رہی جس سے یہ اپنی اس خرابی کوپہچان سکیں۔           منافقوں کے طرزِ عمل سے یہ بھی واضح ہوا کہ عام فسادیوں سے بڑے فسادی وہ ہیں جو فساد پھیلائیں اور اسے اصلا  کا نام دیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلاتے ہیں اور بدترین کاموں کو اچھے ناموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ آزادی کے نام پر بے حیائی، فن کے نام پر حرام افعال، انسانیت کے نام پر اسلام کو مٹانا اورتہذیب و تَمَدُّن کا نام لے کر اسلام پر اعتراض کرنا، توحید کا نام لے کر شانِ رسالت کا انکار کرنا، قرآن کا نام لے کر حدیث کا انکار کرنا وغیرہاسب فساد کی صورتیں ہیں۔ اپنی صبح کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کریں ترجمہ و تفسیر صراط الجنان پڑھنے کے لئے گروپ جوائن کریں ہمارا مقصد صرف اور صرف معاشرے کی اصلاح کرنا ہے   🟨🟧🟦🟥🟪⬛⬜🟫🟩 سورۃ البقرہ آیت 13 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ° وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰـكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(13)  ترجمۂ کنز الایمان اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لائے ہیں تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایمان لے آئیں؟ سنتا ہے! وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں ۔  تفسیر صراط الجنان {كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ: جیسے اور لوگ ایمان لائے۔}  یہاں ’’اَلنَّاسُ‘‘ سے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اور   ان کے بعد ان کی کامل اتباع کرنے والے مراد ہیں۔  نجات والے کون لوگ ہیں ؟: اس آیت میں  بزرگانِ دین کی طرح ایمان لانے کے حکم سے معلوم ہوا کہ ان کی پیروی کرنے والے نجات والے ہیں اوران کے راستے سے ہٹنے والے منافقین کے راستے پر ہیں اوریہ بھی معلوم ہوا کہ ان بزرگوں پر طعن و تشنیع کرنے والے بہت پہلے سے چلتے آرہے ہیں۔ اس آیت کی روشنی میں صحابہ و ائمہ اور بزرگانِ دین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے متعلق اپنا طرزِ عمل دیکھ کر ہر کوئی اپنا راستہ سمجھ سکتا ہے کہ صحابہ کے راستے پر ہے یا منافقوں کے راستے پر؟نیز علماء و صلحاء اور دیندارلوگوں کوچاہئے کہ وہ لوگوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں بلکہ سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے۔نیز دینداروں کو بیوقوف یا دقیانوسی خیالات والا کہنے والے خود بے وقوف ہیں۔ صحابہ کرام کی بارگاہ الہٰی میں مقبولیت: اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجدار رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   اللہ  تعالیٰ  کی بارگاہ کے ایسے مقبول بندے ہیں کہ ان کی گستاخی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے خود جواب دیا ہے۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم   کے  بارے میں حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’میرے صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کو گالی گلوچ نہ کرو ،(ان کا مقام یہ ہے کہ )اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا(اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کرے تو ا س کا ثواب میرے کسی صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے ایک مُد (ایک چھوٹی سی مقدار)بلکہ آدھامُد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں ہو سکتا ۔(بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لو کنت متخذا خلیلاً، ۲ / ۵۲۲، الحدیث: ۳۶۷۳)             اور اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس  صَلَّی اللہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں کہ اللہ  تعالیٰ نے فرمایا: ’’جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اسے میں نے لڑائی کا اعلان دے دیا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۶۵۰۲)             اس سے ان لوگوں کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی بے ادبی اور گستاخی کرتے ہیں اور اللہ  تعالیٰ کے اولیاء کے بارے میں غلط عقائد و نظریات رکھتے ہیں۔ 🟨🟧🟦🟥🟪⬛⬜🟫🟩

