صراط الجنان فی تفسیر القرآن
سورۃ البقرہ آیت 27 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(27) ترجمۂ کنز الایمان وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ تفسیر صراط الجنان { اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ :وہ جو اللہ کا عہد توڑتے ہیں۔} اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آسمانی کتابوں میں حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے متعلق فرمایا تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں : پہلا عہد وہ جو اللہ تعالیٰ نے تمام اولادِ آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں ،اس کا بیان سورہ اعراف، آیت 172 میں ہے۔ دوسرا عہد انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین قائم کریں ، اس کا بیان سورہ احزاب آیت 7 میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں ، اس کا بیان سورہ آل عمران آیت 187 میں ہے۔ {مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖ:جس چیزکااللہ نے حکم دیا ۔} جن چیزوں کے ملانے کا حکم دیا گیا وہ یہ ہیں : (۱)رشتے داروں سے تعلقات جوڑنا،(۲)مسلمانوں کے ساتھ دوستی و محبت کرنا، (۳) تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ماننا، (۴)تمام کتابوں کی تصدیق کرنا اورحق پر جمع ہونا۔ ان کو قطع کرنے کا معنیٰ ہے رشتے داروں سے تعلق توڑنا، انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نہ ماننا اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں کی تصدیق نہ کرنا۔(تفسیر بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۱/ ۲۶۶) 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 سورۃ البقرہ آیت 28 كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(28) ترجمۂ کنز الایمان بھلا تم کیوں کر خدا کے منکر ہو گے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے ۔ تفسیر صراط الجنان { كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ: تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو۔}توحید و نبوت کے دلائل اور کفر و ایمان کی جزا و سزا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص وعام نعمتوں کا اور قدرت کی عجیب نشانیوں کا ذکر فرمایا اورکفر کی خرابی اور برائی کو کافروں کے دلوں میں بٹھانے کیلئے انہیں خطاب کیا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو حالانکہ تمہارا اپنا حال اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کاتقاضا کرتا ہے کیونکہ تم بدن میں روح ڈالے جانے سے پہلے تمام مراحل میں مردہ تھے یعنی کچھ نہ تھے یا بے جان جسم تھے پھر اس نے تم میں روح ڈال کر تمہیں زندگی دی پھر زندگی کی مدت پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا ،اس سے یا توقبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لیے ہوگی یا قیامت کی، پھر تم حساب کتاب اور جزا کے لیے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے ۔اس آیت میں غور کریں تو ہم مسلمانوں کیلئے بھی نصیحت ہے کہ ہم بھی کچھ نہ تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی عطا کی اور زندگی گزارنے کے لوازمات اور نعمتوں سے نوازا تو اس کی عطاؤں سے فائدہ اٹھا کر اس کی یاد سے غافل ہونا اور ناشکری اور غفلت کی زندگی گزارنا کسی طرح ہمارے شایانِ شان نہیں ہے۔ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥 البقرہ آیت 29 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(29) ترجمۂ کنز الایمان وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف اِسْتِوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اور وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ تفسیر صراط الجنان {هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ:وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا۔} تمام انسانوں کو فرمایا گیا کہ زمین میں جو کچھ دریا، پہاڑ، کانیں ، کھیتی، سمندر وغیرہ ہیں سب کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دینی و دنیاوی فائدہ کے لیے بنایا ہے۔ دینی فائدہ تو یہ ہے کہ زمین کے عجائبات دیکھ کرتمہیں اللہ تعالیٰ کی حکمت و قدرت کی معرفت نصیب ہو اور دنیاوی فائدہ یہ کہ دنیا کی چیزوں کو کھاؤ پیواور اپنے کاموں میں لاؤ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت نہ ہو ۔تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح اللہ تعالیٰ کا انکار کرسکتے ہو؟ ایک اہم قاعدہ: اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مُباح و حلال ہے۔(تفسیر روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۹، ۱ / ۲۹۱) {وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ:اوروہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔} کائنات کی تخلیق اور اسے وجود میں لانا اللہ تعالیٰ کے کامل علم کی دلیل ہے کیونکہ ایسی حکمت سے بھری مخلوق کا پیدا کرنا ایک ایک شے کا علم رکھے بغیر ممکن اور متصور نہیں۔کافرمرنے کے بعد زندہ ہونے کوناممکن سمجھتے تھے، ان آیتوں میں کافروں کے اس عقیدے کے غلط و باطل ہونے پر ایک عظیم دلیل قائم کی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ قدرت و علم والا ہے اور جسم حیات کی صلاحیت بھی رکھتاہے تو موت کے بعد دوبارہ زندہ کرنا کیسے ناممکن ہوسکتا ہے؟ 🟥🟧🟨🟩🟦🔳▪️▪️🔳🟦🟩🟨🟧🟥سورۃ البقرہ آیت 30 بسم اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(30) ترجمۂ کنز الایمان اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے ۔ تفسیر صراط الجنان {وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ:اور جب تمہارے رب