Sirat-ul-jinan

تفسیر صراط الجنان آیت 8/9/10

 *وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَﭥ(8)  ترجمۂ کنز الایمان اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں۔ تفسیر صراط الجنان *{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ*:اورکچھ لوگ کہتے ہیں۔}  اس سے پہلی آیات میں مخلص ایمان والوں کا ذکر کیاگیا جن کا ظاہر و باطن درست اور سلامت تھا،پھر ان کافروں کا ذکر کیا گیا جو سرکشی اور عناد پر قائم تھے اور اب یہاں سے لے کرآیت نمبر20 تک منافقوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے جو کہ اندرونِ خانہ کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زبانوں سے اس طرح کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں کیونکہ ان کا ظاہر ان کے باطن کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ منافق ہیں۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۱ / ۵۱)             اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں : (1)…جب تک دل میں تصدیق نہ ہو اس وقت تک ظاہری اعمال مؤمن ہونے کے لیے کافی نہیں۔ (2)… جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور کفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب منافقین ہیں۔ (3)… یہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے کھلے کافروں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ {وَ مِنَ النَّاسِ:اورکچھ لوگ۔}منافقوں کو ’’کچھ لوگ‘‘کہنے میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات اور انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتابلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں۔ اسی لئے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو محض انسان یا صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنے میں ان کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔اگرآپ قرآن پاک مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنا کفار کاطریقہ ہے جبکہ مسلمان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ عظمت و شان سے کرتے ہیں۔ 🟩🟨🟧🟦🟥🟪⬛⬜🟫🟩  سورۃ البقرہ آیت  9 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَﭤ(9)  ترجمۂ کنز الایمان فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔  تفسیر صراط الجنان {یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ : وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔}اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اسے کوئی دھوکا دے سکے، وہ تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے ۔ یہاں مراد یہ ہے کہ منافقوں کے طرزِ عمل سے یوں لگتا ہے کہ وہ خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو  دھوکا دینا چاہتے ہیں کیونکہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اللہ تعالٰی  کے نائب اور خلیفہ ہیں اور انہیں دھوکہ دینے کی کوشش گویا خدا کو دھوکہ دینے کی طرح ہے لیکن چونکہ اللہ  تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو  منافقین کے اندرونی کفر پر مطلع فرمایا تو یوں اِن بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے، نہ رسول پراور نہ مومنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں اور یہ ایسے غافل ہیں کہ انہیں ا س چیز کا شعور ہی نہیں۔  ظاہر وباطن کا تضاد بہت بڑا عیب ہے:             اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظاہر وباطن کا تضاد بہت بڑا عیب ہے۔ یہ منافقت ایمان کے اندر ہوتو سب سے بدتر ہے اور اگر عمل میں ہو تو ایمان میں منافقت سے تو کم تر ہے لیکن فی نفسہ سخت خبیث ہے، جس آدمی کے قول و فعل اور ظاہر و باطن میں تضاد ہوگا تو لوگوں کی نظر میں وہ سخت قابلِ نفرت ہوگا۔ ایمان میں منافقت مخصوص لوگوں میں پائی جاتی ہے جبکہ عملی منافقت ہر سطح کے لوگوں میں پائی جاسکتی ہے۔ 🟩🟨🟧🟦🟥🟪⬛⬜🟫🟩 سورۃ البقرہ آیت 10 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(10)  ترجمۂ کنز الایمان ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا ۔  تفسیر صراط الجنان {فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ:ان کے دلوں میں بیماری ہے۔}اس آیت میں قلبی مرض سے مراد منافقوں کی منافقت اور حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے بغض کی بیماری ہے ۔ معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لیے تباہ کن ہے نیز حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان سے جلنے والا مریض القلب یعنی دل کا بیمار ہے۔ روحانی زندگی کے خطرناک امراض:              جس طرح جسمانی امراض ہوتے ہیں اسی طرح کچھ باطنی امراض بھی ہوتے ہیں ، جسمانی امراض ظاہری صحت و تندرستی کے لئے سخت نقصان دہ ہوتے ہیں اور باطنی امراض ایمان اور روحانی زندگی کے لئے زہر قاتل ہیں۔ ان باطنی امراض میں سب سے بدتر تو عقیدے کی خرابی کا مرض ہے اور اس کے علاوہ تکبر، حسد، کینہ اور ریاکاری وغیرہ بھی انتہائی برے مرض ہیں۔ہر مسلمان کوچاہئے کہ باطنی امراض سے متعلق معلومات حاصل کر کے ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے اوراس کے لئے بطور خاص امام غزالی   رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کی مشہور کتاب احیاء العلوم کی تیسری جلد کامطالعہ بہت مفید ہے۔ {فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا: تو اللہ نے ان کی بیماری میں اور اضافہ کردیا۔} مفسرین نے اس اضافے کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں ،ان میں سے 3صورتیں درج ذیل ہیں : (1)…  ریاست چھن جانے کی وجہ سے منافقوں کو بہت قلبی رنج پہنچا اور وہ دن بہ دن حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ثابت قدمی اور غلبہ دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگے توجتنا نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا  غلبہ ہوتا گیا اور

Sirat-ul-jinan

تفسیر صراط الجنان آیت 8/9/10

 *وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَﭥ(8)  ترجمۂ کنز الایمان اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں۔ تفسیر صراط الجنان *{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ*:اورکچھ لوگ کہتے ہیں۔}  اس سے پہلی آیات میں مخلص ایمان والوں کا ذکر کیاگیا جن کا ظاہر و باطن درست اور سلامت تھا،پھر ان کافروں کا ذکر کیا گیا جو سرکشی اور عناد پر قائم تھے اور اب یہاں سے لے کرآیت نمبر20 تک منافقوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے جو کہ اندرونِ خانہ کافر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے۔اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی زبانوں سے اس طرح کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اورآخرت کے دن پر ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں کیونکہ ان کا ظاہر ان کے باطن کے خلاف ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ منافق ہیں۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۱ / ۵۱)             اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں : (1)…جب تک دل میں تصدیق نہ ہو اس وقت تک ظاہری اعمال مؤمن ہونے کے لیے کافی نہیں۔ (2)… جو لوگ ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور کفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب منافقین ہیں۔ (3)… یہ اسلام اور مسلمانوں کیلئے کھلے کافروں سے زیادہ نقصان دہ ہیں۔ {وَ مِنَ النَّاسِ:اورکچھ لوگ۔}منافقوں کو ’’کچھ لوگ‘‘کہنے میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات اور انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتابلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں۔ اسی لئے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو محض انسان یا صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنے میں ان کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے، لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔اگرآپ قرآن پاک مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صرف بشر کے لفظ سے ذکر کرنا کفار کاطریقہ ہے جبکہ مسلمان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ عظمت و شان سے کرتے ہیں۔ 🟩🟨🟧🟦🟥🟪⬛⬜🟫🟩  سورۃ البقرہ آیت  9 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَﭤ(9)  ترجمۂ کنز الایمان فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں۔  تفسیر صراط الجنان {یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ : وہ اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔}اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اسے کوئی دھوکا دے سکے، وہ تمام پوشیدہ باتوں کا جاننے والا ہے ۔ یہاں مراد یہ ہے کہ منافقوں کے طرزِ عمل سے یوں لگتا ہے کہ وہ خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کو  دھوکا دینا چاہتے ہیں کیونکہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اللہ تعالٰی  کے نائب اور خلیفہ ہیں اور انہیں دھوکہ دینے کی کوشش گویا خدا کو دھوکہ دینے کی طرح ہے لیکن چونکہ اللہ  تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کو  منافقین کے اندرونی کفر پر مطلع فرمایا تو یوں اِن بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے، نہ رسول پراور نہ مومنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں اور یہ ایسے غافل ہیں کہ انہیں ا س چیز کا شعور ہی نہیں۔  ظاہر وباطن کا تضاد بہت بڑا عیب ہے:             اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظاہر وباطن کا تضاد بہت بڑا عیب ہے۔ یہ منافقت ایمان کے اندر ہوتو سب سے بدتر ہے اور اگر عمل میں ہو تو ایمان میں منافقت سے تو کم تر ہے لیکن فی نفسہ سخت خبیث ہے، جس آدمی کے قول و فعل اور ظاہر و باطن میں تضاد ہوگا تو لوگوں کی نظر میں وہ سخت قابلِ نفرت ہوگا۔ ایمان میں منافقت مخصوص لوگوں میں پائی جاتی ہے جبکہ عملی منافقت ہر سطح کے لوگوں میں پائی جاسکتی ہے۔ 🟩🟨🟧🟦🟥🟪⬛⬜🟫🟩 سورۃ البقرہ آیت 10 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(10)  ترجمۂ کنز الایمان ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا ۔  تفسیر صراط الجنان {فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ:ان کے دلوں میں بیماری ہے۔}اس آیت میں قلبی مرض سے مراد منافقوں کی منافقت اور حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے بغض کی بیماری ہے ۔ معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لیے تباہ کن ہے نیز حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان سے جلنے والا مریض القلب یعنی دل کا بیمار ہے۔ روحانی زندگی کے خطرناک امراض:              جس طرح جسمانی امراض ہوتے ہیں اسی طرح کچھ باطنی امراض بھی ہوتے ہیں ، جسمانی امراض ظاہری صحت و تندرستی کے لئے سخت نقصان دہ ہوتے ہیں اور باطنی امراض ایمان اور روحانی زندگی کے لئے زہر قاتل ہیں۔ ان باطنی امراض میں سب سے بدتر تو عقیدے کی خرابی کا مرض ہے اور اس کے علاوہ تکبر، حسد، کینہ اور ریاکاری وغیرہ بھی انتہائی برے مرض ہیں۔ہر مسلمان کوچاہئے کہ باطنی امراض سے متعلق معلومات حاصل کر کے ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرے اوراس کے لئے بطور خاص امام غزالی   رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   کی مشہور کتاب احیاء العلوم کی تیسری جلد کامطالعہ بہت مفید ہے۔ {فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا: تو اللہ نے ان کی بیماری میں اور اضافہ کردیا۔} مفسرین نے اس اضافے کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں ،ان میں سے 3صورتیں درج ذیل ہیں : (1)…  ریاست چھن جانے کی وجہ سے منافقوں کو بہت قلبی رنج پہنچا اور وہ دن بہ دن حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ثابت قدمی اور غلبہ دیکھ کر حسد کی آگ میں جلنے لگے توجتنا نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا  غلبہ ہوتا گیا اور

Scroll to Top